Tuesday, December 30, 2014

قدیرالزماں کی ادبی خدمات قابلِ ستائش اور قابلِ رشک ادارہ ذہنِ جدید گلبرگہ کے ”کھلی کتاب:ایک مباحثہ“ سے مختلف اصحاب کا خطاب

قدیرالزماں کی ادبی خدمات قابلِ ستائش اور قابلِ رشک
ادارہ ذہنِ جدید گلبرگہ کے ”کھلی کتاب:ایک مباحثہ“ سے مختلف اصحاب کا خطاب

                گلبرگہ(راست)جناب قدےر زماں ،صاف گو،راست باز اور اےک دردمند انسان ہیں۔اس خیال کااظہار صاحبِ طرز افسانہ نگار،پروفیسرحمید سہروردی نے ادارہ ذہنِ جدےد گلبرگہ کے زےر اہتمام 21دسمبر 2014کو منعقدہ محترمہ شیراز سلطانہ کی مرتب کردہ معروف افسانہ نگار،ڈراما نگار اور ترجمہ نگار جناب قدیرالزماں (حےدرآباد)پر کتاب"کھلی کتاب" کے اےک مباحثے کے صدارتی خطاب میں کیا۔ پروفیسرعبدالحمیدسہروردی نے کہا کہ قدےر زماںکے فکر وفن کے مطالعے کے بعد ےہ کہنا مشکل ہوجاتاہے کہ وہ نومارکسےت ادےب ہےں ےا جدےد۔انھوں نے کہا کہ قدےر زماں نے مختلف موضوعات پر افسانے لکھے ہیں لیکن ان کو ابھی ایک شاہ کار افسانہ لکھنا باقی ہے۔انھوں نے کہا کہ قدیرالزماں نے تحقیقی نویت کے مضا مین بڑے ہی اثر آفرین انداز میں لکھے ہیں۔ان کی ادبی جہات اور خدمات قابل ستائش اور قابلِ رشک ہیں۔

ممتاز خاکہ نگار ڈاکٹر وہاب عندلیب نے جناب قدیرالزماں کے ہم راہ رفاقت کو پُر اثر انداز میں بیان کیا اور انہوں ایک جید فن کار قرار دیا۔انھوں نے کہا کہ جناب قدیر کی کھلی کتاب ایک اہم مقام کی حامل ہے۔اس میں فن کار کے تمام ادبی جہات کا احاطہ خوبصورت انداز میں آیاہے۔ڈاکٹر وہاب عندلیب نے کہا کہ شخصیت نگاری میں کھلی کتاب امتیازی شان رکھتی ہے۔
                سینر صحافی وشاعر جناب حامد اکمل نے کہا کہ قدیرالزماں ہمہ پہلو شخصےت کے مالک ہےں۔کھلی کتاب میں علم افزا باتےں پڑھنے کو ملتی ہےں۔انھوں نے کھلی کتاب کے خطوط والے باب کو بے حد اہم ترےن قراردےا اور کہا کہ ان خطوط سے اےک عہد کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ےہ خطوط موجودہ زمانے کی دستاویزہیں۔جناب حامد اکمل نے قدیرالزماں کی کتاب ’تلاشِ اقبال‘پر بھر پور روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ قدیرالزماں نے اقبال کو سمجھانے کی نہےں بلکہ اقبال کو سمجھنے کی کوشش کی ہے۔
                معتبر شاعر وتارےخ داں ڈاکٹر مسعود جعفری (حےدرآباد)نے کہا کہ قدیرالزماں ہشت پہلو شخصےت ہےں۔وہ قدیرالزماں نہیں بلکہ نادرالزماں ہےں۔انھوں نے حرفِ حق کو زندگی کا مقصد سمجھا ہے۔وہ معنی کا سمندر،زندہ دار اور باضمےر شخص ہےں۔انھوں نے کہا کہ کھلی کتاب،کھلے ذہن سے لکھی گئی اےک اہم کتاب ہے۔ڈاکٹر مسعود جعفری نے قدیرالزماں کے افسانوں کے بارے میں کہا کہ ان کے افسانے انسانی اقدار،سماجی سروکار،جانوروں کے کردار اور فطرت کے مظہر ہےں۔
موقرافسانہ وناول نگار محترمہ قمر جمالی (حےدرآباد)نے کہاکہ قدیرالزماں کھلے ذہن،کھلے دل اور کھلے قلم کے قلم کار ہےں۔اےک مفکرانہ ذہن رکھتے ہےں۔انھوں نے کہا کہ قدیرالزماں نے اُردو اور انگرےزی میں بہت لکھا اور بے پناہ لکھاہے۔محترمہ قمر جمالی نے کہا کہ شب خون میں شائع شدہ قدیرالزماں کا مضمون ’افسانے کے چار کھونٹ‘کی حیثیت ایک کتابچہ کی ہے۔اس مضمون سے فکر ونظر کے دریچے وا ہوتے ہیں۔انھوں نے کھلی کتاب کے تعلق سے کہا ،ےہ کتاب علم وادب میں روشنی بڑھارہی ہے۔
مشہور افسانہ نگار وادےب جناب امجد جاوےد نے کہا کہ قدیرالزماں کے افسانوں میں تنوع ہے۔علامت اور تشبیہات ان کے افسانوں کا خاصا ہےں۔انھوں نے کہا کہ الا،زیرآور اور ہےرے کا زخم قدیر زماں کے ےادگار افسانے ہےں۔جناب امجد جاوےد نے کہا کہ قدیرالزماں کے افسانے لاشعور سے شروع ہوتے ہےں اور ان میں لفظیات کا ایک  حُسن پایاجاتاہے۔
جناب قدیرالزماں نے اس مباحثہ کے تمام شرکا کا شکریہ اداکیا اور کہا کہ گلبرگہ میں میری عزت افزائی ہوتی رہی ہے۔اہل گلبرگہ نے مجھے بے پناہ چاہا ہے میرااحترام کیاہے۔انھوں نے اس شاندار مباحثے کے انعقاد پر ادارہ ذہنِ جدےد کو مبارک باد پیش کی۔

شرکائے مباحثہ کی گل اور شال پوشی ڈاکٹر وہاب عندلےب،ڈاکٹر محمد افتخار الدےن اختر،ڈاکٹر کوثر پروین،ڈاکٹر انیس صدیقی،جناب راشد ریاض،جناب محمد شکیل صدف اور جناب ناصرعظیم نے انجام دی۔ جناب ولی احمدنے انجمن ترقی اُردو گلبرگہ کی جانب سے جناب قدیرالزماں کی شال اوڑھا کر گل پوشی کی۔مباحثہ کی ابتدا پروفیسر محمد عبداللحمید اکبر کی قرات کلام پاک سے ہوئی۔ڈاکٹر غضنفر اقبال نے شرکائے مباحثہ کاخیرمقدم اور تعارف کروایا۔جناب حسن محمود نے نظامت کے فرائض بہ حُسن وخوبی انجام دیے۔جناب ناصر عظیم کے شکریہ پر مباحثہ کا اختتام عمل میں آیا۔

Friday, December 19, 2014

نوائے ٹوکیو۔۔۔۔ایک نظر

            نوائے ٹوکیو، ٹوکیو جاپان سے بیک وقت انگریزی / اردو میں نکلنے والاپہلا میگزین ہے۔یہ رسالہ اطہرصدیقی کی ادارت میں نکلتاہے۔ جس کا پہلا شمارہ ١٩٩١ءمیں منظر عام پر آیا۔  اس رسالے کی اشاعت کا بنیادی مقصد جاپان و دیگر ممالک میں بسنے والے پاکستانیوں کی نماندگی کرنا اور ساتھ ہی ملک کے یعنی پاکستان کی سیاسی، سماجی و معاشی حالات سے پاکستانیوں کو آگاہ کروانا رہا۔ ابتدا میں یہ رسالہ صرف پرنٹ کی شکل میں شائع ہوتا رہا۔ لیکن انٹرنٹ کی اہمیت کو کون جھٹلا سکتاہے۔ انٹرنٹ حالیہ برسوں میں سب سے تیز میڈیا بن گیاہے۔ روایتی ذرائع ابلاغ کے مقابلے یہ کہیں موثر اور تیز ہے۔ یہ کوئی سرحد اور کوئی مخصوص سامعین نہیں رکھتا۔ یہ ایک عالمی ذریعہ ہے۔ اس سے نہ کسی ایک ملک کی عوام مستفد ہوسکتی ہے بلکہ یہ ساری دنیا کیلئے فائدہ مند ثابت ہوتاہے۔ ساتھ ہی ساتھ اس کی لاگت بھی کم آتی ہے۔ یہ بہت ہی سستا اور موثر ذریعہ ہے۔ اسی کے چلتے اس کو انٹرنٹ سے جوڑا گیا۔اور یہ ایک برقی رسالہ کی حیثیت سے دنیا کے انٹرنٹ جال پر چھایاہواہے۔

Mizahiya Poetry by Syed Arif Murshed Sub Ke Bas Ki bat naheen


Khali Pili Bhokke Rahteen Inke Kaman kya hain ki
Khate Pite Duble Hona Sub Ke Bas Ki bat Naheen

ساحر لدھیانوی فلمی نغموں کا آفاقی شاعر Sahir Ludhiyanvi Filmi Naghmown Ka Aafaqi Shir

ساحر لدھیانوی فلمی نغموں کا آفاقی شاعر                                   By Prof. Abdul Rub Ustad

ہندوستانی فلموں اور اردو اداب کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ہندوستانی فلموں میں اردو اور اردو کو بنام ھندی ، اردو کے ادیبوں اور شاعروں نے برتا، نہ صرف برتا بلکہ بطور آرٹ اس میں نت نئے تجربے بھی کئے۔ ان میں کئی نام آتے ہیں مگر ساحر ان تمام میں نمایاں نظر آتے ہیں۔
ساحر ہندوستانی فلموں کا ہی نہیں بلکہ اردو شاعری کا اور خاص طور سے ترقی پسند شعراء میں اہمیت رکھتے ہیں۔ مگر ایک سوال یہ کھٹکتا ہے کہ آخر ساحر کو ادب میں اتنی پزیرائی کیوں نہیں ملی جسکے وہ حقدار تھے ۔ بجائے ادب کے انھیں شہرت اگر ملی تو فلموں کے ذریئے ملی اور ایورڈس بھی اگر ملے تو انھیں فلموں کی وجہ سے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ادبی دنیا میں پزیرائی کے لئے کیا کچھ کار ہائے نمایاں انجام دینے پڑتے ہیں یا کسی گروہ سے وابستگی ضروری ہوتی ہے۔ اگر اسے مان بھی لیا جائے اور اس طرز پر ساحر کے کلام کو جانچا جائے تو وہاں بھی ساحر کھرے اترتے ہیں، کیوں کہ ساحر کی جملہ شاعری تو درکنار، صرف انکی طویل نظم پرچھا ئیاں ہی انکی ادبی حیثیت کو اجاگر کرنے کے لئے کافی ہے۔ کیوں کہ اس نظم میں امن عالم اور تہذیب کے بقا اور اسکے تحفظ کے تعلق سے ایک حساس شاعر کا اظہار ملتا ہے۔ خود شاعر کی زبان سے سنتے ہیں کہ آیا وہ اس نظم کے تعلق سے کیا کہتا ہے، ساحر لکھتا ہے:

اسکی تصویر بھی کماتی ہے Dr. Chanda Hussaini Akber Gulbarga Gazal by

غزل



گذری باتوں کی یاد آتی ہے
کس قدر دل مرا دکھاتی ہے


دربدرٹھوکریں کھلاتی ہے
زندگی مجھکو آزماتی ہے