Friday, December 19, 2014

اسکی تصویر بھی کماتی ہے Dr. Chanda Hussaini Akber Gulbarga Gazal by

غزل



گذری باتوں کی یاد آتی ہے
کس قدر دل مرا دکھاتی ہے


دربدرٹھوکریں کھلاتی ہے
زندگی مجھکو آزماتی ہے


جب بھی وہ سامنے مرے آئے
میری آواز لڑکھڑاتی ہے


حال دل اسکو کیا سناوں میں
دور رہ کر وہ مسکراتی ہے


شہرتیں کس قدر ملیں اسکو
اسکی تصویر بھی کماتی ہے


رشک آتا ہے اپنی قسمت پر
بے سبب مجھکو آزماتی ہے


جانے کس بات پر تمہیں اکبرؔ
اپنی تقدیر بھی رلاتی ہے


                        (ڈاکٹر چندا حسینی اکبرؔ ، گلبرگہ)

No comments:

Post a Comment