Saturday, January 10, 2015

قیلولہ اوریادداشت

                                                                                قیلولہ اوریادداشت                        
                                                                                                                                                عندلیب آمنہ



جرمنی کے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ مختصرترین قیلولے سے بھی انسان کی ذہنی کارکردگی پرمثبت اثرپڑتا ہے۔رسالہ نیوسائنٹسٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ صرف چھ منٹ کے لئے آنکھیں بندرکرےآڑم کرنا بھی یادداشت پراچھا اثرڈالتا ہے،یعنی یہ مختصرترین قیلولہ بھی دماغ میںیادداشت کی صلاحیت بہترین بنادیتا ہے۔تاہم برطانیہ کے ایک تحقیق کارنے اس بات سے اتفاق نہیں کیا اورکہا کہ یادداشت پرمثبت اثرات کے لئے نسبتاً لمبی نیند کی ضرورت ہوتی ہے۔
            درجنوں تحقیقی کاموں میں نیند اوریادداشت کے باہمی تعلق کا کھوج لگانے کی کوشش کی گئی ہے اوراس بات کے واضح شواہد ملے ہیں کہ سونے اورجاگنے کا یہ سلسلہ اس ضمن میں اہم کردارادا کرتا ہے۔اس حالیہ تحقیق میں سائنس دانوں نے یہ پتا چلانے کی کوشش کی کہ کتنی کم سے کم نیند ہماری یادداشت پرقابل ذکراثرات مرتب کرسکتی ہے۔ان تحقیق کاروں نے کچھ رضاکاروں کواپنے تجربوں میں شامل کیا اوریہ دیکھا کہ ان چند رضاکاروں کی ذہنی کارکردگی جوچھ منٹ سولئے تھے،ان باقی رضاکاروں سے بہتررہی جوسونہیں سکے تھے۔
            بعض سائنس دانوں کا نظریہ یہ ہے کہ ذہن میںیادداشت قائم رکھنے اوراسے نکھارنے کا عمل اس وقت شروع ہوتا ہے کہ جب انسان گہری نیند میں ہواورگہری نیند کا یہ مرحلہ اس وقت کے کم از کم بیس منٹ بعدآتا ہے،جب انسان سونا شروع کرتا ہے۔تاہم اس نئی تحقیق سے تعلق رکھنے والے ماہرین نے کہا کہ یہ بھی ممکن ہے کہ جونہی ایک شخص سوئے اس کے دماغ میں ایسا عمل شروع ہوجائے،جویادداشت پراچھااثرڈالے اوراس عمل میں نیند کی کمی بیشی کوکوئی دخل نہ ہو۔اس نے مزید بتایاکہ یہ پہلاموقع ہے کہ اس کے علم میں یہ بات آئی ہے کہ اس قدرکم وقفے کی نیند بھی یادداشت پراچھا اثرڈال سکتی ہے۔
            ایک برطانوی سائنس داں نے کہا ہے کہ یہ نظریہ کہ صرف چھ منٹ کی نیند ذہنی کارکردگی کوبہتربناسکتی ہے دلچسپ اوراچھوتی بات ہے لیکن اس سلسلے میں محتاط رہنے کی ضرورت ہے اورمزید تحقیق درکارہے۔کیونکہ ابھی تک سائنس داں یہی کہتے رہے ہیں کہ یادداشت کے عمل پربہتراثرات کے لئے چھ منٹ سے کہیں زیادہ نیند درکارہوتی ہے۔
                                                                                                          بحوالہ : http://www.fikrokhabar.com


Monday, January 5, 2015

مولانا ابوالکلام آزاد ٘Maulana Azad A Speach form High School Child

مولانا ابوالکلام آزاد


ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدور پیدا

ایسی ہی دیدور شخصیت سرزمین مکہ (حجاز)سعودی عربیہ میں 11/نومبر 1888ء کو ایک عربی گھرانے میں پیدا ہوئی۔جن کا نام نامی اسم گرامی ابوالکلام محی الدین آزادرکھا گیا۔
مولانا آزاد کے متعلق بہت  کچھ لکھا گیا ہے  لیکن میرا مقصد تقریر یہاں مولانا آزاد کے نثری قدمات کو اجاگر کرنا ہے۔ میں الہلال والبلاغ، ان کے خطوط کے مجموعہ "غبار خاطر" کے حوالے سے بات کرنا چاہوں گی۔

بیسویں صدی کی اہم ادبی شخصیتوں میں مولانا پر کچھ لکھنا جتنا آسان ہے اتنا ہی دشوار ہے ۔ آسان ان معنوں میں کہ ان کی شخصیت ایک ایسے دیوتا کے مانند ہے جس کے بت کے سائے رقص کرکے پوری عمر گزاری جا سکتی ہے۔ اور دشوار اس طرح کہ ان کے ادبی کارناموں کی قدر و قیمت متعین کرنے کے لیے جب ہم ادب کے مروجہ اصولوں کو سامنے رکھتے ہیں یا اس کسوٹی کو استعما ل کرتے ہیں جس پر عام ادیبوں کا کھر ا کھوٹا پرکھا جا سکتا ہے۔ تو قدم قدم پر یہ اندیشہ ہوتا ہے کہ یا توہم ان کارناموں کے ساتھ پورا انصاف نہیں کر ہے ہیں یا وہ کسوٹی جھوٹی ہے۔ جس کی صداقت پر اب تک ہمارا ایما ن تھا۔ آزاد ہمارے ان نثر نگاروں میں ہیں جن کے ابتدائی کارناموں پر ہمارے بڑے بڑے انشا ءپرداز سر بسجود ہو گئے تھے۔

مولانا ابولکلام آزاد کی انشا ءپردازی کا کمال یہ ہے کہ ان کی تحریر کے انداز ایک سے زیادہ ہیں۔ وہ متعدد اسالیب ِ نثر پر قدرت رکھتے ہیں اور حسب ضرورت انہیں کامیابی کے ساتھ برتتے ہیں۔ الہلال و ابلاغ کے اداریے اور مضامین گھن گرج اور پرشکوہ انداز بیان کے متقاضی تھے۔ وہاں یہی اسلوب پایا جاتا ہے۔ ”تذکرے “ کے لیے علمی طرز تحریر کی ضرورت تھی ۔ وہ وہاں موجود ہے۔ غبار خاطر خطوط کا مجموعہ ہے لیکن ان خطوط کے موضوعات الگ الگ ہیں اور موضوع کا تقاضا بھی الگ ہے۔ اس لیے موضوع کی مناسبت سے تحریر کے مختلف اسلوب اختیار کئے گئے ہیں۔ کہیں آسان عام فہم زبان ہے تو کہیں فارسی آمیز علمی زبان تو کہیں شعریت کا غلبہ ہے۔

عام فہم زبان غبار خاطر کے کئی خطوط میں نظر آتی ہے۔ مگر وہیں جہاں موضوع اس کا مطالبہ کرتا ہے۔ مثلاً ”چڑیا چڑے کی کہانی“ ہر چند ایک علامتی کہانی ہے مگر ہے بہر حال کہانی ۔ یہاں واقعات زیادہ اہم ہیں اور ان پر توجہ کا مرکوز رہنا ضروری ہے۔ اس لیے یہاں سادہ سہل زبان استعمال کی گئی ہے اور اندازہ ہوتا ہے کہ مولانا اس زبان پر بھی پوری قدرت رکھتے ہیں۔ ایک خط کا اقتباس ملاحظہ ہو۔

"لو گ ہمیشہ اس کھوج میں لگے رہتے ہیں کہ زندگی کو بڑے بڑے کاموں کے لئے کام میں لائیں لیکن یہ نہیں جانتے کہ یہاں ایک سب سے بڑا کام خود زندگی ہوئی یعنی زندگی کو ہنسی خوشی کاٹ دینا۔ یہاں اس سے زیادہ سہل کام کوئی نہ ہوا کہ مرجائیے اور اس سے زیادہ مشکل کام کوئی نہ ہوا کہ زندہ رہیے۔ جس نے مشکل حل کرلی۔ اس نے زندگی کا سب سے بڑا کام انجام دے دیا۔"

شعری زبان تو غبار خاطر کا وصف خاص ہے۔ یہی وہ صفت ہے جس کے سبب یہ کتاب اتنی مقبول ہوئی۔ ایک زمانے تک اس طرز کی پیروی کی جاتی رہی بلکہ آج بھی کی جاتی ہے۔ مکتوب نگار کی حیثیت سے غالب کا رتبہ آزاد سے بلند ہے لیکن خطوط غالب سے زیادہ مکاتیب آزاد کی پیروی کی جاتی رہی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ لائبریری میں غبار خاطر کا مقام نثر کے خانے میں نہیں، شاعری کے خانے میں ہونا چاہیے۔ غبار خاطر میں قد م قدم پر ایسے جملے ملتے ہیں جنھیں شعر کہنا زیادہ درست ہے۔ ان جملوں کو پڑھ کر قاری کے منہ سے اس طرح بے ساختہ داد نکلتی ہے جیسے غزل کے شعر سن کر ہی نکل سکتی ہے۔ ایک جگہ لکھتے ہیں،
”اس کارخانہ ہزار شیوہ و رنگ میں کتنے ہی دروازے کھولے جاتے ہیں تاکہ بند ہوں اور کتنے ہی بند کئے جاتے ہیں تاکہ کھولے جائیں۔

نیاز فتح پوری نے مولانا کے نام ایک خط میں درست ہی لکھا تھا۔
” مولانا! آپکا اسلوب بیان میں مجھ وداع ِجاں چاہتا ہے ۔ اگر آپ کی زبان میں مجھے کوئی گالیاں بھی دے تو ہل مند مزید کہتا رہوں گا۔“
مولانا حسرت موہانی نے ابوالکلام کی نثر پر کیا خوب کہا تھا کہ
جب سے دیکھی ابولکلام کی نثر
نظم حسرت میں کچھ مزا نہ رہا
اب آخر میں ایک شعر جو مولانا آزاد کی شخصیت  پرکھرا اترتا ہے پیش کرتے ہوئے اپنی جگہ لوں گی
شعر دیکھئے کہ
مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں
تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہے


شکریہ خدا حافظ