Thursday, March 26, 2015

Gazal by Ateeq Ajmal Wazeer, Gulbarga

          غزل
           سید عتیق اجمل وزیر
                                                                                            موبائل 9036847503


نہیں چاہیے سو نے کی بھی کان مجھے
تجھ کو پانے کا ہے فقط ارمان مجھے

ادا ہے اسکی یہ بھی اک شرمانے کی
دیکھ کے جو وہ ہو تا ہے انجان مجھے

Monday, March 23, 2015

افسانہ : شرارتی : سیف قاضی

شرارتی


اُس کی شرارتوں سے سب عاجز تھے چاہے گھر والے ہوں محلے کے لوگ یا رشتے دار ،وہ کسی کے ساتھ رعایت نہ رتتا تھا۔اُس کی شرارتوں ہی نے اسے پورے محلے میں مشہور کیا ہوا تھا۔اکثر لوگ اس کا نام سنتے ہی منہ بنا لیتے اور اکثر کے چہروں پر مسکراہٹ آ جاتی۔اکثر کے منہ سے بے اختیار برے الفاظ اس کے لئے نکل جاتے۔
وہ اپنی ماں کا اکلوتا بیٹا تھا جب سے ہوش سنبھالا تھا اپنی ماں اور اس کے رشتے داروں ہی کو دیکھا تھا۔باپ اس کے پیدا ہوتے ہی ماں کو چھوڑ گئے تھے کیوں ؟ یہ راز آج تک کسی کو پتہ نہ تھا ،اور شاید اس کی حرکتوں کا کارن بھی یہ ہی بات تھی۔کیونکہ لوگوں کی اُلٹی سیدھی باتوں کا اس کے پاس کوئی جواب نہ تھا ،اور نہ ہی ابھی سمجھ اتنی تھی کہ ایسی باتوں پر توجہ دے۔لہذا وہ اپنی حرکتوں سے اپنا غبار نکالتا۔

اُس نے آنکھ کھولتے ہی اپنی ماں کو محنت کرتے دیکھا تھا۔ان کی ایک کپڑوں کی دوکان تھی جس میں عورتوں اور بچوں کے سلے سلائے کپڑے ملتے تھے اُ ن کی دوکان صدر کے علاقے میں تھی۔اس کی نانی ان کے ساتھ رہتی تھیں جس کی وجہ سے انہیں کھانے پکانے کا پرابلم نہیں تھا۔وہ اسکول جاتا واپسی پر نانی کھانا کھلاتیں اور اسے ہوم ورک کرنے کے لئے کہتیں اور خود کیونکہ تھک جاتی تھیں اس لئے بیچاری لیٹتے ہی سو جاتیں ،اور یہ ہی اس کے لئے سنہرا وقت ہوتا وہ چپکے سے گھر سے باہر نکلتا۔
کسی گھر کی کنڈی باہر سے بند کر دیتا۔کسی کی کیاری کھود ڈالتا۔کسی گھر پر چاک سے چار سو بیس لکھ دیتا۔کسی کا دروازہ کھٹ کھٹا کر بھاگ جاتا۔آدھے گھنٹے میں وہ یہ سارے کام نمٹا کر گھر آ جاتا اور نانی کے اُٹھنے سے پہلے پہلے گھر واپس آ کر کام کرنے بیٹھ جاتا۔
جب لوگ شکایتیں لے کر آتے تو نانی بیچاری معصومیت سے قس میں کھا کھا کر کہتیں کہ وہ گھر میں تھا اور اسکول کا کام کر رہا تھا۔اور یہ خود معصوم صورت بنائے بیٹھا رہتا۔اور دل ہی دل میں قہقہے لگاتا۔کبھی کبھی اسے نانی پر ترس بھی آتا مگر بہت کم۔
ماں اسے بہت سمجھاتی جب اس پر کوئی اثر نہ ہوتا تو رونے لگتی اسے ماں سے ہمدردی ہوتی مگر بس تھوڑی دیر اور پھر باپ کی کمی ماں کی ہمدردی پر حاوی ہو جاتی ،اور لوگوں کے الٹے سیدھے سوال اس کے کانوں میں گونجنے لگتے۔
سب سے عجیب بات یہ تھی وہ پڑھائی میں بہت اچھا تھا اسکول سے کبھی اس کی کوئی شکایت نہیں آئی تھی۔اور یہ ہی بات اس کی ماں اور نانی کے لئے اطمینان کا باعث تھی۔
اسی طرح شکایتیں سنتے شرارتیں کرتے اور پٹتے اس نے پرائمری اسکول ختم کیا اور سیکنڈری اسکول میں آ گیا وہ اب بھی شرارتیں کرتا مگر اب اس کی شرارتیں بھی بڑی ہو گئیں تھیں۔اب وہ ایک گھر کی کندی میں دھاگہ باندھتا اس کو دو تین دفعہ کھٹکھٹاتا اور دھاگہ سامنے والے گھر میں پھینک کر خود اپنے گھر آ جاتا ،اُن دونوں گھروں میں لڑائی ہو جاتی اور یہ گھر میں بیٹھ کر ہنستا رہتا۔
نانی اب کافی ضعیف ہو گئیں تھیں۔اس لئے انہوں نے ایک ماسی برتن دھونے کے لئے رکھ لی تھی ،شام کے وقت ماسی برتن دھونے آتی وہ برتن دھو کر اُٹھتی تو یہ پلاسٹک ی چھپکلی اس مہارت سے رکھتا کہ وہ سچ مُچ کی چھپکلی سمجھ کر چیخ چیخ کر سارا گھر سر پر اُٹھا لیتی اور یہ ایسا بن جاتا جیسے کچھ پتہ ہی نہیں۔ماں کو پتہ چلتا وہ بہت سمجھاتی کہ کسی دن بہت بڑا وبال کھڑا ہو جائے گا۔ وہ وعدہ کرتا کہ آئندہ ایسا نہیں کرے گا مگر دو دن بھی اپنی بات پر قائم نہ رہ پاتا۔
اُن کے کسی رشتے دار کی شادی تھی یہ لوگ وہاں جا رہے تھے۔شادی میں کھانے کا بھی انتظام تھا۔کھا نے میں صرف ایک ڈش کی اجازت تھی اس لئے زیادہ تر لوگ بریانی اور رائتہ یا دہی رکھتے تھے اور ایک میٹھی ڈش ہوتی تھی۔ٹیبلز پر کھانا رکھا جا رہا تھا دو ٹیبلز پر اس نے ویٹر سے کہہ کر دہی کے کونڈوں کی جگہ کھیر کے کونڈے رکھوا دئے۔اور لوگوں نے بریانی میں کھیر ڈال لی ،مارے شرمندگی کے کچھ نے تو اسی طرح کھایا اور کچھ نے پلیٹیں چھوڑ دیں۔جب ویٹرز پر ڈانٹ پڑی تو وہ اس لڑکے کو ڈھونڈھتے ہی رہ گئے۔
ایک دفعہ اس کی کوئی رشتے دار ان کے گھر ایک دن ٹھہر کر اگلے دن دوسرے شہر جانے والی تھیں ان کا گھر کیونکہ ٹرین اسٹیشن کے قریب تھا اس لئے وہ ایک دن ان کے پاس رہ کر اگلے شہر جانے والی تھیں وہ ان کے گھر پہنچیں سب ملنے ملانے میں لگے اسے موقعہ ملا اس نے ان کے دونوں سوٹ کیس سب سے نظر بچا کر اسٹور میں رکھ دئے۔جب سب لوگ ذرا اطمینان سے بیٹھے تو انہوں نے اپنا سامان دیکھا تو دو سوٹ کیس غائب۔اب تو وہ بڑی پریشان ہوئیں ماں اور نانی بھی حیران کہ سامان کہاں گیا ایک ہنگامہ مچ گیا سب کمرے میں برآمدے میں سب جگہ دیکھ لیا باہر بھی دیکھ آئے سوٹ کیس کہیں نظر نہ آئے سب حیران ماں کو ایک دم اس کا خیال آیا جا کر کان پکڑ لیا اس نے اپنی لا علمی کا اظہار کیا مگر ماں نے سب کے سامنے مارنے کی دھمکی دی تو اس نے بتایا کہ اس نے وہ سوٹ کیس اسٹور میں رکھ دئے ہیں۔
دوسرے دن اُن لوگوں کے جانے کے بعد ماں نے پھر سمجھایا کہ خدا را اپنی شرارتوں سے باز آ جاؤ ورنہ کسی دن بہت برا پھنسو گے۔وہ خاموش سنتا رہا پھر اُٹھ کر باہر چل دیا۔اُسے لوگوں کو اس طرح پریشان کر کے تسکین ملتی تھی۔اور اُن باتوں کا جواب جو لوگ اس کے باپ کے بارے میں پوچھتے تھے۔جو وہ ماں اور نانی سے شیئر نہیں کر سکتا تھا۔
وہ گھر سے باہر نکلا ہاتھ میں پرکار تھا۔برابر کے گھر والوں کے یہاں ایک گدھا گاڑی کھڑی تھی جس پر سیمنٹ کے بلاک رکھے تھے جو مزدور اُٹھا اُٹھا کر گھر کے اندر لے جا رہا تھا اور گدھا گاڑی کا مالک دروازے کے قریب کھڑا چائے پی رہا تھا۔اس کی رگِ شرارت پھڑکی اور اس نے گدھے کے قریب سے گزرتے ہوئے ہاتھ میں پکڑا ہوا پرکار گدھے کے چبھا دیا گدھا ایک دم چیختا ہوا بھاگا اس کے پیچھے پیچھے گدھا گاڑی کا مالک اور مزدور بھی حیران پریشان بھاگے۔بڑی مشکل سے گدھے کو قابو کیا اور ایک دوسرے سے اس کے بھاگنے کی وجہ پوچھتے رہے اور یہ چپ چاپ گھر واپس آ گیا۔
اس نے میٹرک بڑی اچھی پوزیشن سے پاس کیا پورے صوبے میں سیکنڈ آیا تھا اس لئے اسے وظیفہ دیا گیا۔ماں اور نانی بہت خوش تھیں وہ خود بھی خوش تھا اور کسی بہت اچھے کالج میں داخلہ لینا چاہتا تھا جو اب اس کے لئے مشکل نہ تھا اس نے اپنے شہر کے سب سے اچھے کالج میں داخلہ لیا اور پڑھائی میں پورے تن من دھن سے لگ گیا۔ نانی بہت بوڑھی ہو گئیں تھیں اور ماں بھی تیزی سے بڑھاپے کی طرف رواں دواں تھیں۔مگر وہ اپنے بیٹے کو بہت بڑا آدمی دیکھنا چاہتی تھیں ،اس لئے کبھی اس کے سامنے اپنی کسی تکلیف کا ذکر نہ کرتی تھیں تاکہ وہ سکون سے پڑھ سکے۔اب اسے شرارتوں کا وقت کم ملتا مگر جب بھی ملتا وہ اسے ضائع نہ کرتا۔
محلے میں شادی تھی یہ لوگ بھی مدعو تھے یہ بھی ماں اور نانی کے ساتھ شریک تھا۔اسے شرارت سوجھی اور ایک پرچی پر یہ لکھ کر مولانا صاحب کو دے آیا کہ ،آپ کے چہرے پر کالک لگی ہے۔مولانا صاحب نے پرچی پڑھی اور اس کے بعد بیچارے پورا وقت اپنا چہرہ پونچھتے رہے کہ ان کا چہرہ سرخ ہو گیا سب مولانا صاحب کی بے چینی اور اس حرکت پر حیران تھے بڑی مشکل سے بیچاروں نے نکاح پڑھایا۔اور نکاح پڑھاتے ہی بھاگ نکلے اور یہ ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو گیا۔
اس نے اپنی تعلیم مکمل کی اور ایک اچھا آرکیٹکٹ بن گیا۔ماں کے بھی دن تھوڑے آسان ہو گئے۔مگر انہوں نے اپنا کاروبار نہیں چھوڑا۔اب اس کی شرارتیں بھی اس کی طرح میچور ہو گئیں تھیں۔لیکن چھوٹی نہیں تھیں۔پھر اس کی زندگی میں ایک لڑکی آئی۔وہ اس کے آفس ہی میں کام کرتی تھی آہستہ آہستہ دونوں ایک دوسرے کے قریب آ گئے اب ماں بھی اور نانی بھی اس کی شادی کرنا چاہتی تھیں جب ماں نے اپنی خواہش اس کے سامنے رکھی تو اس نے ماں کو اپنی دوست کے بارے میں بتایا۔ماں نے کوئی اعتراض نہ کیا اور اس لڑکی کے ماں باپ سے ملنے کی خواہش ظاہر کی اس نے ماں سے وعدہ کیا کہ جلد ہی وہ اس کی ملاقات کرائے گا۔
سب لوگ آپس میں ملے اور ان دونوں کا رشتہ طے ہو گیا۔اب دونوں اور بھی قریب آ گئے وہ خود بھی اپنی پسند پر بہت خوش اور مطمئن تھا ،سب سے زیادہ خوش اس لئے تھا کہ اسے اس کی پسند مل رہی تھی۔ماں نے خواہش ظاہر کی کہ پہلے منگنی کر دیں پھر شادی کریں گے وہ لوگ تیار ہو گئے۔منگنی کے چار ماہ بعد شادی کی تاریخ رکھی گئی۔دن تیزی سے گزر گئے۔
شادی سے دو دن پہلے اس کی رگِ شرارت پھڑکی اور اس نے ایک لمبی چوڑی جہیز کی لسٹ بنا کر لڑکی والوں کو بھیج دی۔وہ سارے بڑے حیران ہوئے خاص کر لڑکی کے باپ کو بہت غصہ آیا انہوں نے اس کے گھر فون کیا ماں نے لا علمی کا اظہار کیا اور انہیں اپنے بیٹے کی شرارتی طبیعت سے بھی آگاہ کیا مگر وہ اتنے شدید ناراض ہو گئے کہ کچھ سننے کو تیار نہ ہوئے۔ماں بہت پریشان ہوئی نانی کا بھی برا حال تھا جب یہ گھر آیا تو ماں نے سارا قصہ سنا یا وہ خوب ہنسا مگر یہ شرارت اسے بہت مہنگی پڑی اس لڑکی نے شادی ہی سے انکار کر دیا کیونکہ اس کے باپ کو ہارٹ اٹیک ہو گیا تھا وہ اسپتال میں تھے اور اس طرح اسے یہ شرارت نہ صرف مہنگی پڑی بلکہ بہت ہی مہنگی پڑی نانی بھی اس سے بالکل خفا ہو گئیں۔اور ماں بھی بالکل خاموش ہو گئیں۔آج پہلی دفعہ اسے اپنی شرارتوں پر غصہ آیا اور اس نے سنجیدہ ہو جانے کا عہد کر لیا۔
وہ ماں کے پاس آیا اور اس نے ماں کے سامنے عہد کیا کہ اب وہ بالکل سنجیدہ ہو جائے گا۔ماں کا دل اندر سے بہت دکھا مگر وہ خاموش رہیں اس نے اپنی شادی کا اختیار بھی ماں اور نانی کو دے دیا۔
ماں نے اس کے لئے ایک لڑکی تلاش کی اور اس کی شادی کر دی۔
یہ وہ کہانی تھی جو اس نے اپنی بیوی کو سنائی تھی کیونکہ وہ اس کی سنجیدہ طبیعت سے اکثر ہراساں ہو جاتی۔
اس کی بیوی نے مجھے بتایا کہ اس کے شوہر کی زندگی میں باپ کی کمی نے ایسی محرومی پیدا کر دی تھی جو وہ ہر طرح دوسروں کو ستا کر نکالنا چاہتا تھا کیونکہ باپ کے نہ ہونے کا صحیح جواب اس کے پاس نہیں تھا۔اس نے اپنی بیوی سے بھی وعدہ لیا تھا کہ وہ کتنا ہی اس سے ناراض ہو مگر علیحدہ ہر گز نہ ہو گی۔کیونکہ مرنے کے علاوہ بچوں کی زندگی میں ماں باپ کی محرومی بڑی ظالم ہوتی ہے۔اور جب انہیں اس کمی کے بارے میں کچھ علم بھی نہ ہو۔
اسکی بیوی نے اس سے ہمدردی کا اظہار کیا تھا اور وعدہ بھی لیا تھا کہ وہ ہلکی پھلکی شرارتیں کرتا رہے گا ،کیونکہ زندگی کا لطف ہی ہلکے پھلکے ماحول میں ہے اور اگر ایک دوسرے کی کمزوریوں کو سمجھ کر ساتھ دیا جائے تو زندگی بہت خوبصورت ہو جاتی ہے۔مجھے اس کی بات بہت ہی اچھی اور حقیقت سے قریب لگی۔ وہ دونوں بہت خوش ہیں ماں اور نانی بھی مطمئن ہیں۔لیکن اسے اپنے آپ کو روکنے کے لئے بڑا صبر کرنا پڑتا ہے
اس کی بیوی نے مجھے بتایا کہ اس سے نکاح کے وقت کسی بات پر جب اس کے والد نے ٹوکا تو کہنے لگا ،انکل پہلی شادی ہے اس لئے دوسری میں بالکل ٹھیک بولوں گا ‘‘ وہ بیچارے اس کا منہ دیکھتے رہ گئے۔لیکن کیونکہ اس کی والدہ اس کی طبیعت کے بارے میں بتا چکی تھیں اس لئے انہوں نے برا نہیں مانا۔
اس کی باتیں سن کر مجھے بہت اچھا لگا۔واقعی اگر کمزوریوں کو سمجھ کر ایک دوسرے کا ساتھ دیا جائے تو زندگی گزارنا بہت آسان ہو جاتی ہے۔بیوی میں اگر صلاحیت اور سمجھ ہو اور شوہر اس کا ساتھ دے تو بہت کچھ بدل سکتا ہے کہ یہ بندھن ہر حالت نبھانے کے لئے ہوتا ہے۔
ساتھ ہی مجھے احساس ہوا کہ کمی کیسی بھی ہو انسان کے اوپر اچھائی یا برائی کی صورت میں ضرور اثر انداز ہوتی ہے۔مصلحت کا تقاضہ یہ ہے کہ جب بچے سمجھنے کے قابل ہو جائیں تو ان کی زندگی میں اگر خدانخواستہ ایسی کوئی کمی ہو جس پر بڑوں کا اختیار نہیں تھا تو ان کو اچھے پیرائے میں ضرور آگاہ کر دینا چاہئے تاکہ اس کے منفی اثرات کم سے کم ہوں اور وہ کسی ایک کو موردِ الزام نہ سمجھیں اور نہ ہی اپنی زندگی میں تلخیاں پیدا کریں۔کیونکہ زیادہ تر لوگ منفی رویوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔
خوش قسمت ہوتے ہیں وہ جنہیں ایسے جیون ساتھی میسر آ جائیں جو ان کی ذہنی اذیت کو سمجھ لیں اور ان کا ساتھ خلوص سے دیں تو زندگی آسان اور خوبصورت ہو جاتی ہے۔ساتھی وہ ہی ہیں جو ایک دوسرے کو تمام تر اچھائیوں اور تمام تر برائیوں کے ساتھ قبول کریں اور ہر کمزور لمحے میں ایک دوسرے کا ساتھ دیں کہ کمزوریوں سے عاری تو کوئی بھی نہیں۔جو لوگ یہ نکتہ سمجھ لیتے ہیں۔وہ ہر سخت سے سخت وقت کا مقابلہ کر لیتے ہیں کہ انہیں اپنی کمزوریوں کا بھی ادراک ہوتا ہے۔اور یہ ادراک ہی شادی شدہ زندگی کی کامیابی کی ضمانت ہوتا ہے۔
سیف قاضی
ماخذ:
بزم اردو لائبریری

٭٭٭


Saturday, March 21, 2015

Afsana "Kashmakash" افسانہ کشمکش


”  کشمکش

صبح ایک عجیب سی بے چینی محسوس ہورہی تھی سوچا....چلوالطاف کو فون کر لیتے ہیں۔
ہلو!
آوازآئی اسلام علیکم!
سلام کا جواب دیئے بغیر ہم نے سوالات داغ دیے۔....اور.... آج کا کیا پروگرام ہے۔ رفیق کے رشتہ کا کیا ہواکہیں کوئی بات بنی یا نہیں۔
الطاف : نہیں صاب آج گاؤںجانا ہے۔

 کیوں؟
الطاف: تمہیں پتہ نہیں؟
نہیں تو!
الطاف : اجی صاب وہ گانوں کے نانی کا انتقال ہوا ہے۔
ارے وہ گاؤں والے نانی کا؟
الطاف : ہاں وہی....
کب؟
الطاف : شایدآج صبح ہی، کچھ ٹھیک سے بتایا نہیںانہوں نے جلدی میں تھے۔
تو تم جارہے ہو؟
الطاف : ہاںمیں تو جاؤںگا اور جنت کو بھی لے جاوں گا۔
توٹھیک ہے میں بھی آؤنگا۔ اسی بہانے سارے نئے پرانے رشتہ داروں سے ملاقات ہوگی؟
چلو اللہ حافظ!
            اللہ حافظ!
            فون کٹ گیا........
            اب دماغ میں دھندلی یادیں پرانے خیالات تازہ ہونے لگیں۔ ہاں وہ یادیں تو بہت دھندلی تھیں۔ کیونکہ وہ تھی تقریباً 30 سال پرانی یادیں۔ تو ہم ان یادوں پر پڑی دھول صاف کرکے اپنے آپ کو کبھی اپنی نانی کے کچے مکان میں تو کبھی کھیت میں پاتے۔ نانا پستہ قد سفید کرتا پاجامہ میں ملبوس موٹ چلارہے ہیں۔ موٹ کا پانی ٹھنڈا اور میٹھا بڑاہی مزے دار ہوتا ہے۔ پانی کے نالے سے گوللر بہہ کر آرہے ہیں میں اور میرا چھوٹا بھائی الطاف ان گوللروں کو جمع کرتے اور کچھ کھاتے تو کچھ باولی کے حوالے کرتے۔ ادھر ادھر کی باتیں کرتے (شاید پاگل باتیں) کبھی ننگے تو کبھی ادھ ننگے باولی میں غوطے لگاتے۔ پھر اوپر آتے ۔ کھیت میں بیر کے درخت بہت پرانے تھے لیکن اس کے بیر بڑے میٹھے تھے ۔کھیت سے تھوڑی دور ریل کی پٹریاں تھیں۔ ہم نے کبھی ریل نہیںدیکھی تھی ، پٹریوں پر کھڑے گھنٹوں ریل کا انتظار کرتے لیکن کبھی ریل نظر نہیں آتی۔ پٹریوں کے بازو ایک قدیم عمارت تھی۔ شاید کوئی سرکاری عمارت تھی۔ اس کے رنگ سے پتہ چلتا تھاکہ یہ کوئی سرکاری عمارت ہے۔ کھڑکی کے اندر نظر ڈالتے اور پتھر مارتے کیوں کہ اندر بہت سارے پتھر پہلے سے موجود تھے۔ کچھ تاش کے پتے ،سگریٹ کی ڈبیاں ، ماچس کی جلی تیلیاں، بہت سارا کچرا اندر کمروں میں بکھرا ہواتھا۔ شاید یہ عمارت سالوں سے بند تھی۔
            گاؤں جانے کاہم نے ذہن بنایا اور گھر سے نکلے ، بس اسٹانڈ کے راستے میں ہمارے تجارت منڈی ہے۔ کچھ ضروری کام نپٹایا۔ پھرٹھیک ۲ بجے بس اسٹینڈ کے طرف روانہ ہوئے۔ اس حساب سے کہ یہاں سے گاؤں جانے کیلئے ۲ گھنٹے درکار ہیں۔ اور میت کا وقت بعد عصر مقرر تھا۔
            بس اسٹینڈ پہنچتے ہی دیکھا کہ بس ہمارا ہی انتظار کررہی ہے۔ بس تقریباًپوری طرح بھری ہوئی تھی ایکا دُکا سیٹیں خالی تھیں۔ بالکل سامنے ایک مکمل سیٹ خالی تھی۔لوگ اکثر آگے والی سیٹ پر بیٹھنے سے ڈرتے ہیں، ہم یہ شعر گنگناتے سیٹ کی جانب بڑھے

لوگ ہر موڑ پے رک رک کے سمبھلتے کیوں ہیں
اتنا ڈرتے ہیں تو پھر گھر سے نکلتے کیوں ہیں

            ہم کھڑکی جانب بیٹھ گئے اور فون پر دوسرے رشتہ داروں کو نانی کے گذرجانے کی اطلاع دیتے رہے ۔ بس نکلنے کو ہی تھی کہ ایک صاحب معہ اہلیہ بس میں داخل ہوئے پوری بس کا جائزہ لینے کے بعدوہ ہمار ی طرف موڑے اور ہم سے سیٹ خالی کرنے کی گذارش کی کہا کہ صاحب لیڈیز ہے اگر آپ دوسری سیٹ پر بیٹھیں تو ہم دونوں اس سیٹ پر بیٹھیں گے۔ ہم نے نفی میں سرہلایا۔کچھ زبان سے کہہ نہیں پائے کیوں کہ ہم پہلے ہی فون میں مصروف تھے۔ وہ موصوف معہ اہلیہ سامنے والی کھڑی سیٹ پر بیٹھ گئے۔ ہمیں فون سے فارغ ہوتے ہی دھوپ اور پیاس کی شدت محسوس ہوئی۔ بوتل اٹھائی اور تھوڑا پانی پیا۔ خیال آیا کہ دھوپ تو کڑی ہے۔ اور گاؤں جاتے وقت دھو پ کدھر کی ہوگی۔ ہم بس کے دائیں جانب تھے۔ دماغ پر کافی زور دینے پر پتہ چلا کہ گاؤں جاتے وقت اگر شام کا وقت ہو تو سورج بھی دائیں جانب ہوتاہے۔ ہم اپنی سیٹھ سے اٹھے اور وہ مذکورہ صاحب کو اپنی سیٹھ دے دی اور ہم بائیں جانب کی سیٹ پر جا بیٹھے۔ خدا خدا کر کے ادھا راستہ کٹنے تک ۲ گھنٹے نکل گئے۔ اب اگلے سفر کیلئے ہمیں بس بدلناتھا۔
            درمیان میں ایک گاؤں میں بس اسٹانڈ پر بس کا انتظار کررہے تھے کہ الطاف کا فون آیا۔
الطاف :   کہاںہیں ابھی آپ؟
            بھائی ابھی فلاں گاؤں میں ہوں!
الطاف:   ارے جلدی آو بھائی میت گھر سے نکالی گئی ہے اور مسجد کی جانب جارہے ہیں۔آپ جلدی آنے کی کوشش کیجئے؟
            ہم نے دریافت کیا کہ کونسی سی مسجد لے جارہے ہیں؟
الطاف :   وہ قلعے کے بغل والی ۔عصر کی نماز میں ملائیں گے۔
            میں نے دریافت کیا کہ عصر کی نماز کا وقت کیا ہے۔
            کہا .... پانچ ، سواپانچ، یعنی ۵ بجے اذان اور سواپانچ یعنی جماعت (عصر کی نماز)پھر نماز جنازہ ادا کی جائے گی۔
            توٹھیک ہے ابھی ایک گھنٹارہ گیا ہے۔ ہم پہنچ جائیں گے ۔
           
            گاؤں کی ایک بس آ لگی، ہم نے کنڈکٹر سے پتہ کیا کہ یہ بس لیٹ تو نہیں ہے۔
کنڈکٹر :   نہیں صاحب ۰۱ منٹ میں چلے گی۔ اب ہمارے پاس دوسرا کوئی چارا بھی نہیں تھا، ہم اس بس میں ہو لئے۔
            درمیان میں ہر دس پندھرامنٹ میں الطاف کا فون آتا وہ ہم سے ہماری کرنٹ پوزیشن معلوم کرتا۔ابھی کہاں ہو، ابھی کہاں، کتنا وقت لگے جلدی کرو۔
            بس ہر چھوٹے بڑے دیہات میں رکتی اور کئی مسافر بس میں چڑھتے اترتے، پھر بس دھیرے دھیرے گاؤں کی
طرف روانہ ہوتی۔

            ہم نے کنڈکٹر کے مزاج اور مذہب کا اندازہ لگالیا کہ وہ کیسے مزاج اورکس مذہب کا ہے۔وہ مسلمان معلوم ہورہاتھا۔ ہم نے کنڈکٹر سے کہا کہ بھائی بس بس اسٹانڈ سے تھوڑا پہلے روک دو ہم کو ایک میت میںجانا ہے۔پلیز
            کنڈکٹر نے اوپر سے نیچے تک ہمارا جائزہ لیا اور کہا کونسی مسجد میں ہے میت؟
            ہم نے کہا:قلعہ کے بازو والی ۔
کنڈکٹر : وہاں جماعت سوا پانچ بجے ہے ۔آرام سے جاسکتے ہو کوئی بات نہیں میت مل جائے گی۔ ایسے درمیان میںبس کو نہیں روکا جاسکتا لوگ باتیں کریںگے ، پہلے جیسا نہیں ہے۔
            بس اسٹانڈ کے قریب کافی بھیڑ تھی اور بس تھوڑا آہستہ چل رہے تھی۔ کنڈکٹرنے ہمیں چلتی بس سے کود نے کو کہا اور ہم کود گئے۔ مسجد کی جانب بھاگنے لگے۔ مسجد سے قریب ایک ہوٹل میں میرے ایک بچپن کے دوست اور ماموزاد دونوں سروں پر دستی باندھے بیٹھے نظرآئے۔ ہم نے پہلے ان سے سلام علیک کی خیریت لی اور مسجد کی جانب چل پڑے۔ مسجد میں داخل ہوئے عصر کی جماعت کا وقت ہوچلاتھا لو گ صفیں درست کررہے تھے۔ ہم وضو خانہ گئے ضروریات سے فارغ ہوئے ،ضوع بنانے تک ایک دو رکعاتیں ہو چکی تھی۔ ہمارے ماموزاد مسجد کے باہر کھڑے دکھائی دئے ہم بھی ان کے ساتھ نماز ختم ہونے کا انتظار کرتے کھڑے رہے۔
            اچانک دو عورتیں روتی ہوئی مسجد کی جانب آئیں ایک صاحب نے ان سے مسجد کے بازو دیوار سے کھڑے رہنے کو کہا۔ وہ دونوں عورتیں باہر جنازے کی نماز ختم ہونے کا انتظار کرنے لگیں تاکہ میت کا دیدارکیاجائے۔
            نانی چوں کے 90 سے اوپر عمر گذار چکی تھی، دوست احباب، سگے سنمبندھی، ناتی پوتی ،گویاکہ بہت بڑا خاندان رکھتی تھیں۔آخری دیددار کیلئے تمام چاہنے والے پہنچ چکے تھے۔ کچھ گھرپر ، کچھ مسجدمیں ، کچھ قبرستان میں، جگہ جگہ مردوخواتین میت کا انتظار کررہے تھے۔
            ہماری نظر قلعہ پر پڑھی، میںنے میرے ماموزاد سے دریافت کیا کہ اس قلعہ کی اتنی اونچی اونچی دیواروں کے درمیان آخر ہے کیا۔ ایک نے کہا چلو چل کر دیکھتے ہیں۔ ہاتھ کنگن کو آرسی کیا۔
            ہم تینوں قلعہ کے صدردروازے سے اندر چلے گئے۔ پوراقلعہ ایک کھنڈر میں تبدیل ہوچکا تھا۔ لیکن ایک مکان نما عمارت قلعہ میں نئی معلوم ہورہی تھی۔ بناوٹ ایک مکان کی طرح تھی۔ لیکن اوپر دولوڈاسپیکر لگے تھے۔ میرا خیال مسجد کی طرف گیا۔ ہاں یاد آیا قلعہ کے اُس جانب سے ایک چھوٹا دروازہ اور بھی ہے ۔ جس کے اندر ایک مندر ہے بچپن میں ہم اس مندر کے اندر سے ہوتے ہوئے مسجد میں داخل ہوتے تھے۔
            سل فون کی گھنٹی بجی ہم نے فون رسیو کیا، وہ ہمارے چھوٹے بھائی کا سعودی سے تھا۔ وہ زیادہ باتونی ہے۔ جب بھی فون کرتا ہے ۔ دوتین سوال ایک ساتھ کردیتاہے۔
ہم نے فون اٹھایا ، کہا ....ہاں کون،
            کہا: اسلام علیکم اور خیریت سے؟
            ہم نے کہا ہم گاؤں میں ہیں نانی کا انتقال ہوا ہے۔
            کہا: انا للہِ واناالیی راجعون! توایک اور بزرگ ہمارے سر سے اٹھ گیا۔
            میں میت میں ہوں بعد میں بات کریں گے۔
            ٹھیک ہے اللہ حافظ۔
            قلع سے باہر آئے دیکھا کہ جنازے کی نماز کی تیاری ہورہی ہے۔
میں نے دونوں ساتھیوں سے کہا چلو جنازے کی نماز تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ تم ہو آؤہم یہیں انتظار کریں گے۔

            ٹھیک ہے ہم باوضوتھے دوڑتے دوڑتے جنازے کی نماز میں شامل ہوگئے۔
            لوگ آہستہ آہستہ مسجد سے باہر آرہے تھے۔
            کسی نے آواز لگائی .... کیا تمام لوگ مسجد کے باہر آگئے؟
            ایک نے جواب دیا.... ہاں ....
            اب مولوی صاحب مسجد کے گیٹ میں رک گئے۔ اور جنازے کی نماز کی اہمیت ،جنازے کی نماز کے طریقے سنانے لگے۔ ہم کنفیوز ہورہے تھے کہ ہم جنازے کی نماز میں ہیں یا عید کی نماز میں۔ کیوں کہ اس سے پہلے ہم نے کبھی کسی مولوی کو جنازے کی نماز کا طریقہ جنازے کی نماز میں بتاتے نہیں دیکھا۔ ہم بچپن میںوالد مرحو و مغفور کے ساتھ عید گاہ جاتے تو خطیب صاحب ایک ایک کر کے پوری نماز کا طریقہ لوگوں کو سمجھاتے ، کب کیا پڑھا جائے تمام پڑھ کر سناتے۔
            ٹھیک اسی طرح مولوی صاحب نے پوری جنازے کی نماز کا طریقہ معہ سنت و نوافیل سناڈالا۔ یہاں تک تو خیرٹھیک تھا لیکن مولوی صاحب نے مزید کہا کہ .... نہلانے اور کفنانے کے بعد میت کی صورت دیکھنے کی ایک غلط روایت چل پڑی ہے ایسا نہیں کرنا چاہئے ۔اس کی وجہ انہوں نے یہ بتائی کہ میت کے آخرت کے حالات اس کی شکل پر ابھی سے نمایاں ہوتے ہیں۔ اگرمیت اچھی ہے تو لوگ اس کی تعریف کریں گے۔کہیں گے کہ چہرے پہ نور آیا ہے۔ تعریف کرنا اچھا ہوتاہے۔ تعریف کرنے سے میت کے گناہ معاف ہوتے ہیں۔ اور اگر میت کا چہرہ کالا پڑھ گیاہے۔ تو لوگ ڈر جائیں گے لیکن پھر بھی تعریف کرنا چاہئے۔ کیوں کہ تعریف کرنے سے میت کے گناہ معاف ہوتے ہیں۔
مولوی صاحب کے گول گول باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آرہی تھیں۔ کب کونسی چیز کو اچھا کہہ رہے ہیں اور کس کوبرا....

            ہمارے ذہن میں تو ندافاضلی کا ایک شعر گردش کرہاتھا

کبھی کبھی یوں بھی ہم نے اپنے جی کو بہلایا ہے
جن باتوں کو خود نہیں سمجھے اوروں کوسمجھایا ہے

            تقریباً آدھے گھنٹے کی تقریر کے بعدنماز جنازہ ہوئی ۔ جلوسِ جنازہ قبرستان کی جانب روانہ ہوا۔ دوعورتیں جو مسجد کی دیوار سے لگ کر کھڑی تھی۔وہ میت کا چہرا دیکھنے کی خواہاں تھی۔ چونکہ مولوی صاحب کی ابھی ابھی تقریر ختم ہوئی ہے کسی نے کچھ کہنے کی ہمت نہیں کی۔
             جنازہ مسجد سے سڑک پرآیا توایک نوجوان نے زور زور سے لاالہ اللہ والحمداللہ اللہ اکبر کے نعرے بلند کرنے لگا ۔ کچھ لوگ گھبرا کر ادھر اُدھر دیکھنے لگے۔ کچھ اس کے پیچھے زور سے کچھ دبی آواز میں تو کچھ دل میں ان کلیمات کو دہرانے لگے۔راستہ خراب تھا جنازا کبھی راستے کے دائیں ہوتا تو کبھی بائیں ۔ مختلف نالیاں گڈھے ،کیچڑ ،پھلانگتے ہوئے کسی طرح میت کو قبرستان پہنچایا گیا۔
            قبر تیار تھی۔ چند نوجوانوں نے جنازے کو سیدھے قبر کے بغل کی دوسری قبر پر رکھا۔
            قبرستان پر کافی مرد وخواتین میت کے دیدار کیلئے انتظار میں تھے۔ کسی نے کہا کہ بھائی ہم میت کے آخری کا دیدار کرنا چاہتے ہیں۔چند نوجوانوں نے آواز لگائی ۔ نہیں ابھی مولوی صاحب نے کیا کہا نہیں سنا؟ نہیں دکھائیں گے۔ کسی کو نہیں دکھائیں گے۔ یہ میت عورت کی ہے۔ یہاں بہت سارے غیر حضرات بھی موجود ہیں۔ ہم میت کا چہرہ نہیںدکھائیں گے۔ ویسے بھی کفنانے کے بعد میت کا چہرا نہیں دکھایا جاتا۔ اب یہ میت ہماری نہیں یہ اللہ کی ملکیت ہے۔
            ہم نے ہماری نانی کو کبھی برقہ اڑھے کبھی کسی سے پردہ کرتے نہیں دیکھا تھا۔وہ صرف ایک سفید چادر، یا شال اُڑھتی تھی، ہم پریشان ہوگئے وہ تو سب کیلئے ایک بوڑھی نانی تھی، نانی ....سب کی نانی۔ یہ سب اثر مویوی صاحب کی تقریر کا تھا۔ ایک نوجوان بڑی تیزی دکھارہاتھا۔ شوز پہنادوسری قبروں کو اپنے پیروں تلے روندتا اپنے پینٹ کو ٹخنوں کے اوپر چڑھایے لوگوںکے ساتھ بڑی بدتمیزی سے پیش آرہاتھا۔
            اچانک ایک بزرگ آگ بگولہ ہوگئے انہوں نے آواز لگائی جن کا سر اور ڈاڑھی پوری طرح سے سفید ہوچکی تھی،تعلیم یافتہ شخص معلوم ہورہے تھے۔ ارے میاں تم ابھی بچے ہو کیا بدتمیزی کررہے ہو۔ بات کرنے کی بھی تمیز نہیں ہے تمہیں، پہلے بات کرنا سیکھو ۔ابھی دودھ کے دانت نہیں گرے ہیں تمہارے۔ یہاں چار مسلک ہیں ، ہرمسلک کے لوگ یہاں پر موجود ہیں۔ سب کے مطابق چلنا ہوگا۔

            ایک نوجوان نے آواز لگائی ارے میاں دیکھنے دو ورنہ زندگی بھر ہم سے شکایت کرتے رہیں گے کہ قبرستان پر جانے پر بھی آخری دیدار نہیں کرایئے۔

            شاید یہ گھریلوسیاست سے ڈررہاتھا۔ گھر جاکر دوسروں کو کیا جواب دے گا۔ لوگوں کے مختلف سوالات رہیں گے۔ کہ تونے فلاںفلاں وجہ سے ہم سے یہ بدلا لیا ہے وغیرہ وغیرہ

            ہم تو اس چیخ پکار سے دور جا کھڑے ہوئے۔ ہم کو تو ان مولوی اوراس بزرگ حضرت سے زیادہ وہ شاعر صحیح معلوم ہورہاتھا جس نے کہاتھا کہ

سچ بڑھے یا کہ گھٹے سچ نہ رہے
جھوٹ کی تو کوئی انتہا ہی نہیں

            اب کہیں چار تو کہیں چالیس ........

                                                                                                             سید عارف مرشد

Editorial


Editorial

Board of editors


Board of Editors

Tuesday, March 17, 2015

غزل

ہرطرف صرف محبت کے اجالے ہوتے
دل جو نفرت کی سیاہی سے نہ کالے ہوتے

عشق کا دل میں جو ہم روگ نہ پالے ہوتے
اتنے پڑتے نہ ہمیں جان کے لالے ہوتے

Gazal by Ateeq Ajmal Wazeer, Gulbarga - 9036847503

غزل

آرام سے سوجاؤ ابھی دھوپ بہت ہے
باہر نہ نکل آؤ ابھی دھوپ بہت ہے

سچ ہے کہ ہمیں ملتی ہے رحت تمہیں دیکھے
تم بام پہ مت آؤ ابھی دھوپ بہت ہے

جو کچھ بھی ہو شاپنگ وہ سبھی شام میں کرلو
بازار نہیں جاؤ ابھی دھوپ بہت ہے

ملنا تو ہمارا نہیں فی الحال ضروری
کل پرسوں چلے آؤ ابھی دھوپ بہت ہے

رخساروں کو گرمی سے بچائے ہوئے رکھنا
گھونگھٹ کو نہ سرکاؤ ابھی دھوپ بہت ہے

بے کار نہیں مان لو اجمل کی یہ باتیں
باہر ذرا دیکھ آؤ ابھی دھوپ بہت ہے


Saturday, March 14, 2015

Gazal by Dr. S. Chanda Hussaini Akbar, Gulbarga

غزل


  اسے ہے شوق فقط بجلیاں گرانے کا
  مرابھی عزم نئے آشیاں بنانے کا

 جہاں ہے کام اسےمیرا دل دکھانے کا
 وہیں پہ ذوق بڑھا مجھ کو مسکرانے کا

یقیں ہے سب کو یہاں اس کے کارخانے پر
 اسی کا کام بنانے کا پھر مٹانے کا

قدم قدم پہ جہاں دنیا لوٹی جاتی ہے
 ملے گا کیسے صلہ یوں ہی گنگنانے کا


  یہ دور جورو جفا مکروفریب کا اکبرؔ
 ملے گا اجر بھلا کس کے کام آنے کا


Gazal by Dr. Syed Chanda Hussaini Akbar, Gulbarga

Dr. Syed Chanda Hussaini Akbar
Cell : 9844707960













ہم وفا کرتے رہے پر وہ دغا دیتے رہے
 دوستی کی آڑ میں ہم کو سزا دیتے رہے

غیر کو بھی منزلوں کا ہم پتہ دیتے رہے
 اور اپنے ہی ہمارا دل دکھادیتے رہے

نفرتوں کے شہر میں بھی پیار سے جیتے رہے
 ظالموں کے ظلم کا ایسا صلہ دیتے رہے

دشمنوں کی خیر بھی چاہی ہے ہم نے ائے خدا
 پر ہمارا آشیاں اپنے جلا دیتے رہے

کون جانے کس گھڑی آئے گی ایک دن موت کی
دشمنوں کو زیست ہی کی ہم دعا دیتے رہے

عیب جوئی سے کسی کا ہو نہیں سکتا بھلا
 اس لئے ہی راز سب کے ہم چھپا دیتے رہے


زندگی کی راہ میں کھائے ہیں دھوکے اس قدر
 پھر بھی اکبرؔ ہم یہاں درس وفا دیتے رہے

Friday, March 13, 2015

بلراج بخشی کے افسانے: تجزیاتی مطالعہ


بلراج بخشی کے افسانے: تجزیاتی مطالعہ

                ”ایک بوند زیدنگی“ بلراج بخشی کے اس افسانوی مجموعہ کا جب ہم مطالعہ کرتے ہیں تب ہمیں ماضی میں اشاعت پذیران افسانں کی یاد آتی ہے۔ جن میں راست بیانیہ، کہانی پن، موضوع کے اعتبار سے افانہ کے مرکزی و ضمنی کرداروں کے انفسیاتی پہلووں کو موثر انداز میں پیش کیاجاتاتھا۔جنہیں ملک کے نامور رسائل نے نہایت اہتمام کے ساتھ شائع کیاتھا۔ وہ افسانے معروف افسانہ نگاروں، ڈاکٹر اظہار اثر، ڈاکٹر بشیشرپر دیپ، م ک مہتاب، م ناگ، رام لعل، گربچن سنگھ، م م راجیندر، کوثر چاندپوری، کشمیر ی لال ذاکر، ہرچرن چاولہ،جتیندر بلو، مقصود الٰہی شیخ، اسرار گاندھی، ش صغیرادیب نے لکھے جن کا شمار بے مثال افسانواں میں ہوتاہے۔ مذکورہ افسانہ نگاروں نے جو افسانے لکھے وہ ان ایام حیات آسودہ، خوش اذہان و خو طبع، کشادہ قلب و ذہن، منکرالمزاج، انسانی پیکر، اوروں کے مصائب و آلام اور مسرت آمیز لمحات زندگی میں ساتھ نبھانے والے کرداروں اور خوشحال معاشرے و سماج کی ترجمانی کرتے ہیں۔ جن موضوعات پر قندکرہ افسانہ نگاروں نے افسانے لکھے کرداروں کے حوالے کہانی کا تانا بانا خوبصورت انداز میں بناگیا جن میں مستعمل سلیس زبان اور تسلسل ان کے تفہیم وادراک میں کوئی دشواری نہ تھی شاید یہی وجہ تھی کہ ان افسانوں کے قارئین کا دائرہ وسیع تھا۔

                ان ہی افسانہ نگاروں کے منتخب افسانوں پر مشتمل معتبر رسالوں نے سالنامے ترتیب دیئے اور شائع کئے جن کا قارئین بے چینی سے انتظار کرتے تھے جوں ہی وہ کتب فروش یا اخبار فروشوں کے ہاں دستیاب ہوتے انہیں ہاتھوں ہاتھ لیاجاتاتھا۔ ادب نے ہردور میں سماج و معاشرے کی نمائندگی کی ہے۔ پریم چند، منٹو، بیدی، کرشن چندر، عصمت چغتائی اور قرة العین حیدر جنہوں نے افسانوی ادب کے حوالے سے اپنے عصرکے سماجی مسائل پیش کئے مگر ان افسانوں میں انسانی ذاتی اور نسلی امتیاز کے خلاف احتجاج اور کسی مخصوص طبقے سے وابسطہ کرداروں کی جانب اشارہ متاہے۔ افسانوی ادب کے تخلیق دور میں ایک ایسا تغیر بھی پیدا ہوا جن کے زیراثر ایسے فسانے تحریر کئے گئے جن میں ابہام اور علامتوں کے علاوہ تجریدی انداز تحریر جس سے نہ خواص عوام متاثر تھا یہ افسانے جن حلقہ قارئین کے مطالعہ کا باعث بنے وہ محدود رہا۔ وقت آگے بڑھتا گیا مگر افسانہ نے اسی بیانیہ اور کہانی پن کے تکنیکی اظہار کی واپس راہ اختار کی ”ایک بوند زندگی“ جس میں شامل سبھی افسانوں سے قلم کار کی فنی صلاحیتیں نمایاں ہیں جس نے افسانے کے تسلسل اور بیانیہ کے سہارے قارئین کی توجہہ و دلچسپی کو افسانے کی اختتام تک برقرار رکھا۔

                موضوع کے اعتبار سے ”زچ“ اور ”ہارا ہوا محاذ“ یہ افسانے طوالت کے باوجود زبان و بیان اور افسانوی انداز تحریر ہمیں بے حد متاثر کرتے ہیں۔ شامل مجموعہ افسانوں میں پہلا جس کا عنوان ہے۔ ”فیصلہ“ جس میں مرکزی کردار جج شکری مرغ کو اپنا شکار بنانے کی بجائے آزادی کا حکم صدار کرتاہے۔ جو انصاف کے عہدے پر فائز شخص کے نرم گوشہ قلب کی دلیل ہے جسے مرغ عنا ی ہاحساس دلایا اور رحم طلب نظر ڈالی کہ ناحق زندہ کو درگور یا زبح کرتایہ کہاں کا انصاف ہے۔”ڈیتھ سرٹیفکیٹ“ افسانہ جس میں سرکاری دفاتر میں رائج سسٹم کی بہترین عکاسی کی گئی ہے۔ جہاں سرکاری قوانین و اصولوں کی آڑ میں کسی بھی انسان کے سامنے دشواریاں پیدا کی جاتی ہیں۔ جن سے وہ یا مطلوبہ حصول دستاویزات کا ارادہ ترک کرے یا پھر افسران ادنیٰ و اعلیٰ دونوں کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرے جنہوں نے مسائل حل کرنے کی بجائے مزید پیچیدہ کردیاہے۔ افسانہ ”زچ“ حصول اولاد کی تمنا میں اٹھائے ان اقدام کی کہانی ہے جس نے ازدواجی رشتہ کی پاکیزگی کو روند کر ایسی راہ اختیار کرلی جو مذہبی روایات کے اس غار تک لے جاتی ہے۔ جہاں امید کی کرن ذہن و دل کے مایوس گوشہ کو روشن کرتی ہے مگر اَنا کا جگنوہردل انساں میں شب و روز اڑتا پھرتاہے جس نے کردار افسانہ سا دل کے دل میں بھی ایک ایسی روشنی پھیلادی جس میں وہ کبھی اپنے آپ کو نیلام ھوتا دیکھنے کا خواہاں نہیں تھا۔ دوران افسانہ کرداروں سادل اور خوشو کے درمیان مکالمات دلچسپ ہیں۔

                ”مکتی“ نجات، یہ افسانہ بلیدان کی ایک مثال ہے جو مذہبی روایات کے پیش نظر کہانی ضمنی کردار کی زندگی کے یثار پر ختم ہوتی ہے۔
                ”کیا نہیں ہوسکتا“ اس افسانہ میں عصری مسائل کو تخیل کی بنیاد پر افسانوی رنگ میں پیش کیاگیاہے جس میں رشوت جیسے مہلک مرض کو سرکاری دفاتر و ملازمین میں پھیلنے اور ان سے چھٹکارہ لاحاصل وغیرہ ممکن بتلایا گیاہے۔ سیاسی لیڈران کی راہ نمائی میں افسران بالا کا راہ رشوت اختار کرنا اور ان کے خرابئی ایمان اورپراگندہ ماحول کی بہترین عکاسی کی گئی ہے۔ افسانہ ”مکلاوہ“ طویل ہونے کے باوجود ہی کلائمکس جاننے کیلئے قاری اسکی گرفت سے نہیں نکل پاتا۔ کردار افسانہ رفلوکی موت واقع ہونے پر دلہن نے جو انکشاف کیا وہ رفلو کے ایثار کا نتیجہ ہے کیوں کہ خود رفلو نے بھی فرضی طورپر دلہن کے تئیں اپنے دل میں ایک احساس وفا لیئے ایسی راہ اختیار کرچکا تھا جو موت کے جانب پڑھتی ہے افسانہ نگار نے متاثر کن انداز میں واقعہ کو افسانوی رنگ دیاہے۔
                قلم کار جب اپنے قرب جواز کے ماحول سے کوئی تاثرلیتاہے تب تخلیقی اظہار کے لیئے ذہن قلم تھامے پر مجبورتاہے اور گردونواح پر گہری نظر ڈالتا ہے جس نظریئے، فکری زاویہ نگاہ معاشرے کی جانب دوڑاتاہے تو شہکار تحریریں صفحہ قرطاس پر براجمان ھوجاتی ہیں افسانہ ”گرفتہ“ بھی حالات قرب و جواز قلم کار کی ترجمانی کرتاہے ادتیہ کردار افسانہ کو درپیش دشواریوں کا تذکرہ افسانوی انداز میں متاثرکن ہے۔
                افسانہ ”کھانسی ایک شام کی “ جس میں ایام موجودہ کی ھورہی مقدس و محترم رشتوں کی پائمالی اورمخلص جذبوں کے استحصال کی بہترین عکاسی کی گئی ہے حالات حاضرہ اور تیزرفتار زندگی کے تناظر میں بنی لال کردار افسانہ جس کا اپنا بیٹا باپ کے جذبات کو مجروح کرتاہے جو اس نے موت کو بیٹے کے بدلے گلے لگالیا۔
                ”ہارا ہوا محاز“ آج کل نئی دہلی نے اس افسانہ کو شائع کیا تھا راقم الحروف نے مابعد مطالعہ افسانہ مذکورہ یہ تصور کیا کہ قلم کا رشاید محکمہ جنگلات میں ملازم ہے یا پھر حیوانات سے متعلق کسی شعبہ سے وابستہ ہوگا جس نے شیر کی حیوانی زندگی کو اتنی قریب سے دیکھا اور کس طرح دشت میں اس حیوان کے شب و روز گذرتے ہیں جہاں ان کی اپنی تہذیب ہوتی ہے ان کے اپنے جینے کے اصول بھی ہوتے ہیں جن کے نسل افزائش سے لے کر پرورش اور موت تک کے فاصلے سے افسانوی تخیل کا گذرھوتاہے قلم کار کے ساتھ ساتھ قاری بھی خود کو دشت و شہر کے بیچ محسوس کرتاہے۔ یہ بیانیہ انداز کی گرفت ہے جو قاری کو دشت سے نکلنے نہیں دیتی۔
                ”چور“ اس افسانہ سے یہ واضح نہیں کہ ھوٹل کے روم بوائے کو مرکزی کردار افسانہ نے خطیر رقم ایک لاکھ کیوں کردی خود جس نے دو لاکھ روپیئے انشورنس کمپنی سے بطور بونس حاصل کئے تھے۔ جس کے صرقہ کی جھوٹی اطلاع پولس کو دی گئی تھی یا روم بائے کے تئیں مرکزی کردار اس اپنے قلب میں نرم گوشہ رکھتا ہے کہ خود چل کر ایک لاکھ اسکے حوالے کردے بطور ٹپ موٹی رقم ھوٹل کے کسی روم بوائے کو کھلے عام نہیں عطا کی جاسکتی۔ موضوع افسانہ اور کلائمس دونوں کے درمیان قاری تذبذب میں مبتلا رہتاہے۔
                قندکرہ بالا افسانوں پرمشتمل”ایک بوندزندگی“ بلراج بخشی کا اولین مجموعہ ہے جسے حلقہ ارباب ذوق و قارئین افسانہ نگار کی فنی صلاحتوں کو پرکھیں گے تب انہیں بیانیہ انداز و تسلسل پر مبنی ان افسانوں کو ایک معیاری مقام عطا ہوگا۔ بلراج بخشی کے افسانے قابل شتائش اور وہ مبارکباد کے مستحق ہیں جن سے یہ امید کی جاتی ہے کہ وہ تخلیقات افسانہ کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔
                                                                تجزیہ نگار : مسعود علی تماپوری، گلبرگہ
                                                                رابطہ : 9886049489