Tuesday, March 17, 2015

غزل

ہرطرف صرف محبت کے اجالے ہوتے
دل جو نفرت کی سیاہی سے نہ کالے ہوتے

عشق کا دل میں جو ہم روگ نہ پالے ہوتے
اتنے پڑتے نہ ہمیں جان کے لالے ہوتے

عشق کا دل میں جو ہم روگ نہ پالے ہوتے
اتنے پڑتے نہ ہمیں جان کے لالے ہوتے



مجھ کو حالات کے پتھر سے نہ ٹھوکر لگتی
تم جو بانہوں میں مجھے اپنی سنبھالے ہوتے

تیری چاہت کا سہارا ہمیں گر مل جاتا
اسطرح سے نہ رواں آنکھ سے نالے ہوتے

ہم ترے دل میں سما جاتے محبت بن کر
دل کے دروازوں پہ نفرت کے نہ تالے ہوتے

وہ جو دلکش مری راہوں میں بچھاتا کانٹے
کچھ سکوں پائے مرے پیروں کے چھالے ہوتے
                                    محمد نوردلکشن (نالوار)




No comments:

Post a Comment