Thursday, July 19, 2018

اُردو میں ڈرامے کا فن اور اسکی حیثیت از محمد مسیح اللہ


اُردو میں ڈرامے کا فن اور اسکی حیثیت
 محمد مسیح اللہ،  رسرچ اسکالر، 
گلبرگہ یونیورسٹی

          ڈرامہ وہ صنف ادب ہے جسمیں زندگی کے حقائق و مظاہر کو عملاً پیش کیاجاتاہے۔ ڈرامہ کا تصور اسٹیج سے جڑاہواہے۔ اسٹیج کے ذریعہ شائقین کی ذہنی تسکین اور تفریح طبع کا سامان فراہم کیاجاتاہے۔ دیگر اصناف ادب کی طرح ڈرامہ کی بھی ایک مستقل حیثیت ہے۔ اور دنیا کی اکثر و بیشتر زبان و ادب میں ڈرامے کی صنف کو اونچا مقام ملاہے۔ اور اسکی روایت اتنی ہی قدیم ہے جتنی کے زبان و ادب کی ۔
          انگریزی ادب میں شیکسپئر اور برناڈ شاہ کے ڈرامے بے مثال ادبی شاہکار کی حیثیت رکھتے ہیں اسی طرح فرانسیسی، جرمنی روسی زبانوں میں بھی ڈرامے لکھے گئے۔ چونکہ اردو ادب کا زیادہ حصہ اسلام اور مسلمانوں سے جڑاہواہے اور اسلام میں رقص و موسقی کو ناپسندیدہ ہونے کی بنا پر اردو ڈرامے کو وہ عروج نہیں مل سکا جو دیگر اصناف ادب کو ملا۔
          اردو ڈرامے کو اسکا خاطرخواہ مقام نہ ملا۔ پھر بھی اس صنف ادب نے اپنی ایک شناخت پہنچان بنالی۔ بقول ڈاکٹر عبدالحق۔ ‘‘اصل یہ ہے کہ ہمارے یہاں اس فن کو حقیرسمجھاجاتاہے اور یہی وجہ ہے کہ اس نے کوئی ترقی نہیں کی’’۔
          پروفیسر مسعود حسین رضوی کی تحقیق کے مطابق اردو کا پہلا ڈرامہ واجد علی شاہ کا لکھا ہوا‘‘فسانہ عشق’’ کے نام سے مشہور ہے جو رادھاکرشن کی کہانی پر مبنی ہے۔ لیکن یہ ڈرامہ عوام کیلئے اسٹیج پر پیش نہیں کئے جانے کی وجہ سے عوامی مقبولیت حاصل نہ کرسکا اسکو صرف چہار دیواری میں پیش کیاجاتارہا۔
          البتہ امانت لکھنوی کا لکھا ہوا ڈرامہ ‘‘اندرسبھا’’ نے وہ عوامی مقبولیت حاصل کی کہ جو شاعرانہ حسن کے علاوہ زبان کی صفائی و شرینی اور دیوامالائی واقعات کا بہترین امتزاج ہے۔
          انیسویں صدی کے نصف آخر میں پارسی اردو تھیٹر کا آغاز ہوا جس میں ظرافت رقص و سرور کا زور رہا عوامی جذبات کی تسکین کو مدنظر رکھاگیا۔ ڈرامے فحش اور سطحی جذبات کے حامل تھے۔
          ہاں اردو ڈڑامے کو ایسے وقت میں طالبہ بنارسی، حسن لکھنوی، بیتاب بریلوی جیسے ماہر ادیب وفنکاروں نے وقار بخشا۔ اور اسکی عظمت کو بلند کیا۔ نثری مکالمے اور اردو گیتوں کو اس میں شامل کیا۔
          پھر بھی فکروخیال کی پستی سستی رومانیت حسن و عشق کے فرضی قصوں کی وجہ سے ڈرامہ سنجیدہ مقام نہ پاسکا۔
          آغاحشر کاشمیری نے اردو ڈرامے کو اپنی تخلیقی بصیرت و فنکارانہ صلاحیتوں سے اسکے معیار و وقار کو کافی بلند کیا۔ معاشرتی مسائل کو اپنے ڈراموں میں اہمیت کے ساتھ شامل کیا۔
          اس صنف ادب کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے پیش نظر کئی اک ادیبوں نے بھی ڈرامے لکھے۔ لیکن وہ اسٹیج نہیں کئے گئے صرف کتابوں کی زینت بنے رہے۔ ڈرامہ نگاروں کی فہرست میں افسانہ ضرور ہوا لیکن انکے ڈراموں کو کوئی مقام نہ ملا۔ البتہ معاشرتی مسائل کے شامل ہونے کی بنا پر قارئیں نے مطالعاتی دلچسپی دکھائی۔ چونکہ ان میں تفریح طبع کا سامان نہ ہونے کی وجہ سے ادب ذوق افراد نے سیاسی و معاشرتی آگہی کا زریعہ سمجھا۔
          اردو ڈرامے کو عصری آگہی اور قومی زندگی کے گوناگوں مسائل کا وسیلہ اظہار بنانے والے ڈرامہ نگاروں میں امتیاز علی تاج سید عابد حسین کا نام سرفہرست ہے۔ مغربی طرز پر لکھا گیا عابد حسین کا ڈرماہ ‘‘پردہ غفلت’’ عصری ماحول کا ترجمان۔ مختلف رویوں کے درمیانی پائی جانے والی کشمکش کا عکاس ہے۔ اور مفنرد کردارنگاری وفنی محاسن کی وجہ سے نمایاں حیثیت کا حامل ہے۔ سید امتیاز علی تاج کاشہرۂ آفاق ڈرامہ ‘‘انارکلی’’ اپنی فنی عظمت عمدہ کردار نگاری اور چست مکالموں کی وجہ سے بہترین ڈراموں میں شمار کیاجاتاہے۔ انکے علاوہ اشتیاق حسین قریشی، پروفیسر محمد مجیب اور فضل الرحمٰن نے بھی ڈرامے کی روایت کو فروغ دیا۔ انکی ڈرامہ نگاری سے فن ڈرامہ نگاری میں اک سنجیدگی فکری بالیدگی اور معنویت کی گہرائی اور زبان و بیان کی گیرائی فنی وسعت حاسل ہوئی۔
          پروفیسر مجیب کا ڈرامہ ‘‘کھیتی’’ بھی ایک اردو ادب میں نمایاں مقام رکھتاہے۔ معنویت اور فنی لطافت کا غماز ہے۔ اس ڈرامہ میں انسانیت اور درمندی کا احساس پایاتاہے۔


Wednesday, July 18, 2018

افسانہ ‘‘دعا’’ کا جائزہ از محمد مسیح اللہ


افسانہ ‘‘دعا’’ کا جائزہ
          سید محمد اشرف نے اپنی ادبی زندگی کا آغاز کہانیوں سے کیا اور بہت کم عرصہ میں دور جدید کے ممتاز افسانہ نگاروں میں شامل ہوگئے اور اپنا ایک مقام بنالیا۔ انہوں نے افسانہ نگاری میں انسانی اقدار کی پامالی معاشرتی عدم مساوات کا کرب اعلیٰ اقدار کی زوال پذیری کو موضوع بنایاہے۔ زبان و بیان پر فنکارانہ گرفت کردار کے انتخاب میں بیدار بغزی کا ثبوت دیتے ہیں۔ یہ انکے فنی مہارت کا عکس ہے جو انکے افسانوں سے جھلکتاہے۔
انکےافسانوں میں سادگی اسلوب کے علاوہ فطری پن نمایاں نظر آتاہے۔ انکے افسانوں کے دو مجموعے شائع ہوچکے ہیں۔ ‘‘ڈار سے بچھڑے’’ اور ‘‘بادصبا کا انتظار’’ اور ایک ناول بھی شائع ہوچکی ہے۔
‘‘دعا’’ یہ ایک ایسے لڑکے کی کہانی ہے جو انتہائی غریب گھرانے سے تعلق رکھتاہے۔ معاشی تنگی کی وجہ سے گاؤں سے شہر کو کام کیلئے آتاہے تاکہ اپنے ماں باپ بھائی بہن کی مدد کرسکے۔ لیکن وہ شہر آکر جس گھر میں ملازم بنتاہے۔ وہ اسکا استحصال کرتے ہیں۔ صبح سے شام تک کام لیتے ہیں۔ نتیجتہً اسکے دل میں نفرت کا جذبہ ابھرتاہے۔ چنانچہ ایک دفعہ طوفان آتاہے۔ تو مالکن ہم صاحب کے کہنے پر وہ جانماز بچھاکر نماز و وظیفہ تو پڑھتاہے لیکن طوفان کو ٹالنے کیلئے دعا نہیں پڑھتا۔ اور یہ اسکے ساتھ کئے گئے ناروا سلوک و استحصال کا رد عمل ہے۔

Thursday, July 5, 2018

محمد یعقوب بیگانہ بحیثیت شاعر از استاد عبدالرشید


محمد یعقوب بیگانہ بحیثیت شاعر

         
 محمد یعقوب بیگانہ نے ایک شاعر کی حیثیت سے کم وبیش تمام اصناف سخن میں طبع آزمائی کی ہے۔ حمد ، نعت ،نظم ،غزل ،مرثیہ ،قطعات وغیرہ لکھے ہیں۔ آپ کی تین شعری تصانیف منظرِ عام پر آچکی ہے۔ جن کے عنوان ” انسان بنو ،حنائے غزل اور عدم کاسفر ہے ۔ا ن کے مجموعہ ” انسان بنو اور عدم کاسفر“ میں نظموں کی کثرت ہے جب کہ مجموعہ ” حنائے غزل “ غزلیہ شاعری پر مشتمل ہے۔
           بیگانہ کے کلام کا بغور مطالعہ کیا جائے تو ان کے خیالات احساسات اور مشاہدات کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔آپ کے کلام کی برجستگی ،سادگی اور صاف گوئی کے بدولت ان کے نغموں میںحسن وتاثیر کی شان پیدا ہوئی ہے۔ ان کے شعری سرمایے میں دیگر اصنافِ سخن کے مقابلے میں نظمیہ شاعری کا پلہ بھاری ہے۔ انہوں نے پابند نظموں کے علاوہ دو چار آزاد نظمیںبھی لکھی ہیں ۔ جن کے مطالعے سے انداز ہ ہوتاہے کہ آپ آزاد نظمیں بھی کامیابی کے ساتھ لکھے سکتے ہیں۔ آگے کے صفحات میں آپ کے تین شعری مجموعے کا مقدور بھر جائزہ لیا گیا ہے۔

Thursday, June 28, 2018

محمد مسیح اللہ  (لکچرر)

منشی پریم چند کا افسانہ ’’بوڑھی کاکی‘‘

منشی پریم چند، اصل نام دھنپت رائے۔ ادبی زندگی کا آغاز ناول نگاری سے کیا۔ پھر افسانہ کی طرف متوجہ ہوئے انکا پہلا افسانہ ‘‘انمول رتن’’ 1908 میں شائع ہوا۔ اسی سال ان کے افسانوں کا مجموعہ ‘‘سوز وطن’’ منظر عام پر آیا۔ پریم چند نے بارہ ناول اور تین سو سے زائد افسانے لکھے۔ انکا افسانوی ادب اپنی بے مثال حقیقت نگاری کے سبب انفرادیت رکھتاہے۔  انہوں نے اپنے افسانوں میں دیہات کی زندگی کی کامیاب عکاسی کی ہے۔ انکے افسانوں کا موضوع ظلم و استبداد کے خلاف احتجاج۔ سماجی انصاف کی خواہش حب الوطنی اور انسان دوستی انکے افسانوں کے نمایاں موضوعات ہیں۔

Thursday, June 21, 2018

صادقہ نواب سحر اور ناول کہانی کوئی سناؤمتاشا ..... از رخسانہ سلطانہ،

صادقہ نواب سحر اور ناول ’’کہانی کوئی سناؤمتاشا‘‘
                                                                                                            ڈاکٹر رخسانہ سلطانہ
                        cell : 9739045702
                        write2rukhsar@gmail.com

            صادقہ نواب سحر کا پہلا ناول ”کہانی کوئی سناومتاشا “ جب میری نظر سے گذرا تؤپڑھتے ہوئے احساس ہوا کہ متاشا اپنی کہانی جس طرح بیان کر رہی ہے وہ دراصل دنیا کؤآئینہ دکھا رہی ہے وہ زمینی ہلچل کؤاپنے فطری انداز میں ایک فطری بہاو  کے ساتھ پیش کرتی ہے۔ دراصل یہ خوبی کردار کی نہیں صادقہ کا سحر ہے جؤسر چڑھ کر بول رہا ہے یہ اکیسویں صدی کی فعال ؤمتحرک شخصیت ہے جنہوں نے بہت کم وقت میں اپنے منفرد لب ؤلہجے سے اپنے معاصرین میں الگ پہچان بنائی ۔ان کی تحریر نے سنجیدگی ،متانت اور سادگی بیان کؤنہ صرف منوایا ہے بلکہ سماج کؤایک نئی سوچ عطا کی ہے۔میں قرة العین ، عصمت چغتائی ،صالحہ عابد حسین ،رضیہ سجاد ظہیر ،خدیجہ مستور ،ممتاز شیریں ،عفت موہانی ،رضیہ بٹ ،عطیہ پروین ،مسرور جہاں ،ذکیہ مشہدی اور قمر جہاں اور دیگر کؤپڑھا تھا ۔ان خواتین کے علاوہ اور بہت سی خواتین فن کاروں نے اس میدان میں قدم رکھا لیکن ”کہانی کوئی سناو  متاشا“ جیسی تخلیق فی زمانہ کم نظر سے گذری ہے۔

Tuesday, June 19, 2018

عہدخداداد کا شعروادب کا اجمالی جائزہ۔۔۔Ahde Khuda Dad ka Shair o Adab Ek Jayza




عہد خداداد کا شعروادب (1761-1799)کا اجمالی جائزہ


          ڈاکٹر عبدالکریم تماپوری کی حالیہ تصنیف عہد خداداد کا شعروادب ایک تحقیقی نوعیت کی کتاب ہے۔ اس سے قبل آپ کی ترتیب کردا دو کتابیں منظر عام پرآئیں وہ دونوں ہی شعری مجموعے تھے۔ یہ کتاب دراصل ان کی نصف صدی پر مشتمل تحقیق ہے۔ کیوں کہ انہوں نے ” دکنی ادب کی تحقیق کا ارتقاءاور اس کا تنقیدی مطالعہ“ کے زیر عنوان تحقیقی مقالہ تحریر کیا جس پر میسور یونیورسٹی سے انہیں ڈاکٹریٹ کی سند سے نوازا گیا۔ اس دوران بہت سارا مواد انہیں دستیاب ہوا جسے محفوظ کرتے ہوئے وظیفہ حسن خدمت پر سبکدوش ہونے کے بعد اسے ہاتھ لگایا اور انہیں کتابی صورت میں منظر عام پر لانے کی سعی فرمائی اور یہ کوشش ہنوز جاری ہے۔ امید کے مزید کتب منظر عام پر آئیں بہرحال یہ ڈاکٹر صاحب کی پہلی باقاعدہ تحقیقی کاوش ہے جسے انہوں نے تنقیدی روش سے گذار کر اہلیان ادب کے روبرو لایا۔ اس پر پیش رس کے عنوان سے ماہر دکنیات پروفیسر محمد نسیم الدین فریس نے ایک مبسوط اور جامع مضمون تحریر فرمایا۔ اتنا ہی نہیں گلبرگہ کے ایک معزز اور بزرگ شخصیت ڈاکٹر وہاب عندلیب اور اردو کے ایک ہمہ جہت قلمکار اور بزرگ ادیب جناب علیم صبا نویدی چنائی نے بھی اس کتاب کا بھرپور جائزہ لیتے ہوئے مضامین رقم کئے ہیں۔ ان تین مضامین کے بعد پھر کسی جائزے کی چنداں ضرورت نہیں۔ مگر اس کتاب کو پڑھنے کے بعد میرا دل بھی بے چین ہوا کچھ خامہ فرسائی میں بھی کروں اس طرح اس کتاب سے مجھے یہ محسوس ہوا کہ فی زمانہ جس طرح کی تحقیق ہورہی ہے اور جس طور کے تنقیدی مضامین رقم کئے جارے ہیں ان میں یہ بہت بہتر بلکہ ان نئے لکھنے والوں اور تحقیق سے وابستہ افراد کے لئے مشعل راہ کا کام دے سکتے ہیں۔ تحقیق کی مبادیات کیا ہیں، ان کا استعمال کیسے کیا جائے، حواشی اور حوالہ جات کے ساتھ ساتھ مسودہ کس طور تربیت دیا جائے اور کتابیات وغیرہ کا استعمال کیسے ہو بہت اچھے انداز میں اس کتاب میں در آئے ہیں۔ یقینا میری دانست میں یہ اکاڈمک طرز کا بہترین مقالہ یا بہترین کتاب ہے۔ اس بہترین تحقیقی تصنیف کیلئے ڈاکٹر عبدالکریم تماپوری کی قدمت میں ہدیہ تبریک پیش کرتے ہوئے مسرت محسوس کرتاہوں۔

Saturday, April 28, 2018

پکوڑے (طنزومزاح) از گل افشاں انجم۔۔۔ Pakody by Gul-e-Afshan Anjum, Gulbarga


پکوڑے  (طنزومزاح(

                                                گل افشاں انجم،
                                                ایم اے سال آخر، شعبہ اردو و فارسی، گلبرگہ یونیورسٹی، کلبرگہ

          دوستو! کیا آپکو معلوم ہے کہ ہمارے ملک میں آجکل ایک لفظ بہت سننے میں آرہاہے ”پکوڑے“  یہ لفظ پہلے ہی موجود تھا پر اس لفظ کا زیادہ استعمال نہیں ہوتا تھا۔ پر اس لفظ کو عام کرنے کا سحرا ہمارے ہردل عزیز وزیراعظم کے سر جاتاہے۔
          ہمارے ملک کے وزیر اعظم ہر نوجوانوں کو جو ڈگری یافتہ ہیں انکے لئے تحفہ خلوص دیا جو ”پکوڑا بیچنا“ ہے ہمارے ملک کے نوجوانوں کی وزیراعظم نے اتنی بڑی مشکل سے دور کیا۔ ہمارے ملک کے نوجوان بڑی بڑی ڈگریاں حاصل کرکے گھر میں بیکار بیٹھے ہوئے ہیں انکے لئے بہت بڑی آسانی ہوگئی۔ لیکن ہمارے وزیراعظم نے ایک انٹرویو میں کہا کہ جو نوجوان بڑی بڑی ڈگریاں حاصل کرکے بیکار رہے ان لوگوں کیلئے وزیراعظم نے پکوڑے بیچنے کو بھی روزگار بتایا۔
          دوستو! کیا آپ لوگ اتنی محنت سے پڑھ کر ایک نیا آسمان چھونا چاہتے تھے کیا آپ لوگ پکوڑے بیچ کر اپنا گزارا کرینگے ہم نوجوانوں کا یہ مستقبل خطرے میں نظر آرہاہے کہ کیا اتنی بڑی ڈگریاں جیسے ڈاکٹر انجینئر کیا صرف پکوڑے بیچنے کیلئے لی ہیں؟ ہمارے نوجوانوں کو وزیراعظم نے پکوڑے بیچنے کا مشہورہ تو دیا لیکن کسی بھی یونیورسٹی اور کالج میں پکوڑے کا کورس یا کسی بھی کورس میں پکوڑے سبجکٹ نہیں ہے۔ میرا ہمارے وزیرعظم کو مشہورہ ہے کہ ہماری آئندہ آنے والی نسلوں کیلئے Professional Coursesمیں بھی پکوڑے Subjectکو جاری کیاجائے۔ کیونکہ آج جو ہم بے روزگاری کیلئے پریشان ہو رہے ہیں وہ آنے والی نسلوں کو نہ ہو۔

Friday, April 27, 2018

افسانہ ۔۔۔ احساس ندامت از قمرالنسا Afsana .... Ahsas Nadamat by Qamarunnisa


                  افسانہ


قمرالنساء(ریسرچ اسکالرشعبہ اردو و فارسی گلبرگہ یونیورسٹی گلبرگہ)


احساس ندامت

           حیا ناز والدین کی اکلوتی اولاد ہے جو لاڈ وپیارکے جھولے میں بچپن سے جھولتی آئی ہے وہ ایک امیرماں باپ کی اولاد اکلوتی تھی جو نہایت ہی حسین و خوبصورت اور نازک لڑکی ہے جسے نازوں سے پالا گیااسکی ہر خواہش ہر ضد کو پورا کرنا اسکے والدین کا اولین فریضہ تھا اسے اپنی خوبصورتی پر بڑا ناز تھا وہ انتہائی خوبصورت اور ذہین لڑکی تھی بچپن سے لےکر کالج تک ہر کلاس میں ٹاپ کیا تھا والدین کی لاڈلی ،ٹیچرس کی چہیتی اور دوستوں کی جان تھی شاید یہ ہی وجہ تھی کہ کسی کو اپنے مقابل کا سمجھنا ہی گنوارا نہیں تھا وہ دنیا  کے ہر شوق سے قریب اور دین سے کوسوں دور تھی۔
          زندگی میں آنے والی ان آسائشوں نے اسے مغرور بنا دیا تھا وہ کالج میں نہ صرف پڑھائی بلکہ اسکے ساتھ ساتھ دوسری تمام ایکٹویٹیز میں بھی نمبرون تھی وہ ہر مقابلے میں بڑھ چڑھ کر نہ صرف حصہ لیتی بلکہ انعام اول کی مستحق بھی قرار پاتی اور اب تو کالج میں اسکے شوق بھی اونچے ہوگئے تھے وہ اب Beauty contestمیں حصہ لینے جا رہی تھی وہ اخلاقی تعلیم سے کوسوں دور مغربی تعلیم اور تہذیب میں پوری طرح ڈھل چکی تھی اور یہ مغربی تہذیب کی اندھی تقلید اسکے لباس کو بھی عریاں بناتی جارہی تھی جینس،ٹاپ ، minis,skirts,and short اسکے پسندید ہ                                                                                                                   لباس تھے جو بنا آستین کے کبھی اسکے بازوں کی نمائش کرتے تو کبھی جینس اور شارٹس اسکے جسم کی چال ڈھال کا پتہ دیتے اور اس beauty contest میں جیتنے کی چاہ نے رہی سہی کسر پوری کردی تھی ۔۔

Saturday, April 14, 2018

Maulana Azad Ka Tasawware Taleem مولانا آزاد کا تصور تعلیم




مولانا آزاد کا تصور تعلیم
مولانا آزاد ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے علم سے گہری دلچسپی تھی انکا علم کافی وسیع تھااور یہ اسوقت سے عیاں ہونا شروع شروع ہوا جب عام بچے ابھی کھیلنے کی عمر میں ہوتے ہیں یا سیکھنے کی عمر میں ہوتے ہیں۔مولانا کی تحریریں پڑھ کر شبلیؔ اور حالیؔ جیسے نابغہ روزگاربھی حیرت واستعجاب میں ڈوب گئے۔اور انہوں نے یہ جانا کہ آزاد گویا ایک بڑی عمر کے منجھے ہوئے مفکر ومدبر ہیں۔مگر جب ملاقات کی تو انھیں یقین نہیں آیا کہ گیارہ بارہ سال کی عمر کا لڑکا اس طرز کی فکر رکھتا ہو۔

اسی لئے بلبل ہند سروجنی نائیڈو  نے کہا تھا کہ                

               "مولانا کی عمر انکی ولادت کے وقت ہی پچاس برس تھی'' 

          گیارہ برس کی عمر اور عقل پچاس برس کی یہ نہ صرف حالیؔ اور شبلیؔبلکہ ہر شخص کے لئے حیرت و استعجاب کی بات تھی بلاشبہ مولانا ساری عمراپنے علم وعمل کے ذریعے اپنے سامعین و قارئین کو حیرت میں ڈالتے رہے آج بھی لوگ آپکی تحریروں کو پڑھ کر مستفید ہوتے ہیں۔

بقول ناقد: