Tuesday, October 30, 2018

غزل از نہال جالب

غزل

جو سچ ہے بس وہی بتلا رہا ہوں
محبت کرکے میں پچھتا رہا ہوں


وہ جن سے خون کا رشتہ تھا میرا
انہیں لوگوں سے دھوکا کھا رہا ہوں


کسی کے ہجر میں یہ کون جانے!!!
کہ میں چھپ چھپ کے بھی روتا رہا ہوں


جسے سمجھا محبت وہ دغا تھی
کہ میں دھوکے سے دھوکہ کھارہا ہوں


بسا اوقات تجھ سے دور رہ کر
میں زندہ ہوکے بھی مردہ رہاہوں


پہن کر میں یہ مکّاری کا چولہ
کبھی جھوٹوں میں بھی سچا رہا ہوں


پڑا ہے واسطہ جالب یہ کس سے
خدا والوں سے میں کترا رہا ہوں


نہال جالب
موبائل نمبر +91-9044355382  

Friday, August 24, 2018

اُردونثر ابوالاعلیٰ مودودی کے حوالے سے


اُردونثر ابوالاعلیٰ مودودی کے حوالے سے


          اردوادب کواسکے مشہور و معروف اصناف تک محدود کردینا مناسب نہیں ہے بالخصوص نثر ۔افسانہ، ناول، ڈراما، انشائیہ اور تحقیق و تنقید وغیرہ اسکے اقسام ہیں۔ نثر میں ادب کے اعلیٰ و معیاری نمونے ان اصناف کے ماسوأ بھی پائے جاتےہیں۔ اور تاریخ ادب میں انکی اہمیت مسلم ہے۔  فلسفہ ہو کہ الہیات حتی کہ سیاسیات و معاشیات میں بھی ادبی اظہار خیال پایاجاتاہے۔ علم و ادب کا باہمی ربط آفاقی ہے۔ علمی تجربات ادب کے بغیر نہیں ہوسکتے۔ دنیا کی ہر زبان میں جذبات و خیالات کا ابلاغ ہوتاہے۔ اور یہ اپنی تاثیر اس وقت قائم رکھ سکتاہے جبکہ وہ بہتر اسلوب میں ہو۔ احسن انداز بیان ہو۔ کوئی مبلغ یا مصلح بہتر مواد کے اکھٹا کرنے کے ساتھ ہئیت و اظہار کی تشکیل بھی ہم آہنگی کے ساتھ انجام نہ دے وہ اپنی مشن میں کامیاب نہیں ہوسکتا۔ اس اعتبار سے علمی مباحث اور ذرائع کے درمیان کوئی فاصلہ نہیں رہ جاتا۔ ہیئت و اظہار گویا ایک ہی عمل کے دو نام بن جاتے ہیں۔ ادب کا دائرہ وسیع تر ہوجاتاہے۔ لہٰذا وہ تمام تحریریں جو افادیت سے مملوہوں ادب میں شامل ہوجاتی ہیں۔
          اردو زبان و ادب کے ارتقأ میں صوفیأ کرام کا بڑا حصہ رہاہے۔ رشدوہدایت اور تبلیغ دین کے لئے اردو کو ذریعہ بنایا جبکہ ملک میں فارسی و عربی کے علاوہ مقامی بولیوں کی آمزش سے اردو زبان تشکیل پارہی تھی۔ اسکے بعد میر امن سے لیکر رجب علی بیگ سرور تک اردو نثر میں افسانے لکھے گئے۔ انشاپردازکے نقوش غالب کے خطوط میں نمایاں ہیں۔ اردو ادب میں نثر کا آغاز تو سرسید سے ہوا ہے۔ انکی تحریریں اصلاح و انقلاب سے بھری پڑی ہیں۔ افکار کی وسعت و رفعت، سادگی وروانی انکی تحریروں میں ضرور ملیگی بلکہ اردو نثر کا اولین نمونہ سرسید کی تحریر ہے۔ لیکن بدرجۂ کمال استوار نہیں ہے۔ انکی ساختگی میں پرداختگی کی کمی ہے۔ البتہ ان کے ہم عصروں میں حاؔلی کی نثر ایک بہترین نمونہ ہے۔ سادگی و سلاست کے باوجود انگریزی الفاظ کا بیجا استعمال اور بکثرت عربی کے نانوس الفاظ کا ورود عبارت کو ثقیل بنادیتاہے۔ سرسید اور حالیؔ  دونوں نے اسلوب سے بڑھ کر بے تکلفی پر اپنی توجہ مرکوز کردی ہے۔
          محمد حسین آزاد کی آرائش عبارت نے تکلف وتصنع کی حدپار کرگئی انکی تحریروں سے شاعری کا انداز نمودار ہوتاہے۔ آزاد کو تمثیل نگاری کا بخار چڑھ گیاہے۔ اسلوب پرستی انسان کو طرز بیان میں کمزور کردیتی ہے۔ ڈپٹی نذیر احمد بھی آرائش و محاورہ بندی کے دلدادہ ہیں۔ یوں تو نظیر احمد ایک افسانہ نگار ہیں۔ بامحاورہ زبان کو انہوں نے اسلوب سمجھ لیاہے۔ یہ طرز پرستی فصاحت و بلاغت کیلئے مائل بن جاتی ہے۔
          شبلی کی نثر میں اردو ادب سےفصاحت و بلاغت کا ایک اعلیٰ نمونہ و معیار قائم ہوا۔  انہوں نے بیش بہا تصانیف شستہ زبان میں پیش کیاہے۔ انکے خیالات میں حکیمانہ سنجیدگی پائی جاتی ہے۔ عربی و فارسی کے نامور عالم ہوتے ہوئے بھی عربی و فارسی کے ثقیل الفاظ سے گریز کرتے ہیں۔ انکی عبارت نہایت محکم و صاف ہوتی ہے۔ شبلی کا اسلوب بیان اردو ادب میں کامل نمونہ ہے۔ شبلی کے عالمانہ ادب نے دارالمصنفین کی راہ ہموار کی۔ انکے طرز پر لکھنے والوں کا ایک حلقہ بن گیا۔ سید سلیمان ندوی عبدالسلام ندوی وغیرہ نے اردو نثر میں صوفیا، علما، و مبلغین کے ورثے کو مکتب کی شکل دیدی جس سے وابستہ احباب نے وسیع پیمانے پر تصنیف و تالیف کی گرنقدر خدمات انجام دیں۔
          مولانا ابوالکلام آزاد کی طرز تحریر میں مختلف ادوار نظر آتے ہیں۔ شبلی نے جو معیار قائم کیاتھا اسکا تتبع ضرورکیا۔ لیکن ‘‘لسان الصدق’’ کے دور کی جو سادگی و بے تکلفی ہے وہ ‘‘الھلال’’ میں شوکت وثقالت میں بدل گئی ہے۔ البتہ ‘‘ترجمان القرآن’’ ‘‘غبار خاطر’’ دونوں میں سلاست جھلکتی ہے۔ مولانا آزاد کے نثر میں متانت کے ساتھ ظرافت کا عنصر بھی پایاجاتاہے۔ سنجیدگی کے ساتھ شگفتگی، انضباط کے ساتھ انبساط بھی پایاجاتاہے۔ یہ لوگ علم و ادب و معلومات کے بحر ذخار تھے۔
          انکے یہاں لسانی علوم کے انبار تھے۔ زبان و بیان کے اظہار پر قدرتِ کامل رکھتے تھے۔ شرقی علوم کے قاموس تھے۔ انہوں نے قدیم مغربی علوم کا عربی کے ذریعہ مطالعہ کیاتھا۔ انکی دینی حمیت نے اصلاح کے مقصد کو سامنے رکھا۔ انکے ادب میں اصلیت تھی۔ خلوص اور سلیقہ بھی۔ انہوں نے روایات میں اجتہاد کا رنگ تلاش کیا۔ چنانچہ اردو ایک علمی زبان بنکر ادب کے معیار کو پہنچ گئی۔ حاؔلی، شبلیؔ، محمد حسین آزاد، نذیر احمد، اور ابوالکلام آزاد سب کے اسلوب میں وہ روایت ملتی ہے جسکی بنیاد سرسید نے ڈالی تھی۔
          ابوالاعلیٰ مودودی بھی اسی روایت کی ایک کڑی ہیں موروثی روایات میں ترقی و توسیع آپکی شان ہے۔ وہ دورِ حاضر کے عظیم مفکر رہے ہیں انکی فکر ہمہ گیر انقلابی اصلاح ہے۔ مغربی افکار و رجحانات پر تنقید کے ساتھ بہتر خیالات کا نقشہ پیش کرتے ہیں۔ آپکی تحریر علمی جدوجہد ہے۔ بلکہ ایک تحریک ہے۔ متنوع موضوعات پر آپ نے کتابیں تصنیف کیں اور وہ تمام تحریریں اردو میں ہیں۔ ان میں دینیات و اخلاقیات سیاسیات و معاشیات کے مسائل تک زیربحث ہیں۔ جنکے مطالعہ سے اندازہ ہوتاہے کہ آپکو ہر طرح کے اسلوب اظہار پر کامل دسترس حاصل تھی۔ موجودی کی تحریروں میں سلجھاہوا اسلوب اور توازن نظر آتاہے۔ اردو فارسی عربی کے ساتھ انگریزی سے بھی گہری واقفیت ہے آپ نے مشرقی و مغربی علوم کا بالراست مطالعہ کیا۔ مودودی کا قلم واضح اور منظم نظر آتاہے۔ مضمرات کی تشریح صفائی کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ سلاست و صراحت دونوں آپ کے طرۂ امتیاز ہیں۔ اگر کسی جگہ کوئی دقیق لفظ آجائے تو اسکا سہل ترمترادف پیش کرتے ہیں۔
          آپ کی تحریروں کا دور اول  1920)  تا (1930  ہے۔ جسمیں آپکی معرکۃ آرا تصنیف ‘‘الجمادفی الاسلام’’ شائع ہوئی۔ اور وہ اپنے اسلوب کا اولین نقش کہلاتاہے۔
          وہ اپنی تحریروں میں مترادفات کے ذریعہ لطیف اضافہ پیش کرتے ہیں جس سے قاری کا ذہن مفہوم کی وسعت کی طرف راہ پاتاہے۔ آپ کے منتخب الفاظ و تراکیب موزوں جملوں سے عام و خاص دونوں برابر متفید ہوسکتے ہیں۔ اس کا مقصد عبارت آرائی نہیں ہے۔
          آپ کی تحریروں میں جملوں کا ارتباط۔ مقدمات کا لازمی نتیجہ اور منطقی زور پایا جاتاہے۔ جس سے تیقین کی فضا قائم ہوتی ہے۔  قاری کو حقائق سے آگہی و بصیرت حاصل ہوتی ہے۔
          الغرض بیسویں صدی کا تیسرا دہا آپکی فضاحت و بلاغت کا آئینہ ہے۔ اور حالیؔ و شبلیؔ  کی روایت کے ادراک کی دلیل ہے۔
1930 سے 1950 تک مودودی کا دوسرا دور کہلاتاہے۔ جسمیں مودودی نے ‘‘ترجمان القرآن’’ علمی رسالے کے ذریعہ عالمی و آفاقی مسائل و سوالات کے جواب دئے۔ جنکو اردو دنیا میں بکثرت پڑھاگیا۔ اسی دور میں آپ نے اصلاح و تجدید کا وہ لائحہ عمل پیش کیا کہ آج بھی معتدبہ تعداد اس سے وابستہ ہے۔
          آپ کے گہرے اونچے معیاری ادب کے دور دوم میں ‘‘دینیات’’ اور ‘‘خطباب’’ ‘‘سود’’  ‘‘پردہ’’ جیسی کتابوں نے ماہرین و قائدین کو بھی دعوت فکر دیاہے۔ ان میں اردو نثر مزید شائستہ نظر آتی ہے۔ 1950 سے 1979 تک کا انیس سالہ تیسرا دور جسمیں صاحب طرز مصنف کی حیثیت سے شہرت کے بام فلک پر نظر آتے ہیں۔ تیسرے دور کی ابتدا سے انتہا تک فصاحت و بلاغت کے نمونے یکساں نمایاں نظر آتے ہیں۔
          اردو ادب کیلئے سید ابوالاعلیٰ مودودی کی خدمات گرانقدر ہیں ۔ آپ کے تیسرے دور کا علمی و قلمی کارنامہ قرآن مجید کی ترجمانی ‘‘تفہیم القرآن’’ ہے۔  جو متعدد جلدوں میں شائع ہوئی ہے۔ اردو دان بڑا طبقہ اس سے مستفید ہے۔ اسکی فصاحت و بلاغت اور لطافت مقبول عام ہے۔ آپ کی تحریر کی سبک رفتاری بے مثا ہے۔
          مودودی نے ارائے مفھوم پر زیادہ زور دیاہے۔ ان سے قبل شاہ عبدالقادر شاہ رفیع الدین کے ترجمے مستند ضرور تھے۔ وہ ایک ایسی قدیم اردو م یں تھے کہ پڑھنے والے کو مفہوم تک پہچنے میں دقت کا سامنا تھا۔ لہٰذا وہ تراجم اب شائع نہیں ہورہے ہیں۔ کافی حدتک معدوم ہوچکے ہیں۔  مولانا محمود حسن، مولانا اشرف علی تھانوی کے تراجم بھی آج کی شستہ زبان میں نہیں ہیں۔ ڈپٹی نذیر احمد کے ترجمہ میں اردو محاورات کی اتنی کثرت ہے کہ اس سے عربی محاورات کے مضمرات مجروح ہوجاتے ہیں۔
          حافظ فتح محمد جالندھری کا ترجمہ پامحاورہ ہونے کے ساتھ رواں بھی ہیں۔ مولانا عبدالماجد دریابادی کے ترجمے میں قدیم و جدید دونوں اسالیب کی آمزش نظر آتی ہے۔ مولانا ابوالکلام آزاد کا ‘‘ترجمہ قرآن’’ مذکورہ تراجم سے بہتر پایا جاتاہے۔  الغرض مودودی نے قرآن مجید کے مضامین عالیہ کو ادب کے معیاری اسلوب میں ادا کرکے علمی و ادبی کارنامے کی مثال قائم کردی۔ آپکی دانشوری نے ایک خاص اسلوب بیان و حکیمانہ خیالات کے اظہار کا ثبوت پیش کیاہے۔


Friday, July 27, 2018

کلامِ اقبال میں "پہاڑوں "کا تذکرہ


عنبرین فاطمہ ریسرچ اسکالر
     گلبرگہ یونیورسٹی گلبرگہ        
میری مشاطگی کی کیا ضرورت حسنِ معنی کو
کہ فطرت خود بخود کرتی ہے لالے کی حنا بندی

علامہ اقبالؔ کی شاعری کو فطری شاعری کہاگیا ہے۔اقبالؔ کی شاعری واقعتاً فطری شاعری ہے۔فطرت سے مراد کائنات میں نظر آنے والی وہ ظاہری و مادی اشیاء جن کا تعلق براہِ راست مظاہرِ قدرت سے ہے۔جسمیں انسان کی کاریگری کو کوئی دخل نہیں ہے۔اقبالؔ اسی فطرت کو شاعری کے حوالے سے پیش کرتے ہیں۔
جہاں بینی مری فطرت ہے لیکن
کسی جمشید کا ساغر نہیں میں


رفتار کی لذت کا احساس نہیں اسکو
فطرت ہی صنوبر کی محرومِ تمنا ہے

علامہ اقبالؔ کی شاعری میں جہاں قومی اور ملی جذبات کا اظہار ملتا ہے وہیں مناظرِفطرت پر بھی بہت سارے اشعار اورنظمیں ملتی ہیں۔مناظر فطرت کے اعتبار سے آپ کی نظموں میں کوہ،کوہ سار،دریا،چرند پرند وغیرہ کا تذکرہ ہواہے۔جو ہر قاری کو اپنی جانب  متوجہکرنے میں کامیاب نظر آتا ہے۔اقبال کی شاعری میں مختلف عناصر کی نشاندہی کرتے ہوئے یعنی اب تک بہت کچھ لکھا جاچکا ہے۔میری نظر"کوہ"یعنی"پہاڑوں پر گئی چنانچہ اقبالؔ کے اشعار میں جن پہاڑوں کا تذکرہ ملتا ہے۔ان کو یہاں پیش کرنے کی سعی کرتی ہوں۔اسطرح مقالہ کا عنوان یہ بنا کہ"کلامِ اقبالؔ میں پہاڑوں کا تذکرہ".اقبال کے اشعار/کلام میں پہاڑوں کے سلسلہ میں جونام در آئے ہیں وہ کچھ اس طرح ہیں۔
·        جبلِ نور   -        جو غارِ حرا کے حوالے سے
·        کوہِ سربن
·        کوہِ جودی
·        جبلِ ثور   -        غارِ ثور کے حوالے سے
·        وادئ نجد
·        صفاومروہ
·        وادئ فاران
·        کوہِ طور
·        کوہِ ہمالہ
غارِ حرا
          حضور صلعم کی آمد کے تعلق سے حالیؔ نے فرمایا تھا کہ

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا آئینہ سا شاہدِ مس خام کو جس نے کندن بنایا


اور اک نسخہء کیمیا ساتھ لایا
کھرا اور کھوٹا الگ کر دکھایا


غارِ حرا مکہ مکرمہ کے قریب واقع پہاڑ جبل ِ نور میں ایک غآر ہےجہاں وحی الہی کا نزول ہوا۔یہ غار پہاڑ کی چوٹی پر نہیں بلکہ اس تک پہنچنے کے لیے ساٹھ ستر میٹر نیچے مغرب کی سمت جانا پڑتا ہے۔نشیب میں اتر کر راستہ پھر بلندی کی طرف جاتا ہے۔جہاں غارِ حرا واقع ہے۔نبی کریمﷺ ابتداءہی سے چند روز کی خوراک ساتھ لے کر جبل نور پر آتے اور اس غار میں غور وفکر اور عبادت فرماتے تھے۔یہیں ایک روز جبرائیلؑ نمودار ہوئے اور نبی کریمﷺ پر سب سے پہلی وحی نازل کی جس کے ذریعے باری تعالیٰ نے آپ کو نبی آخرالزماں بنا کر مبعوث فرمایا۔
کبھی میں غارِ حرامیں چھپا رہا برسوں
دیا جہاں کو کبھی جامِ آخریں میں نے

سربن
          ایبٹ آباد کے بلند ترین اور خوبصورت پہاڑوں میں سے ایک کوہِ سربن ہے۔اسی پہاڑ کے دامن میں ایبٹ آباد کاشہر آباد ہے۔کوہِ  سربن کا نام "سربن"راجہ رسالو کے والد سلبان کےنام کی تبدیل شدہ صورت ہے۔اقبالؔ نے ایبٹ آباد کے دورے کے دوران جب اس پہاڑ کو دیکھا  تو اس کے حسن سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔چنانچہ کوہِ سربن کا ذکر ایک نظم"ابر"میں کیا۔جو بانگِ درا میں شامل ہے۔
اٹھی آج پھر وہ پوربسے کالی کالی گھٹا
سیاہ پوش ہوا پھر پہاڑ سربن کا

کوہِ جودی
          کوہِ جودی کاذکر قرآن مجید میں آیا ہے جس میں نوحؑ کا واقعہ مذکور ہے۔حضرت نوحؑ کا وطن عراق موصل کے شمال میں جزیرہ ابنِ عمر کے قریب  آرمینیہ کی سرحد پر ہے۔یہ ایک کوہستانی سلسلہ ہے جسکے ایک حصّہ کا نام جودی ہے اور دوسرے حصّہ کا نام اراراط ہے اور نوحؑ کی کشتی جودی پہاڑ پر آکر ٹھہر گئی تھی۔
بندے کلیم ؑجس کے،پربت جہاں کے سینا
 رفعت ہے  جس زمیں کی بامِ فلک کا زینا


نوحِؑ نبی کا آکر ٹھہرا جہاں سفینا
جنت کی زندگی ہے جسکی فضا میں جینا


           
جبلِ ثور
          غارِ ثور مکہ معظمہ کی دائیں جانب تین میل کے فاصلے پر ثور پہاڑ میں واقع ہے۔حضوراکرمؐ نے مکہ معظمہ سے مدینہ منورہ ہجرت کی  تو تین دن تک یہاں قیام کیا۔قرآن میں ہجرت کا بیان کرتے ہوئے جس غار کا ذکر کیا گیا ہے۔وہ یہی غار ہے۔آپؐ کے ساتھ حضرت ابوبکر صدیق بھی تھے۔اس غار کا دہانہ اتنا تنگ ہے کہ لیٹ کر بمشکل انسان اس میں داخل ہوسکتا ہے۔
وادئ نجد
          اقبالؔ نے شاعری میں بہت سی تلمیحات استعمال کی ہیں۔لیلٰی وقیس،دشت وجبل،شورِسلاسل،اور دیوانہ نظارہء محمل کی تراکیب وتلمیحات مشہور تاریخی کردار قبیلہء بنو عامر کے قیس مجنوں سے متعلق ہیں۔روایت ہے کہ قیس بنی عامر لیلٰی کے عشق میں دیوانہ ہو کر نجد کے صحراؤںکی خاک چھانتا پھرتا تھا۔

وادئ نجد میں وہ شورِسلاسل نہ رہا
قیس دیوانہ نظارہء محمل نہ رہا

          شاعری میں بکثرت استعمال کے سبب ان تلمیحات کے مفاہیم وہ معانی میں بہت گہرائی اور وسعت پیدا ہوچکی ہے اقبالؔ کے بعض شارحین نے"نجد کے دشت وجبل میں رمِ آہو بھی وہی"میں"رمِ آہو "صفا ومروہ کی سعی مراد لی ہے جو حج کا ایک رکن ہے۔
دردِ لیلٰی بھی وہی،قیس کا پہلو بھی وہی
نجد کے دشت وجبل میں رمِ آہو بھی وہی

صفا ومروہ
          دوپہاڑیوں کے نام ہیں جو مکہ میں خانہء کعبہ کے پاس واقع ہیں ان دو پہاڑیوں کے درمیان حج اور عمرہ کے موقع پر حاجی سات چکر لگاتے ہیں۔اسے"سعی"کہتے ہیں۔صفا ومروہ کے درمیان ہی حضرتِ اسماعیلؑ کی والدہ حضرتِ بی بی ہاجرہ پانی کی تلاش میں سعی(یعنی بھاگ دوڑ) کرتی رہی تھیں اور انھیں کی یاد تازہ کرنے کے لئے حاجی ان دونوں پہاڑیوں کے درمیان سعی کرتے ہیں۔
وادئ فاران
          "حضور صلعم کی بعثت کے متعلق تورات میں یہ ذکر ملتا ہے کہ وہ فاران کی چوٹیوں کو سر کرتا ہوا آئے گا۔"
          فاران سعودی عرب میں واقع ایک پہاڑ کا نام ہے۔"سرِ فاراں پہ کیا دین کو کامل تو نے"سے مراد ہے کہ دین کی تکمیل خطہء عرب میں ہوئی۔اشارہ ہے قرآنِ حکیم کی اس آیت کی طرف جسمیں فرمایاگیاکہ
          "آج میں نے تمہارے دین کو تمہارے لئے مکمل کردیا اور اپنی نعمت تم پر تمام کردی ہے اور تمہارے لیےاسلام کو تمہارے دین کی حیثیت سے قبول کرلیا ہے۔(سورہ مائدہ۔آیت۔٣)
سرِ فاراں پہ کیا دین کو کامل تونے
اک اشارے میں ہزاروں کے لئے دل تو نے

پھر وادئ فاراں کے ہر ذرّے کو چمکا دے
پھر شوقِ تماشا دے،پھر ذوقِ تقاضا دے

کوہِ طور
          اقبالؔ کے ہاں دیگر پہاڑوں کے مقابل کوہِ طور کے حوالے سے بہت زیادہ اشعار ملتے ہیں۔کوہِ طور مصر کی وہ مشہور پہاڑی ہے جس پر خدا وند تعالٰی نے حضرت موسیؑ کو اپنی تجلی دکھائی تھی جس کے اثر سے حضرت موسیؑ بے ہوش ہوگئے تھے اور کوہِ طور جل کر سرمے کی مانند سیاہ ہو گیا تھا طور وہ پہاڑ ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے حضرت ِ موسیؑ سے کلام فرمایا تھا۔

لیکن فقیہ شہر نے جس دم سنی یہ بات
گرما کے مثل صاعقہ طور ہوگیا

وہ دن گئے کہ قید سے میں آشنا نہ تھا
زیبِ درخت طورمرا آشیانہ تھا

کھنچے خود بخود جانبِ طور موسیؑ
کشش تیری اے شوق دیدار کیا تھی

کچھ دکھانے دیکھنے کا تھا تقاضا طور پر
کیا خبر ہے تجھ کو اے دل فیصلہ کیونکر ہوا

کوہِ ہمالہ
          اقبالؔ کے پہلے مجموعہ کلام کی ابتداء ہی ہندوستان کے ایک مشہور پہاڑ"ہمالہ"سے ہوئی ہے۔اسکو انھوں نے مختلف انداز سے دیکھا بھی اور دکھایا بھی ہے۔اقبال پہلے شاعر ہیں جنہوں نے ہمالہ کو اپنی اردونظم کا موضوع بنایا۔اقبالؔ کے کلام میں ایسے موضوع بھی ملیں گے جن کا ذکر اقبالؔ کے علاوہ دوسرے شعراء کے ہاں بہت کم ملتا ہے مگر ان کی شاعری میں فطرت کا نظارہ ملے گا۔جیسے پہاڑوں کا تذکرہ ،دریاؤں کا،چرند پرند وغیرہ کا ذکر۔لیکن پہاڑوں کے ذکر میں انھوں نے مکمل نظم ہمالہ لکھی۔یہ بانگِ درا کی پہلی نظم ہے۔
          ہمالہ ایک پہاڑی سلسلہ ہے جو برِ صغیر ہندوپاک کا مشہور پہاڑ،ہمالہ،پنجاب اور صوبہ سرحد کے شمال میں اور ریاستِ کشمیر میں جنوب مشرق سے شمال مغرب کی طرف اسکے کئی سلسلے پھیلے ہوئے ہیں۔ہمالہ دنیا کا سب سے اونچا پہاڑی سلسلہ ہے جسمیں دنیا کی بلند ترین چوٹیاں بشمول ماؤنٹ ایوریسٹ اور کے ٹو موجود ہیں۔دنیا کے بہت سے دریا جیسے سندھ،گنگا،برہم پتر،جیحوں،دریائے زرد وغیرہ ہمالہ کی برف پوش بلندیوں سے نکلتے ہیں ان دریاؤں کی وادیوں میں واقع ممالک افغانستا ن،بنگلہ دیش،پاکستان اور بھارت وغیرہ دنیا کی تقریباً آدھی آبادی یعنی 2ارب لوگ بستے ہیں.
آتی ہے ندی فرازِ کوہ سے گاتی ہوئی
آئینہ سا شاہدِ قدرت کو دکھلاتی ہوئی


کوثر وتسنیم کی موجوں کو شرماتی ہوئی
سنگِ رہ سے گاہ بچتی،گاہ ٹکراتی ہوئی

چھیڑتی جا اس عراقِ دلنشیں کے ساز کو
اے مسافر!دل سمجھتا ہے تیری آواز کو

ہمالہ پہاڑ کو ہندوستان کی فصیل بھی کہا گیا ہے اور وہ ہندوستان کا محافظ بھی ہے۔اقبالؔ کہتے ہیں کہ۔
اےہمالہ!اے فصیلِ کشورِ ہندوستاں
تجھ میں کچھ پیدا نہیں دیرینہ روزی کے نشاں


چومتا ہے تیری پیشانی کو جھک کر آسماں
توجواں ہے گردشِ شام وسحر کے درمیاں

ایک جلوہ تھاکلیمِ طور سینا کے لئے
تو تجلی ہے سراپا چشم بینا کے لئے

          میں نے اپنے اس مضمون میں موضوع کے مطابق اختصارکے ساتھ پہاڑوں کا ذکر کیا ہے۔ویسے ان پہاڑوں کے متعلق مزید بہت کچھ بیان کیا جا سکتا ہے۔


علامہ اقبال کی شاعری میں دریاؤں کا تذکرہ



علامہ اقبال کی شاعری میں دریاؤں کا تذکرہ
عنبرین فاطمہ ریسرچ اسکالر
گلبرگہ یونیورسٹی گلبرگہ

          علامہ اقبال اردو شاعری کے ایک ایسے شاعر ہیں جن کے افکار ونظریات کو سرسری طور پر بیان کرکے گزر جانا بہت ہی مشکل ہے اردو شاعری میں جہاں انکا نظریہءخودی اور فلسفہءعشق سب سے زیادہ مقبول ہوا اور سب سے زیادہ ان نظریات پر بات کی گئی۔وہیں انکا فلسفہءحسن،فلسفہءجہد وعمل،فلسفہءفطرت، پر اب تک کئی دستاویزی مضامین اور کتابیں آچکی ہیں۔جس کے متعلق سید عبداللہ،خلیفہ عبدالحکیم،عبدالسلام ندوی،فرمان فتحپوری سے لے کر موجودہ عہد کے اہم نقاد اور ماہرِ اقبالیات میں مثلاًپروفیسر جگن ناتھ آزاد،مضطرمجاز اور پروفیسر عبدالحق وغیرہ کے نام بھی لئے جاسکتے ہیں۔علامہ اقبال نے حسن وعشق کے ساتھ اپنی شاعری میں جس حسین طور پر فطرت کی عکاسی کی ہے۔اسکی مثال بہت کم ملتی ہے۔زمان ومکان کا فلسفہ علامہ اقبال کے کئی نظموں میں پایا جاتا ہے۔فلسفہءوقت جیسا کہ مشہور ہے مثل مسجد قرطبہ جیسی نظم فلسفہءوقت پر لکھی گئی ہے۔وہی زمان کے ساتھ مکانا ت میں خصوصیت کے ساتھ ن نظر آتا ہے چاہے وہ شہرِبغداد ہو یا ہسپانیہ ہو(اسپین) کا شہر ہو یا ایران کے مشہور شہر اس سے بھی زیادہ مخصوص ہو کر اپنی شاعری میں مخصوص پہاڑوں اور دریاؤں کا ذکر اپنی شاعری میں کیا ہے۔پہاڑ جہاں عظم استقلال اور بلند حوصلگی کی مثال ہوتے ہیں وہی ندیاں مستقل اپنے سفر کی جانب گامزن حرکت اور بے نیازی کی مثال ہے۔جیسا کہ بالِ جبرئیل کے ساقی نامہ میں ایک پہاڑی ندی کا حسین نقشہ کھینچتے ہیں ۔

Thursday, July 19, 2018

اُردو میں ڈرامے کا فن اور اسکی حیثیت از محمد مسیح اللہ


اُردو میں ڈرامے کا فن اور اسکی حیثیت
 محمد مسیح اللہ،  رسرچ اسکالر، 
گلبرگہ یونیورسٹی

          ڈرامہ وہ صنف ادب ہے جسمیں زندگی کے حقائق و مظاہر کو عملاً پیش کیاجاتاہے۔ ڈرامہ کا تصور اسٹیج سے جڑاہواہے۔ اسٹیج کے ذریعہ شائقین کی ذہنی تسکین اور تفریح طبع کا سامان فراہم کیاجاتاہے۔ دیگر اصناف ادب کی طرح ڈرامہ کی بھی ایک مستقل حیثیت ہے۔ اور دنیا کی اکثر و بیشتر زبان و ادب میں ڈرامے کی صنف کو اونچا مقام ملاہے۔ اور اسکی روایت اتنی ہی قدیم ہے جتنی کے زبان و ادب کی ۔
          انگریزی ادب میں شیکسپئر اور برناڈ شاہ کے ڈرامے بے مثال ادبی شاہکار کی حیثیت رکھتے ہیں اسی طرح فرانسیسی، جرمنی روسی زبانوں میں بھی ڈرامے لکھے گئے۔ چونکہ اردو ادب کا زیادہ حصہ اسلام اور مسلمانوں سے جڑاہواہے اور اسلام میں رقص و موسقی کو ناپسندیدہ ہونے کی بنا پر اردو ڈرامے کو وہ عروج نہیں مل سکا جو دیگر اصناف ادب کو ملا۔
          اردو ڈرامے کو اسکا خاطرخواہ مقام نہ ملا۔ پھر بھی اس صنف ادب نے اپنی ایک شناخت پہنچان بنالی۔ بقول ڈاکٹر عبدالحق۔ ‘‘اصل یہ ہے کہ ہمارے یہاں اس فن کو حقیرسمجھاجاتاہے اور یہی وجہ ہے کہ اس نے کوئی ترقی نہیں کی’’۔
          پروفیسر مسعود حسین رضوی کی تحقیق کے مطابق اردو کا پہلا ڈرامہ واجد علی شاہ کا لکھا ہوا‘‘فسانہ عشق’’ کے نام سے مشہور ہے جو رادھاکرشن کی کہانی پر مبنی ہے۔ لیکن یہ ڈرامہ عوام کیلئے اسٹیج پر پیش نہیں کئے جانے کی وجہ سے عوامی مقبولیت حاصل نہ کرسکا اسکو صرف چہار دیواری میں پیش کیاجاتارہا۔
          البتہ امانت لکھنوی کا لکھا ہوا ڈرامہ ‘‘اندرسبھا’’ نے وہ عوامی مقبولیت حاصل کی کہ جو شاعرانہ حسن کے علاوہ زبان کی صفائی و شرینی اور دیوامالائی واقعات کا بہترین امتزاج ہے۔
          انیسویں صدی کے نصف آخر میں پارسی اردو تھیٹر کا آغاز ہوا جس میں ظرافت رقص و سرور کا زور رہا عوامی جذبات کی تسکین کو مدنظر رکھاگیا۔ ڈرامے فحش اور سطحی جذبات کے حامل تھے۔
          ہاں اردو ڈڑامے کو ایسے وقت میں طالبہ بنارسی، حسن لکھنوی، بیتاب بریلوی جیسے ماہر ادیب وفنکاروں نے وقار بخشا۔ اور اسکی عظمت کو بلند کیا۔ نثری مکالمے اور اردو گیتوں کو اس میں شامل کیا۔
          پھر بھی فکروخیال کی پستی سستی رومانیت حسن و عشق کے فرضی قصوں کی وجہ سے ڈرامہ سنجیدہ مقام نہ پاسکا۔
          آغاحشر کاشمیری نے اردو ڈرامے کو اپنی تخلیقی بصیرت و فنکارانہ صلاحیتوں سے اسکے معیار و وقار کو کافی بلند کیا۔ معاشرتی مسائل کو اپنے ڈراموں میں اہمیت کے ساتھ شامل کیا۔
          اس صنف ادب کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے پیش نظر کئی اک ادیبوں نے بھی ڈرامے لکھے۔ لیکن وہ اسٹیج نہیں کئے گئے صرف کتابوں کی زینت بنے رہے۔ ڈرامہ نگاروں کی فہرست میں افسانہ ضرور ہوا لیکن انکے ڈراموں کو کوئی مقام نہ ملا۔ البتہ معاشرتی مسائل کے شامل ہونے کی بنا پر قارئیں نے مطالعاتی دلچسپی دکھائی۔ چونکہ ان میں تفریح طبع کا سامان نہ ہونے کی وجہ سے ادب ذوق افراد نے سیاسی و معاشرتی آگہی کا زریعہ سمجھا۔
          اردو ڈرامے کو عصری آگہی اور قومی زندگی کے گوناگوں مسائل کا وسیلہ اظہار بنانے والے ڈرامہ نگاروں میں امتیاز علی تاج سید عابد حسین کا نام سرفہرست ہے۔ مغربی طرز پر لکھا گیا عابد حسین کا ڈرماہ ‘‘پردہ غفلت’’ عصری ماحول کا ترجمان۔ مختلف رویوں کے درمیانی پائی جانے والی کشمکش کا عکاس ہے۔ اور مفنرد کردارنگاری وفنی محاسن کی وجہ سے نمایاں حیثیت کا حامل ہے۔ سید امتیاز علی تاج کاشہرۂ آفاق ڈرامہ ‘‘انارکلی’’ اپنی فنی عظمت عمدہ کردار نگاری اور چست مکالموں کی وجہ سے بہترین ڈراموں میں شمار کیاجاتاہے۔ انکے علاوہ اشتیاق حسین قریشی، پروفیسر محمد مجیب اور فضل الرحمٰن نے بھی ڈرامے کی روایت کو فروغ دیا۔ انکی ڈرامہ نگاری سے فن ڈرامہ نگاری میں اک سنجیدگی فکری بالیدگی اور معنویت کی گہرائی اور زبان و بیان کی گیرائی فنی وسعت حاسل ہوئی۔
          پروفیسر مجیب کا ڈرامہ ‘‘کھیتی’’ بھی ایک اردو ادب میں نمایاں مقام رکھتاہے۔ معنویت اور فنی لطافت کا غماز ہے۔ اس ڈرامہ میں انسانیت اور درمندی کا احساس پایاتاہے۔


Wednesday, July 18, 2018

افسانہ ‘‘دعا’’ کا جائزہ از محمد مسیح اللہ


افسانہ ‘‘دعا’’ کا جائزہ
          سید محمد اشرف نے اپنی ادبی زندگی کا آغاز کہانیوں سے کیا اور بہت کم عرصہ میں دور جدید کے ممتاز افسانہ نگاروں میں شامل ہوگئے اور اپنا ایک مقام بنالیا۔ انہوں نے افسانہ نگاری میں انسانی اقدار کی پامالی معاشرتی عدم مساوات کا کرب اعلیٰ اقدار کی زوال پذیری کو موضوع بنایاہے۔ زبان و بیان پر فنکارانہ گرفت کردار کے انتخاب میں بیدار بغزی کا ثبوت دیتے ہیں۔ یہ انکے فنی مہارت کا عکس ہے جو انکے افسانوں سے جھلکتاہے۔
انکےافسانوں میں سادگی اسلوب کے علاوہ فطری پن نمایاں نظر آتاہے۔ انکے افسانوں کے دو مجموعے شائع ہوچکے ہیں۔ ‘‘ڈار سے بچھڑے’’ اور ‘‘بادصبا کا انتظار’’ اور ایک ناول بھی شائع ہوچکی ہے۔
‘‘دعا’’ یہ ایک ایسے لڑکے کی کہانی ہے جو انتہائی غریب گھرانے سے تعلق رکھتاہے۔ معاشی تنگی کی وجہ سے گاؤں سے شہر کو کام کیلئے آتاہے تاکہ اپنے ماں باپ بھائی بہن کی مدد کرسکے۔ لیکن وہ شہر آکر جس گھر میں ملازم بنتاہے۔ وہ اسکا استحصال کرتے ہیں۔ صبح سے شام تک کام لیتے ہیں۔ نتیجتہً اسکے دل میں نفرت کا جذبہ ابھرتاہے۔ چنانچہ ایک دفعہ طوفان آتاہے۔ تو مالکن ہم صاحب کے کہنے پر وہ جانماز بچھاکر نماز و وظیفہ تو پڑھتاہے لیکن طوفان کو ٹالنے کیلئے دعا نہیں پڑھتا۔ اور یہ اسکے ساتھ کئے گئے ناروا سلوک و استحصال کا رد عمل ہے۔

Thursday, July 5, 2018

محمد یعقوب بیگانہ بحیثیت شاعر از استاد عبدالرشید


محمد یعقوب بیگانہ بحیثیت شاعر

         
 محمد یعقوب بیگانہ نے ایک شاعر کی حیثیت سے کم وبیش تمام اصناف سخن میں طبع آزمائی کی ہے۔ حمد ، نعت ،نظم ،غزل ،مرثیہ ،قطعات وغیرہ لکھے ہیں۔ آپ کی تین شعری تصانیف منظرِ عام پر آچکی ہے۔ جن کے عنوان ” انسان بنو ،حنائے غزل اور عدم کاسفر ہے ۔ا ن کے مجموعہ ” انسان بنو اور عدم کاسفر“ میں نظموں کی کثرت ہے جب کہ مجموعہ ” حنائے غزل “ غزلیہ شاعری پر مشتمل ہے۔
           بیگانہ کے کلام کا بغور مطالعہ کیا جائے تو ان کے خیالات احساسات اور مشاہدات کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔آپ کے کلام کی برجستگی ،سادگی اور صاف گوئی کے بدولت ان کے نغموں میںحسن وتاثیر کی شان پیدا ہوئی ہے۔ ان کے شعری سرمایے میں دیگر اصنافِ سخن کے مقابلے میں نظمیہ شاعری کا پلہ بھاری ہے۔ انہوں نے پابند نظموں کے علاوہ دو چار آزاد نظمیںبھی لکھی ہیں ۔ جن کے مطالعے سے انداز ہ ہوتاہے کہ آپ آزاد نظمیں بھی کامیابی کے ساتھ لکھے سکتے ہیں۔ آگے کے صفحات میں آپ کے تین شعری مجموعے کا مقدور بھر جائزہ لیا گیا ہے۔