Saturday, April 28, 2018

پکوڑے (طنزومزاح) از گل افشاں انجم۔۔۔ Pakody by Gul-e-Afshan Anjum, Gulbarga


پکوڑے  (طنزومزاح(

                                                گل افشاں انجم،
                                                ایم اے سال آخر، شعبہ اردو و فارسی، گلبرگہ یونیورسٹی، کلبرگہ

          دوستو! کیا آپکو معلوم ہے کہ ہمارے ملک میں آجکل ایک لفظ بہت سننے میں آرہاہے ”پکوڑے“  یہ لفظ پہلے ہی موجود تھا پر اس لفظ کا زیادہ استعمال نہیں ہوتا تھا۔ پر اس لفظ کو عام کرنے کا سحرا ہمارے ہردل عزیز وزیراعظم کے سر جاتاہے۔
          ہمارے ملک کے وزیر اعظم ہر نوجوانوں کو جو ڈگری یافتہ ہیں انکے لئے تحفہ خلوص دیا جو ”پکوڑا بیچنا“ ہے ہمارے ملک کے نوجوانوں کی وزیراعظم نے اتنی بڑی مشکل سے دور کیا۔ ہمارے ملک کے نوجوان بڑی بڑی ڈگریاں حاصل کرکے گھر میں بیکار بیٹھے ہوئے ہیں انکے لئے بہت بڑی آسانی ہوگئی۔ لیکن ہمارے وزیراعظم نے ایک انٹرویو میں کہا کہ جو نوجوان بڑی بڑی ڈگریاں حاصل کرکے بیکار رہے ان لوگوں کیلئے وزیراعظم نے پکوڑے بیچنے کو بھی روزگار بتایا۔
          دوستو! کیا آپ لوگ اتنی محنت سے پڑھ کر ایک نیا آسمان چھونا چاہتے تھے کیا آپ لوگ پکوڑے بیچ کر اپنا گزارا کرینگے ہم نوجوانوں کا یہ مستقبل خطرے میں نظر آرہاہے کہ کیا اتنی بڑی ڈگریاں جیسے ڈاکٹر انجینئر کیا صرف پکوڑے بیچنے کیلئے لی ہیں؟ ہمارے نوجوانوں کو وزیراعظم نے پکوڑے بیچنے کا مشہورہ تو دیا لیکن کسی بھی یونیورسٹی اور کالج میں پکوڑے کا کورس یا کسی بھی کورس میں پکوڑے سبجکٹ نہیں ہے۔ میرا ہمارے وزیرعظم کو مشہورہ ہے کہ ہماری آئندہ آنے والی نسلوں کیلئے Professional Coursesمیں بھی پکوڑے Subjectکو جاری کیاجائے۔ کیونکہ آج جو ہم بے روزگاری کیلئے پریشان ہو رہے ہیں وہ آنے والی نسلوں کو نہ ہو۔

Friday, April 27, 2018

افسانہ ۔۔۔ احساس ندامت از قمرالنسا Afsana .... Ahsas Nadamat by Qamarunnisa


                  افسانہ


قمرالنساء(ریسرچ اسکالرشعبہ اردو و فارسی گلبرگہ یونیورسٹی گلبرگہ)


احساس ندامت

           حیا ناز والدین کی اکلوتی اولاد ہے جو لاڈ وپیارکے جھولے میں بچپن سے جھولتی آئی ہے وہ ایک امیرماں باپ کی اولاد اکلوتی تھی جو نہایت ہی حسین و خوبصورت اور نازک لڑکی ہے جسے نازوں سے پالا گیااسکی ہر خواہش ہر ضد کو پورا کرنا اسکے والدین کا اولین فریضہ تھا اسے اپنی خوبصورتی پر بڑا ناز تھا وہ انتہائی خوبصورت اور ذہین لڑکی تھی بچپن سے لےکر کالج تک ہر کلاس میں ٹاپ کیا تھا والدین کی لاڈلی ،ٹیچرس کی چہیتی اور دوستوں کی جان تھی شاید یہ ہی وجہ تھی کہ کسی کو اپنے مقابل کا سمجھنا ہی گنوارا نہیں تھا وہ دنیا  کے ہر شوق سے قریب اور دین سے کوسوں دور تھی۔
          زندگی میں آنے والی ان آسائشوں نے اسے مغرور بنا دیا تھا وہ کالج میں نہ صرف پڑھائی بلکہ اسکے ساتھ ساتھ دوسری تمام ایکٹویٹیز میں بھی نمبرون تھی وہ ہر مقابلے میں بڑھ چڑھ کر نہ صرف حصہ لیتی بلکہ انعام اول کی مستحق بھی قرار پاتی اور اب تو کالج میں اسکے شوق بھی اونچے ہوگئے تھے وہ اب Beauty contestمیں حصہ لینے جا رہی تھی وہ اخلاقی تعلیم سے کوسوں دور مغربی تعلیم اور تہذیب میں پوری طرح ڈھل چکی تھی اور یہ مغربی تہذیب کی اندھی تقلید اسکے لباس کو بھی عریاں بناتی جارہی تھی جینس،ٹاپ ، minis,skirts,and short اسکے پسندید ہ                                                                                                                   لباس تھے جو بنا آستین کے کبھی اسکے بازوں کی نمائش کرتے تو کبھی جینس اور شارٹس اسکے جسم کی چال ڈھال کا پتہ دیتے اور اس beauty contest میں جیتنے کی چاہ نے رہی سہی کسر پوری کردی تھی ۔۔

Saturday, April 14, 2018

Maulana Azad Ka Tasawware Taleem مولانا آزاد کا تصور تعلیم




مولانا آزاد کا تصور تعلیم
مولانا آزاد ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے علم سے گہری دلچسپی تھی انکا علم کافی وسیع تھااور یہ اسوقت سے عیاں ہونا شروع شروع ہوا جب عام بچے ابھی کھیلنے کی عمر میں ہوتے ہیں یا سیکھنے کی عمر میں ہوتے ہیں۔مولانا کی تحریریں پڑھ کر شبلیؔ اور حالیؔ جیسے نابغہ روزگاربھی حیرت واستعجاب میں ڈوب گئے۔اور انہوں نے یہ جانا کہ آزاد گویا ایک بڑی عمر کے منجھے ہوئے مفکر ومدبر ہیں۔مگر جب ملاقات کی تو انھیں یقین نہیں آیا کہ گیارہ بارہ سال کی عمر کا لڑکا اس طرز کی فکر رکھتا ہو۔

اسی لئے بلبل ہند سروجنی نائیڈو  نے کہا تھا کہ                

               "مولانا کی عمر انکی ولادت کے وقت ہی پچاس برس تھی'' 

          گیارہ برس کی عمر اور عقل پچاس برس کی یہ نہ صرف حالیؔ اور شبلیؔبلکہ ہر شخص کے لئے حیرت و استعجاب کی بات تھی بلاشبہ مولانا ساری عمراپنے علم وعمل کے ذریعے اپنے سامعین و قارئین کو حیرت میں ڈالتے رہے آج بھی لوگ آپکی تحریروں کو پڑھ کر مستفید ہوتے ہیں۔

بقول ناقد: