Thursday, June 28, 2018

محمد مسیح اللہ  (لکچرر)

منشی پریم چند کا افسانہ ’’بوڑھی کاکی‘‘

منشی پریم چند، اصل نام دھنپت رائے۔ ادبی زندگی کا آغاز ناول نگاری سے کیا۔ پھر افسانہ کی طرف متوجہ ہوئے انکا پہلا افسانہ ‘‘انمول رتن’’ 1908 میں شائع ہوا۔ اسی سال ان کے افسانوں کا مجموعہ ‘‘سوز وطن’’ منظر عام پر آیا۔ پریم چند نے بارہ ناول اور تین سو سے زائد افسانے لکھے۔ انکا افسانوی ادب اپنی بے مثال حقیقت نگاری کے سبب انفرادیت رکھتاہے۔  انہوں نے اپنے افسانوں میں دیہات کی زندگی کی کامیاب عکاسی کی ہے۔ انکے افسانوں کا موضوع ظلم و استبداد کے خلاف احتجاج۔ سماجی انصاف کی خواہش حب الوطنی اور انسان دوستی انکے افسانوں کے نمایاں موضوعات ہیں۔

Thursday, June 21, 2018

صادقہ نواب سحر اور ناول کہانی کوئی سناؤمتاشا ..... از رخسانہ سلطانہ،

صادقہ نواب سحر اور ناول ’’کہانی کوئی سناؤمتاشا‘‘
                                                                                                            ڈاکٹر رخسانہ سلطانہ
                        cell : 9739045702
                        write2rukhsar@gmail.com

            صادقہ نواب سحر کا پہلا ناول ”کہانی کوئی سناومتاشا “ جب میری نظر سے گذرا تؤپڑھتے ہوئے احساس ہوا کہ متاشا اپنی کہانی جس طرح بیان کر رہی ہے وہ دراصل دنیا کؤآئینہ دکھا رہی ہے وہ زمینی ہلچل کؤاپنے فطری انداز میں ایک فطری بہاو  کے ساتھ پیش کرتی ہے۔ دراصل یہ خوبی کردار کی نہیں صادقہ کا سحر ہے جؤسر چڑھ کر بول رہا ہے یہ اکیسویں صدی کی فعال ؤمتحرک شخصیت ہے جنہوں نے بہت کم وقت میں اپنے منفرد لب ؤلہجے سے اپنے معاصرین میں الگ پہچان بنائی ۔ان کی تحریر نے سنجیدگی ،متانت اور سادگی بیان کؤنہ صرف منوایا ہے بلکہ سماج کؤایک نئی سوچ عطا کی ہے۔میں قرة العین ، عصمت چغتائی ،صالحہ عابد حسین ،رضیہ سجاد ظہیر ،خدیجہ مستور ،ممتاز شیریں ،عفت موہانی ،رضیہ بٹ ،عطیہ پروین ،مسرور جہاں ،ذکیہ مشہدی اور قمر جہاں اور دیگر کؤپڑھا تھا ۔ان خواتین کے علاوہ اور بہت سی خواتین فن کاروں نے اس میدان میں قدم رکھا لیکن ”کہانی کوئی سناو  متاشا“ جیسی تخلیق فی زمانہ کم نظر سے گذری ہے۔

Tuesday, June 19, 2018

عہدخداداد کا شعروادب کا اجمالی جائزہ۔۔۔Ahde Khuda Dad ka Shair o Adab Ek Jayza




عہد خداداد کا شعروادب (1761-1799)کا اجمالی جائزہ


          ڈاکٹر عبدالکریم تماپوری کی حالیہ تصنیف عہد خداداد کا شعروادب ایک تحقیقی نوعیت کی کتاب ہے۔ اس سے قبل آپ کی ترتیب کردا دو کتابیں منظر عام پرآئیں وہ دونوں ہی شعری مجموعے تھے۔ یہ کتاب دراصل ان کی نصف صدی پر مشتمل تحقیق ہے۔ کیوں کہ انہوں نے ” دکنی ادب کی تحقیق کا ارتقاءاور اس کا تنقیدی مطالعہ“ کے زیر عنوان تحقیقی مقالہ تحریر کیا جس پر میسور یونیورسٹی سے انہیں ڈاکٹریٹ کی سند سے نوازا گیا۔ اس دوران بہت سارا مواد انہیں دستیاب ہوا جسے محفوظ کرتے ہوئے وظیفہ حسن خدمت پر سبکدوش ہونے کے بعد اسے ہاتھ لگایا اور انہیں کتابی صورت میں منظر عام پر لانے کی سعی فرمائی اور یہ کوشش ہنوز جاری ہے۔ امید کے مزید کتب منظر عام پر آئیں بہرحال یہ ڈاکٹر صاحب کی پہلی باقاعدہ تحقیقی کاوش ہے جسے انہوں نے تنقیدی روش سے گذار کر اہلیان ادب کے روبرو لایا۔ اس پر پیش رس کے عنوان سے ماہر دکنیات پروفیسر محمد نسیم الدین فریس نے ایک مبسوط اور جامع مضمون تحریر فرمایا۔ اتنا ہی نہیں گلبرگہ کے ایک معزز اور بزرگ شخصیت ڈاکٹر وہاب عندلیب اور اردو کے ایک ہمہ جہت قلمکار اور بزرگ ادیب جناب علیم صبا نویدی چنائی نے بھی اس کتاب کا بھرپور جائزہ لیتے ہوئے مضامین رقم کئے ہیں۔ ان تین مضامین کے بعد پھر کسی جائزے کی چنداں ضرورت نہیں۔ مگر اس کتاب کو پڑھنے کے بعد میرا دل بھی بے چین ہوا کچھ خامہ فرسائی میں بھی کروں اس طرح اس کتاب سے مجھے یہ محسوس ہوا کہ فی زمانہ جس طرح کی تحقیق ہورہی ہے اور جس طور کے تنقیدی مضامین رقم کئے جارے ہیں ان میں یہ بہت بہتر بلکہ ان نئے لکھنے والوں اور تحقیق سے وابستہ افراد کے لئے مشعل راہ کا کام دے سکتے ہیں۔ تحقیق کی مبادیات کیا ہیں، ان کا استعمال کیسے کیا جائے، حواشی اور حوالہ جات کے ساتھ ساتھ مسودہ کس طور تربیت دیا جائے اور کتابیات وغیرہ کا استعمال کیسے ہو بہت اچھے انداز میں اس کتاب میں در آئے ہیں۔ یقینا میری دانست میں یہ اکاڈمک طرز کا بہترین مقالہ یا بہترین کتاب ہے۔ اس بہترین تحقیقی تصنیف کیلئے ڈاکٹر عبدالکریم تماپوری کی قدمت میں ہدیہ تبریک پیش کرتے ہوئے مسرت محسوس کرتاہوں۔