Monday, June 4, 2018

عہد خداداد کا شعروادب (1761-1799)کا اجمالی جائزہ


عہد خداداد کا شعروادب (1761-1799)کا اجمالی جائزہ


          ڈاکٹر عبدالکریم تماپوری کی حالیہ تصنیف عہد خداداد کا شعروادب ایک تحقیقی نوعیت کی کتاب ہے۔ اس سے قبل آپ کی ترتیب کردا دو کتابیں منظر عام پرآئیں وہ دونوں ہی شعری مجموعے تھے۔ یہ کتاب دراصل ان کی نصف صدی پر مشتمل تحقیق ہے۔ کیوں کہ انہوں نے ” دکنی ادب کی تحقیق کا ارتقاءاور اس کا تنقیدی مطالعہ“ کے زیر عنوان تحقیقی مقالہ تحریر کیا جس پر میسور یونیورسٹی سے انہیں ڈاکٹریٹ کی سند سے نوازا گیا۔ اس دوران بہت سارا مواد انہیں دستیاب ہوا جسے محفوظ کرتے ہوئے وظیفہ حسن خدمت پر سبکدوش ہونے کے بعد اسے ہاتھ لگایا اور انہیں کتابی صورت میں منظر عام پر لانے کی سعی فرمائی اور یہ کوشش ہنوز جاری ہے۔ امید کے مزید کتب منظر عام پر آئیں بہرحال یہ ڈاکٹر صاحب کی پہلی باقاعدہ تحقیقی کاوش ہے جسے انہوں نے تنقیدی روش سے گذار کر اہلیان ادب کے روبرو لایا۔ اس پر پیش رس کے عنوان سے ماہر دکنیات پروفیسر محمد نسیم الدین فریس نے ایک مبسوط اور جامع مضمون تحریر فرمایا۔ اتنا ہی نہیں گلبرگہ کے ایک معزز اور بزرگ شخصیت ڈاکٹر وہاب عندلیب اور اردو کے ایک ہمہ جہت قلمکار اور بزرگ ادیب جناب علیم صبا نویدی چنائی نے بھی اس کتاب کا بھرپور جائزہ لیتے ہوئے مضامین رقم کئے ہیں۔ ان تین مضامین کے بعد پھر کسی جائزے کی چنداں ضرورت نہیں۔ مگر اس کتاب کو پڑھنے کے بعد میرا دل بھی بے چین ہوا کچھ خامہ فرسائی میں بھی کروں اس طرح اس کتاب سے مجھے یہ محسوس ہوا کہ فی زمانہ جس طرح کی تحقیق ہورہی ہے اور جس طور کے تنقیدی مضامین رقم کئے جارے ہیں ان میں یہ بہت بہتر بلکہ ان نئے لکھنے والوں اور تحقیق سے وابستہ افراد کے لئے مشعل راہ کا کام دے سکتے ہیں۔ تحقیق کی مبادیات کیا ہیں، ان کا استعمال کیسے کیا جائے، حواشی اور حوالہ جات کے ساتھ ساتھ مسودہ کس طور تربیت دیا جائے اور کتابیات وغیرہ کا استعمال کیسے ہو بہت اچھے انداز میں اس کتاب میں در آئے ہیں۔ یقینا میری دانست میں یہ اکاڈمک طرز کا بہترین مقالہ یا بہترین کتاب ہے۔ اس بہترین تحقیقی تصنیف کیلئے ڈاکٹر عبدالکریم تماپوری کی قدمت میں ہدیہ تبریک پیش کرتے ہوئے مسرت محسوس کرتاہوں۔
          ڈاکٹر عبدالکریم تماپوری قریباً 35 برس تک درس و تدریس سے وابستہ رہے اس دوران انہوں نے شاعری بھی کی، تنقیدی مضامین بھی رقم کئے، تدوین و ترتیب کے کام بھی سرانجام دئے، ان سب کے باوجود آپ کی سوچ، فکراور ذہن تحقیق کی طرف گامزن رہا۔ تحقیق صرف سند حاصل کرنے تک نہیں رہی بلکہ یہ ان کے مزاج کا حصہ بن گئی۔ اور یہ کیفیت آج بھی ان میں موجزن ہے۔ اللہ کرے آپ کی مزید تحقیقی کاوشیں منظر عام پر آتی رہیں اور ہم طالب علموں کو اس سے مستفید ہونے کی توفیق ملتی رہے۔
          اس کتاب کو دیکھنے سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارے اکابرین نے جس طور تحقیق کا حق ادا کیا بعین ہی اسی طرز کو انہوں نے اپنایا اور اس کیلئے جس زبان و بیان کی ضرورت رہی اسے بروئے کار لاکر احسن رنگ میں پیش کیا۔
          یہ تصنیف جملہ سات ابواب میں منقسم ہے۔ پہلے باب میں عہد خدادا کے تاریخی و سیاسی حالات و واقعات، سلاطین خدادا کے علمی، ادبی و تہذیبی کارنامے کے تحت مختصر ہی صحیح مگر جامع طورپر تحریر کیا ہے۔ اس کتاب کی ورق گردانی سے اس بات کا بخوبی اندازہ ہوتاہے کہ مصنف نے تاریخ اور ادب کو اسطرح سے پیش کردیا ہے کہ دونوں ایک دوسرے کی ضرورت محسوس ہوتی ہیں۔ یہ مسلم ہے کہ ادب اپنے دور کی عکاسی کرتاہے۔ چنانچہ اس میں اس وقت کے حالات خواہ وہ سیاسی ہوں یا سماجی، معاشی ہوں یا مذہبی بحرحال کہیں نہ کہیں کسی طورپر وہ ادب میں جگہ پاتے ہیں ۔اس سے بھی ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ آیا اس دور کے حالات کیسے رہے امن و آمان تھا یا پھر کشت و خون سے بھرا ہوا تھا اور اس دور کا ادب کیسا رہا، مذہبی نوعیت کا رہا یا تاریخی اعتبار کا یا صرف فتوحات کا تذکرہ اس میں رہا وغیرہ وغیرہ۔ اس نظر سے اس کا جائزہ لیا جائے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ عہد خدادا د کا ادب دراصل مذہبی ہونے کے ساتھ ساتھ اس میں مختلف دینی عموار اور فقہی مسائل بھی اس میں در آئے۔ جو اس وقت کے لحاظ سے شاید ضروری تھے۔ جنہیں مقامی (دکنی) زبان میں تحریر کیا گیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ آیا مذہبی تحریرات، فقہی مسائل اور عبادات و ریاضت کو کیسے ادب کے ذمرہ میں رکھا جائے۔ اگر واقعتا اسے بھی ادب کا حصہ گردانا جائے۔ تو پھر شاید ادب کی تعاریف نئے سرے سے کرنی ہوگی۔
          اس کے قطع نظر اس باب میں ایک اچھی بات یہ نظر آئی کہ ڈاکٹر عبدالکریم نے دلائل سے یہ ثابت کردیا کہ سلطنت ِ خداداد کے خاتمے اور فصیل سری رنگاپٹنم میں سیند ھ لگانے والے کوئی اور نہیں تھے بلکہ وہیں کہ باشندے اور شیر میسور کے حلقہ والے ہی تھے جس کے حوالے میں شاعر مشرق کا شعر انہوں نے درج کردیا ہے۔ ورنہ عموماً عوام کے ذہنوں میں یہ بات راسخ کردی گئی تھی۔ بلکہ آج بھی بعض کے ذہنوں میں یہی بات ہے کہ دوسرے لوگوں نے سری رنگا پٹم کی فصیل میں سیندھ لگائی تھی وغیرہ وغیرہ ۔
          دوسرا باب مذہبی تصنیفات کے عنوان سے ہے جو خالص مذہبی رنگ لئے ہوئے ہے۔ جبکہ تیسرا باب صوفیانہ شاعری کے عنوان سے ہے۔ اس میں بھی مذہبی رنگ نمایاں ہے۔ جس میں پانچ شعراءکاتذکرہ ہے۔ ان میں اسوقت کے شعراءکے تعلق سے تو لکھا گیا ہے۔ مگر کلام اسی زبان میں پیش کیاگیا جیسے شاعر نے تحریر کیاتھا۔ یہاں پر اس کی تشریح یا ترجمانی کی گئی ہوتی تو نہ صرف عقدہ کھل جاتا بلکہ میری دانست میں ترسیل کا مسئلہ بھی حل ہوجاتا جو یقینا ادب میں نہ صرف اضافہ کا بعث بنتا بلکہ مفید بھی ثابت ہوتا۔
          چوتھا باب دربار سلطانی کے شاہکار تصانیف کے عنوان سے ہے اس میں تین کتب کا تذکرہ ہے۔ پہلی مفرح القلوب یعنی قلوب کو فرحت بخشنے والی ظاہر ہے اس میں مختلف باتوں کا خیال رکھا گیا ہے جو سکون دل کا باعث ہوسکتی ہیں۔ ابتداءمیں مولوی نصیرالدین ہاشمی کے حوالے سے یہ بتایا گیا ہے کہ ”یہ میسور میں موسیقی سے متعلق ایک رسالہ ہے جس میں سر و تال کی وضاحت فارسی اور ہندوستانی میں کی گئی ہے“ اس کتاب کے بیشتر کلام کو مختلف ناقدین نے قصیدے کے ذمرہ میں رکھا ہے جبکہ پروفیسر میم نون سعید نے اسے بجائے قصیدے کہ درباری تہنیت قرار دیاہے۔ کیوںکہ اس میں قصیدے کے اجزا کا التزام نہیں ہوا ہے۔ دوسری کتاب اضراب سلطانی کے عنوان سے ہے اور یہ ایک رزمیہ مثنوی ہے جس کا دوسرا نام فتح نامہ ٹیپوسلطان ہے۔ یہ دونوں کتب درباری شاعری حسن علی عزت کی تحریر کردہ ہیں۔ جبکہ تیسری کتاب فتح المجاہدین جو تحفة المجاہدین کے نام سے بھی جانی جاتی ہے۔ جس کو میر ذین العابدین شوستری نے تحریر کیا۔
          پانچواں باب کلیات و دواوین کے عنوان سے ہے۔ اس میں جملہ نو دواوین و کلیات کا تذکرہ ہے۔ ۱) دیوان صدرالدین: اس کے تحت آپ نے یہ لکھا ہے کہ انہوں نے متعدد رسالے نظم و نثر میں یادگار چھوڑے ہیں اور ایک ناتمام دیوان کا بھی پتہ چلا ہے جو ہنوز دستیاب نہیں ہوا۔ میری دانست میں یہ مناسب نہیں ہے اور ان کا صرف ایک شعر ہی انہیں ملا ہے جس کی بنیاد پر انہیں یقین کے ساتھ ایک قادر الکلام اور مشاق غزل گو بھی کہاگیاہے۔ وہ شعر یوں ہے

میں    چال اپنی چھوڑ کر چلتی  ہوں  شہ   کی     چال
جیدھر ڈھلادے ڈھل پڑی ہوں ڈالی موتی تھال میں


اولاً یہ شعر کسی ذکر کا نہیں بلکہ انثیٰ کا معلوم ہوتا ہے کیونکہ اس میں صیغہ تانیث میں پائی جاتی ہے۔ جیسے چلتی ہوں، ڈھل پڑی ہوں، ڈالی موتی وغیرہ دوسرا یہ کہ مصرعے ثانی میں ”میں“ کا اضافہ محسوس ہورہاہے۔ تھال پر مصرع ختم ہوتا تو شائد مناسب ہوتا۔  دیوان خادم ، دیوان مخدوم، ان دونوں کوایک ایک صفحہ میں ہی نمٹایا گیاہے۔ جبکہ مہتاب سخن، دیوان شہباز، دیوان لطیف، کلیات گنج شائگاں، دیوان اشعار درگاہی، کلام عابد بہت وضاحت اور صراحت سے بیان ہوئے ہیں۔
          چھٹا باب رثایہ شاعری پر منحصر ہے اس میں مرثیہ کی تعاریف کرتے ہوئے دکن میں عزاداری کی تاریخ کا اجمالی جائزہ لیتے ہوئے، عہد خداداد کے مرثیہ گو شعراءاور ان کی مرثیہ نگاری پر تحریر ہوا ہے۔
          اس کتاب کا آخری یعنی ساتواں باب نثری نگارشات پر مبنی ہے۔ جس کے تحت مختلف رسائل پر بحث کی گئی ہے یہ تمام رسائل دینی اور مذہبی امور کا احاطہ کرتے نظر آتے ہیں جو اس وقت کا طریقہ کار رہاہے۔
          متفرقات کے تحت فرہنگ الفاظ و فہرست مآخذ ، تحقیقی مقالے، مخطوطات، مطبوعات، مصنف کے بارے میں اور مصنف کی تصانیف پر اہل نظر کے تاثرات تربیت دیئے گئے ہیں۔ من جملہ یہ ایک اپنی نوعیت کی تحقیقی کتاب ہے مصنف نے جو مواد دستیاب ہوا اسے نہ صرف جمع کیا بلکہ تنقیدی روے سے گذار کر بہتر سے بہتر انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی اور یہ کوشش یقینا کامیاب کوشش کہی جاسکتی ہے۔ جس پر انہیں دوبارہ مبارکباد دیتا ہوں۔


                                                                                      پروفیسر عبدالرب استاد
                                                                                      گلبرگہ یونیورسٹی، گلبرگہ


No comments:

Post a Comment