Tuesday, October 30, 2018

غزل از نہال جالب

غزل

جو سچ ہے بس وہی بتلا رہا ہوں
محبت کرکے میں پچھتا رہا ہوں


وہ جن سے خون کا رشتہ تھا میرا
انہیں لوگوں سے دھوکا کھا رہا ہوں


کسی کے ہجر میں یہ کون جانے!!!
کہ میں چھپ چھپ کے بھی روتا رہا ہوں


جسے سمجھا محبت وہ دغا تھی
کہ میں دھوکے سے دھوکہ کھارہا ہوں


بسا اوقات تجھ سے دور رہ کر
میں زندہ ہوکے بھی مردہ رہاہوں


پہن کر میں یہ مکّاری کا چولہ
کبھی جھوٹوں میں بھی سچا رہا ہوں


پڑا ہے واسطہ جالب یہ کس سے
خدا والوں سے میں کترا رہا ہوں


نہال جالب
موبائل نمبر +91-9044355382