Thursday, August 22, 2019

افسانہ:لبیک برصدا۔۔۔ایک اجمالی جائزہ




افسانہ:لبیک برصدا۔۔۔ایک اجمالی جائزہ 

ریاض قاصدار کا تعلق شہر گلبرگہ سے ہے۔یہ اور بات ھیکہ دوران ملازمت انھوں نے مختلف مقامات کی سیر کی۔مگر ادبی اعتبار سے انھیں گلبرگہ ہی راس آیا،یہیں انھوں نے افسانے خلق کئے اور یہاں کی ادبی محفلوں سے انھوں نے شناخت بھی بنا لی۔میرے پیش نظر انکا افسانہ ”لبیک برصدا“ ہے گو کہ یہ افسانہ بیانیہ ہے اس میں فلیش بیک تکنیک کا استعمال بھی ہوا ہے۔اس میں وقوع بھی ہے کردار بھی اور کردار کی مناسبت سے زبان کاا ستعمال بھی ہوا ہے اس میں کہانی پن بھی ہے،یہ کہانی حقیقت کے قریب بلکہ حقیقی معلوم بھی ہوتی ہے، گوکہ تخیل کی آمیزش نے اسے عمدہ بنادیا ہے بغیر تکیل کے کوئی فن پارہ معرض وجود میں نہیں آسکتا،ہاں مناسب الفاظ کی دروبست اسے دو آتشہ بنا دیتی ہے اس افسانہ میں انسان دوستی کو جس طور پیش کیا گیا ہے۔ وہ قابل تعریف ہے۔اس میں نہ مذہب کی دیوار ہے اور نہ مسلک کا شائبہ۔بس انسا ن دوستی اور انسانیت کے ناطے خدمت کا جذبہ ہے جسے حقوق العباد سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔مخلوق خدا سے محبت اور اس کی خدمت ہی شاید سب کچھ ہے افسانہ نگار نے بین السطور میں اونچ نیچ میں،مذہبی اعتبار سے اور مسلکی اعتبار یہ مناسب نہیں ہے آخر میں جو فقرے ملتے ہیں وہ غور وفکر کی دعوت دیتے ہیں فن پارہ بلکہ کامیاب فن پارہ وہی ہوتا ہے جو اپنے قاری کو دعوت فکر دے،اس کے خیالات میں جنبش پیدا کرے،بہتر سے بہتر کی طرف اس کے ذہن کو موڑ دے۔افسانہ بھی اپنے کرداروں جیسے رامو،چچا فخروان کے بیل کے گرد گھومتا ہے جبکہ معاون کرداروں کے طور پر رامو کی بیوی،اسکے والد باپو اور ہوٹل کے مالک کا ذکر ملتا ہے۔بیل کی معرفت افسانہ نگار نے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ کسی بھی شخص کے لئے ضروری ہے کہ وہ خود آگہی کا عرفان حاصل کر لے۔خود آگہی کے لئے خود احتسابی ازحد ضروری ہے۔یہ خود آگھی کبھی عبادت و ریاضت سے حاصل ہوتی ہے کہیں غور وفکر سے کہییں جذبہ تشکر سے تو کبھی کسی کی خدمت کر نے سے کبھی کسی ضرورت مند کی ضرورت پوری کرنے سے تو کبھی اپنے محسن کو یاد کرنے اور اس کا سپاس گزار ہونے سے۔۔مگر افسانہ نگار نے اس افسانہ میں یہ بتا دیا کہ ایک انسان دوسرے انسان کی مدد بغیر کسی طمع کے اگر کر لے تو پھر اسے ایک طرح کا سکون میسر آجاتا ہے۔