Thursday, July 9, 2020

تعلیمی نصاب سے قوم پرستی اورسیکولرزم جیسے موضوعات کوحذف کرنے کا مقصد کیاہے؟-ڈاکٹر مشتاق احمد

تعلیمی نصاب سے قوم پرستی اورسیکولرزم جیسے موضوعات کوحذف کرنے کا مقصد کیاہے؟

اس وقت کورونا کی وبا نے تمام تر شعبۂ حیات کو متاثر کیا ہے ۔بالخصوص تعلیمی نظام مفلوج ہو کر رہ گیا ہے ۔ گذشتہ مارچ سے اب تک بنیادی اسکولوں سے یونیورسٹی تک کی تعلیم معطل ہے ۔ بعض تعلیمی اداروں کے ذریعہ آن لائن تعلیم کا اہتمام کیا گیاہے لیکن وہ صد فی صد کارآمد نہیں ہے کہ ہمارے پاس پہلے سے اس طرح کا کوئی بنیادی ڈھانچہ موجود نہیں تھا۔ لیکن حالات کے تحت طریقۂ تعلیم میں تبدیلی بھی ضروری ہے اور حکومت کی جانب سے بھی اس پر زور دیا جا رہاہے ۔قومی سطح پر آن لائن تدریسی نظام کو فروغ دینے کی وکالت بھی ہو رہی ہے۔ مستقبل میں یہ مجوزہ خاکہ حقیقتاً کتنا کامیاب ہوگا یہ ابھی کہنا بہت مشکل ہے۔لیکن یہ مثل تو مشہور ہے کہ ضرورت ایجاد کی ماں ہوتی ہے لہذا ممکن ہے کہ اس طریقۂ کار کو بھی اپنانا ہوگا لیکن ہمارے روایتی کلاس روم طریقۂ تعلیم کی غیر معمولی اہمیت ہے اور اس کی معنویت سے انکار نہیں اور نہ فرار ممکن ہے۔
بہر کیف! اس وقت میرا موضوع سی بی ایس سی کے نصاب میں جزوی تخفیف ہے۔ ظاہر ہے کہ حکومت کی پہل پر سی بی ایس سی کا یہ فیصلہ قابلِ تحسین ہے کہ طلباء کو یہ سہولت دی گئی ہے کہ وہ کورونا کی وبا کی وجہ سے تخفیف شدہ نصاب کی بنیاد پر امتحان میں شامل ہو سکیں گے ۔ یہ فیصلہ اس لئے اہم ہے کہ گذشتہ پانچ مہینوں سے اسکول کالج بند ہیں اور تدریسی نظام معطل ہے۔ طلباء وطالبات اپنے گھروں میں بند ہیں۔ کورونا کے خوفناک ماحول میں جی رہے ہیں ۔ ذہنی طور پر بھی طلباء پریشان ہیں کہ ان کا مستقبل کیا ہوگا۔ ایسے نازک ماحول میں اگر سی بی ایس سی یا دیگر بورڈ نے نصاب میں تخفیف کرکے امتحان لینے کا فیصلہ لیا ہے تو وہ واقعی طلباء کی ذہنی پریشانیوں کو دور کرنے والا ہے اور اس کے مستقبل کا ضامن بھی ہے۔ لیکن اہم سوال یہ ہے کہ نصاب کے اسباق کو ہٹائے جانے کے معاملے میں جس طرح کا فیصلہ ہو اہے وہ ہندوستان جیسے جمہوری اور سیکولر ملک کے لئے مضر ہے۔واضح ہو کہ کورونا بحران کے مدنظر سال۲۰۲۰ء۔۲۱ سیشن کے گیارہویں جماعت کے طلباء کے لئے نصاب میں تحفیف کی گئی ہے لیکن نصاب سے سیاسیات کے پرچے میں وفاقیت، شہریت، قوم پرستی،سیکولرزم، مقامی حکومت کی ضرورت ، پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات وغیرہ وغیرہ اسباق کو ہٹا دیا گیاہے ۔ نویں سے بارہویں جماعت تک کے طلباء کو نصابی بوجھ کم کرنے کے نام پر یہ قدم اٹھایا گیاہے۔ اگرچہ ان اسباق کو ہٹانے کا جواز یہ پیش کیا جا رہاہے کہ یہ وقتی ہے اور کوویڈ۔19کے بحران کے بعد پھر یہ تمام اسباق ان درجوں کی کتابوں میں شامل کردئے جائیں گے ۔ یہ حقیقت ہے کہ اس وقت جو نصابی کتاب ہے اس سے یہ باب ہٹایا نہیں گیا ہے لیکن اس کو پڑھانے یا پھر اس سے سوال پوچھنے سے منع کردیا گیاہے۔جب ان اسباق کو پڑھایا ہی نہیں جائے گا تو پھر اس کی ضرورت ہی کیوں رہ جائے گی ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سی بی ایس سی اس فیصلے پر دوبارہ غوروخوض کرے اور نصابی بوجھ کو کم کرنے کے لئے دیگر اسباق کی تخفیف کرے کیوں کہ وفاقیت، شہریت، قوم پرستی، سیکولرزم اور سماجی فرائض کے ابواب محض اس لئے پڑھائے جاتے ہیں تاکہ ہمارے طلباء کے اندر حب الوطنی کا جذبہ مستحکم ہو ، سماجی سروکار کی سمجھ میں اضافہ ہو ، ایک شہری کی ذمہ داری کیا ہے اور اس کے فرائض کیا ہیں اس سے وہ واقف ہو ں، ہمارے پڑوسی ممالک کے ساتھ ہمارا رشتہ کیسا ہو اور یہ کیوں کر لازمی ہے اس کی سمجھ بھی ضروری ہے۔ہمارا ملک ایک جمہوری ملک ہے ، ہمارا آئین مساوات پر مبنی ہے اس کی روح سیکولرزم ہے اور اس لئے ہمارے اکابرین اور ماہر تعلیم نے ہمیشہ اس بات کا خیال رکھا کہ ہمارا اسکولی نصاب ایسا ہو جو ہندوستان کی تکثیریت اور سا لمیت کا پاسدار ہو ۔ہمارے بچوں کو ایسے اسباق پڑھائے جائیں جن سے ان کے اندر قومی وسماجی جذبہ پروان چڑھے۔اس لئے درجہ اول سے لے کر بارہویں تک کے نصاب میں جستہ جستہ اس طرح کے اسباق شامل کئے گئے کہ وہ ہندوستان کے جغرافیائی حدود سے واقف ہو سکیں ، اپنی تاریخ سے آشنا ہو سکیں ، یہاں کی تہذیب وتمدن کے علم سے آراستہ ہو سکیں اور ثقافتی وراثت کی معلومات سے بھی لیس ہو سکیں ۔ غرض کہ اسکول کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ہمارے طلباء اپنے ملک کی تاریخی اور تہذیبی وثقافتی تاریخ سے کما حقہٗ واقف ہو جائیں او رپھر وہ یونیورسٹی میں داخل ہوں تو مزید اپنی پسند کے مضامین کے ذریعہ اپنے مستقبل کا خاکہ تیار کر سکیں ۔ لیکن وقت ناگہانی میں اگر یہ فیصلہ لیا گیا کہ بچوں پر ذہنی دبائو کم کرنے کے لئے ان کے نصاب میں کمی کی جائے تو اس کے اور بھی راستے تھے کہ دیگر اسباق کو ہم کم کرتے اور صرف اور صرف ان ہی اسباق کو رکھتے کہ جن کو بچے گذشتہ درجوں میں پڑھتے ہوئے آئے ہیں۔میرے خیال میں حکومت کا بھی یہ فیصلہ نہیں رہا ہوگا کہ ہمارے نصاب سے قومیت اور سماجیت سے متعلقہ اسباق کو ہٹایا جائے۔ سی بی ایس سی انتظامیہ کی جانب سے جانے اور انجانے لیا گیا یہ فیصلہ ملک کے لئے مضر ثابت ہو سکتا ہے او ریہی وجہ ہے کہ مختلف رضا کار تنظیموں کی جانب سے اور سیاسی جماعتوں کی طرف سے بھی اس کی مخالفت شروع ہو گئی ہے۔چوں کہ اس وقت ملک میں ایک خاص نظریے کو فروغ دیا جا رہاہے ایسے وقت میں اور بھی شک مستحکم ہو جاتا ہے کہ کہیں نصاب میںوقتی تخفیف کے نام پر ان اسباق کو نصاب سے خارج ہی نہ کردیا جائے۔کیوں کہ حالیہ دنوں میں کئی ایسے اقدام اٹھائے گئے ہیں جو کہیں نہ کہیں ملک کی تکثیریت اور سیکولرزم کے لئے مضر ثابت ہو رہاہے۔ لہذا اب بھی وقت ہے کہ سی بی ایس سی انتظامیہ کو فوراً اس پر نظر ثانی کرنی چاہئے اور ملک وقوم کے مفاد میں ا ن اسباق کو شامل رکھا جانا چاہئے۔ اگرچہ یہ وضاحت بھی آئی ہے کہ صرف امتحان میں سوالات نہیں پوچھے جائیں گے لیکن درسی کلاس میں انہیں پڑھایا ضرور جائے گا ۔ لیکن سچائی یہ ہے کہ جب ان اسباق کو امتحان کے پرچوں سے الگ کردیا جائے گا تو طلباء اس سے آزا دہوجائیں گے اور وہ ان اسباق کو نہیں پڑھیں گے اور پھر کورونا وباء نے جو بحرانی صورت پیدا کی ہے اس میں تو طلباء صرف ان ہی اسباق کو پڑھیں گے جن سے سوالات آئیں گے ۔ اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ ان اسباق کو لازمی بنایا جائے تاکہ طلباء نہ چاہتے ہوئے بھی ان اسباق کو پڑھیں اور ملک کی سیاسی ، جغرافیائی ، تاریخی ، تہذیبی ، مذہبی اور بالخصوص جنگ آزادی کی تحریک سے آشنا ہو سکیں ۔ آج جب ملک طرح طرح کے مسائل سے دوچار ہے ایسے وقت میں کوئی نیا مسئلہ پیدا ہونا اور ملک میں اضطرابی بھونچال آنا سماج اور ملک کے لئے خسارۂ عظیم ثابت ہو سکتا ہے۔یہ لمحۂ فکریہ ہے اور اس پر تمام تر سیاسی مفادات سے اوپر اٹھ کر غور وفکر کرنے کی ضرورت ہے ۔

 

ڈاکٹر مشتاق احمد


Tuesday, June 23, 2020

دو قطعات ۔۔۔۔۔


آغاز کررہاہوں فقط اس کے نام سے

پرور دگار مالک کون و مکان کے

رکھے زباں پہ اپنے سدا اس کا نام جو

گزرے گا کامیاب وہ دونوں جہاں سے

 

لینا ہے ان کا نام بھی بالکل ادب کے ساتھ

وہ ہے نبی بھی اور ہے وہ وجہ کائنات

مرشد سمجھ ناپائیں گے احمد کا مرتبہ

کیا مرتبہ ہے آپ کا قرآں ہے جن کی بات


Sunday, June 21, 2020

نظم۔۔۔دغا باز بادل ! *ڈاکٹر مشتاق احمد ،دربھنگا (بہار )

نظم ۔۔۔دغا باز بادل !
*ڈاکٹر مشتاق احمد ،دربھنگا (بہار )
دہقان کی ویران آنکھیں 
آسمان کو ٹک ٹکی لگاۓ 
کب سے دیکھ رہی ہیں 
کہ یہ گھٹا ٹوپ بادل 
اب برسے گا ،تب برسے گا 
پچھلے موسم میں 
کسی گھن گرج کے بغیر 
خوب برسا تھا ،ٹوٹ کر برسا تھا 
مگر 
اس موسم میں 
یہ بادل 
خاموش ،خاموش بھاگتا جا رہا ہے 
تا حد نظر 
بارش کے آثار نہیں ہیں 
اور 
کھیتوں میں نئی فصلیں 
جلتی جا رہی ہیں 
دہقاں کی امیدوں کے چراغ 
بجھتے جا رہے ہیں !
Nzm...Daghabaz Badal
Dahqan ki weeran Aankhen
Aasman ko tak taki lagae 
Kab se dekh rahi hain 
Ke ye ghata top badal
Ab barse ga tab barse ga 
Ke pichhle mausam men 
Khob barsa tha
Tut kar barsa tha
Kisi ghan garaj ke baghair
Magar 
Is mausam men 
Yeh badal 
Khamosh,khamosh
Bhagta ja raha hai 
Tahade nazar 
Barish ke Aasar nahi hain 
Aur
Kheton men nai faslen 
Jalti ja rahi hain 
Dahqan ki ummidon ke chiragh
Bujhte ja rahe hain !
...........
 Dahqan..farmers .kisan

Friday, June 12, 2020

کوزہ گر کی یاد میں ۔۔۔۔ مشتاق احمد دربھنگہ کی تازہ نظم

This is my twenty seventh poem of this lockdown, entitled "Kuzagar ki Yaad main"(Memory of a Ceramist) . Please stay safe.
Please subscribe to my youtube channel:


کوزوگر کی یاد میں
وہ کوزہ گر .
جو چاک پر گیلی مٹی کو
اپنی انگلیوں کی جنبش سے
کیسے کیسے روپ میں ڈھالتا تھا
میری آن بوجھ پہیلی کے دنوں میں
وہ مٹی  کا اک کوزه
خوشیوں کا سمندر لئے ہوتا تھا
چولہے پر چڑھی ہانڈی کو دیکھ کر
شکم کی آگ خود بخود ٹھنڈی ہو جاتی تھی 
پنگھٹ پرگھڑوں کی کھنک
دلوں میں سرسوسر  باندھتے تھے
دیوالی کی وہ ڈبیا
 ذ ہن و دل کے اندھیرے کو روشن کرتی تھی
مولوی صاحب کا وہ خاکی بدهنا
درس احتیاط وحفاظت کے اسباق سکھاتے تھے
دادی ماں کا آب جو
روح کی پیاس بجھاتاتھا
اس کوزہ گر کے ہاتھوں
بھگوان کے بھی کئی روپ نکھرتے تھے
مگر آج
وہ کوزہ گر ٹکٹکی لگا ے 
اپنے خاموش چاک کو دیکھ رہا ہے
سوکھی مٹی کا درد جھیل رہا ہے
کہ اب اس کو
گیلی مٹی کا انتظار ہے
جس گیلی مٹی کو
وہ اپنی انگلیوں کی جنبش  سے
کئی روپ میں بدلتا تھا
اب وہ  گیلی مٹی
اس کے روپ کو بدلنے والی ہے!

Wednesday, June 10, 2020

غزل :: فیصل قادری گنوری


غزل
فیصل قادری گنوری


کسی کی جاں تمھیں پیاری نہیں ہے 
یہ نادانی   ہے    ہُشیاری   نہیں   ہے 

انھوں  نے  کر  دیا  ہے  جینا  مشکل 
جنھیں کوئی بھی دشواری نہیں ہے

مجھے مت  روکیے سچ بولنے سے 
یہ حق گوئی طرف داری نہیں ہے

کیا ہے وقت نے معذور مجھ کو 
یہ مجبوری ہے، لاچاری نہیں ہے 

حفاظت جان کی کرنا ہے اچھا
اگرچہِ  کوئی بیماری  نہیں  ہے

فقط  مطلب  سے  اپنانا  کسی کو
یہ خودغرضی ہےخود داری نہیں ہے

میں ہوں بازار سے منسوب لیکن 
مرا    لہجہ  تو  بازاری  نہیں  ہے

اِسے   کیسے  کہیں گے شاعری ہم 
کوئی بھی شعر معیاری نہیں ہے

سخن میں اوربھی صنفیں ہیں فیصل 
غزل  کہہ  لینا  فن  کاری  نہیں  ہے

فیصل قادری گنوری


Tuesday, June 9, 2020

نظم ۔۔۔دو جڑ کے ہم "Do Jar ke Ham" .


This is my twenty sixth poem of this lockdown, entitled "Do Jar ke Ham" . Please stay safe.
Please subscribe to my youtube channel:

نظم ۔۔۔دو جڑ کے ہم
برگد کی چھاؤں میں
تھکے ہارے ہوئے
وہ سب جو بیٹھے ہیں
زندگی کی جنگ ہارے نہیں ہیں
وہ سب ایک دوجے کو دیکھ کر
بھول گئے ہیں اپنا غم
کہ ہر ایک کا دکھ
دوسرے سے بڑا ہے
ہزارہا میل چل چکے ہیں مگر
ان کی منزلوں کا
آدھا راستہ پڑا ہے
یہ سب جو ایک دوسرے کے غمخوار ہیں
کچھ دیر پہلے سب انجان تھے
کوئی دیر کے محافظ
اور کوئی حرم کے پاسبان تھے
مگر اب دیکھ کر
سب اپنے پاؤں کے چھالوں کو
پوچھ رہے ہیں سب
آسمان سے
کیا سچ مچ ہم  انسان ہیں ؟
ان کے نیم جان بچے
ہواؤں میں جھول رہے
برگد کے ریشے کو دیکھ رہے ہیں
ان کو معلوم نہیں
کہ یہ ریشے بھی ایک دن
زمیں تک پہنچیں گے
اور پھر
ایک جڑ بن جائنگے
اور ان کے پاؤں کے نیچے کی زمیں بھی
ختم ہو جاۓ گی !

نظم ۔۔یقین محکم ! "Yaqeen Mahkam"


This is my twenty fifth poem of this lockdown, entitled "Yaqeen Mahkam"(strong determination) . Please stay safe.
Please subscribe to my youtube channel:
www.youtube.com/Jahaneurdumushtaque

نظم ۔۔یقین محکم !
کورونا نے بدل دی ہے دنیا
اب ہمیں بھی بدلنا ہوگا
جینے کی دکاں سجانے کے لئے
ہزار ہا حسرتوں کو کچلنا ہوگا
حالات کی آندھی روکیں گی
اب ہماری راہیں
اٹھ اٹھ کے گریں گے ہم
اور گر گر کے سنبھلنا ہوگا
دستور ہے میخانے کا
انکار نہ کر اے  وا عظ
جو کہ رہا ہے ساقی
اب اسی پہ چلنا ہوگا
آسان سمجھ بیٹھے تھے ہم
اس دنیا سے دل لگانا
اب شعلوں سے گھرے ہیں
اور آگ پہ چلنا ہوگا ۔
دشوار بہت ہے رہ عشق کی منزل
پھولوں کی طلب رکھتے ہو
کانٹوں پہ بھی چلنا ہوگا
مگر یقین ہے ہمیں
احساس کی ویرانی میں ہماراآباد مکاں ہوگا
شہر آفسوس کا قصّہ
رواں سوز نہاں ہوگا
کورونا نے بدل دی ہے دنیا
اب ہمیں بھی بدلنا ہوگا ۔

Monday, June 8, 2020

سالم شجاع انصاری کی غزل گوئی



سالم شجاع انصاری کی غزل گوئی
محمد ارشد خان رضوی فیروزآبادی 
سالم شجاع انصاری
                                              

               
کچھ شخصیتیں ایسی ہوتی ہیں جو اپنی زندگی میں ہی ادبی تاریخ کا حصّہ بن جاتی ہیں۔ وہ اپنے عہد، یہاں تک کہ اپنی آنے والی نسلوں کو بھی بھر پور متاثر کرتی ہیں۔
        ایک سچا شاعر فطرت کا نقیب ہوتا ہے وہ اپنی فکر سے لوگوں کو سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے ، اپنی ظریفانہ سنجیدگی سے لوگوں کو ہنساتا، اور مستقبل کے اشاریے پیش کرتا ہے، اور وہ عظیم شاعر جسے لوگ ادبی دنیا میں سالم شجاع انصاری کہتے ہیں

سالم شجاع انصاری کا تعلق صنعت کاری کے شہر سہاگ نگری فیروزآباد سے ہے.
شہر فیروزآباد آگرہ اور علی گڑھ سے متصل صوبہ اتر پردیش میں واقع ہے.
جب بھی شعر و شاعری کی بات ہوتی ہے تو اس میں آگرہ اکبرآباد شعروشاعری کا مرکز قرار پاتا ہے
آگرہ ایک عرصہ دراز تک  شعروشاعری کا گہوارہ یعنی مرکز ادب رہا.
ظاہر سی بات ہے کہ اس کے اثرات شہر فیروزآباد پر بھی مرتب ہوئے
اور فیروزآباد میں بھی شعرو ادب کا آغاز ہوا. فیروزآباد میں ابتداء سے ہی داغ دہلوی کے تلامذہ کا بول بالا رہا اور اسی سلسلہ داغ سے سالم شجاع انصاری کا تعلق ہے.
سالم شجاع انصاری اس دور کے بہت ہی پختہ کار اور ابھرتے شاعر ہیں
سالم شجاع انصاری ملنسار، منکسرالمزاج، خلیق، اور حساس دل کے مالک ہیں 

انکی شاعری میں جہاں ایک طرف تغزل ہے وہیں دوسری طرف تصوف کے آبشار بھی نظر آتے ہیں
وہ زمانے کی نبض پر ہاتھ رکھ کر گفتگو کرتے ہیں .
 انکے اشعار جہاں ہیجانی کیفیت لئے ہوئے تو وہی سنجیدگی،متانت، سادگی،روانی،شایستگی اور تازگی بھی انکے کلام میں نظر آتی ہے
جہاں تک غزلوں کا تعلق ہے تو وہ اپنی غزلوں میں محبوب سے محبوب کی عرضیت کو اس طرح پیش کرتے ہیں جو میر اور مومن کے یہاں شروع ہوتی وہ سالم شجاع انصاری کے یہاں بھی قائم رہتی نظر آتی ہے

وہ اپنے محبوب سے کہتے ہیں 

ایک ہم ، ہم پہ سب گزرتی ہے 
ایک تم ، ہم پہ سب گزارتے ہیں 

اس شعر میں بھی سالم شجاع انصاری میر اور مومن کی طرح اپنی عرضیت کو واضح کرتے دکھائی دے رہے ہیں 

تو وہیں دوسری جانب نباضی کرتے ہوئے وہ اپنے شعر میں یہ کہتے دکھائی دیتے ہیں

وہ جن کے نام پہ شہروں کے نام رکھے گئے 
انہیں سے مانگا گیا ہے ثبوت شہریت

سالم شجاع انصاری کی اہم خصوصیات یہ بھی ہے کہ انکے شعروں میں تغزل کے ساتھ ساتھ تصوف کے روشن جلوے  نظر آتے ہیں 

وہ کہتے ہیں شعر ملاحظہ ہو 
میں بدن ہوں، تو بدن کا مرے سایا تو ہے
میرا پرتو، میرا نقشہ، مرا چہرہ تو ہے
کون ہوگا کہ جسے بھیڑ گوارا ہوگی
ایک کا ایک ہی ہوتا ہے سو مرا تو ہے
دیکھ کر تجھکو تڑپ جاتا ہے ایمان مرا
اے بت خاک ازل واجب سجدہ تو ہے

انکے اس اشعار میں تغزل و تصوف کے جلوے صاف رونما ہیں
سالم شجاع انصاری کی شاعری میں سادگی و سلاست و روانی  اور سنجیدگی کی جیتی جاگتی تصویر  پیش کرتے نظر آتے ہیں 

وہ کہتے ہیں 
چاہے کش پہ کش لے لو، چاہیں کشمکش لے لو
زندگی کی یہ سگرٹ جل کے راکھ ہونی ہے

سالم شجاع انصاری کی شاعری میں بے پناہ عصری آگہی کے جلوے اور جو بھی سیاسی سماجی محرکات ہوئے یا جو بھی سماجی تبدیلیاں رونما ہوئی انہوں نے اپنی فکرو تجسّس سے شاعری کی معراج بنایا 

وہ فرماتے ہیں 

ہمارے عشق کے پرزے اڑا رہے تھے لوگ 
کھڑے ہوئے تھے خدا بھی تماش بینوں میں 


 عصری آگہی کے جلوے بھی ملاحظہ فرمائیں 
من موافق خدا تلاش لیے 
بت پرستوں نے بت تراش لیے 
پتھروں میں بھٹک رہا ہوں میں 
آئینہ دل کا پاش پاش لیے

اور کہتے ہیں 
جسم کے ڈھیر سے ایک شور عجب اٹھتا ہے 
مجھکو ملبے سے نکالو مرا دم گھٹتا ہے


سالم شجاع انصاری زبان و بیان پر اچھی قدرت رکھتے ہیں وہ اردو زبان کے ساتھ ساتھ ہندی اور برج میں بھی یکساں کمال رکھتے ہیں انکی شاعری میں ہندی زبان کا استعمال دیکھنے کو ملتا ہے اور بہت خوبصورتی کے ساتھ ہندی قافیوں سے اپنی غزلوں کو مرصع کرتے دکھائی دیتے ہیں 

ہندی قوافی 
وہ کہتے ہیں 
سمجھ لینا کہ ہیں سنجوگ اچھے
جو مل جائیں تمہیں کچھ لوگ اچھے
محبت، فرض، سچائی، شرافت
کبھی ہوتے نہیں یہ روگ اچھے
ہے جن کے ہاتھ میں تقدیر اپنی
کرم اچھے نہ انکے بھوگ اچھے

سالم شجاع انصاری کی جو سب سے اہم خصوصیت ہے وہ یہ ہے کہ وہ سنگ زمین پر گل مہکانے کا ہنر رکھتے ہیں 
انکی جہت بالکل مختلف ہوتی ہے 
سخت ترین سے سخت زمین پر مشکل سے مشکل قافیوں میں شعر کہنے کا ملکہ انکو اچھی طرح آتا ہے 

ملاحظہ ہو 
ہوگیاہے نصیب سناٹا
توڑ! اے عندلیب سناٹا
کیا تعجب دماغ پھٹ جائے
اس قدر ہے عجب سناٹا
دے گیا شور زندگی سالم
اب ہے دل کے قریب سناٹا

شاعر بڑی بڑی بحروں میں شعر آسانی سے کہتے ہیں اور انہیں بڑی بحر میں آزادی بھی فراہم ہوتی ہے 
مگر چھوٹی بحروں میں فکری وسعت کو قائم رکھنا یہ بڑے شعراء کے کلام کی نمایا خصوصیات ہوتی وہی خصوصیت سالم شجاع انصاری کے یہاں خوب دیکھنے کو ملتی ہے 
وہ چھوٹی بحر  میں مقفٰی اور مسجع غزل 
کتنی فنکارانہ صلاحیت سے کہتے ہیں 

ملاحظہ ہو
لوگ برسوں تباہ ہوتے ہیں
تب کہیں کچھ گنہ ہوتے ہیں
اتنی سستی نہیں گناہ گاری
اس میں ایماں سیاہ ہوتے ہیں
اک اذیت بھری مسافت کے
راستے خیر خواہ ہوتے ہیں



سالم شجاع انصاری کے بیشتر شعروں سے صاف واضح ہوتا ہے کہ انکے اندر فخر آخرت اور دنیا کی بے ثباتی ہے. وہ دنیا کو صرف ایک امتحان گاہ تصور کرتے ہیں اور آخرت کو اصل جانتے ہیں 

وہ کہتے ہیں 
سفر کے بعد پھر سے اک سفر ہے
یہ دنیا ہے کہ کوئی رہ گزر ہے
فقط شور تماشائے ہنر ہے
نہ جادو ہے نہ کوئی جادو گر ہے

سالم شجاع انصاری فکر، تجسّس، اور تصوف میں غرق نظر آتے ہیں 
انکے اندر انانیت، خودی، فرد کی تلاش، بے ساختہ نظر آتی ہے 

وہ لکھتے ہیں 
عشق مرشد کے سبب ممکن ہوا
میں مسلماں تھا، پر اب مومن ہوا
روح کے ساتوں طبق روشن ہوئے
مجھ پہ ظاہر جب مرا باطن ہوا
اب ہر اک شے میں نظر آتا ہے تو
گوشہ گوشہ مظہر مومن ہوا

سالم شجاع انصاری بہت مایہ ناز شخصیت کا نام ہے سالم شجاع انصاری کی نہج بہت مختلف ہے
 انکے یہاں سادہ سلیس زبان میں جو ردیف ہے وہ بہت کم ہی دوسرے شعراء کے یہاں دیکھنے کو ملتی ہے. وہ مشکل سے مشکل ردیف کو بہت سلاست کے ساتھ پیش کرتے ہیں اسکے باوجود سنجیدگی، متانت سادگی، روانی اور شایستگی کے دامن ہاتھ سے نہیں چھوٹنے دیتے
انکا یہ کمال حسنہ ہیں کہ وہ چھوٹی چھوٹی بحروں میں بھی مشکل ردیفوں کو بہت سلیقے اور پیش کر تے ہیں اور قاری اس سے محظوظ ہوتے ہیں
اسکی زندہ مثال آپکے سامنے پیش کر رہا ہوں 

وہ کہتے ہیں کہ 
مسئلے سب ثقیل ہو گئے ہیں 
میرے سجدے طویل ہو گئے ہیں 
زندگی ہم سے بھیک مانگتی ہے 
اور ہم بھی بخیل ہو گئے ہیں 

آخر کار ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ آج کے موجودہ دور کے شاعروں میں سالم شجاع انصاری کا اپنا ایک خاص مقام ہے اور انکی شاعری سے ہندوستان کے علاوہ بیرونی ممالک کے لوگ بھی مستفیض ہو رہے ہیں 
اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ  سالم شجاع انصاری راستوں کو ہموار کرنے میں بے پناہ مددگار اور مشعل راہ ثابت ہونگے اور انکی شاعری سے زمانہ فیضیاب ہوگا ساتھ ہی شعرو ادب کی محفلوں میں فیروزآباد اور مرکز ادب آگرہ کا نام ہمیشہ روشن و تابناک رہیگا

احقر خادم اردو
محمد ارشد خان رضوی فیروزآبادی 
شعبہ اردو سینٹ جانس کالج آگرہ 
مکان نمبر 41، گلی نمبر 8 ،کشمیری گیٹ فیروزآباد 283203 یو. پی انڈیا