Saturday, October 17, 2020

عہد بہمنیہ میں اُردو شاعری

 

عہد بہمنیہ میں اُردو شاعری

 

                                                                                                ڈاکٹر سید چندا حسینی اکبرؔ

 

            ریاست کرناٹک میں شہر گلبرگہ کو علمی و ادبی حیثیت سے ایک منفرد مقام حاصل ہے۔ جب ١٣٤٧ء میں حسن گنگو بہمنی نے سلطنت بہمیہ کی بنیاد رکھی تو اس شہر کو اپنا پائیہ تخت بنایا۔ اس لئے ہندوستان کی تاریخ میں اس شہر کی اپنی ایک انفرادیت ہے۔ گلبرگہ نہ صرف صوفیا کرام کا مسکن رہاہے بلکہ گنگاجمنی تہذیب اور شعروادب کا گہوارہ بھی رہاہے۔ جنوبی ہند کی تاریخ میں سرزمین گلبرگہ کو ہی یہ اولین اعزاز حاصل ہے کہ یہاں سے دین حق، نسان دوستی، مذہبی رواداری اور ایک مشترکہ تہذیب و تمدن کے آغاز کا سہرا بھی اسی کے سر ہے۔

            علوم و فنون و معارف، تصنیف و تالیف اور شعرادب کو بھی یہاں بے پایاں فروغ حاصل ہوا۔ شہر گلبرگہ کو کئی ایک عظیم المرتبت اور جلیل القدر شخصیتوں نے اپنے علم و آگہی اور تصوف و عرفان کی لو سے نہ صرف روشن کیا بلکہ شہرہ آفاق بنایا۔ حضرت خواجہ بندہ نوازؒ۔ شیخ عین الدین گنج العلوم، حضرت سید اکبر حسینی، فیروز شاہ بہمنی اور اس عہد کے دیگر شعراء و ادبا نے علم و ادب کی شمعیں روشن کیں۔

            تاریخ شاہد ہے کہ اکثر شعراء و ادباء کا جم غفیر وہاں ہوتاہے جہاں شاہی سرپرستی اور پذیرائی ہو۔ لہٰذا شہر گلبرگہ کے شعراء بھی سلطنت بہمنیہ کا شیرازہ بکھرتے ہی وہ بھی منتشر ہوئے۔ اور مختلف مقامات جیسے بیجاپور، بیدر اور گولکنڈہ میں اپنے علم و فن کے چراغ منور کرتے رہے۔

            علاوہ ازیں سلطنت بہمیہ کے زوال کے بعد بھی گلبرگہ و گردونواح کے علاقے ہمیشہ علم و عرفان کے لئے روشن رہے۔ یہ اور بات ہے کہ کچھ عرصہ تک بغاوت کے سبب یہاں کی علمی و ادبی سرگرمیاں ماند پڑگئیں ۔ بیدر سے فخرالدین نظامی کی پہلی اُردو مثنوی "کدم راؤ پدم راؤ" آج تک کی تحقیق کے پیش نظر منظر عام پر آئی۔ بیجاپور سے میراں جی شمس العشاق، برہان الدین جانم، ملانصرتی وغیرہ اور گولکنڈہ سے ملاوجی، قلی قطب شاہ معانی وغیرہ کی علمی وادبی شعری خدمات کو فراموش نہیں کیاجاسکتاہے۔

 

            اردو کی ترقی و ترویج میں دکن کا حصہ اتنا اہم ہے کہ اسکو کسی صورت نظر انداز نہیں کیاجاسکتا۔ دلی سیاسی انقلاب کا گہوارہ رہی ہے۔ اس لئے یہاں شعروادب سے متعلق کوئی ٹھو ستعمیری کام نہیں ہوسکا۔ لیکن جو زبان شمال میں پیدا ہوئی ایک عرصہ کے بعد دکن میں ادبی صورت اختیار کرے گی اسکا اندازہ شمالی ہند کو بھی نہ تھا۔ اردو زبان کی ترقی و ترویج کے ابتدائی دور میں شعراء وادباء سے زیادہ صوفیا کرام نے اہم حصہ لیا ہے۔ انھوں نے اپنی بات کو عام بول چال کی زبان میں ادا کیا۔ اور اس ضمن میں ڈاکٹر عبدالرحیم جاگیردار رقمطراز ہیں۔

"مسلمان فقراء نے بھی تبلیغ اسلام کے لئے قدم بڑھایا اور تبلیغ کے لئے تصوف کو مشعل راہ بنایا"۔

           

            علاوہ ازیں عہد بہمنی کے کئ ایک شعراء نے بھی تبلیغ دین کی اشاعت کی اور ایک مدت تک یہیں قیام پذیر رہے۔ دکن میں اردو اپنے ارتقائی منازل طے کرتے ہوئے کئی ادوار میں تقسیم ہوئی۔ جس میں پہلا دور تمام تر صوفیانہ ادب پر مشتمل ہے۔ دوسرا دور بہمنی دور، تیسرا دور قطب شاہی و عادل شاہی، چوتھا مغلیہ دور اور پانچواں آصفیہ دور، اسطرح دکن میں اردو شعروادب کو کافی ترقی ملتی رہی۔

           

            بہمنی دور ١٣٤٧ء سے ١٥٢٥ء تک اس ملک کی تہذیب و معاشرت اور ادب و سیاست کی رہنمائی کی اور اپنے بعد بھی ایسی مستقل یادگاریں چھوڑیں جو اپنے عہد کی یاد دلاتی ہے۔ ان یادگاروں میں سب سے اہم "اردو شعروادب" ہے۔ جو اسکی سرپرستی میں پورے دکن میں رائج ہوگئی تھی۔ اس عہد کا مشہور حکمران فیروزشاہ بہمنی جو علم و فضل اور شعروسخن کا دلدادہ تھا۔ اس کا پایہ تخت گلبرگہ تھا۔ دکن اردو شعروادب کا بھی پہلا مرکز تھا۔ اسی بہمنی عہد میں حضرت خواجہ بندہ نوازؒ دہلی سے گلبرگہ تشریف لے آئے۔

 

بہمنی دور کے اہم شعراء:

            دکنی شعروادب کی ابتداء میں سب سے پہلانام خواجہ بندہ نوازؒ کا ہے۔ وہ دہلی سے گلبرگہ ١٣٩٨ء کے قریب تشریف لائے۔ اور یہیں سکونت اختیار کرلی۔ حضرت گیسودرازؒ بڑے عالم فاضل تھے۔ فارسی عربی کے علاوہ اردو دکنی میں آپکی تصانیف جن میں "معراج العاشقین" ہے جسے اردو کی پہلی تصنیف کہاجاتاہے۔ اس ضمن میں مختلف مفکرین و محققین کے مختلف نظریات و خیالات ہیں۔ اسکے علاوہ "شکار نامہ" ہدایت نامہ، تلاوۃ الوجود، چکی نامہ، وغیرہ آپکے نام سے منسوب ہیں۔ آپکا کلام ملاحظہ کیجئے۔

پانی میں نمک ڈال بیسا دیکھنا اسے                             جب گھل گیا نمک تو نمک بولنا کسے

یوں گھولے خودی اپنی خدا ساتھ مصطفیٰ                    جب گھل گئی خودی تو خدا بولنا کسے

 

            حضرت بندہ نوازؒ سے منسوب دیگر رباعی ملاحظ ہو۔

مشہود بحرتیو دیکر، سچ ہے اللہ

مرنے کے رنگ مرکے ہو فنا فی اللہ

فنا اس کے وسواس تو باکمال ہو

لاحول ولا قوۃ اللہ باللہ!

فیروز شاہ بہمنی:

            بہمنی سلطنت کے اکثر بادشاہ علم دوست اور شعر و ادب کے قدرداں بھی تھے۔ اس ضمن میں ڈاکٹر طیب انصاری رقمطراز ہیں:

"محمود شاہ بہمنی ٧٨۰ھ تا ٧٩٩ھ شاعر تھا۔ اور عربی و فارسی خوب بلتا تھا۔ اسی بادشاہ نے خواجہ حافظ کو شیراز سے دکن بلایاتھا"

            بہر کیف فیروز شاہ بہمنی کا عہد شعروادب کا عہد زرین کہلاتا ہے۔ عہد فیروزشاہ دراصل اس نشاۃ ثانیہ کا تسلسل تھا جسکا محمود شاہ بہمنی نے آغاز کیاتھا۔ فیروز شاہ بہمنی ایک اچھا ادیب و شاعر تھا جو فیروزی اور عروجی تخلص کیاکرتاتھا۔ یوں تو فیروز شاہ کئی زبانوں کا ماہر تھا۔ ڈاکٹر طیب انصاری کے کہنے کے مطابق۔

"صحیح معنوں میں پہلی بار اور اکبر آعظم سے بہت پہلے فیروز شاہ نے دکن میں ہندلسانی کلچر کی بنیاد رکھی"۔

            فیروز شاہ ملی جلی تہذیب، فنون لطیفہ اور شعروادب کا دلدادہ شاعر و حکمران تھا۔ فیروز شاہ کا دکنی کلام ملاحظہ کیجئے:

تجھ مکھ چندا جوت جلے ساراجیوں

تجھ کان یہ موتی جھمکے تارا جیوں

فیروزی عاشق کوں ٹک یک چاکن دے

تج شوخ ادھر لب اہے شکر پاراجیوں

حضرت سید اکبر حسینی:

            حضرت بندہ نوازؒ کے فرزند اکبر جو دہلی میں تولد ہوئے اور ٨١٥ھ میں گلبرگہ تشریف لے آئے۔ بڑے عالم و فاضل تھے۔ آپکو نثر اور نظم دونوں میں مہارت تھی۔ جس کا مواد تصوف پر مبنی ہے۔ سید اکبر حسینی کی نظم کے چند اشعار ملاحظہ ہوں۔

دھوکر زبان کوں اپنی پیرسوں بیان پر

بولوں صفت خدا کی کرشکر میں زبان پر

بے پیر جو مواتونین ہے درست اس پر

پڑنا نماز جنازہ تو ہوئے گناہ اکبر

 

            حضرت خواجہ بندہ نوازؒ کے خانوادوں نے بھی اردو شعروادب کی ترقی و ترویج میں غیر معمولی خدمات انجام دیں ہیں۔ ان میں آپ کے والد محترم حضرت راجو قتال حسینی، بڑے فرزند سید اکبر حسینی اور پوتے سید عبداللہ حسینی سے بھی بعض دکنی رسائل مرتب ہوتے ہیں۔ اسی عہد میں نشاط العشق کا قدیم اردو دکھنی میں ترجمہ کیاگیا۔

 

فخرالدین نظامیؔ:

            سلطان احمد شاہ ثالث المعروف بہ نظام شاہ بہمنی کے عہد کا ایک اور معروف شاعر فخرالدین نظامیؔ بیدری گذرا ہے۔ جسکو بندہ نوازؒ کے بعد موجودہ معلومات کے پیش نظر اردو کا پہلا شاعر کہاجاتاہے۔ جسکی مثنوی "کدم راؤ پدم راؤ" مشہور ہے۔ نمونہ کلام ملاحظہ ہو:

شہنشاہ بڑا شاہ احمد کنوار

دھنیں تاج کا کون راجا بہنگ

پرت پال سنار کرتار ادھار

کنور شاہ کا شاہ احمد بہجبگ

شاہ صدرالدین:

            شاہ صدرالدین بہمنی عہد کے ایک صوفی بزرگ شاعر گذرے ہیں۔ ہم عصر شعراء میں عبداللہ حسینی، مشتاق، لطفی وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ تصوف پر مبنی کئی تصانیف کا پتہ چلتاہے۔ نمونہ کلام ملاحظہ ہو۔

صدرالدین تو کسب پر ثابت اچھے

صرف سو صنعتوں کے نت ثابت، اچھے

صدرالدین پل پل میں یوں بیک ہوا

وصل بھی یک پل منجی میں حل ہوا

 

مشتاق: سلطان محمد شاہ بہمنی (متوفی ١٤٨٢ ) کے دور میں موجود تھا۔ اس نے دکنی زبان میں قصیدہ لکھاتھا۔ اس کی چند غزلیات بھی ہمدست ہوئی ہیں۔ نصیرالدین ہاشمی کے کہنے کے مطابق مشتاق اپنے عہد کا باکمال شاعر اور استاد سخن تھا۔

لطفی:  لطفی بھی بہمنی دور کا شاعر تھا اور مشتاق کا ہم عصر بھی۔  اس نے شاہ محمد کی مدح کی ہے۔ جو خلیل اللہ بت شکن کی اولاد میں تھے۔ لطفی نے بھی مشتاق کی طرح قصائد اور غزلیات کہی ہیں۔ ایک قصیدہ خواجہ کرمانی کی زمین میں ہے۔ اس سے ظاہر ہے کہ لطفی کو خواجہ کرمانی سے کتنا شغف تھا۔ بہمنی دربار میں کرمانی کا کلام پسند کیاجاتا تھا۔ لطفی کے کلام میں تشبیہات کے ساتھ تلمیحات بھی ملتے ہیں۔ بقول لطفیؔ۔

خلوت منے سجن کے میں موم کی بتی ہوں

یک پاؤں پر کھڑی ہوں جلنے پرت بنی ہوں

لطفی تیرے جتن کی پائی کہاں ہے اس میں

جیوں پانچ پاندواں کے کھتے سو دہروپتی ہوں

 

            میراں جی شمس العشاق:

            بہمنی دور کے ایک اہم شاعر شاہ میراں جی شمس العشاق جو اپنے تصوف اور قابلیت کی بنا پر شمس العشاق کہلائے۔ آپ کی تصانیف تصوف کے موضوع، اصول و اعمال پر ہیں۔ یہ پہلے صوفی بزرگ ہیں جسکا کلام مستقل طورپر ملتاہے۔ ان کی اہم تصانیف میں شہادت الحقیقت، خوش نفر، خوش نامہ اور شرح مرغوب القلوب مشہور ہیں۔

 

            ١٤٢٦ء میں پایہ تخت کی منتقلی کے نتیجہ میں گلبرگہ کی وہ اہمیت باقی نہ رہی جو اس وقت موجود تھی۔ تاہم دکنی زبان یہاں پھلتی پھولتی رہی۔ تقریباً سو برس بیدر بہمنی سلاطین کا مرکز رہاتھا۔

 

            بہمنیہ تاریخ سے ظاہر ہوتاہے کہ گلبرگہ و بیدر کے عہد بہمنی کے مشہور شعراء میں نظامی، مشتاق، فیروز، لطفی، اشرف، آزری وغیرہ کے نام نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔ جنہوں نے غزلیں، قصیدے اور مثنویاں لکھیں۔

 

            اورنگ زیب کے عہد کا قادرالکلام صوفی شاعر محمود بحری ہے۔ جسکی تصانیف میں "من لگن" اور "بنگا بنامہ" بہت مشہور ہیں۔ علاوہ ازیں شیخ داؤد، ضعیفی، شاہ غنایت، شاہ عبدالرحمٰن قادری، سید محمد خاں، عشرتی، سید احمد ہنر، بلبل، وجدی وغیرہ اہم شعراء گذرے ہیں۔ بقول شخصے "دکن کو اردو سے اور اردو کو دکن سے الگ کردیں تو دونوں فقط ادھوری صداقت بن کے رہ جائیں گے"۔

 

            یہاں یہ بات واضح کردینا ضروری ہے کہ بہت سارے دکنی شعرا ایسے بھی ہیں۔ جنہوں نے بہمنی سلطنت کے خاتمہ کے بعد بھی جو نئی ریاستیں وجود میں آئیں اس میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اور داد و تحسین پاتے رہے۔

 

            مذکورہ تمام صوفی شعراء نے نہ صرف اردو شعروادب کی خدمات انجام دی ہیں بلکہ تصوف اور مذہب کو عوامی زندگی سے مربوط عام کیا۔

 

            اس کے علاوہ تہذیبی اور شعروادب کی ترقی و نشوونما میں اولیائے کرام نے بھی بہت اہم کارہائے نمایاں انجام دیئے ہیں۔ گویا تمام شعراء اس عہد کے درخشاں ستارے ہیں جو ہمیشہ اپنے کلام سے چمکتے دمکتے رہیں گے۔

            تاہم بہمنی دور تاریخی وادبی اعتبار سے ناقابل فراموش عہد رہاہے۔

 

٭٭٭٭٭

Sunday, August 30, 2020

سلام امام حسین علیہ السلام

سلام
 
وہ دیکھ سید الشہدا حسین جیت گئے
    کہ لا الہ کا نعرہ حسین جیت گئے 

              یہ مانا جنگ تو جیتی یزید نے لیکن 
              محاذ کرب وبلا کا حسین جیت گئے 

زبان حق سے سنے ہم نے جیت کے قصے 
      کلام حق نے بتایا حسین جیت گئے 

             شکست فاحش ہوئی لشکر یزیدی کو
           تھا فیصلہ یہ خدا کا حسین جیت گئے 

  ہوا فلک پہ بھی ذکر شہادت شبیر 
فرشتے گاتے ہیں نغمہ حسین جیت گئے 

              یزید ظلم و تشدد حسین صبرو رضا
           کہ ظلم صبر سے ہارا حسین جیت گئے 

غم حسین میں پھر آسماں بھی رویا تھا 
  قضا نے جب یہ پکارا حسین جیت گئے 

          کہا ہے حضرت زینب نے اپنے بھائی سے 
            ہے فتحیاب نظارہ حسین جیت گئے 

کیا عبور ہر اک بحر مشکلات ارشد
 اذییتوں کا کنارہ حسین جیت گئے


محمد ارشد خان رضوی فیروزآبادی 
شعبہ اردو سینٹ جانس کالج آگرہ 
9259589974 


Thursday, July 9, 2020

تعلیمی نصاب سے قوم پرستی اورسیکولرزم جیسے موضوعات کوحذف کرنے کا مقصد کیاہے؟-ڈاکٹر مشتاق احمد

تعلیمی نصاب سے قوم پرستی اورسیکولرزم جیسے موضوعات کوحذف کرنے کا مقصد کیاہے؟

اس وقت کورونا کی وبا نے تمام تر شعبۂ حیات کو متاثر کیا ہے ۔بالخصوص تعلیمی نظام مفلوج ہو کر رہ گیا ہے ۔ گذشتہ مارچ سے اب تک بنیادی اسکولوں سے یونیورسٹی تک کی تعلیم معطل ہے ۔ بعض تعلیمی اداروں کے ذریعہ آن لائن تعلیم کا اہتمام کیا گیاہے لیکن وہ صد فی صد کارآمد نہیں ہے کہ ہمارے پاس پہلے سے اس طرح کا کوئی بنیادی ڈھانچہ موجود نہیں تھا۔ لیکن حالات کے تحت طریقۂ تعلیم میں تبدیلی بھی ضروری ہے اور حکومت کی جانب سے بھی اس پر زور دیا جا رہاہے ۔قومی سطح پر آن لائن تدریسی نظام کو فروغ دینے کی وکالت بھی ہو رہی ہے۔ مستقبل میں یہ مجوزہ خاکہ حقیقتاً کتنا کامیاب ہوگا یہ ابھی کہنا بہت مشکل ہے۔لیکن یہ مثل تو مشہور ہے کہ ضرورت ایجاد کی ماں ہوتی ہے لہذا ممکن ہے کہ اس طریقۂ کار کو بھی اپنانا ہوگا لیکن ہمارے روایتی کلاس روم طریقۂ تعلیم کی غیر معمولی اہمیت ہے اور اس کی معنویت سے انکار نہیں اور نہ فرار ممکن ہے۔
بہر کیف! اس وقت میرا موضوع سی بی ایس سی کے نصاب میں جزوی تخفیف ہے۔ ظاہر ہے کہ حکومت کی پہل پر سی بی ایس سی کا یہ فیصلہ قابلِ تحسین ہے کہ طلباء کو یہ سہولت دی گئی ہے کہ وہ کورونا کی وبا کی وجہ سے تخفیف شدہ نصاب کی بنیاد پر امتحان میں شامل ہو سکیں گے ۔ یہ فیصلہ اس لئے اہم ہے کہ گذشتہ پانچ مہینوں سے اسکول کالج بند ہیں اور تدریسی نظام معطل ہے۔ طلباء وطالبات اپنے گھروں میں بند ہیں۔ کورونا کے خوفناک ماحول میں جی رہے ہیں ۔ ذہنی طور پر بھی طلباء پریشان ہیں کہ ان کا مستقبل کیا ہوگا۔ ایسے نازک ماحول میں اگر سی بی ایس سی یا دیگر بورڈ نے نصاب میں تخفیف کرکے امتحان لینے کا فیصلہ لیا ہے تو وہ واقعی طلباء کی ذہنی پریشانیوں کو دور کرنے والا ہے اور اس کے مستقبل کا ضامن بھی ہے۔ لیکن اہم سوال یہ ہے کہ نصاب کے اسباق کو ہٹائے جانے کے معاملے میں جس طرح کا فیصلہ ہو اہے وہ ہندوستان جیسے جمہوری اور سیکولر ملک کے لئے مضر ہے۔واضح ہو کہ کورونا بحران کے مدنظر سال۲۰۲۰ء۔۲۱ سیشن کے گیارہویں جماعت کے طلباء کے لئے نصاب میں تحفیف کی گئی ہے لیکن نصاب سے سیاسیات کے پرچے میں وفاقیت، شہریت، قوم پرستی،سیکولرزم، مقامی حکومت کی ضرورت ، پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات وغیرہ وغیرہ اسباق کو ہٹا دیا گیاہے ۔ نویں سے بارہویں جماعت تک کے طلباء کو نصابی بوجھ کم کرنے کے نام پر یہ قدم اٹھایا گیاہے۔ اگرچہ ان اسباق کو ہٹانے کا جواز یہ پیش کیا جا رہاہے کہ یہ وقتی ہے اور کوویڈ۔19کے بحران کے بعد پھر یہ تمام اسباق ان درجوں کی کتابوں میں شامل کردئے جائیں گے ۔ یہ حقیقت ہے کہ اس وقت جو نصابی کتاب ہے اس سے یہ باب ہٹایا نہیں گیا ہے لیکن اس کو پڑھانے یا پھر اس سے سوال پوچھنے سے منع کردیا گیاہے۔جب ان اسباق کو پڑھایا ہی نہیں جائے گا تو پھر اس کی ضرورت ہی کیوں رہ جائے گی ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سی بی ایس سی اس فیصلے پر دوبارہ غوروخوض کرے اور نصابی بوجھ کو کم کرنے کے لئے دیگر اسباق کی تخفیف کرے کیوں کہ وفاقیت، شہریت، قوم پرستی، سیکولرزم اور سماجی فرائض کے ابواب محض اس لئے پڑھائے جاتے ہیں تاکہ ہمارے طلباء کے اندر حب الوطنی کا جذبہ مستحکم ہو ، سماجی سروکار کی سمجھ میں اضافہ ہو ، ایک شہری کی ذمہ داری کیا ہے اور اس کے فرائض کیا ہیں اس سے وہ واقف ہو ں، ہمارے پڑوسی ممالک کے ساتھ ہمارا رشتہ کیسا ہو اور یہ کیوں کر لازمی ہے اس کی سمجھ بھی ضروری ہے۔ہمارا ملک ایک جمہوری ملک ہے ، ہمارا آئین مساوات پر مبنی ہے اس کی روح سیکولرزم ہے اور اس لئے ہمارے اکابرین اور ماہر تعلیم نے ہمیشہ اس بات کا خیال رکھا کہ ہمارا اسکولی نصاب ایسا ہو جو ہندوستان کی تکثیریت اور سا لمیت کا پاسدار ہو ۔ہمارے بچوں کو ایسے اسباق پڑھائے جائیں جن سے ان کے اندر قومی وسماجی جذبہ پروان چڑھے۔اس لئے درجہ اول سے لے کر بارہویں تک کے نصاب میں جستہ جستہ اس طرح کے اسباق شامل کئے گئے کہ وہ ہندوستان کے جغرافیائی حدود سے واقف ہو سکیں ، اپنی تاریخ سے آشنا ہو سکیں ، یہاں کی تہذیب وتمدن کے علم سے آراستہ ہو سکیں اور ثقافتی وراثت کی معلومات سے بھی لیس ہو سکیں ۔ غرض کہ اسکول کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ہمارے طلباء اپنے ملک کی تاریخی اور تہذیبی وثقافتی تاریخ سے کما حقہٗ واقف ہو جائیں او رپھر وہ یونیورسٹی میں داخل ہوں تو مزید اپنی پسند کے مضامین کے ذریعہ اپنے مستقبل کا خاکہ تیار کر سکیں ۔ لیکن وقت ناگہانی میں اگر یہ فیصلہ لیا گیا کہ بچوں پر ذہنی دبائو کم کرنے کے لئے ان کے نصاب میں کمی کی جائے تو اس کے اور بھی راستے تھے کہ دیگر اسباق کو ہم کم کرتے اور صرف اور صرف ان ہی اسباق کو رکھتے کہ جن کو بچے گذشتہ درجوں میں پڑھتے ہوئے آئے ہیں۔میرے خیال میں حکومت کا بھی یہ فیصلہ نہیں رہا ہوگا کہ ہمارے نصاب سے قومیت اور سماجیت سے متعلقہ اسباق کو ہٹایا جائے۔ سی بی ایس سی انتظامیہ کی جانب سے جانے اور انجانے لیا گیا یہ فیصلہ ملک کے لئے مضر ثابت ہو سکتا ہے او ریہی وجہ ہے کہ مختلف رضا کار تنظیموں کی جانب سے اور سیاسی جماعتوں کی طرف سے بھی اس کی مخالفت شروع ہو گئی ہے۔چوں کہ اس وقت ملک میں ایک خاص نظریے کو فروغ دیا جا رہاہے ایسے وقت میں اور بھی شک مستحکم ہو جاتا ہے کہ کہیں نصاب میںوقتی تخفیف کے نام پر ان اسباق کو نصاب سے خارج ہی نہ کردیا جائے۔کیوں کہ حالیہ دنوں میں کئی ایسے اقدام اٹھائے گئے ہیں جو کہیں نہ کہیں ملک کی تکثیریت اور سیکولرزم کے لئے مضر ثابت ہو رہاہے۔ لہذا اب بھی وقت ہے کہ سی بی ایس سی انتظامیہ کو فوراً اس پر نظر ثانی کرنی چاہئے اور ملک وقوم کے مفاد میں ا ن اسباق کو شامل رکھا جانا چاہئے۔ اگرچہ یہ وضاحت بھی آئی ہے کہ صرف امتحان میں سوالات نہیں پوچھے جائیں گے لیکن درسی کلاس میں انہیں پڑھایا ضرور جائے گا ۔ لیکن سچائی یہ ہے کہ جب ان اسباق کو امتحان کے پرچوں سے الگ کردیا جائے گا تو طلباء اس سے آزا دہوجائیں گے اور وہ ان اسباق کو نہیں پڑھیں گے اور پھر کورونا وباء نے جو بحرانی صورت پیدا کی ہے اس میں تو طلباء صرف ان ہی اسباق کو پڑھیں گے جن سے سوالات آئیں گے ۔ اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ ان اسباق کو لازمی بنایا جائے تاکہ طلباء نہ چاہتے ہوئے بھی ان اسباق کو پڑھیں اور ملک کی سیاسی ، جغرافیائی ، تاریخی ، تہذیبی ، مذہبی اور بالخصوص جنگ آزادی کی تحریک سے آشنا ہو سکیں ۔ آج جب ملک طرح طرح کے مسائل سے دوچار ہے ایسے وقت میں کوئی نیا مسئلہ پیدا ہونا اور ملک میں اضطرابی بھونچال آنا سماج اور ملک کے لئے خسارۂ عظیم ثابت ہو سکتا ہے۔یہ لمحۂ فکریہ ہے اور اس پر تمام تر سیاسی مفادات سے اوپر اٹھ کر غور وفکر کرنے کی ضرورت ہے ۔

 

ڈاکٹر مشتاق احمد


Tuesday, June 23, 2020

دو قطعات ۔۔۔۔۔


آغاز کررہاہوں فقط اس کے نام سے

پرور دگار مالک کون و مکان کے

رکھے زباں پہ اپنے سدا اس کا نام جو

گزرے گا کامیاب وہ دونوں جہاں سے

 

لینا ہے ان کا نام بھی بالکل ادب کے ساتھ

وہ ہے نبی بھی اور ہے وہ وجہ کائنات

مرشد سمجھ ناپائیں گے احمد کا مرتبہ

کیا مرتبہ ہے آپ کا قرآں ہے جن کی بات


Sunday, June 21, 2020

نظم۔۔۔دغا باز بادل ! *ڈاکٹر مشتاق احمد ،دربھنگا (بہار )

نظم ۔۔۔دغا باز بادل !
*ڈاکٹر مشتاق احمد ،دربھنگا (بہار )
دہقان کی ویران آنکھیں 
آسمان کو ٹک ٹکی لگاۓ 
کب سے دیکھ رہی ہیں 
کہ یہ گھٹا ٹوپ بادل 
اب برسے گا ،تب برسے گا 
پچھلے موسم میں 
کسی گھن گرج کے بغیر 
خوب برسا تھا ،ٹوٹ کر برسا تھا 
مگر 
اس موسم میں 
یہ بادل 
خاموش ،خاموش بھاگتا جا رہا ہے 
تا حد نظر 
بارش کے آثار نہیں ہیں 
اور 
کھیتوں میں نئی فصلیں 
جلتی جا رہی ہیں 
دہقاں کی امیدوں کے چراغ 
بجھتے جا رہے ہیں !
Nzm...Daghabaz Badal
Dahqan ki weeran Aankhen
Aasman ko tak taki lagae 
Kab se dekh rahi hain 
Ke ye ghata top badal
Ab barse ga tab barse ga 
Ke pichhle mausam men 
Khob barsa tha
Tut kar barsa tha
Kisi ghan garaj ke baghair
Magar 
Is mausam men 
Yeh badal 
Khamosh,khamosh
Bhagta ja raha hai 
Tahade nazar 
Barish ke Aasar nahi hain 
Aur
Kheton men nai faslen 
Jalti ja rahi hain 
Dahqan ki ummidon ke chiragh
Bujhte ja rahe hain !
...........
 Dahqan..farmers .kisan

Friday, June 12, 2020

کوزہ گر کی یاد میں ۔۔۔۔ مشتاق احمد دربھنگہ کی تازہ نظم

This is my twenty seventh poem of this lockdown, entitled "Kuzagar ki Yaad main"(Memory of a Ceramist) . Please stay safe.
Please subscribe to my youtube channel:


کوزوگر کی یاد میں
وہ کوزہ گر .
جو چاک پر گیلی مٹی کو
اپنی انگلیوں کی جنبش سے
کیسے کیسے روپ میں ڈھالتا تھا
میری آن بوجھ پہیلی کے دنوں میں
وہ مٹی  کا اک کوزه
خوشیوں کا سمندر لئے ہوتا تھا
چولہے پر چڑھی ہانڈی کو دیکھ کر
شکم کی آگ خود بخود ٹھنڈی ہو جاتی تھی 
پنگھٹ پرگھڑوں کی کھنک
دلوں میں سرسوسر  باندھتے تھے
دیوالی کی وہ ڈبیا
 ذ ہن و دل کے اندھیرے کو روشن کرتی تھی
مولوی صاحب کا وہ خاکی بدهنا
درس احتیاط وحفاظت کے اسباق سکھاتے تھے
دادی ماں کا آب جو
روح کی پیاس بجھاتاتھا
اس کوزہ گر کے ہاتھوں
بھگوان کے بھی کئی روپ نکھرتے تھے
مگر آج
وہ کوزہ گر ٹکٹکی لگا ے 
اپنے خاموش چاک کو دیکھ رہا ہے
سوکھی مٹی کا درد جھیل رہا ہے
کہ اب اس کو
گیلی مٹی کا انتظار ہے
جس گیلی مٹی کو
وہ اپنی انگلیوں کی جنبش  سے
کئی روپ میں بدلتا تھا
اب وہ  گیلی مٹی
اس کے روپ کو بدلنے والی ہے!

Wednesday, June 10, 2020

غزل :: فیصل قادری گنوری


غزل
فیصل قادری گنوری


کسی کی جاں تمھیں پیاری نہیں ہے 
یہ نادانی   ہے    ہُشیاری   نہیں   ہے 

انھوں  نے  کر  دیا  ہے  جینا  مشکل 
جنھیں کوئی بھی دشواری نہیں ہے

مجھے مت  روکیے سچ بولنے سے 
یہ حق گوئی طرف داری نہیں ہے

کیا ہے وقت نے معذور مجھ کو 
یہ مجبوری ہے، لاچاری نہیں ہے 

حفاظت جان کی کرنا ہے اچھا
اگرچہِ  کوئی بیماری  نہیں  ہے

فقط  مطلب  سے  اپنانا  کسی کو
یہ خودغرضی ہےخود داری نہیں ہے

میں ہوں بازار سے منسوب لیکن 
مرا    لہجہ  تو  بازاری  نہیں  ہے

اِسے   کیسے  کہیں گے شاعری ہم 
کوئی بھی شعر معیاری نہیں ہے

سخن میں اوربھی صنفیں ہیں فیصل 
غزل  کہہ  لینا  فن  کاری  نہیں  ہے

فیصل قادری گنوری


Tuesday, June 9, 2020

نظم ۔۔۔دو جڑ کے ہم "Do Jar ke Ham" .


This is my twenty sixth poem of this lockdown, entitled "Do Jar ke Ham" . Please stay safe.
Please subscribe to my youtube channel:

نظم ۔۔۔دو جڑ کے ہم
برگد کی چھاؤں میں
تھکے ہارے ہوئے
وہ سب جو بیٹھے ہیں
زندگی کی جنگ ہارے نہیں ہیں
وہ سب ایک دوجے کو دیکھ کر
بھول گئے ہیں اپنا غم
کہ ہر ایک کا دکھ
دوسرے سے بڑا ہے
ہزارہا میل چل چکے ہیں مگر
ان کی منزلوں کا
آدھا راستہ پڑا ہے
یہ سب جو ایک دوسرے کے غمخوار ہیں
کچھ دیر پہلے سب انجان تھے
کوئی دیر کے محافظ
اور کوئی حرم کے پاسبان تھے
مگر اب دیکھ کر
سب اپنے پاؤں کے چھالوں کو
پوچھ رہے ہیں سب
آسمان سے
کیا سچ مچ ہم  انسان ہیں ؟
ان کے نیم جان بچے
ہواؤں میں جھول رہے
برگد کے ریشے کو دیکھ رہے ہیں
ان کو معلوم نہیں
کہ یہ ریشے بھی ایک دن
زمیں تک پہنچیں گے
اور پھر
ایک جڑ بن جائنگے
اور ان کے پاؤں کے نیچے کی زمیں بھی
ختم ہو جاۓ گی !

نظم ۔۔یقین محکم ! "Yaqeen Mahkam"


This is my twenty fifth poem of this lockdown, entitled "Yaqeen Mahkam"(strong determination) . Please stay safe.
Please subscribe to my youtube channel:
www.youtube.com/Jahaneurdumushtaque

نظم ۔۔یقین محکم !
کورونا نے بدل دی ہے دنیا
اب ہمیں بھی بدلنا ہوگا
جینے کی دکاں سجانے کے لئے
ہزار ہا حسرتوں کو کچلنا ہوگا
حالات کی آندھی روکیں گی
اب ہماری راہیں
اٹھ اٹھ کے گریں گے ہم
اور گر گر کے سنبھلنا ہوگا
دستور ہے میخانے کا
انکار نہ کر اے  وا عظ
جو کہ رہا ہے ساقی
اب اسی پہ چلنا ہوگا
آسان سمجھ بیٹھے تھے ہم
اس دنیا سے دل لگانا
اب شعلوں سے گھرے ہیں
اور آگ پہ چلنا ہوگا ۔
دشوار بہت ہے رہ عشق کی منزل
پھولوں کی طلب رکھتے ہو
کانٹوں پہ بھی چلنا ہوگا
مگر یقین ہے ہمیں
احساس کی ویرانی میں ہماراآباد مکاں ہوگا
شہر آفسوس کا قصّہ
رواں سوز نہاں ہوگا
کورونا نے بدل دی ہے دنیا
اب ہمیں بھی بدلنا ہوگا ۔