Tuesday, January 21, 2020

غزل چاروں طرف سروں کا سمندر ہے دیس میں


Dr. Syed Arif Murshed
 غزل

چاروں طرف سروں کا سمندر ہے دیس میں
رہزن بھی ساتھ ساتھ ہے رہبر کے بھیس میں

قاتل مچا رہے ہیں بے چینی ہر طرف
معصوم آدمی ہے بلوے کے کیس میں

ستامیں آئے جب سے ان پڑھ اورتڑی پار
نا اہل بھی کھڑے ہیں رتبے کی ریس میں

رکھتے ہیں بغض دل میں دیتےہیں ساتھ بھی وہ
تنکا چھپا ہوا ہے انکی کی بھی کیش میں

امبیڈکر کی رچنا مضبوط کانسٹی ٹیوشن
گیدڑ کی دھمکیوں سے آنا نا تیش میں

ڈاکٹر سید عارف مرشدؔ
8088830388


No comments:

Post a Comment