Thursday, January 23, 2020

غزل صابر شاہ آبادی


غزل
دل کے صدمات ہی ایسے تھے جوٹالے نہ گئے
صبر نا کام رہا اشک سنبھالے نہ گئے
جانے کس رنج میں ہم ترکِ وفا کر بیٹھے
شانہء عشق سے گیسو بھی سنبھالے نہ گئے
بے مروّت نے چلو، وعدہ فردا تو کیا
حسبِ اندیشہ تبسم پہ تو ٹالے نہ گئے
دید قسطوں میں ہوئی، لطف مکمل نہ ہوا!
خار پورے کبھی آنکھوں سے نکالے نہ گئے
عہدِ مرحوم کی معصوم فضا ہے جن میں
آج تک دل سے وہ مانوس اُجالے نہ گئے
کیسی معصوم ارادوں کو سزا دی تم نے
پھول اس طرح کبھی آگ میں ڈالے نہ گئے
ہجر کے زخم تو بھرہی گئے صابر لیکن
داغ زخموں نے جو چھوڑے وہ سنبھالے نہ گئے
                                     صابر شاہ آبادی

No comments:

Post a Comment