Saturday, April 18, 2020

*ڈاکٹر مشتاق احمد دربھنگہ نظم۔ عنکبوت

This is my twelfth poem of this lockdown, entitled "Ankaboot"(Cobwebs) . I hope that  all of you will like this poem. I thank you all for the love and support.Please stay at home and stay safe.

نظم ۔ عنکبوت 
 دنیا کیا ہے ؟ 
میرے ذہن میں کوندرہا ہے 
نہ جانے کب سے یہ سوال 
کہ جواب میں نے 
جو پڑھا اور سنا تھا  
وہ اک معمّہ تھا  
اور 
تم نے بھی تو کہا تھا 
کہ یہ سب  فلسفے ہیں 
 پہیلیاں ہیں  
مگر آج میں 
جب دیواروں سے ہمکلام ہوں 
نگاہیں ٹک ٹکی لگاےدیکھ رہی  ہیں  
 چھتوں میں  عنکبوت
 تو اب 
مجھے ایسا لگ رہا ہے 
میری الجھنیں ختم ہو گئی ہیں! ! 
*ڈاکٹر مشتاق احمد 
دربھنگہ 
16 اپریل 2020 
***

No comments:

Post a Comment