Sunday, April 19, 2020

روٹیاں


نظیر اکبرابادی کے چند اشعار :
جب آدمي کے پيٹ ميں جاتي ہيں روٹياں
پھولے نہيں بدن ميں سماتي ہيں روٹياں
آنکھيں پري رخوں سے لڑاتي ہيں روٹياں
سينہ اپر بھي ہاتھ جلاتي ہيں روٹياں

جتنے مزے ہيں سب يہ دکھاتي ہيں روٹياں

روٹي سے جس کا ناک تلک پيٹ ہے بھرا
کرتا پھرتا ہے کيا وہ اچھل کود جا بجا
ديوار پھاند کر کوئي کوٹھا اچھل گيا
ٹھٹھا ہنسي شراب سنک ساقي اس سوا

سوسو طرح سے دہوم مچاتي ہيں روٹياں

جس جائے پہ يہ ہانڈي، توا اور تنور ہے
خالق کي قدرتوں کا اسي جا ظہور ہے
چولہے کے آگے آنچ جو جلتي حضور ہے
جتنے ہيں نور سب ميں يہي خاص نور ہے

اس نور کے سبب نظر آتي ہيں روٹياں

پوچھا کسي نے يہ کسي کامل فقير سے
يہ مہر و ماہ حق نے بنائے ہيں کاہے سے
وہ سن کے بولا بابا خدا تجھ کو خير دے
ہم تو يہ چاند سمجھيں، نا سورج جانتے

بابا ہميں تو يہ نظر آتي ہيں روٹياں
روٹي نہ پيٹ ميں ہو تو پھر کچھ جتن نہ ہو
ميلے کي سير خواہش باغ و چمن نہ ہو
بھوکے غريب دل کي خدا سے لگن نہ ہو
سچ ہے کہا کسي نے بھوکے کے بھجن نہ ہو

اللہ کي بھي ياد دلاتي ہيں روٹياں

No comments:

Post a Comment