Tuesday, April 28, 2020

ڈاکٹر مشتاق احمد دربھنگہ کی نظم ۔۔۔آئینہ حیران ہے (پروفیسر ندیم احمد کے نام )

This is my sixteenth poem of this lockdown, entitled "Aaina Hairan hai" . Please stay at home and stay safe.

نظم ۔۔۔آئینہ حیران ہے
(پروفیسر ندیم احمد کے نام )
یہ بحر و بر
یہ حیوانات و نباتات
یہ سفر  آفتاب
 اور سکون جاں  رات
جیسے تھے کل
آج بھی ہیں
کہ انہیں دعوی نہیں
اپنی شان و اوقات کا
یہ سمجھتے ہیں  خود کو
عطیہ اس واحد ذات کا
مگر
ہم تھے کل جیسے
آج کہاں  ہیں  ویسے
کہ ہمیں دعوی تھا بہت
اپنے علم و ہنر کا
ہم پلہ سمجھ رہے تھے
خود کواس عظیم تر کا
ہم رات کو دن بنانے چلے تھے
چاند پر بستی بسا نے چلے تھے
پا کر رتبہ اشرف المخلوقات کا
بھول بیٹھے تھے سبق کائنات کا
پہچان بنا بیٹھے تھے ہم
دیر و حرم کے نام پر
 اک دوجے کے دشمن تھے ہم
 دین و دھرم کے نام پر
 دیکھ  ہماری بستی کیسی  ویران ہے
آباد شہر خموشاں اور اشمسان ہے
آج دیکھ کر ہم کو آئینہ حیران ہے
کہ جو کل تھا یہ  وہی انسان ہے !

1 comment: