Wednesday, April 8, 2020

غزل از قاضی انور


بن کے اب جو شریف بیٹھا ہے
دل میں اس کے بھی تھیف بیٹھا ہے
یہ جو اچھا ہوا میرے دل میں
ایک ذوق لطیف بیٹھا ہے
روح کی پاک و صاف مسند پر
جسم نے کر کثیف بیٹھا ہے
دل کے حجرے میں ایک مدت سے
کوئی سایہ نحیف بیٹھا ہے
میرے دل کے حسین ادارے کا
آج بن کر وہ چیف بیٹھا ہے
دل تو بیٹھا ہے اس طرح گویا
جیسے کوئی ضعیف بیٹھا ہے
کون قافیے کے نحیف کندھے پر
کون لے کر ردیف بیٹھا ہے
دیکھ کر آئینہ یہ لگتا ہے
مجھے میں میرا حریف بیٹھا ہے
ان دنوں جھوٹ کے شکنجے میں
دب کے انور حنیف بیٹھا ہے


No comments:

Post a Comment