Monday, April 20, 2020

نظم ۔۔اندیشہ...*ڈاکٹر مشتاق احمد دربھنگہ (بہار)


This is my thirteenth poem of this lockdown, entitled "Andesha"(Anxiety) . I hope that you will all like this poem. I thank you all for the love and support  you have given to me. Please stay at home and stay safe.
نظم ۔۔اندیشہ

لمحہ بہ لمحہ الٹتے جا رہے ہیں
کتاب زیست کے اوراق
کہ وقت  کو کبھی آرام نہیں
 تاریخ کےیہ ہزار ہا صفحات
قصّہ و کہانی کی یہ کتاب در کتاب
رقص و موسیقی کی یہ دلکش اداکاری
شاعر و مصور کی یہ دلفریب فنکاری
شب فراق کا فسانہ غم
وصال یارکا  قصّہ  شاد
صفہ در صفہ ہے آئینہ حیات
مگر یہ سب ہیں ماضی کی عطیات
یہ تو ازلی و ابدی حقیقت ہے 
کہ داستان حال بھی لکھا جایگا
مستقبل کے ہاتھوں سے مگر 
مورخ لکھے گا
یہ خاموشی ،یہ چیختا ہوا سنناٹا
تا حد نظر ویرانی ہی ویرانی
سایوں سے دور بھاگتا  ہوا 
ایک انسان سے انسان
ہر اک نگاہ اداس
ہر اک چہرہ پریشان
اپنے ہی سروں کا بوجھ لئے
در بدر پھرتا ہوا
ناتواں جسموں کا ہجوم
ہمارے حال کا قصّہ ہوگا
ہماری تاریخ کا حصّہ ہوگا
ہماری یہ تنہائی ،یہ چیختا ہوا سنناٹا
سایوں سے دور بھاگتا ہوا
ایک انسان سے انسان
ہمارے حال کا قصّہ ہوگا
ہماری تاریخ کا حصّہ ہوگا !!
*ڈاکٹر مشتاق احمد
دربھنگہ (بہار(

No comments:

Post a Comment