Wednesday, May 20, 2020

ڈاکٹر مشتاق احمد دربھنگہ کی تازہ تخلیق نظم۔ کہرام۔

This is my twenty third poem of this lockdown, entitled "Kohram". Please stay home and stay safe.
Please subscribe to my youtube channel:
http://www.youtube.com/c/JahaneurduMus
htaque

نظم۔۔۔کہرام 
تلاش جاری ہے 
اس کی تلاش جاری ہے 
اخباروں میں اشتہار آیا ہے 
ٹی وی چینلوں پر دکھایا جا رہا ہے 
چہار طرف 
افرا تفری کا عالم ہے 
ہر اک چہرہ پریشان نظر آ رہا ہے 
کہ 
وہ حلیہ جو اشتہار میں آیا ہے 
اور چینلوں میں دکھا یا  جا رہا ہے 
ہر اک شخص کو اپنا نظر آ رہا ہے 
ادنیٰ و آعلیٰ 
سب ایک دوسرے سے 
اشاروں میں پوچھ رہے ہیں 
تم تو نہیں ؟
ہر کوئی اپنے سروں کو ہلا رہا ہے 
نہیں ،میں نہیں !
بے زباں ہوکر بتا رہا ہے 
میں تو صرف سن رہا ہوں 
ان کی ہر اک بات 
کہرام مچا ہے 
کہ شہر خموشاں میں 
کون بولنے لگا ہے 
وقت کا راز کھولنے لگا ہے
 تلاش جاری ہے 
اس شخص کی تلاش جاری ہے 
جو اپنے پاؤں کے آبلے کسی کو دیکھا رہا تھا 
اس پر کیا گزری ہے  
اپنی زباں سے سنا رہا تھا 
تلاش جاری ہے 
اس شخص کی تلاش جاری ہے !

No comments:

Post a Comment