Tuesday, June 9, 2020

نظم ۔۔۔دو جڑ کے ہم "Do Jar ke Ham" .


This is my twenty sixth poem of this lockdown, entitled "Do Jar ke Ham" . Please stay safe.
Please subscribe to my youtube channel:

نظم ۔۔۔دو جڑ کے ہم
برگد کی چھاؤں میں
تھکے ہارے ہوئے
وہ سب جو بیٹھے ہیں
زندگی کی جنگ ہارے نہیں ہیں
وہ سب ایک دوجے کو دیکھ کر
بھول گئے ہیں اپنا غم
کہ ہر ایک کا دکھ
دوسرے سے بڑا ہے
ہزارہا میل چل چکے ہیں مگر
ان کی منزلوں کا
آدھا راستہ پڑا ہے
یہ سب جو ایک دوسرے کے غمخوار ہیں
کچھ دیر پہلے سب انجان تھے
کوئی دیر کے محافظ
اور کوئی حرم کے پاسبان تھے
مگر اب دیکھ کر
سب اپنے پاؤں کے چھالوں کو
پوچھ رہے ہیں سب
آسمان سے
کیا سچ مچ ہم  انسان ہیں ؟
ان کے نیم جان بچے
ہواؤں میں جھول رہے
برگد کے ریشے کو دیکھ رہے ہیں
ان کو معلوم نہیں
کہ یہ ریشے بھی ایک دن
زمیں تک پہنچیں گے
اور پھر
ایک جڑ بن جائنگے
اور ان کے پاؤں کے نیچے کی زمیں بھی
ختم ہو جاۓ گی !

No comments:

Post a Comment