Friday, December 17, 2021

اداریہ بسواس میگزین ڈسمبر 15 : ڈاکٹر سید عارف مرشد

 

عزیزان من!

 

            امید کہ آپ خیریت سے ہوں گے۔ بسواس کا تازہ شمارہ آپ لوگوں کی بصارتوں کے حوالے کرتے ہیں۔ ان پندرہ دنوں میں دیش اور دنیا پر کیا گزری  آپ لوگوں سے پوشیدہ نہیں ہے۔ اچھائی پر برائی کی جیت کی ناکام کوشش ہمیشہ سے رہی ہے اور تا قیامت رہے گی۔ ایسی ہی ناکام کوشش IMA کے ذریعہ ڈاکٹر بیسواروپ کے کام کو روکنے کی کی جارہے ۔ ان پر FIR کیاگیا ہے۔ فی الحال ڈاکٹر صاحب پیش گی ضمانت پر باہر ہیں۔ شکریہ ان بندگان خدا کا جنہوں نے ان کی مدد کی۔  15 /ڈسمبر کو  پیشی ہے یعنی عدالت میں جواز پیش کرنا ہے۔ اللہ کرے کہ وہ کامیاب ہوجائیں۔ جس کے لئے ڈاکٹر صاحب نے عوام سے اپیل کی ہے کہ ان کے ویڈیو دیکھ کر کسی کو بھی کچھ فائدہ ہوا ہو تو ایک ویڈیو بنا کر ارسال کریں۔  بہت سارے لوگوں نے اپنے تجربات بھیجے ہیں۔ DIP  ڈائٹ کو فالو کر کے جن جن لوگوں نے بھی فائدہ اٹھا یا ہے۔ انہوں نے کچھ ویڈیوز بھیجے ہیں۔

 

            لیکن کچھ لوگوں نے اعتراف تو کیا ہے لیکن ویڈیو بھیجنے سے ہچکچارہے ہیں پتہ نہیں کیوں کیا ڈر ان کے اندر ہے۔ کیا یہ سوچتے ہیں کہ ان کے ویڈیو بھیجنے سے یا ڈاکٹر بسواروپ کا ساتھ دینے سے حکومت انہیں بھی پریشان کرے گی۔ ایسا نہیں ہوگا۔

 

            دوستو! اگر ایک شخص انسانیت کیلئے کچھ اچھا کرنے کی کوشش کرراہا ہے تو ہمارا بھی یہ فرض بنتا ہے کہ ہم بھی جتنا ہوسکے زیادہ سے زیادہ اس کا ساتھ دیں۔

 

            انگریزوں نے دو سو سال حکومت کرنے کے بعد انہیں بھگانا پڑا وہ آسانی سے نہیں جانے والے تھے۔ کئی لوگوں نے اپنی جانوں کی قربانی دیں تبھی جاکر یہ دیش آزاد ہوا ہے اور ہم آج چین کی سانس لے پارہے ہیں۔ ٹھیک اسی طرح دیش کو جھوٹی بیماریوں اور زہریلی دواؤں سے  آزاد کروانا پڑے گا۔ تب ہی ہم ایک صحت مند اور اچھی زندگی جی پائیں گے اور آنے والی نسلوں کو صحت مند ماحول دے پائیں گے۔ اس کیلئے بھی ہمیں اپنی قربانی دینی پڑے گی۔  اب قربانی کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اپنا سر ہی کٹوائیں!  کم از کم ان کے ساتھ تو رہ سکتے ہیں جنہوں نے ہمارے لئے اپنے سرپر کفن باندھا ہے۔

ڈاکٹر سید عارف مرشدؔ

مدیر: اُردو و ہندی

خالص دیسی گھی طویل عمری کاراز

خالص دیسی گھی طویل عمری کاراز

(حکیم محمد طارق محمود مجذوبی چغتائی (پی ۔ ایچ ۔ ڈی : امریکہ) ایڈیٹر : عبقری

           قدرت نے انسان کو جو قدرتی نعمتیں عطا فرمائی ہیں ان کا نعم البدل کوئی بھی مصنوعی چیز نہیںہوسکتی۔ قدرت کے انمول تحفوں میں سے ایک خالص دیسی گھی بھی ہے جو انسانی جسم کی تمام ضرورتوں کو پورا کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتا اب تو جدید سائنسی تحقیق کے ماہرین بھی یہ بات کہہ رہے ہیں کہ بناسپتی گھی سے مختلف بیماریا ں لگتی ہیں اور کوکنگ آئل کے استعمال سے انسانی جسم کو مطلوب چکنائی نہ ملنے سے بھی مختلف بیماریا ں لگ رہی ہیں۔ لہٰذا دیسی گھی تھوڑی مقدارمیں کھانوں میں استعمال کرنا ہی انسانی جسم کی صحیح ضرورتوں کو پورا کرتا ہے۔ سندھ میںتھر کا علاقہ اور چولستان کے لو گ اکثر لمبی عمر والے ہوتے ہیں۔ ان کے بڑے بوڑھے یہ بات کہتے ہیں کہ ہم نے ہمیشہ دیسی گھی استعمال کیا ہے کبھی ڈاکٹر کے پاس نہیں گئے۔ یہ قدرت کا انمول تحفہ ہے۔ دیسی گھی کا خالص ہونا لازمی ہے۔ ملاوٹی نہ ہو ایسنس اور کیمیکل والا نہ ہو۔ بعض کمپنیوں والے ایسنس اور کیمیکل استعمال کرتے ہیں یہ اور بھی زیادہ نقصان دہ ہے۔ مسلسل تجربہ اور انوکھا استفادہ: قارئین! میری زندگی مسلسل مشاہدات، تجربات اور انوکھے استفادے سے ہمہ وقت مصروف ہے ہر آنے والا خط، ملاقات اور فون مجھے نت نئے انوکھے تجربات سے ملاقات کراتا ہے۔ دراصل میں لوگوں یا ڈاک سے ملاقات نہیں کرتا بلکہ تجربات اور مشاہدات سے ملاقات کرتا ہوں۔ تھرپارکر سے لے کر یہ ہزاروں میل کی پھیلی ہوئی صحرائی پٹی جیسل میر راجستھان تک صحرائے بہاولپور سے ہوتی ہوئی جاتی ہے اگر ہم بغور مطالعہ کریں تو اس پٹی کے لوگوں کی صحت قابلِ رشک، موٹاپا نہیں، بڑی لاعلاج اور قابلِ عبرت بیماریاں نہیں پھر عمر لمبی تندرستی اور وجاہت حد سے زیادہ اس کی وجہ دراصل یہ ہے کہ وہ اپنی خوراک میں دیسی گھی استعمال کرتے ہیں۔ صحرا کے بزرگ کا تجربہ: یہ کچھ پرانی با ت ہے کہ صحرائے بہاول پور میں ایک نہایت بوڑھے بزرگ سے ملاقات ہوئی۔ گفتگو میں بہت دلچسپ اور معلوما ت افزاء باتیں بتائیں دوران گفتگو کہنے لگے کہ میری دہی اور دیسی گھی سے دوستی ہے۔ لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ تیری عمر اتنی زیادہ اور صحت جوانوں جیسی ہے اس کی وجہ کیا ہے؟ تو میں انہیں بتاتا ہوں کہ میں خالص دیسی گھی کھاتا ہوں۔ ماہرڈاکٹر کا تجربہ: آغا خان ہسپتال کے بڑے ڈاکٹر سے کئی بار تفصیلی ملاقاتیں ہوئیں وہ کچھ وقت یورپ میں پریکٹس کرتے ہیںاور کچھ وقت پاکستان میں۔ گورے ان کے بہت فین ہیں کہنے لگے کہ جو کچھ دیسی گھی میں ہے وہ اور کسی آئل میں نہیں۔ اب تو تحقیقات واپس پلٹ رہی ہیں کہ اگر کھانا ہے تو دیسی گھی کھائیں کولیسٹرول، موٹاپے، جوڑوںکے درد، کمر کے درد،جسم کے درد اور دل کے امراض کا آخری علا ج دیسی گھی ہے۔ 140سالہ بابا اور 110 سالہ نانی کی صحت کا راز: دوران گفتگو ایک صاحب بتانے لگے میںنے دیکھا کہ اندرونِ سندھ ایک بوڑھا بابا جس کی عمر تقریباً140 سال ہے بالکل صحت مند‘ اس نے کبھی دوائی نہیں کھائی ساری زندگی اس نے صرف دیسی گھی کھا یا ہے۔ 20 فروری 2009 کو حقیقی نانی اماں کا وصال ہوا ان کی عمر 110 سال سے زیادہ تھی۔ سماعت‘ نظر‘ جسم‘ دماغ، عقل، صلاحیت اور یادداشت بالکل درست تھی۔ بندہ نے نانی اماں کو ساری زندگی صرف اور صرف دیسی گھی کھاتے دیکھا ہے اور ہر پل عبادات اور ذکر کرتے دیکھا ہے بندہ کا یقینی خیال ہے کہ ان کی صحت کی وجہ عبادت اور دیسی گھی کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔ صحرا کے لوگوں کی صحت کا راز: دورانِ قلم صحرا کے شناسا ملک جان محمد زاہد نے دیسی گھی کے تجربات کچھ یوں بتائے کسی فارمی دیسی گھی جن میں ایسنس اور رنگ ملا ہوتا ہے اور صحرائی دیسی گھی کا فرق ایسے جیسے ڈالڈا اور دیسی گھی کیونکہ وہاں کا جانور صحرائی جڑی بوٹیاں کھا کر ہی زندگی گزارتا ہے۔ پھر وہ جانور بارش والا پانی پیتا ہے جو کچے تالابوں میں اکٹھا ہوتا ہے اب یہ بارش کا آفاقی پانی اور جڑی بوٹیوں کی تا ثیر اتنی پائیدار ہوجاتی ہے کہ اس کا دودھ حتیٰ کہ گوبر بھی پرتاثیر ہوتا ہے ہمارے طب کی بعض ادویا ت کو آگ پر پکانے کے لیے صحرائی گوبر کا انتخاب ہوتا ہے جس طرح کوئلے کے کبا ب اور سوئی گیس کے کباب میں فرق، لکڑی کے تندور کی روٹی اور گیس کے تندور کی روٹی میں، درخت پر قدرتی پکے پھل اور مصالحے کے ساتھ پکے پھل میں فرق، دیسی مرغی اور برائلر مرغی میں فرق۔ اس طرح فارمی اور صحرائی دیسی گھی میں زمین آسمان میں فرق ہوتا ہے۔ بھادوںکا گھی کمالات کا خزانہ: حتیٰ کہ ساون کی بارش کے بعد جب جڑی بوٹیاں اور قدرتی خوشبو دار گھاس اْگتا ہے تو صحرا میں بھادوں کا گھی مشہور ہوتا ہے کیونکہ ساون کی بارشوں کی وجہ سے بھادوں میںجڑی بوٹیاں کھا کر جو دودھ ہوتا ہے اور اس سے جو گھی ملتا ہے وہ 5-4 سال رکھیں تو نہ ذائقہ خراب نہ رنگت میں فرق۔ حتیٰ کہ تجربات میںجو بھادوں کا گھی ایک ماہ کھالے اس کی جوانی، طاقت، نگاہ یاداشت اور جسم کی تمام کھوئی قوتیں واپس آجاتی ہیں۔ یہاں تک کہ جس رنگ کی بوٹی ہوتی ہے۔ گائے کا دودھ اسی رنگ کا ہوتاہے۔ ایک بوٹی ہوتی ہے جس کو کھانے سے گائے سرخ رنگ کا دودھ دیتی ہے پھر مکھن سرخ رنگ کا ہوتا ہے اور گھی بھی سرخ رنگ کا جیسے خون جما ہوا ہے۔ اسی طرح خس کو کھا کر گھی میں بھی خس کی خوشبو آتی ہے۔ الغرض جو بوٹی گائے کھاتی ہے وہی گھی ملتا ہے بھیڑ اور بھینس کے گھی میں دانہ ہوتا ہے بکری اور گائے کے گھی میں دانہ نہیں ہوتا۔ بیماریوں سے پہلے پرہیز اپنائیں: قارئین! فطری زندگی کو آزمائیں فطری زندگی کی طرف آئیں۔ بیمار ہو کر پرہیز کیا تو کیا۔ اس سے پہلے ہی فطری زندگی کی طر ف آئیں اس کا مزہ ہی کچھ اورہے۔ ترکیب و طریقہ استعمال: آئیے ایک دیسی گھی کا گر بتاتا ہوں پھر اس کا فائدہ دیکھیںاور کمال آزمائیں۔ دیسی گھی ایک کلو سوجی 1/2 کلو میں بھون لیں۔ حسبِ ذائقہ چینی ملا کر اسمیں سونف ایک پائو بڑی الائچی ایک پائو۔ چھوٹی الائچی ایک پائو۔ تینوں چیزیںباریک پیس کر اس میںملا کر محفوظ رکھیں۔ یہ ایک چمچ صبح و شام نیم گرم دودھ سے لیں۔ دماغی کمزوری، یاداشت، اعصابی کمزوری‘ عینک اتارنے، جسم کی بے طا قتی‘ پٹھوں اور جسم کی کمزوری اور کھچائو، جوڑوں کے درد، کمر کے درد، مردانہ کمزوری، عورتوں کے اندرونی امراض کے لیے انتہائی طاقت ور اور کراماتی تحفہ ہے۔ یہ تحفہ دراصل مجھے ایک سو سالہ صحرائی بابے نے دیا تھا۔ بقول اس بابے کے میری زندگی کا راز ہے اورمیری صحت اور طاقت کا راز ہے جو مجھے موروثی ملا ہے۔ آج تک خطا نہیں گیا۔ (www.ubqari.org) ٭…٭…٭


Monday, November 29, 2021

بسواس طبی میگزین لا اداریہ شمارہ 20

 

آداب!

            بسواس کا بیسواں شمارہ آپ لوگوں کے بصارتوں کے حوالے کرتے ہوئے ہم بہت مسرت محسوس کرتے ہیں۔ اس شمارے میں دو طویل مضامین "طب یونانی۔۔۔امراض جلدو تزئییات میں ایک بہترین متبادل طریقہ علاج  بہ قلم حکیم محمد شیراز اور دوسرا مضمون "سویا بین کے طبی افادیت بہ قلم ڈاکٹر فیاض احمد علیگ شامل ہیں۔ یہ کافی طویل مضامین ہیں اور پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک ویڈیو جو سری راجیو ڈکشت جی کا چائے کہ نقصانات پر ہے۔ ویڈیو کے ساتھ مضمون کی شکل میں اس کا  موادبھی پیش کیاگیاہے۔  اس کے علاوہ بھوک بڑھانے کے بہترین نسخہ، اور اپنی صحت کو برقرار رکھنے، جسمانی طاقت کیلئے ضروری خوراک، اور مٹی کے تیل کے استعمالات شامل شمارہ ہے۔

 

            پچھلے مہینے ہمارے طبی دنیا کے بھگت سنگھ کہلانے والے "ڈاکٹر بسواروپ رائے چودھری " نے ایک کتاب ریلیز کی تھی۔ جس کا عنوان تھا "360 ڈگری پوسچورل میڈیسن" یہ کتاب واقعہ بہت معلوماتی ثابت ہوئی۔ اس کتاب کی رسم اجراءکی ویڈیو دیکھ کر کئی کڈنی فیلئر امراض  نے اپنا علاج گھر پر ہی کیاہے۔ یہ صرف زبانی جمع خرچ کی باتیں نہیں ہے جنہوں نے بھی اس کتاب سے اور ان کے ویڈیو سے فائدہ اٹھا انہوں نے اپنا رسپانس ویڈیو کے ذریعہ بھیجا ہے جو Coronacaal.tv  پر ہزاروں کی تعداد میں موجود ہے۔  یقینا جہاں ہزاروں لوگوں کو فائدہ ہوا ہے اور ہورہاہے اور ہوتا رہے گا۔ وہیں ایک بڑا طبقہ جسے ہم میڈیکل مافیہ کہیں تو بے جا نا ہوگا انہیں کافی نقصان ہوا ہے اور ہوتا رہے گا۔یہ کون ہے یہ ہے IMA  نے اپنے غصہ کو اتارنے کیلئے بسواروپ پرFIR کروایا ہے یہ کہتے ہوئے کہ یہ مریضوں کو جو کافی سیریس ہیں انہیں غیر سائنسی علاج بتا رہے ہیں۔ کہتے ہیں کہ "سانچ کو آنچ نہیں" تو بیسواروپ نے بھی ان کے چالنج کو قبول کرتے ہوئے انہیں 30 نومبر کو دہلی میں پریس کانفرنس رکھ کر بلایا ہے اور مقابلہ کرنے کو کہا ہے۔  انہیں چھ سوا ل کئے گئے ہیں اگر یہ چالنج قبول کرتے ہیں تو ٹھیک ہے وگرنہ ان کے اوپر مان ہانی کا دعویٰ کیاجاسکتاہے۔

                  

            عزیزان من ! دیش اور دنیا میں تیسری لہر کی باتیں تیزی سے ہورہی ہیں۔ کہیں کہیں تو لاک ڈون بھی لگا دیا گیاہے۔  آپ لوگ جانتے ہیں کہ پچھلے دو لاک ڈون نے ملک کی کیا حالت کردی۔ اور اب اگر تیسری مرتبہ لاک ڈون ہوتا ہے تو کیا ہوسکتا ہے یہ آپ بہ خوبی جان سکتے ہیں۔ ایسے میں ہمیں کیا کرنا چاہئے۔ کیسے اس مسئلے سے نمٹنا چاہئے یہ ایک بہت ہی گمبھیر مسئلہ ہے۔ اپنے کاروبار، اپنی صحت، معاشی مسائل، بچوں کی تعلیم ودیگر مسائل کا حل کیسے کیاجاسکتا ہے۔  کیا یہ بکاؤ سرکاریں ہماری کچھ مدد کرسکتی ہیں۔ کیا یہ کرپٹ آفیسر عوام کا ساتھ دیں گے۔ ایسے میں عوام کو ہی ایک جٹ ہوکر اس لاک ڈون کے خلاف آواز اٹھانی ہوگی۔

ڈاکٹر سید عارف مرشد

مدیربسواس اُردو و ہندی

                                                                                           

Sunday, November 21, 2021

*اپنے پاؤں کے تلوؤں پر تیل لگا لیا کریں*

 

*اپنے پاؤں کے تلوؤں پر تیل لگا لیا کریں*


1۔ ایک خاتون نے لکھا کہ میرے نانا 87 سال کے فوت ہوئے، نہ کمر جھکی، نہ جوڑوں میں درد، نہ سر درد، نہ دانت ختم ، ایک بار باتوں باتوں میں بتانے لگے کہ مجھے ایک سیانے نے مشورہ دیا تھا اس وقت جب میں کلکتہ میں ریلوے لائن پر پتھر ڈالنے کی نوکری کر رہا تھا کہ سوتے وقت اپنے پاؤں کے تلوؤں پر تیل لگا لیا کریں بس یہی عمل میری شفاء اور فٹنس کا ذریعہ ہے۔


2۔ ایک سٹوڈنٹ نے بتایا کہ میری والدہ اسی طرح تیل لگانے کی تاکید کرتی ہیں پھر خود بتایا کہ بچپن میں میری یعنی والدہ کی نظر کمزور ہو گئی تھی جب یہ عمل مسلسل کیا تو میری نظر آہستہ آہستہ بالکل مکمل اور صحت مند ہو گئی۔


3۔ ایک صاحب جو کہ تاجر ہیں نے لکھا میں چترال میں سیرو تفریح کرنے گیا ہوا تھا وہاں ایک ہوٹل میں سویا مجھے نیند نہیں آ رہی تھی میں نے باہر گھومنا شروع کر دیا باہر بیٹھا رات کا وقت بوڑھا چوکیدار مجھے کہنے لگاکیا بات ہے ؟ میں نے کہا نیند نہیں آ رہی ! مسکرا کر کہنے لگا آپ کےپاس کوئی تیل ہے میں نے کہا نہیں وہ گیا اور تیل لایا اور کہا اپنے پاؤں کے تلوؤں پر چند منٹ مالش کریں بس پھر کیا تھا میں خراٹے لینے لگا اب میں نے معمول بنا لیا ہے۔


4۔ میں نے رات کو سونے سے پہلے پاؤں کے تلوؤں پر تیل کی مالش کا یہ ٹوٹکہ آزمایا اس سے نیند بہت اچھی آتی ہے اور تھکاوٹ ختم ہو جاتی ہے۔


5۔ مجھے معدے کا مسئلہ تھا پاؤں کو تلوؤں پر تیل کی مالش سے 2 دن میں ہی میرا معدے کا مسئلہ ٹھیک ہو گیا۔


6۔ واقعی! اس عمل میں جادو جیسا اثر ہے میں نے رات کو سونے سے پہلے پاؤں کے تلوؤں پر تیل کی مالش کی اس عمل کی وجہ سے مجھے بہت پر سکون نیند آئی۔


7۔میں یہ ٹوٹکہ تقریباً پچھلے 15 سال سے کر رہی ہوں مجھے اس سے بہت پر سکون نیند آتی ہے میں اپنے چھوٹے بچوں کے پاؤں کے تلوؤں پر بھی تیل سے مالش کرتی ہوں اس سے وہ بہت خوش ہوتے ہیں اور صحت مند رہتے ہیں ۔


8۔میرے پاؤں میں درد رہتا تھا میں نے روزانہ زیتون کے تیل سے رات کو سونے سے پہلے 2 منٹ پاؤں کے تلوؤں کی مالش کرنا شروع کر دی اس عمل سے میرے پاؤں کا درد ختم ہو گیا ۔


9۔ میرے پاؤں میں ہمیشہ سوزش رہتی تھی جب چلتی تھی تو تھکن سے چور ہو جاتی تھے میں نے رات کو سونے سے پہلے پاؤں کے تلوؤں پر تیل کی مالش کا یہ عمل شروع کیا صرف 2 دنوں میں میرے پاؤں کی سوزش دور ہو گئی ۔


10۔ رات کو سونے سے پہلے پاؤں کے تلوؤں پر تیل کی مالش کا ٹوٹکہ دیکھ کر اسے کرنا شروع کر دیا اس سے مجھے بہت سکون کی نیند آتی ہے۔


11۔ زبردست کمال کی چیز ہے۔ پر سکون نیند کیلئے نیند کی گولیوں سے بہتر کام کرتا ہے یہ ٹوٹکہ میں اب روزانہ رات کو پاؤں کے تلوؤں پر تیل کی مالش کر کے سوتی ہوں۔


12۔ میرے دادا حضور کے تلوؤں میں بہت گرما ہٹ و جلن اور سر میں درد رہتا تھا جب سے انہوں نے لوکی کا تیل تلوؤں میں لگانا شروع کیا تکلیف سرے سے دور ہو گئی ۔


13۔میں تھائیرائیڈ کی مریضہ تھی میرے ٹانگوں میں ہر وقت درد رہتا تھا پچھلے سال مجھے کسی نے رات کو سونے سے پہلے پاؤں کے تلوؤں پر تیل کی مالش کا یہ ٹوٹکہ بتایا میں مستقل کر رہی ہوں اب میں عموماً پر سکون رہتی ہوں ۔


14۔ میرے پاؤں سن ہو رہے تھے میں چار دن سے رات کو سونے سے پہلے پاؤں کے تلوؤں پر تیل سے مالش کر رہا ہوں بہت زیادہ فرق ہے ۔


15۔بارہ تیرہ سال پہلے مجھے بواسیر تھی ، میرا دوست مجھے ایک حکیم صاحب کے پاس لے گیا جن کی عمر 90 سال تھی انہوں نے مجھے دوا کے ساتھ ساتھ رات کو سونے سے پہلے پاؤں کے تلوؤں پر انگلیوں کے درمیان ، ناخنوں پر اور اسی طرح ہاتھوں کی ہتھیلیوں ، انگلیوں ، کے درمیان اور ناخنوں پر تیل کی مالش کرنے کا مشورہ دیا اور کہا ناف میں چار پانچ قطرے تیل کے ڈال کر سونا ہے میں نے حکیم صاحب کے اس مشورے پر عمل کرنا شروع کر دیا اس سے میرے خونی بواسیر میں کافی حد تک آرام آ گیا اس ٹوٹکے سے میرا قبض کا مسئلہ بھی حل ہو گیا میرے جسم کی تھکاوٹ بھی دور ہو جاتی ہے اور پر سکون نیند آتی ہے اور بقول حضرت حکیم صاحب دامت برکاتہم کے ناک کے اندر سرسوں کا تیل لگا کر سونے سے خراٹے آنے بند ہو جاتے ہیں ۔


16۔ پاؤں کے تلوؤں پر تیل کی مالش کایہ ٹوٹکہ میرا آزمودہ ہے۔


17۔ پاؤں کے تلوؤں پر تیل کی مالش کرنے سے مجھے بہت پرسکون نیند آئی ۔


18۔میرے پاؤں اور گھٹنوں میں درد رہتا تھا ۔ جب سے پاؤں کے تلوؤں پر تیل کی مالش کا ٹوٹکہ پڑھا اب میں یہ روزانہ کرتا ہوں اس سے مجھے پر سکون نیند آتی ہے ۔


19۔مجھے کمر میں بہت درد تھا جب سے میں نے رات کو سونے سے پہلے پاؤں کے تلوؤں پر تیل کی مالش کا یہ ٹوٹکہ استعمال کرنا شروع کیا ہے کمر کا درد کم ہوگیا ہے اور اللہ پاک کا شکر ہے بہت اچھی نیند آتی ہے ۔


وہ مغلیہ راز درج ذیل ہے:۔


وہ راز بالکل آسان نہایت مختصر ، ہر جگہ اور ہر شخص کے لئے کرنا بہت آسان ۔کوئی سا بھی تیل سرسوں یا زیتون وغیرہ پاؤں کے تلوؤں اور پورے پاؤں پر لگائیں خاص طور پر تلوؤں پر تین منٹ تک دائیں پاؤں کے تلوے اور تین منٹ بائیں پاؤں کے تلوے پر رات کو سوتے وقت مالش کرنا کبھی نہ بھولیں ، اور بچوں کی بھی اسی طرح مالش ضرور کریں ساری زندگی کا معمول بنا لیں پھر قدرت کا کمال دیکھیں آپ ساری زندگی سر میں کنگھی کرتے ہیں جوتے صاف کرتے ہیں ، تو سوتے وقت پاؤں کے تلوؤں پر تیل کیوں نہیں لگاتے۔


قدیم چینی طریقہ علاج کے مطابق بھی پاؤں کے نیچے 100 کے قریب Acupressure Points (ایکوپریشر پوائنٹ) ہوتے ہیں۔ جن کو دبانے اور مساج کرنے سے بھی انسانی اعضاء صحت یاب ہوتے ہیں۔ اس کو

Foot Reflexogy


کہا جاتا ہے۔ پوری دنیا میں پاؤں کی مساج تھراپی سے علاج کیا جاتا ہے۔


پلیز ان معلومات کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں

جتنا ہو سکے آگے پہنچائیں انشاءاللہ صدقؑہ جاریہ بن کر ثواب دارین کا باعث بنے گا

Monday, November 15, 2021

urdu editorial of biswas November 2021

 

دوستو!

 

            ہمیں یہ بتاتے ہوئے فقر محسوس ہورہاہے کہ ہم نے یعنی بسواروپ رائے اور ان کی ٹیم نے دنیا کا سب سے آسان طریقہ علاج دریافت کرلیاہے۔ دنیا کی سب سے مشکل پریشانی کا سب سے آسان حل۔ ہاں دوستو! دنیا کی سب سے مشکل پریشانی یا تکلیف پہنچانے والا مرض کونسا ہے؟ وہ ہے گردوں کا فیل ہوجانا۔ جب گردے فیل ہوجاتے ہیں تو نہ صرف مریض بلکہ اس کے تمام گھر والے پریشان ہوجاتے ہیں۔ گھر کے کم سے کم دو یا تین لوگوں کی نوکریاں چلی جاتی ہیں۔ جمع پونجی چلی جاتی ہے اگر جمع پونچی نہیں ہے تو گھر بیچنا پڑسکتا ہے۔ زیور بیچنے پڑتے ہیں۔  روز Dailysis کے خرچے اور نہ صرف خرچے بلکہ تکلیف بھی ہوتی ہے۔ 

 

            دوستو گردے کیوں فیل ہوتے ہیں۔ مختلف دواوں کے استعمال سے۔ جیسے سر درد یا بدن درد کی دوائی، بخار کی دوائی، بی پی اور شوگر کی دوائی وغیرہ لمبے وقت تک لینے سے گردے فیل ہوجاتے ہیں۔ اور جب گردے فیل ہوجاتے ہیں تو انسان کی زندگی بہت دشوار ہوجاتی ہے۔ گردے بدلنے بھی پڑ سکتے ہیں۔ اور گردے بدلنا کوئی حل بھی نہیں ہے لیکن یہ ایک میڈیکل مافیا کا سمجھانے کا طریقہ ہے۔ جب گردے بدل دئے جاتے ہیں تو ایک اور گھر کا ممبر بھی اپانہج ہوجاتاہے۔ اس کی زندگی بھی قطرے میں پڑتی ہے۔ اور جس کو گردا لگایاجاتاہے اس کا بھی کوئی حل نہیں ہوتا اس کو بھی Anti Rejection Drugs کی صورت میں کم اس کم ماہناہ بیس سے تیس ہزار کی دوائیں کھانی پڑتی ہیں۔

 

            ایسی صورت میں ایک ڈاکٹر بسواروپ رائے نے اس کا بہت ہی آسان حل نکالا ہے آپ گھر بیٹھے مفت میں اپنے گردے ٹھیک کرسکتے ہے۔ صرف اپنے سونے کے طریقے کو بدل کر اور گرم پانے کے استعمال سے آپ اپنے گردوں کو بالکل ٹھیک کرسکتے ہیں۔ اس طریقے سے نہ صرف گردے بلکہ شوگر، بی پی اور دیگر امراض کا علاج باآسانی گھر میں کیاجاسکتاہے۔

 

            اس کتاب کو پڑھ نے کیلئے Biswaroop.com/360 پر جائیں اور ہندی و انگریزی میں اس کتاب کو پڑھیں اور دوسروں تک بھی اس کو پہنچائیں۔

Hindi Editorial of BISWAS Nov 1 2021

 

मित्रों

हमें यह घोषणा करते हुए गर्व हो रहा है कि हमने, विश्वरूप राय और उनकी टीम ने दुनिया का सबसे आसान इलाज खोजा है। दुनिया की सबसे कठिन समस्या का सबसे आसान समाधान। हां दोस्तों! दुनिया में सबसे ज्यादा परेशान करने वाली बीमारी कौन सी है? यानी किडनी फेल होना। किडनी फेल होने पर मरीज ही नहीं उसका पूरा परिवार परेशान हो जाता है। घर में कम से कम दो या तीन लोगों की नौकरी चली जाती है। जमा पूँजी चली जाती है जमा पूँजी नहीं है तो घर बेचना पड़ सकता है। जेवर बेचने पड़ते हैं। दैनिक Dailysis लगाना और न केवल लगाना बल्कि उस से असुविधा भी होती है।

 

दोस्तो किडनी फेल क्यों हो जाती है? विभिन्न दवाओं का उपयोग करना। जैसे की सिर दर्द या बदन दर्द की दवा, बुखार की दवा, बीपी और डायबिटीज की दवा इतियादी का लंबे समय तक सेवन करने से किडनी फेल हो सकती है। और जब किडनी फेल हो जाती है तो इंसान का जीवन बहुत मुश्किल हो जाता है। किडनी को भी बदलना पड़ सकता है। और किडनी ट्रांसप्लांट कोई समाधान नहीं है, बल्कि यह मेडिकल माफिया का लूटने का एक तरीका है। जब किडनी बदली जाती है, तो घर का दूसरा सदस्य विकलांग हो जाता है। उसकी जान को भी खतरा होता है। और जिनके गुर्दा प्रतिरोपण हुआ है उनके पास भी कोई उपाय नहीं है. Anti rejection drugs के रूप में उन्हें मासिक कम से कम बीस से तीस हजार की दवाएं लेनी पड़ती हैं.

 

ऐसे में डॉक्टर बिस्वरूप राय एक बहुत ही आसान उपाय लेकर आए हैं, आप घर पर ही अपनी किडनी को फ्री में ठीक कर सकते हैं। बस अपने सोने के तरीके में बदलाव करके और गर्म पानी का इस्तेमाल करके आप अपनी किडनी को ठीक कर सकते हैं। इस तरह न केवल किडनी बल्कि मधुमेह, बीपी और अन्य बीमारियों का भी घर पर ही आसानी से इलाज किया जा सकता है।

 

इस पुस्तक को पढ़ने के लिए Biswaroop.com/360 पर जाएं और इस पुस्तक को हिंदी और अंग्रेजी में पढ़ें और इसे दूसरों तक पहुंचाएं।

 

डॉ. सईद आरिफ

सम्पादक

Thursday, November 11, 2021

حکیم اجمل خاں کا تعارف عالمِ عرب میں

 

حکیم اجمل خاں کا تعارف عالمِ عرب میں

 

ڈاکٹرمحمد رضی الاسلام ندوی

جدید دور کے ہندوستانی اطبا ء میں صرف حکیم محمد اجمل خاں (۱۸۶۸۔ ۱۹۲۷) ہی ایسی شخصیت کے مالک ہیں جن کی شہرت    بر صغیر ہند و پاک کے طبی، علمی سماجی اور سیاسی آفاق سے نکل کر عالمِ عرب، بلکہ یورپ تک پہنچی۔ اہم بات یہ کہ وہ اپنی زندگی ہی میں شہرت کے بامِ عروج پر پہنچ گئے تھے۔ انھیں جس طرح ہندوستان کے تمام طبقات میں عزت و احترام کی نظر سے دیکھا جا تا تھا، اہم ملّی و سیاسی رہ نماؤں میں ان کا شمار ہوتا تھا اور اصحابِ علم و دین کی مجلسوں میں گرم جوشی سے استقبال کیا جاتا تھا، اسی طرح عالمِ عرب کے علمی حلقوں میں بھی ان کی بڑی پزیرائی تھی۔

حکیم اجمل کی شخصیت اور خدمات پر ایک درجن سے زاید مستقل کتابیں لکھی جا چکی ہیں اور جدید ہندوستان کی تاریخ اور عظیم شخصیات کے تذکرہ و سوانح پر لکھی جانے والی پچاسوں کتابوں میں ان کا ذکرِ خیر پایا جاتا ہے،لیکن تقریباً ایک صدی کا عرصہ گزر جانے کے باوجود حیاتِ اجمل کا یہ پہلو اب تک تشنہ ہے اور اس کے بارے میں سوانح نگار خاطر خواہ معلومات نہیں پیش کر سکے ہیں۔ راقم سطور نے اس موضوع پر کچھ نئی معلومات پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔

عربی زبان کی تعلیم

حکیم اجمل کی تعلیم و تربیت قدیم روایتی طرز پر وقت کے فاضل اساتذہ کے ذریعے ہوئی تھی۔ اس کے بعد ان کی توجہ طب کی طرف ہوئی۔ اس زمانے میں طبی تعلیم عربی مصادرِ طب کے ذریعے دی جاتی تھی۔ رام پور کے زمانۂ قیام(۱۸۹۲۔ ۱۹۰۲) میں حکیم صاحب کو علامہ محمد طیب عرب مکی (م۱۹۱۶) سے خصوصی استفادہ کا موقع ملاتھا۔ علامہ طیب عرب کا وطن مکہ معظمہ تھا، جہاں سے وہ نوجوانی ہی میں رام پور آگئے تھے۔ وہ عربی ادب اور معقولات کے امام تھے۔ تاریخ، انسابِ عرب اور عربی شاعری میں وسیع معلومات رکھتے تھے۔ ان سے استفادہ کے نتیجے میں حکیم اجمل کو عربی زبان میں مہارت حاصل ہو گئی تھی۔

عربی زبان میں تصنیف و تالیف

قیامِ رام پور کے زمانے میں حکیم صاحب کو اپنے ذوقِ مطالعہ کی آبیاری کا خوب موقع ملا۔ ریاست کا قدیم اور بے مثال کتب خانہ ان کے سپرد تھا۔ انھوں نے وہاں کے ذخیرے اور خاص طور پر عربی کتب سے خصوصی استفادہ کیا۔ ان کا ایک اہم علمی کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے کتب خانے کی عربی کتابوں کی فہرست تیار کروائی اور اسے طبع کرایا۔ اسی زمانے میں انھوں نے طبی موضوعات پر تصنیف و تالیف کا بھی کام انجام دیا۔ ان کی صرف ایک کتاب(رسالۂ طاعون) کے علاوہ ان کی تمام تصانیف عربی زبان میں ہیں۔ ان کے نام یہ ہیں :(۱) القول المرغوب فی الماء المشروب (۲)الساعاتیۃ (۳) التحفۃ الحامدیۃ فی الصناعۃ التکلیسیۃ (۴) البیان الحسن بشرح المعجون المسمّیٰ باکسیر البدن (۵)أوراق مزھرۃ مثمرۃ (۶)خمس مسائل (۷) الوجیزۃ (۸) مقدمۃ اللغات الطبیۃ۔

حکیم اجمل کی ان تصانیف میں خاص طور پر آخر الذکر کتاب بہت اہمیت رکھتی ہے، اس لیے کہ وہ تین پہلوؤں کا احاطہ کیے ہوئے ہے: اولاً اس کا موضوع طب ہے۔ ثانیاً وہ عربی زبان میں لکھی گئی ہے۔ ثالثاً اس میں لغت نویسی کے اصول و مبادی بیان کیے گئے ہیں۔ عربی زبان میں فقہ اللغۃ پر بہت سی کتابیں پائی جاتی ہیں، طبی کتبِ لغات کی بھی کمی نہیں ہے، لیکن حکیم اجمل نے اس کتاب میں دونوں موضوعات کو جس خوب صورتی سے جمع کر دیا ہے اور جتنی دقّت و مہارت کے ساتھ بحث کی ہے اس کی نظیر تلاش کرنا مشکل ہے۔

عالم عرب کی سیاحت

حکیم اجمل ان خوش قسمت افراد میں سے ہیں جنھیں مختلف مناسبتوں سے متعددمرتبہ عالمِ عرب کی سیاحت کا موقع ملا۔ ہر جگہ ان کا تعارف ہندوستانی مسلمانوں کے سیاسی رہ نما اور حاذق طبیب کی حیثیت سے ہوا۔

انھوں نے پہلا سفر مارچ ۱۹۰۵ میں عراق کا کیا، جہاں تقریباً تین ماہ گزارا اور بصرہ، نجف، کربلا اور دیگر متبرک و تاریخی مقامات کی زیارت کی۔

ان کا دوسرا سفر ۱۹۱۱ میں یورپ کا ہوا، جس میں وہ لندن، کیمبرج،آکسفورڈ کے علاوہ فرانس اور جرمنی کے متعدد شہروں میں گئے اور وہاں کے علمی اداروں، اسپتالوں، میوزیم اور لائبریریوں کا معاینہ کیا اور نادر کتابیں اور مخطوطات ملاحظہ کیے۔ اس سفر میں وہ ترکی اور مصر بھی تشریف لے گئے اور وہاں کی علمی شخصیات سے ملاقات کی اور اہم مخطوطات کے مطالعہ میں وقت گزارا۔

انھوں نے تیسرا سفر بھی یورپ کا۱۹۲۵ میں کیا۔ اس موقع پر تقریباً ڈیڑھ ماہ(۲۴؍مئی تا ۷؍ جولائی) سوئزرلینڈ میں گزارا۔ وہاں ان کے میزبان ان کے مصری نژاد دوست فؤاد سلیم بک الحجازی تھے۔ ان کے توسط سے وہاں بعض ترکوں اور مصریوں سے حکیم صاحب کی راہ و رسم ہوئی۔ واپسی میں وہ مصر، شام، فلسطین اور لبنان بھی تشریف لے گئے۔ مصر میں ارکانِ مؤتمر خلافت، علمائے ازہر، ارکان جمعیۃ رابطۂ شرقیہ، انجمن رابطۂ ہندیہ، شیخ الازہر، شیخ سید رشید رضا اور دیگر اہلِ علم اور عمائدین سے ان کی ملاقاتیں رہیں۔ شام اور لبنان میں بھی علمی اداروں اور شخصیات سے ان کی ملاقاتیں رہیں۔ ‘‘(حیاتِ اجمل، ص ۳۴۹،۳۵۵،۳۵۷)

حکیم اجمل بڑی روانی سے اور بلا تکلّف عربی زبان بولتے تھے۔ اس صلاحیت سے انھوں نے عالمِ عرب کی سیاحت کے دوران خوب فائدہ اٹھایا تھا۔

علامہ رشید رضا مصری سے خصوصی تعلق

عالم عرب کی جن شخصیات سے حکیم اجمل کے قریبی تعلقات تھے ان میں سے ایک علامہ سید رشید رضا مصری (۱۸۶۵۔ ۱۹۳۵ء) ہیں۔

 رشید رضا مصر کی عظیم شخصیت شیخ محمد عبدہ(۱۸۴۹۔ ۱۹۰۵ء) کے شاگرد رشید تھے۔ ان کی زیر ادارت مجلہ المنار کا شمار عالم اسلام کے موقر اور اعلیٰ پایے کے علمی رسائل میں ہوتا تھا۔

رشید رضا ۱۹۱۲ میں ندوۃ العلماء کی دعوت پر ہندوستان تشریف لائے اور اس کے سالانہ اجلاس کی صدارت کی۔ اس موقع پر وہ ہندوستان کے مختلف شہروں میں گئے۔ دہلی میں حکیم اجمل نے ان کا جس انداز سے اعزاز و اکرام کیا، اس کا تذکرہ انھوں نے اپنے سفر نامے میں بڑے والہانہ انداز میں کیا ہے، جو مجلہ المنار میں شائع ہوا تھا۔ اس کا ایک اقتباس پیش خدمت ہے:

’’ رہے اہل دہلی تو ان میں میری مدح و ثنا اور شکریے کے سب سے زیادہ مستحق عظیم شخصیت، مشہور طبیب،حاذق الملک نواب محمد اجمل خاں ہیں، جن کا شمار ہندوستان میں علم و فضل اور اعلیٰ اخلاق میں ممتاز مسلمانوں میں ہوتا ہے۔ ‘‘ (مجلۃ المنار،جزء؍۱۶،ص۷۷)

مصر میں حکیم صاحب کی مصروفیات کی روداد رشید رضا کے قلم سے حکیم اجمل عالمِ عرب کی سیاحت کے دوران جب مصر تشریف لے گئے تو ان سے ملاقات کرنے والوں میں شیخ رشید رضا بھی تھے۔ انھوں نے مجلۃ المنار میں، مصر میں حکیم اجمل کی سرگرمیوں کی روداد تفصیل سے بیان کی ہے۔ رشید رضا نے لکھا ہے:

’’اس سال کے موسم گرما میں اہل مصر کو شرف اور مسرت حاصل ہوئی کہ یہاں ہندوستان کے کچھ بڑے رہ نما تشریف لائے۔ وہ ہیں :مسیح الملک حکیم محمد اجمل خاں دہلوی، نواب امیر الدین اور ڈاکٹر مختار احمد انصاری۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اہلِ مصر نے ان معزز مہمانوں اور چوٹی کے لیڈروں کا پر تپاک استقبال کیا۔ ان میں وہ جماعتیں اور پارٹیاں پیش پیش تھیں جو مشرق اور اسلام کی نمائندگی کرتی ہیں اور ان کے معاملات میں سرگرم ہیں۔  استقبال کرنے والی محترم شخصیات میں شیخ الجامع الازہر، رئیس المعاہد الدینیہ و مجلس ادارۂ مؤتمر خلافت عام، علامہ مفتی الدیار المصریۃ، علامہ شیخ حسین والی جنرل سکریٹری جامع ازہر و معاہد دینیہ و مؤتمر خلافت اور دیگر بڑی بڑی شخصیات تھیں۔ علماء کی جماعت کے ساتھ پرجوش استقبال کرنے والوں میں جمعیۃ الرابطۃ الشرقیۃ کے ذمے داران بھی تھے۔ ان میں اس کے صدر عالی جناب سید عبد الحمید البکری الصدیقی ( شیخ مشایخ الصوفیۃ) اور ناظم جناب احمد شفیق پاشا پیش پیش تھے۔ سیاسی پارٹیوں میں سے حزب وطنی کے ممبران بھی شامل تھے۔ ان تمام جماعتوں نے معزز مہمانوں کا استقبال کیا اور ان کے ذمے داروں نے ان کے لیے پر تکلف دعوتوں کا اہتمام کیا اور بڑے بڑے جلسے منعقد کیے، جن میں اسلام اور مسلمانوں کے معاملات،خلافت اور دیگر مذہبی، سیاسی اور سماجی مسائل زیر بحث آئے۔ ان مخلص زعماء کا ایسا ہی پر تپاک استقبال ان تمام مسلم ممالک میں ہوا جہاں وہ اس مبارک سفر کے دوران تشریف لے گئے۔ وہاں انھوں نے ان ملکوں کے سربرآوردہ لوگوں، دانش وروں، علمائے دین اور ماہرینِ سیاست سے ملاقات کی اور اسلام کے حال اور مستقبل کے بارے میں ان سے تبادلۂ خیال کیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ راقم سطور نے ان معزز مہمانوں سے خاص طور پرملاقات کی، مختلف مجلسوں میں ان کا تعارف کرایا اور ان کے مقام و مرتبہ سے حاضرین کوآگاہ کیا اور مختلف موضوعات پر ان سے تبادلۂ خیال کیا۔ اس کے متعدد اسباب ہیں۔ ان میں سے ایک سبب یہ ہے کہ راقم سطور کا ہندوستانی مسلمانوں سے کافی عرصہ سے گہرا تعلق ہے اور ان کے بعض رہ نماؤں، خاص طور پر حکیم محمد اجمل خاں سے دوستی ہے۔ ‘‘ (مجلۃ المنار، جزء۲۶،ص۴۷۸)

حکیم اجمل نے اس سیاحت سے واپس ہندوستان پہنچ کر ایک بڑے جلسے میں (جو غالباً جامعہ ملیہ اسلامیہ میں منعقد ہوا تھا) جس میں سربراہانِ قوم،اصحابِ علم و فضل، زعماء و رؤساء، سیاست داں اور قائدین، علماء، جماعتوں کے ذمے داران لاکھوں کی تعداد میں شریک ہوئے تھے، سفر کے تاثرات بیان کیے۔ یہ تاثرات جریدہ’خلافت‘ میں شائع ہوئے تو رشید رضا نے مذکورہ جریدہ کے حوالے سے ان کا ترجمہ مجلہ المنار میں شائع کیا۔ (مجلۃ المنار، جزء۲۶، ص۵۴)

حکیم اجمل کی وفات پر شیخ رشید رضا کے تعزیتی تاثرات

حکیم اجمل خاں کی وفات پر شیخ رشید رضا نے مجلہ المنار میں جو تعزیتی شذرہ لکھا تھا، اس سے ان کی قدر و منزلت اور دونوں کے درمیان قریبی تعلق پر روشنی پڑتی ہے۔ اس کا ترجمہ ذیل میں پیش کیا جاتا ہے:

’’مسیح الملک حکیم محمد اجمل خاں کا تعلق ایسے خانوادے سے ہے جسے زمانۂ قدیم سے اب تک ہر دور میں بہت زیادہ عزت اور احترام حاصل رہا ہے۔ انھوں نے مجھے خود بتایا کہ ان کا نسب مشہور محدث و فقیہ ملا علی قاریؒ سے جا ملتا ہے۔ اس موروثی مجد و شرف کے مظاہر میں سے یہ ہے کہ ان کے پاس ایک ذاتی کتب خانہ ہے جو عربی اور فارسی زبانوں میں مختلف علوم (شرعی، لغوی،طبّی، فنّی) کے انتہائی قیمتی مخطوطات پر مشتمل ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حکیم صاحب کو ہندوستانی مسلمانوں کے درمیان طبی، سماجی اور سیاسی میدانوں میں سربراہی کا مقام حاصل تھا۔ ۔ ۔ ۔ ہندوستان کے دار الحکومت دہلی میں ان کا گھر ’بیت الحکمۃ‘ کہلاتا ہے۔ اس میں طب قدیم کی تعلیم ہوتی ہے، جس طرح ان کے آباء و اجداد کے دور میں ہوتی تھی۔ ۔ ۔ ۔ مرحوم عام معاملات میں اہل الرأی اور اصحابِ بصیرت میں سے تھے۔ ا نھیں انجمنِ خلافت کی صدارت تفویض کی گئی۔ ان کی صدارت میں متعدد بڑی کانفرنسیں منعقد ہوئیں۔ ان کا خیال تھا کہ ملک کے سیاسی، معاشی اور دیگر معاملات و مسائل میں مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان اتحاد ضروری ہے۔ ۔ ۔ ۔ ان کی وفات سے ہندوستان اپنے سب سے بڑے اور تجربہ کار لیڈر سے محروم ہو گیاہے، جو علم، حکمت، سیاست اور اخلاص کے بلند مرتبے پر فائز تھا۔ اس پر ہم پوری امت سے تعزیت کرتے ہیں۔ ‘‘ (مجلۃ المنار،جزء۲۸،ص۷۹۳)

دمشق اکیڈمی کی رکنیت

حکیم صاحب کی عربی زبان و ادب سے گہری واقفیت کے بین الاقوامی اعتراف کا ایک مظہر یہ ہے کہ انھیں دمشق کی بین الاقوامی اکیڈمی کا ممبر نام زد کیا گیا تھا۔ وہ پہلے ہندوستانی ہیں جنھیں یہ شرف حاصل ہوا۔ اکیڈمی کا قیام ۱۹۱۹ میں المجمع العلمی العربی کے نام سے ہوا تھا۔ بعد میں اس کا نام بدل کر مجمع اللغۃ العربیۃ کر دیا گیا۔ ۱۹۲۵ میں حکیم صاحب نے اپنے سفر یورپ سے واپسی پر مسلم ممالک کا دورہ کیا تھا تو اس موقع پر شام بھی تشریف لے گئے تھے۔ ۱۵؍ اگست کو آپ نے اکیڈمی کی زیارت کی تھی۔

اکیڈمی کے ترجمان مجلۃ المجمع العلمی العربی(جلد۶، شمارہ۱،کانون الثانی[جنوری]۱۹۲۶) میں ایک اجلاس کی روداد شائع ہوئی ہے، جو تشرین الاول(اکتوبر)۱۹۲۵ میں منعقد ہوا تھا۔ اس اجلاس میں غور کیا گیا کہ اکیڈمی کے ارکان کی تعداد میں اضافہ کیا جائے۔ چنانچہ طے پایا کہ ڈاکٹر فلپ حٹّی( رکن اکیڈمی، جو ان دنوں امریکا میں مقیم تھے) کے مشورے سے بعض امریکی اور وہاں مقیم شامی مہاجرین کو اکیڈمی کا رکن بنا لیا جائے۔ اسی موقع پر فرانس سے الاستاذ بوفا( سکریٹری ایشین سوسائٹی پیرس) اور ہندوستان سے حکیم محمد اجمل خاں کو اکیڈمی کا رکن مقرر کیاگیا۔ روداد میں حکیم صاحب کے نام کے ساتھ أحد علماء الھند المشھورین (ہندوستان کے ایک مشہور صاحبِ علم) لکھا گیا ہے۔ (ص۵۵۵)

مجلہ کے اسی شمارے میں اکیڈمی کے دوسرے اجلاس کی روداد بھی شائع ہوئی ہے، جو اگلے سال اکتوبر ۱۹۲۶ میں منعقد ہوا تھا۔ اس میں ذکر کیا گیا ہے:

’’ حکیم محمد اجمل خاں کو گزشتہ سال ہندوستان سے اکیڈمی کا رکن منتخب کیا گیا تھا۔ ان کا دہلی سے خط موصول ہوا ہے، جس میں انھوں نے پختہ وعدہ کیا ہے کہ وہ اکیڈمی کا بھر پور تعاون کریں گے اور پہلی فرصت میں اس کی خدمت کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھیں گے۔ ‘‘(حوالہ سابق، ص۵۵۷)

اکیڈمی کی رپورٹ، جو مجلۃ المجمع، کانون الثانی (جنوری) ۱۹۲۹ میں شائع ہوئی ہے، اس میں اکیڈمی کے ان ارکان کا تذکرہ ہے جن کی گزشتہ سال وفات ہوئی اوران کا بھی جن کو اکیڈمی کا رکن بنایا گیا۔ وفات پانے والوں میں حکیم محمد اجمل خان کا بھی نام ہے، جو اس وقت تک ہندوستان سے واحد رکنِ اکیڈمی تھے۔

ڈاکٹر محمد کرد علی سے تعلق

دمشق اکیڈمی کے بانی صدر ڈاکٹر محمد کرد علی(۱۸۷۶۔ ۱۹۵۳) تھے۔ ان کا شمار شام کی بڑی علمی شخصیات میں ہوتا تھا۔ خلافت عثمانیہ سے شام کے آزاد ہونے کے بعد وہ وہاں کے پہلے وزیر تعلیم بنائے گئے۔ انھوں نے ہی دمشق اکیڈمی کی تاسیس کی اور تا حیات اس کے صدر رہے۔

کرد علی سے حکیم اجمل کے خصوصی تعلقات تھے۔ سفر شام میں انھوں نے حکیم صاحب کا پر تپاک استقبال کیا تھا۔ بعد میں حکیم صاحب کے، اکیڈمی کا رکن بن جانے کے بعد دونوں کے درمیان مراسلت رہی۔ اکیڈمی کی سالانہ رپورٹوں میں کرد علی نے حکیم صاحب کا اچھے الفاظ میں تذکرہ کیا ہے۔ حکیم صاحب کی وفات کے بعد ہندوستان کی دوسری عظیم علمی شخصیت علامہ عبد العزیز میمنی کو متعدد خطوط لکھے، جن میں ان سے گزارش کی کہ وہ حکیم اجمل کے حالاتِ زندگی پر کچھ مواد عربی زبان میں ترجمہ کرواکے بھیجیں۔ علامہ میمنی نے یہ ذمے داری علامہ سید سلیمان ندوی کے سپرد کی۔ انھوں نے کچھ مواد اکٹھا کرکے اور اس کا عربی ترجمہ کرواکے کرد علی کے پاس بھجوایا۔ یہ پتہ نہیں لگایا جا سکا کہ اس مواد کو کرد علی نے کیسے استعمال کیا۔

عالم عرب کی مطبوعات میں حکیم اجمل کا تذکرہ

عالم عرب میں ہندوستان سے متعلق جو کتابیں شائع ہوئی ہیں ان میں بھی حکیم اجمل کا تذکرہ بہت شان دار الفاظ میں ملتا ہے۔ ان میں سے بعض کتابیں خود عرب اصحابِ علم کی لکھی ہوئی ہیں تو بعض ہندوستانی علماء کی تحریر کردہ ہیں۔ یہ کتابیں بھی عالم عرب میں حکیم صاحب کے تعارف کا ذریعہ بنیں۔

ڈاکٹر محمد بن ناصر العبودی، سابق سکریٹری جنرل رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ نے دنیا کے بیش تر ممالک کا سفر کیا ہے۔ عربی زبان میں ان کے سو سے زائد سفر نامے شائع ہوئے ہیں، جن میں سے کئی ہندوستان سے متعلق ہیں۔ انھوں نے شمالی ہند کے اپنے ایک سفر نامے میں ایک جگہ ان رہ نماؤں کا تذکرہ کیا ہے جنھوں نے ملک کو برطانوی استعمار سے آزاد کرانے اور اس کا ظالمانہ تسلط و اقتدار ختم کرنے کے لیے بھر پور جد و جہد کی اور اس راہ میں قید و بند کی صعوبتیں جھیلیں۔ ان میں دیگر زعماء کے ساتھ حکیم محمد اجمل خاں کا بھی نام لیا ہے۔ (نظرات فی شمال الھند، محمد بن ناصر العبودی، رابطۃ العالم الاسلامی، ص ۱۲۹)

مولانا عبد الحی الحسنی رائے بریلوی کی کتاب الثقافۃ الاسلامیۃ فی الھند مجمع اللغۃ العربیۃ دمشق سے ۱۹۸۳ء؍ ۱۴۰۳ھ میں شائع ہوئی ہے۔ اس میں ہندوستان میں مختلف علوم و فنون کی تاریخ بیان کی گئی ہے، جن میں دینی علوم بھی شامل ہیں اور طبیعیاتی علوم بھی۔ مولانا حسنی نے اس میں طب کی تاریخ بھی بیان کی ہے۔ قدیم تاریخِ طب پر اجمالی روشنی ڈالنے کے بعد بارہویں، تیرہویں اور چودھویں صدی ہجری کے مشہور اطباء اور ان کی تصانیف کا تذکرہ الگ الگ کیا ہے۔ چودھویں صدی ہجری کے اطباء میں انھوں نے حکیم اجمل خاں کا بھی تذکرہ اختصار کے ساتھ کیا ہے۔ ان کے نام کے ساتھ انھوں نے الفاضل الکبیر البارع فی العلوم العربیۃ و الصناعۃ الطبیۃ(فاضل اجل، عربی علوم اور فن طب کے ماہر) لکھا ہے۔ (ص۳۱۳)

مولانا عبد الحی حسنی ہی کی ایک اور کتاب نزھۃ الخواطرکے نام سے ہے، جو ہندوستان کی مشہور علمی شخصیات کے تذکرہ و سوانح پر ہے۔ اس کو عالمی شہرت حاصل ہوئی ہے۔ یہ کتاب پہلے دائرۃ المعارف العثمانیۃ حیدر آباد سے آٹھ جلدوں میں شائع ہوئی تھی۔ ۱۹۹۹ء؍ ۱۴۲۰ھ میں اس کی اشاعت دار ابن حزم للطباعۃ والنشر و التوزیع، بیروت سے ’الاعلام بمن فی تاریخ الھند من الأعلام‘کے نام سے ایک جلد[۱۵۰۸ صفحات] میں ہوئی ہے۔ اس میں حکیم اجمل خاں کا مبسوط تذکرہ ہے۔ اس کا آغاز انھوں نے اس جملے سے ہواہے: الشیخ الفاضل العلامۃ، الحکیم الحاذق، أحد الأذکیاء الماھرین فی الصناعۃ الطبیۃ۔ اس تذکرے میں کچھ اضافہ مصنف کے فرزند ِ ارجمند مولانا سید ابو الحسن علی ندوی نے کیا ہے۔ انھوں نے بھی حکیم صاحب کی خدمات کو خوب سراہا ہے اور ان کے بلند مقام و مرتبہ کا تذکرہ کیا ہے۔ [ ملاحظہ کیجیے صفحات:۱۱۶۷۔ ۱۱۶۹]

حکیم صاحب کی تصانیف عالم عرب میں

حکیم اجمل خاں کی تصانیف عالم عرب میں پہنچی ہوں، اس کا تو علم نہیں ہو سکا، البتہ یقینی طور پر کہا جا سکتاہے کہ انھوں نے کتب خانہ ریاست رام پور میں موجود عربی کتابوں کی جو فہرست تیار کی تھی[ ۷۲۰؍صفحات]اور ۱۹۰۲ء میں اس کی اشاعت ہوئی تھی، وہ عرب ممالک میں پہنچی اور اس سے استفادہ کیا گیا۔ مکتبۃ الملک فہد الوطنیۃ  ریاض کے آن لائن کٹیلاگ سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ فہرست کا ایک نسخہ وہاں موجود ہے۔ اسی طرح مرکز جمعۃ الماجد دبی میں، جہاں دنیا بھر کے تمام کٹیلاگس کو جمع کیا گیا ہے، یہ فہرست موجود ہے۔

خاتمہ

خلاصہ کے طور پر کہا جا سکتا ہے کہ حکیم اجمل خاں اپنی علمی، سیاسی اور سماجی خدمات کی بنا پر جس طرح ہندوستان میں مقبول تھے، اسی طرح عالمِ عرب میں بھی ان کا خوب تعارف تھا اور انھیں قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کی عربی دانی کا عالمِ عرب میں وہ تعارف نہیں ہو سکا جس کے وہ مستحق تھے۔ ان کی کتاب مقدمۃ اللغات الطبیۃ اس قابل ہے کہ اسے اعلیٰ اور معیاری طباعت کے ساتھ کسی عرب ملک کے اشاعتی ادارے سے از سر نو طبع کرایا جائے، تاکہ عالمِ عرب میں اس کا بھر پور تعارف ہو اور فقہ اللغۃ کے موضوع پر علمی دنیا اس کی قدر و قیمت کا اندازہ لگا سکے۔ اس کام کو مرکزی کونسل برائے تحقیقات ِطب یونانی(CCRUM) جیسا ادرہ اپنے ذمے لے، تبھی اس کی تکمیل یقینی ہو سکتی ہے۔ اسی طرح یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ملک کی کسی یونی ورسٹی کے عربی شعبے کے تحت اس کتاب کے خصوصی حوالے سے طبی لغت نویسی اور طبی لغات کے جائزہ پر پی ایچ ڈی کروائی جائے۔ یہ کام بھی سی سی آر یو ایم کی دل چسپی ہی سے پایۂ تکمیل کو پہنچ سکتا ہے۔