Friday, October 29, 2021

اداریہ

 

آداب!

 

                اُمید کہ آپ تمام خیریت سے ہوں گے۔ کورونا کی تیسری لہر کا خطرہ بھی ٹلتا ہوا نظر آرہاہے۔ زندگی کی گاڑی پٹری پر آتی ہوئی نظر آرہی ہے۔ اللہ کرے کہ ایسا ہی ہو۔ خیر یہ کورونا کی لہر یا کورونا کا بنایا ہوا جال تو دو سال سے چل رہاہے۔ لیکن کیا ہم صحت کو لے کر پہلے پریشان نہیں تھے؟ ہمارے گھروں میں ہمارے خاندانوں میں بیماریوں کا بھنڈار پڑا ہے۔ ہر کسی کو کچھ نا کچھ بیماری ہے۔ سردرد جیسے چھوٹی بیماری سے لے کر کینسر جیسے جان لیوا امراض  تک ہمارے خاندانوں میں ضرور پائے جاتی ہے۔

 

                عزیزان من!  کیا آپ نے سوچا ہے کہ یہ سب کیوں ہورہاہے۔اگر ہم  ہمارے آبا و اجداد کی زندگی پر نظر ڈالیں تو ہمیں کوئی بیماری نظر نہیں آتی۔ چند ایک کو چھوڑ کر جن کی عمریں زیادہ ہوئیں تھیں وہ بھی زیادہ بیڑی کا استعمال کرنے والوں کو پھیپھروں کا کچھ مسئلہ رہتا تھا وہ بھی جان لیوا نہیں ہوا کرتا تھا۔ بس زیادہ سے زیادہ کھانستے رہتے تھے۔ اور آخری دم تک کھانستے ہی رہتے تھے۔ ان کی عمریں سو یا سو کے آس پاس ہوا کرتی تھی۔

 

                کبھی کسی کو دل کا دورہ نہیں ہوا کرتا تھا اور نا ہی شوگر یا بی پی کا کوئی مرض لاحق ہوتا۔ لیکن پچھلے تین دہوں میں ایسا کیا ہوگیا کہ ہر گھر میں بوڑھا ہو یا جوان شوگر، بی پی، ہارٹ جیسے امراض میں مبتلا نظر آتا ہے۔  اگر ہم ہمارے پچھلے لوگوں کی زندگی کا جائزہ لیں ان کے رہن سہن کا جائزہ لیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ وہ اپنی زندگی میں زیادہ تر جدید آلات پر انحصار نہیں کرتے تھے۔ ان کی روزمرہ کی زندگی بہت ہی آسان اور سرل تھی۔ وہ ایک مقام سے دوسرے مقام پر جانے کیلئے پیدل یا گھوڑا گاڑی یا بیل گاڑی  کا استعمال کیا کرتے تھے۔

 

                گھروں میں پکانے کیلئے کچی مٹی کے برتنوں کا استعمال ، چولہا لکڑی کا، کوٹنے کیلئے چکی، ہون دستہ، وغیرہ کا استعما ہوتا تھا۔ چائے کا استعمال بالکل نہ کے برابر تھا بہت ضعیف لوگ چائے پیتے تھے جس میں شکر کا نہیں گڑھ کا استعمال ہوتا تھا۔ پتی کی جگہ دیگر اشیاء جیسے دال چینی، الائیچی، تیج پات، لونگ، پودینا، تلسی جیسے قدرتی جڑی بوٹیوں سے چائے بنائی جاتی تھی۔

 

                اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری زندگیوں سے بھی بیماریوں کا خاتمہ ہو تو ہمیں بھی دور گزشتہ کی طرف جانا ہوگا۔ اور ہماری زندگیوں سے ترقی کے نام پر جو جو چیزیں چلی گئی ہیں  انہیں جہاں تک ممکن ہو اپنی زندگی میں واپس لانا ہوگا۔ تب ہی ہم صحت مند رہ سکتے ہیں۔

 

ڈاکٹر سید عارف مرشدؔ

  مدیر : ہندی و اُردو

No comments:

Post a Comment