Friday, January 28, 2022

امرود کے فائدے از افشین حسین بلگرامی

 

امرود

افشین حسین بلگرامی

            امرود جسے انگریزی میں (Psidium Guava) گجراتی میں جام پھل یا پیٹر‘سنسکرت میں درڑھ بیج اور مرہٹی زبان میں پانڈ ہرے کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔جبکہ اسپینش زبان میں گوائے یابا (Guayaba) فرنچ زبان میں گویا ویئر (Goyavier) میکسیکو‘وسطی اور جنوبی امریکہ میں بسنے والے بہت سے انڈین قبائل سے تعلق رکھنے والے باشندے امرود کو پچھی (Pichi) پوش (Posh) اینانڈی (Enandi) وغیرہ کے نام سے بھی پکارتے ہیں۔

            منطقہ حارہ (Tropical) کے علاقوں میں پایا جانے والا یہ پھل گول اور ناشپاتی کی شکل رکھتا ہے۔اس کے بیرونی حصے کا رنگ گہرے سبز سے لے کر زردی مائل سبز تک ہوتا ہے۔یہ حصہ بعض اقسام کے امرودوں میں ملائم اور ہموار ہوتا ہے جبکہ کچھ اقسام کے امرودوں کا بیرونی حصہ سخت‘کھردرا اور خشک ہوتا ہے لیکن امرود کی ہر قسم میں یہ خوبی مشترک ہے کہ اس کی بیرونی جلد چمکتی ہوئی رنگت رکھتی ہے جو اسے پسند کرنے والوں کو اپنی جانب راغب کرتی محسوس ہوتی ہے جبکہ اس کی خوشبو کی تو بات ہی نرالی ہے جو تیزی سے پھیلتی ہے اور ہر ایک پہ اس مزیدار پھل کی موجودگی آشکار کرتی محسوس ہوتی ہے۔


           
امرود کا درخت 6-8 فٹ کے چھوٹے درخت سے لے کر 33 فٹ تک لمبا ہوتا ہے جو جھاڑی دار شاخوں پر مشتمل ہوتا ہے۔تانبے جیسی رنگت کا حامل‘چکنا و ملائم تنا جو کھرچنے پہ اندر سے سبزی مائل دکھائی دیتا ہے۔امرود کے پیٹر کی واضح نشانی سمجھا جاتا ہے۔ہرے بھرے گول و نیم بیضوی ساخت کے حامل امرود کے پتوں کو جب مسلا جاتا ہے تو یہ نہایت تیز خوشبو دیتے ہیں۔

یہ پتے اُوپری جانب سے چکنے جبکہ پتوں کی نچلی سطح قدرے کھردری ہوتی ہے پتے کی درمیانی لکیرنس یا (Vein) کے گرد چھوٹی چھوٹی کئی ایک ہموار و متوازی نسیں (Veins) جڑی ہوتی ہیں۔جڑی ہوتی ہیں 4-5 پنکھڑیوں والے نازک سفید پھول لگتے ہیں جو کبھی گچھوں کی صورت میں اور اکثر الگ الگ ہی نکلتے ہیں امرود کا گودا سفید اور پھل کے مرکزی حصے پر زردی مائل سفید ہوتا ہے اکثر گودا گلابی رنگت کا حامل بھی ہوتا ہے گلابی گودے والے امرود کی خوشبو ہی کچھ الگ سی اور بھینی بھینی ہوتی ہے۔

            دونوں قسم کے گودے والے امرودوں کے وسطیٰ حصے میں گول گول سخت چھوٹے سائز کے بیج بھرے ہوئے ہیں جن کی تعداد قسم کے حساب سے مختلف ہو سکتی ہے۔
           
امرود کو ہمیشہ پکی ہوئی حالت میں ہی استعمال کے قابل سمجھا جاتا ہے کیونکہ کچا امرود پھیکے سیٹھے و اکساہٹ مائل ذائقے کا حامل ہوتا ہے جو زبان و دہن پہ دیر تک رہنے والا ناخوشگوار ذائقہ چھوڑ جاتا ہے۔

لہٰذا چھترے ہوئے پتوں والے جھاڑ نما امرود کے درختوں سے اس کا پھل اُسی وقت (ایک ایک کرکے) احتیاط سے توڑا جاتا ہے کہ جب اس کے پکنے کا اندازہ کر لیا جاتا ہے۔بد احتیاطی سے توڑنے کی وجہ سے کچے امرودوں کے بھی درخت سے گرنے کا خدشہ رہتا ہے لیکن صنعتی پیمانے پہ لگائے جانے والے امرود کے باغوں میں امرود نیم پکی حالت میں ہی درختوں سے توڑ لیے جاتے ہیں تاکہ جب انہیں دور دراز علاقوں تک درآمد کیا جائے تو عرصہ 2-3 روز سے لے کر ہفتہ دس دن تک یہ خوب اچھی طرح پک جائیں پر اگر درآمد کرنے کے نقطہ نظر کو پیش نظر رکھتے ہوئے درختوں سے پکے ہوئے امرود توڑے جائیں گے تو باغ سے منڈی تک کے راستے میں ہی ان پکے ہوئے امرودوں میں کیڑا پڑ جائے گا اور یہ تیزی سے سڑ کر پوری کی پوری کھیپ کو تباہ کر دیں گے لہٰذا اسی ممکنہ نقصان سے بچنے کے لئے درختوں سے نیم پکے یا ادھ کچے ذرا سخت قسم کے امرود توڑے جاتے ہیں۔

انہیں کاربائن لگانے کی ضرورت شاذ ہی پڑتی ہے۔ 
تاریخی اہمیت       
امرود کی تاریخ اور کاشت کے حوالے سے مستند تاریخ غذائی مورخین بتانے سے قاصر ہیں لیکن قریں خیال ہے کہ جنوبی میکسیکو سے لے کر وسطی امریکہ کے بیشتر علاقوں میں سب سے پہلے اسے دیکھا گیا۔1526ء سے امریکہ کے گرم خطوں سے لے کر مغربی امریکہ کے بیشتر علاقوں بشمول بھاماس (Bahamas) برمودا (Bermuda) اور فلوریڈا کے جنوبی علاقوں میں اس کے درخت لگائے گئے۔

            1847-1886 امرود نامی یہ پھل کم و بیش پوری ریاست میں مقبولیت حاصل کرتا چلا گیا۔پرتگالیوں اور اسپینی باشندوں نے اس پھل کو مشرقی انڈیا میں متعارف کروایا۔پھر اسے ایشیا اور افریقہ کے براعظموں نے موسم گرما کے پھل کے طور پر اسے قبول کیا۔مصر‘فلسطین‘الجیریا‘فرانس اور مشرق وسطیٰ کے ساحلی علاقوں میں پھر کئی کئی ایکڑ پر امرود کے باغات دکھائی دینے لگے۔

اٹھارویں صدی کے اوائل میں بحیرہ اسود کے راستے جب یہ جزیرہ نما ہوائی پہنچا تو وہاں محض چھوٹے پیمانے پہ اس کے درخت لگائے گئے تھے انیسویں صدی کے اوائل تک یہ پھل پوری دنیا میں اپنی مقبولیت و پسندیدگی کے جھنڈے گاڑ چکا تھا۔انیسویں صدی کے وسط تک کولمبیا سمیت فلوریڈا اور کیلی فورنیا جیسی ریاستوں میں موجود زرعی تحقیقی مراکز

(Agricultural Research Centres) میں امرود کی پیداوار اور اس پھل کی کوالٹی و اقسام میں اضافے کے لئے ریسرچ کی ابتداء کی جا چکی تھی کیونکہ انیسویں صدی کی شروعات میں ہی امرود ایسے مزیدار پھل کی طلب میں بے تحاشہ اضافہ ہو گیا تھا اور اس کے ذائقے کی حامل مصنوعی طریقوں سے تیار کی جانے والی غذائی اشیاء جیسے آئس کریم‘مشروبات اور جیلی وغیرہ یہاں تک کہ 1946ء میں انڈین ٹاؤن میں میامی فوڈ انڈسٹری کی دو درجن سے زائد فیکٹریاں امرود جیلی (Guava Jelly) تیار کر رہی تھیں۔
غذائی اہمیت         
           
امرود میں اتنی کثیر مقدار میں وٹامن C پایا جاتا ہے جو ترش پھلوں (Citrus Fruits) میں پائے جانے والے وٹامن C کی مقدار سے کہیں زیادہ ہے۔100 گرام امرود میں 0.2 گرام پروٹین‘0.8 گرام چکنائی‘14.5 گرام معدنی نمکیات 0.01 گرام کاربوہائیڈریٹس‘0.04 گرام کیلشیم 66 گرام آئرن 1.0 گرام فاسفورس 0.03 ملی گرام وٹامن B بشمول وٹامن B2 (ریبوفلاوین) اور 300 ملی گرام وٹامن C پایا جاتا ہے۔

            غذائیت سے بھرپور اس پھل کو بڑی رغبت سے کھایا جاتا ہے۔امرود کا کچا پھل قبض اور جبکہ پکا پھل قبض کشا ہوتا ہے۔امرود دل کو فرحت بخشتا ہے دل اور دماغ کو قوت دیتا ہے دل کی گھبراہٹ کیلئے مفید ہے‘معدے کو طاقت دیتا ہے اور بھوک بڑھاتا ہے۔امرود زبردست غذا ہونے کے ساتھ ساتھ دوا کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے اس کا استعمال خونی بواسیر کے لئے بھی مفید ہے۔

            اس کے پتوں کو تھوڑے سے پانی میں بطور چائے اُبال کر استعمال کرنا نزلہ و زکام کا فوری علاج ہے اور یہ دستوں کی حالت میں بھی مفید ثابت ہوتا ہے۔یہ بلاشبہ ایک بہترین و صحت بخش پھل ہے تاہم زائد مقدار میں اس کا استعمال گیس اور بدہضمی پیدا کر سکتا ہے۔اس کے بیج چونکہ سخت ہوتے ہیں اور چکنے گودے سے لپٹے ہونے کی وجہ سے بناء چبائے ہی معدے میں پہنچ جاتے ہیں جو کہ بعض حالات میں معدے میں گرانی پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں۔

            جبکہ دانت کے درد مسوڑھوں کی سوجن اور روٹ کیزال تھراپی کرنے والے افراد امرود کو بیجوں سمیت کھانے سے احتراز کریں کیونکہ یہ دانتوں کے خلاء میں پھنس کر یا زبردستی چبانے کی صورت میں دانتوں اور مسوڑھوں پہ انتہائی خراب اثرات مرتب کرکے آپ کو بے پناہ اذیت سے دوچار کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔

 

 

Friday, January 14, 2022

Hindi editorial of biswas by Dr. Syed Arif Murshed of 15 Jan 2022

 

हैलो मित्रों!

 

हम आपके लिए बिस्वास का ताजा नया संस्करण पेश करते हैं। हमेशा की तरह, इस नया संस्करण में कुछ बहुत ही महत्वपूर्ण लेख और वीडियो प्रकाशित हैं।

 

मित्रों! देश और दुनिया के हालात दिन-ब-दिन बदतर होते जा रहे हैं। सच्चाई की आवाज को दबाने का हर संभव प्रयास किया जा रहा है। भारत के अलावा अन्य यूरोपीय देश भी झूठ के खिलाफ आवाज उठा रहे हैं। लेकिन वहां भी सरकारें लाठी के बल से उनकी आवाज को दबा रही हैं। पूरी दुनिया में आसुरी शक्ति की चर्चा है। एक झूठी महामारी का बहाना बनाकर दुनिया में new world order को लागू करने का प्रयास किया जा रहा है।

 

डॉ. बिस्वरूप भारत से सच्चाई की आवाज बने और इन झूठी महामारियों के अलावा, उन्होंने हृदय रोग, कैंसर, गुर्दे की बीमारी जैसी कई बीमारियों का पूर्ण इलाज भी मुफ्त में खोजा। और यह इलाज पूरी दुनिया में आम हो गया है। दुनिया भर से हर कोई जिसने उसका वीडियो देखा और उसका लाभ उठाया और अपनी बीमारियों से छुटकारा पाया, उसने भी अपने वीडियो साझा किए हैं। लेकिन कुछ बेईमान लोग आंखों पर पट्टी बांधकर बिस्वरूप के मिशन को रोकने की असफल कोशिश कर रहे हैं। आईएमए ने उन पर मुकदमा भी चलाया था। उसकी जमानत भी यह कहते हुए जब्त कर ली गई कि वह फर्जी डॉक्टर है और उसके पास डिग्री नहीं है। इन मूर्खों को कौन समझा सकता है कि जिस डिग्री को उन्होंने न केवल भारत ही नहीं  बल्कि स्विट्जरलैंड, वियतनाम, मलेशिया जैसे देशों ने भी पहचाना है। और वे अपने विश्वविद्यालयों के पाठ्यक्रम बोर्ड के सदस्य भी हैं। उनका पाठ्यक्रम न केवल भारत में बल्कि अन्य देशों में भी पढ़ाया जाता है। अब मेडिकल कॉलेजों का सिलेबस बनाने वाले से उसकी डिग्री मांगी जाती है। उनकी किताबें विभिन्न कॉलेजों में पढ़ी जाती हैं। इसके पाठ्यक्रम दुनिया के अन्य देशों में पढ़ाए जाते हैं। उनसे डिग्री मांगना जैसे सूरज को दिया दिखाना है।

 

इतिहास में एक माली विश्वविद्यालय का प्रोफेसर बन जाता है। और वह सर्जनों को पढ़ाता है। उसका नाम जानना चाहेंगे उसका नाम हैमिल्टन नाकी है। यदि आप उसके बारे में अधिक जानना चाहते हैं तो आप विकिपीडिया पर देख सकते हैं। सध्गुरु का नाम जानते हो। यह मैसूर के एक इंजीनियर थे। उन्होंने एक इंजीनियर के रूप में भी काम किया है। लेकिन आज वे एक धार्मिक गुरु, स्वास्थ्य विशेषज्ञ हैं। दुनिया भर से लोग उनसे सुनने और उनके आध्यात्मिक और शारीरिक उपचार की तलाश में उनके पास आते हैं। दुनिया में इनके 10 मिलियन से ज्यादा फॉलोअर्स हैं। अब आप उन्हें क्या कहेंगे? विकिपीडिया ने बिस्वरूप को भी धोखा दिया है, वह भी इन्हीं बुरी शक्तियों के हाथों बिका हुआ है। उन्होंने बिस्वरूप की इतनी सारी कृतियों को शामिल नहीं किया कि उन्होंने अपने ऊपर लगे आरोपों को शामिल कर नकारात्मक छवि बनाने की कोशिश की.

 

जो लोग बिस्वरूप की डिग्री मांगते हैं, अगर आपको अपनी सच्चाई पर इतना विश्वास है और बिस्वरूप की डिग्री पर संदेह है, तो उनके साथ धोखा देने की तुलना में उनके साथ चर्चा करना बेहतर है। उनकी वेबसाइट पर जाएं और देखें कि क्या उनके पास सारे सबूत हैं। वे अनुमानों के आधार पर या यूं ही कुछ नहीं कहते, सब विज्ञान और शोध पत्रों के आधार पर कहते हैं। तुम नहीं देखोगे क्योंकि तुम्हारे आसुरी स्वामियों ने तुम्हारी आंखों पर पट्टी बांध दी है, तुम कुछ पैसों के लिए बेचे गए हो।

 

अब यह जनता को तय करना है कि क्या हम इन बेईमान लोगों के चंगुल में पड़कर अपना और अपनी आने वाली पीढ़ी का भविष्य बर्बाद कर देंगे या फिर हम एक बड़ी आवाज के रूप में उठ खड़े होंगे और उससे लड़ेंगे।

 

डॉ. सईद आरिफ

संपादक

Biswas Editorial Urdu by Dr. Syed Arif Murshed, بسواس کا اردو اداریہ 15 جنوری 2022

 

عزیزان من!

            اس شمارے کی مشمولات کی اگر بات کریں تو اس میں پہلا مضمون جو کہ نامکمل ہے "اختلاط و مزاج" مضمون نامکمل ہونے کے باوجود بھی بہت سارے اسرار و رموز کو واشگاف کرتاہے۔اس کے بعد"سرس" کے فوائد و استعمالات پر کافی طویل مضمون ہے۔  ایک مضمون ہے "امراض زہراوی" جو کہ کافی اہم مضمون ہے۔ اس کے ساتھ ہی ہلدی کے مختلف فوائد کے بارے میں کچھ تصاویر کی شکل میں نسخے پیش کئے گئے ہیں۔ دو ویڈیو Virtual OPDکے ہیں کہ کیسے ڈاکٹر بسواروپ سے لوگ استفادہ کررہے ہیں۔  کم سے کم خرچ میں گھر بیٹھے جان لیوا بیماریوں کا علاج کیاجارہاہے۔ مریضوں کی اپنی زبانی سن سکتے ہیں۔  ایک کافی طویل مضمون "سملو "بوٹی پر ہے جس کو دارو ہلدی بھی کہاجاتاہے۔ یہ دنیا کی واحد ایسی بوٹی ہے جس سے کینسر جیسے جان لیوا مرض کا بھی خاتمہ ممکن ہے۔  یہ تو رہی اس شمارے کی مشمولات کے متعلق۔

 

عزیزان من!

            دیش اور دنیا میں کیا ہورہاہے یہ آپ لوگوں سے چھپا تو نہیں ہے۔  پھر بھی لوگ نا جانے کیوں اور کیسے ان شیطانی طاقتوں کے چنگل میں پھس رہے ہیں۔ اور ویسکن کی لائن میں لگ رہے ہیں۔ دواخانوں کی لائن میں لگ رہے ہیں اور اپنی قیمتی جانیں اور محنت سے حاصل کیا ہوا مال گنوارہے ہیں۔ اب دیش میں بچوں کو بھی ویکسن لگائی جارہی ہے۔ دیش کا میڈیا تو پہلے ہی بکا ہوا ہے جو صرف اور صرف اپنے شیطانی آقاوں کی پیروی کرتا ہے۔ ساتھ ہی ڈاکٹرس بھی انہیں کی پیروی کررہے ہیں۔ ساری دنیامیں دونوں قسم کے لوگ ہیں جو اس جھوٹی مہاماری کوسچ مان رہے ہیں اور اپنے آپ کو ان کے ماسک، ڈسٹنسنگ، ہاتھ دھونا، تھالی بجانا، تالی بجانا، سائنیٹائزر استعمال کرنا وغیرہ پر بہت گہرائی سے عمل بھی کررہے ہیں۔ کچھ تو دو دو تین تین ماسک لگا کر گھر سے نکل رہے ہیں۔ جب کہ سائنسی تحقیقات نے یہ ثابت کردیا ہے کہ ماسک لگانے سے انسان کرونا سے بچ تو نہیں سکتا بلکہ دوسری دیگر بیماریوں کا شکار ہوسکتاہے۔ انسان کے جسم میں اکسیجن کی کمی ہونے لگتی ہے وغیرہ  لیکن پھر بھی لوگ اس کے چنگل میں پھنس ہی رہے ہیں۔ کہیں زبردستی کی جارہی ہے تو کہیں کچھ لالچ بھی دیاجارہاہے۔  ان کے کالے کارنامے ساری دنیا کے سامنے آچکے ہیں۔ جس کے خلاف ساری دنیا میں آواز اٹھائی جارہی ہے۔ اب یہ دھندا صرف اور صرف لاٹھی کے دم پر چلایا جارہاہے۔

 

            RTPCR TEST کو غلط مان کر امریکہ نے اس پرپہلے ہی پابندی لگادی ہے۔ کیوں کہ جس نے یہ ٹسٹ ایجاد کیا اس نے اس میں لکھا ہے کہ یہ ٹسٹ صرف تجرباتی استعمال کیلئے ہے نا کہ علاج و معالجے کیلئے۔ امریکہ کے علاوہ بہت سارے ترقی یافتہ ممالک نےاس پر پابندی لگا ئی ہے۔ لیکن ہندوستان اس کو عوام کے خلاف ایک ہتھیار کی طرح استعمال کررہاہے۔ جب بھی لہر لانا ہو ٹسٹ بڑھادیتے ہیں۔ اور لوگوں میں ڈر پیدا کرتے ہیں۔ جتنے بھی اموات ہورہے ہیں چاہے وہ امراض قلب سے ہوں یا دیگر جسم کے اعضاء کے فیل ہونے سے۔ ان تمام کو کورونا کے اموات میں ڈالا جارہاہے۔ اس کے تمام ثبوتbiswaroop.comپر موجود ہیں۔ جہاں ہر سال ہزاروں کی تعداد میں لوگو سردی بخار سے مرتے تھے اب ان کی تعداد صفرہوگئی ہے۔ کیونکہ ان تمام اموات کی شرح کو کورونا کی اموات میں شامل کیاگیاہے۔

 

            ایسے میں ہمیں کیا کرنا چاہئے۔ اگر ہم سمجھتے ہیں اور یہ حقیقت ہمارے سمجھ میں آتی ہے تو ہمیں اس کے خلاف آواز اٹھانی چاہئے۔ دیش کے ہر مشکل وقت میں مسلمانوں نے اور اردو والوں نے ہی پہل کی ہے اور ظلم کے خلاف آواز اٹھائی ہے اور اپنی کوششیں جاری رکھی ہیں۔ چاہے وہ دیش کی آزادی کا معاملہ ہو یا NRC یا دیگر۔ اس میں بھی اردو داں طبقے کو مسلمانوں کو اپنا رول ادا کرنا چاہئے۔ اپنے دیش اور اپنی آنے والی نسلوں کے مستقبل کو بچانا چاہئے۔ اور ان شیطانی قوتوں کا سامنا کرنا چاہئے۔

 

ڈاکٹر سید عارف مرشدؔ

مدیر