Saturday, April 30, 2022

Urdu Editorial of Biswas Magazine بسواس کا اردو اداریہ از ڈاکٹر سید عارف مرشد مدیر بسواس

آداب!

            دوستو! دو ہزار انیس کی بیماری جس کا پرچار و پرسار ۲۰۱۷ سے ہی ہورہاتھا۔ تبھی کٹ خریدی گئی تھی۔ اور بہت سارا مال سرکاروں نے ان پی پی ای کیٹ خرید نے کے بہانے جماع کیا۔ اور بیماری کا یہ ڈھونگ بھی بخوبی چلا۔ عوام بھی اس کے جھانسے میں آگئی اور بہت ساروں نے  اپنے چاہنے والوں کو کھویا۔ کئی بچے یتیم ہوگئے۔ کئی عورتیں بیوہ ہوگئی۔  دیش کی معاش تباہ ہوگئی۔ ایک طرف بسواروپ اور ان کی ٹیم لگاتار عوام کو جگانے کی کوشش کرتی رہی۔ کچھ جاگ۔ اور کچھ نہیں جاگے۔ کچھ بہت سارا نقصان ہونے کے بعد جاگے۔ بحر حال ان دو تین سالوں میں جو ہوا بہت برا ہوا۔ غریب اور غریب امیر اور امیر ہوا۔ ایسے میں میڈیکل مافیا نے بھی اپنی دکانیں چمکائی۔ کئی ایک نئے نئے دواخانوں کی اوپننگ بھی ہوئی۔ کئی ایک کاروباری اپنے دیگر کاروبار کو چھوڑ چھاڑ کر اپنا پیسہ میڈیکل انڈسریز میں لگایا۔ اور معقول منافع کمایا۔

            شاید دنیا کی یہ پہلی بیماری ہوگی جو پہلے ہی اطلاع دے دے کر آتی ہے۔ پہلے پہلی لہر جو بزرگوں پر آئی۔ پھر دسری لہر ادھیڑ عمر یا نواجوانوں پراور تیسری لہر بچوں پرآئی۔ اور اب یہ ڈرامامہ تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہاہے اور اب چوتھی لہر کی بات کہی جارہی ہے۔  چوتھی لہر کا میڈیا کے ذریعہ پرچار کیا جارہاہے۔ مختلف تاریخ بھی بتائی جارہی ہے۔

            دوستو  اب ذرا غور کرنے کی بات ہے کہ اب کون بچا ہے۔ بوڑھے بھی ہوئے، نوجوانوں میں بھی یہ فرضی بیماری آکر چلی گئی اور بچوں میں بھی یہ بیماری آکر چلی گئی۔  اب یہ چوتھی لہر کس پر آئے گی پتہ نہیں۔ کئی دیشوں میں مویشیوں اور پالو جانوروں کو ویسکن لگائی جارہی ہیں۔

            ایسے میں ہماری ذمہ داری کیا بنتی ہے؟ ہمیں کیا کرنا چاہئے؟

            دوستو! ہمیں اپنا ڈاکٹر خود بننا چاہئے۔ اور کم از کم یہ چھوٹی موٹی بخار کھانسی وغیرہ کا علاج تو گھر میں ہی کیا جاسکتاہے۔  یہی کوئی چالس پچاس سال پہلے کئی دہاتوں میں کوئی ڈاکٹر میسر نہیں ہوتا تھا۔ تو کیا وہاں لوگ بیمار ہوتے تھے اور اگر بیمار ہوتے بھی تھے تو کیسے ٹھیک ہوتے تھے۔ جب کئی کئی سو کوس پر کوئی ڈاکٹر موجود نہیں ہوتا تھا۔ بچے پیدا بھی ہوتے تھے کوئی انجکشن یا دوائی کے بغیر ڈلیوریاں بھی ہوتی تھیں۔ لوگ بیمار بھی ہوتے تھے اور وہی گانوں کے وید یا حکیم ان کا علاج کرتے تھے اور وہ بغیر کسی مذر اثرات  اور بغیر کسی بھاری رقم کے ٹھیک بھی ہوتے تھے۔

            اس ماڈرن دوریا ڈیجیٹل دور کی دین یہ ہوئی کہ اب لوگ زیادہ بیمار بھی ہوتے ہیں اور گانوں گانوں ڈاکٹروں اور دواخانوں کی بھرمار، مریضوں کی کثیر تعداد، مرنے والوں کی کثیر تعداد، میڈیکلس جدید آلات سے لیس دواخانے، ہر عضوع کا ایک ڈاکٹر الگ، دانت کا ڈاکٹر، کان کا ڈاکٹر، گردے کے مختلف امراض کے مختلف ڈاکٹر، دل کا ڈاکٹر، ہڈکا ڈاکٹر، جوڑوں کا ڈاکٹر وغیرہ وغیرہ ان تمام سہولیات کے باوجود پھر بھی مریض ٹھیک ہی نہیں ہوتے۔ ایک مرض کا علاج کروانے جائیں تو کئی سارے دوسری بیماریوں کو دعوت دی جاتی ہے۔ ہر ہر دوائی کے مذر اثرات کے لمبی لمبی فہرست دوائی پر لکھابھی ہوتا ہے لیکن ہندوستان کی زیادہ تر عوام پڑھی لکھی نہیں ہے وہ ان مذر اثرات کو پڑھ نہیں سکتی دوائی کو امرت اور ڈاکٹر کو بھگوان سمجھتی ہے۔

            اس لئے دوستو لوٹو ماضی کی طرف اور اپنے اصلاف کا جائزہ لو اور اپنی تاریخ کوکھنگالو، اپنے بزرگوں کے ساتھ بیٹھو اور سیکھو کہ وہ کیسی زندگی گزارا کرتے تھے۔ ان کے روزمرہ کے معاملات کیسے تھے، ان کا اٹھنابیٹھنا، چلنا پھرنا، سونا جاگنا، کھانا پینایہ تمام چیزیں ہمیں بیماریوں سے بچاسکتی ہیں۔ اور تندرست زندگی گزارنے میں مدد کرسکتی ہیں۔

 

مدیر: ڈاکٹر سید عارف مرشد

No comments:

Post a Comment