Tuesday, June 21, 2022

یوم طب یونانی اور طب یونانی کی موجودہ صورت حال

 

یوم طب یونانی اور طب یونانی کی موجودہ صورت حال

                                                                                                                  ڈاکٹر خالد اختر علیگ

گزشتہ کئی برسوں سے ۱۱ فروری کو ملک بھر میں طب یونانی کی عبقری شخصیت حکیم اجمل خاں کے یوم پیدائش کو یوم طب یونانی کے نام سے منایا جارہا ہے۔ حکیم اجمل خاں ایک اساطیری شخص تھے جن میں طبابت،خطابت،شاعری ،قیادت اور حب الوطنی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ وہ ایسے فرد تھے جنہوں نے مسلم لیگ کے قیام میں حصہ لیا ،خلافت تحریک کی قیادت کی ،کانگریس کے صدر رہے ،یہاں تک کہ ہندو مہاسبھا نے اپنے دہلی اجلاس کی انتظامی کمیٹی کی صدارت بھی انہیں سونپی،انہیں ہندو مسلم اتحاد کا عظیم نمائندہ بھی قرار دیا جاتا ہے۔ لیکن ایک بات جو انہیں ممتاز کرتی ہے وہ یہ کہ ہمہ تن مصروفیت کے باوجود انہوں نے طبابت کو نہیں چھوڑا،انہوں نے نہ صرف ذاتی مطب کیا بلکہ ہندوستانی طبوں یعنی یونانی اور آیوروید کی بقا کے لیے جدو جہد بھی کی اور ان کے معالجین کو متحد کیا۔ انگریزی حکومت کے ذریعہ ہندوستانی طبوں کے خلاف کی جانے والی سازشوں کی کھل کر مخالفت کی اور اسے دیسی طبوں کی افادیت تسلیم کرنے پر مجبور کردیا۔ دہلی میں یونانی اور آیورویدک طبیہ کالج نیز ہندوستان کا پہلازنانہ طبیہ کالج قائم کیا۔ انہوں نے طب یونانی میں جدید طریقہ کار کے مطابق تحقیق کی کوششیں کی جس کی ایک اہم مثال اسرول نامی بوٹی کے اجزاءکا الگ کیا جانا ہے۔ اس بوٹی کا ایک جز سرپنٹین ایک طویل عرصہ تک ہائی بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے کے لیے استعمال کیاجاتا رہا اسی طرح اس کا ایک جز اجملین کے نام سے موسوم کیا گیا جوقلب کی رفتار کو قابو میں رکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ حکیم اجمل خاں یونانی طب کے اصولوں کو مسلم رکھتے ہوئے اس میں جدید طریقہ سے تحقیق کے متمنی تھے۔ لیکن ان کے بعد طب یونانی میں تجدد پسندی کو رد ّ کردیا گیا۔ تحقیق کا اجملی اسلوب ختم ہوگیا۔

ملک کی آزادی کے بعد دیسی طبوں کی ترقی کے لیے راہیں ہموار ہوئیں ،گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ سطح کے تعلیمی ادارے بھی وجود میں آئے۔ طب یونانی کے تحقیقاتی مراکز بھی قائم ہوئے ان سب کے باوجود یونانی کو وہ مقام جو اسے ایک صدی پہلے حاصل تھا نہیں مل پایا۔ آیوروید نے اس موقع کا خوب فائدہ اٹھایا اور اپنی تحقیقات کوجدید اصولوں پر آگے بڑھایاجس کی وجہ سے اسے اب عالمی سطح پر ایک متبادل طب کی حیثیت حاصل ہوچکی ہے۔ کہنے کو تو یونانی طب میں بھی تحقیق ہورہی ہے مقالوں پر مقالے تحریر کئے جارہے ہیں لیکن کوئی نئی چیزنکل کر سامنے نہیں آرہی ہے جو یہ ثابت کرسکے کہ طب یونانی میں ایک نیا اضافہ ہو ا ہے۔ طبی تعلیمی اداروں میں تعلیمی نصاب یونانی اور جدید طب کا ایک ایسا معجون مرکب بن چکا ہے جسے استعمال کرنے کے بعد مرض کی ماہیت ہی بدل جاتی ہے۔ طب کے یونانی نصاب میں جو نسخہ جات پڑھائے جاتے ہیں ان کی افادیت کا علم صرف متقدمین کی کتابوں میں ہی ملتا ہے ،ان کے سلسلے میں کوئی نئی تحقیق شامل نہیں کی جاتی۔ یہی وجہ ہے کہ طب یونانی کے فارغین ایلوپیتھی علاج کرنے لگتے ہیں۔

جب وسائل کم تھے اور تدریس کے اعلیٰ ذرائع مفقود تھے اس زمانے میں ایسے عظیم حکماءہمارے ملک میں پیدا ہوئے جن کی طبابت کے قصے آج بھی اہل علم کی محفلوں میں سننے کو مل جاتے ہیں۔ لیکن آج تعلیم کے وسائل بہت زیادہ ہیں مگر طبی تعلیمی اداروں سے ایسے حکیم نہیں نکل رہے جو اپنی طبابت کا لوہا منواسکےں۔ آخر ایسا کیوں ہورہا ہے ؟یہ ایسا سوال ہے جس پر طب یونانی کے معالجین اور اساتذہ کو سوچنے کی ضرورت ہے۔

ایلوپیتھ یا جدید طب نے ڈیڑھ صدی کے اندر صحت کے میدان میں ایسا انقلاب پیدا کیا جس کی نظیر نہیں ملتی۔ اس نے مریض کی سہولیات کو اولیت دی۔ ٹکنالوجی سے ہاتھ ملاکرایسی ایجادات کیں جو مرض کی تشخیص میں معاون ہوئیں۔ ایلوپیتھ میں تحقیق ایک مسلسل سفر ہے۔ ان کے یہاں تحقیق کا ایک کھلا میدان ہے جس پر وہ تندہی سے کام کرتے ہیں اور اپنی تحقیقات کو منظر عام پر لاتے ہیں۔ لیکن طب یونانی میں ابھی تک ایسا تحقیقی مزاج پروان نہیں چڑھ پایا ہے جس سے کوئی خاطر خواہ نتیجہ سامنے آتا ہو۔ پوسٹ گریجویٹ سطح پر ہونے والی تحقیقات کسی ایسے نئے عنوان پر نہیں ہورہی ہیں جو اس قدیم طب کو عالمی سطح پر کھڑا کرنے میں معاون ثابت ہو۔ دعوے تو بہت کئے جاتے رہے ہیں مگر ان کی حقیقت کیا ہے وہ ذہن سے پرے ہے۔ کم و بیش دوسال پہلے ایک سینئر پروفیسر نے ذیابیطس کی ایک ایسی یونانی دوا بنانے کا دعویٰ کیا تھا جو کہ انسولین کے افراز کوبڑھا کر خون میں شکر کی سطح کو متوازن رکھے گی اور انسولین پیدا کرنے والے خلیات کی مرمت کرکے انہیں طبعی صورت میں بحال کردے گی جس کے بعد ذیابیطس کا خاتمہ ہوجائے گا۔ ان کے اس دعوے کی تشہیر کئی ہندی روزناموں میں کچھ دنوں تک ہوتی رہی لیکن ایک سال گزر جانے کے بعد بھی وہ دوا بازار میں نہیں آسکی۔ اسی طرح ایک مشہورطبی ادارے میں ۲۰۱۰ءکے آغاز میں نبض شناسی کے آلہ کو تیار کرنے کے لیے ایک پروجیکٹ شروع کیا گیاجس کا نتیجہ کیا نکلا یہ ابھی تک معلوم نہیں ہوپایا۔

فی زمانہ جدید طب نے ٹکنالوجی کی مدد سے مرض کی تشخیص کے تمام تر اسباب مہیا کر دئے ہیں۔ اب دیگر طبی نظاموں کے ماہرین کے لیے مرض کی تشخیص کوئی مسئلہ نہیں رہ گیا۔ اگر کوئی مسئلہ ہے تو ان امراض کے شافی علاج کا۔ جسے تلاش کرنے کی ذمہ داری طب کے دیگر نظاموں پر عائد ہوتی ہے۔ لیکن اس سمت میں طب یونانی میں افسردگی کی کیفیت ہے۔ ذیابیطس،ہائی بلڈ پریشر،کینسر ،دمہ ،جوڑوں کے امراض آج کی برق رفتار زندگی میں ایک بڑا چیلنج بن کر ابھر رہے ہیں جس کوجدید طب بھی قابو کرنے میں ناکام نظر آرہی ہے۔ طب یونانی کے خزانے میں ایسے نسخہ جات اور ادویات ہیں جو ان امراض کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں لیکن ابھی تک یہ کوئی سنجیدہ موضوع نہیں بن پایا ہے۔ بچوں کے امراض پر بھی کوئی خاص کام نہیں ہورہا ہے ،نہ ہی ایسی دوائیں تیار کی جارہی ہیں جو ان کی عمر،ذوق اور معیار کے مطابق ہوں۔ میرے ایک شناسا نے بتایا کہ ان کے ایک دوست جو یونانی کے ایک ادارے میں علم الادویہ میں ایم ڈی کا کورس کررہے تھے انہوں نے اپنے شعبہ کے صدر سے یہ خواہش ظاہر کی کہ وہ بچوں کے معیار اور ذوق کے مطابق دواؤں کی تیاری پر تحقیق کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن ان کے شعبہ کے صدر نے انہیں اس موضوع پر کام کرنے نہیں دیا۔ یہ سوچنے کا مقام ہے کہ ہمارے یونانی کے تحقیقی ادارے جب مناسب سمت میں کوئی تحقیقی پیش رفت نہیں کررہے ہیں تو کیا صرف سینا،رازی جیسے عظیم حکماءکا نام رٹ لینے سے طب یونانی کی ترقی ہوجائے گی۔

طب یونانی کا دن ضرور منائیے مگر طب یونانی کے زوال کے اسباب اور اس کی ترقی کے امکانات پر بھی سوچئے اور اس کے لیے عملی اقدامات کیجئے۔ کوئی بھی طب اسی وقت مقبول ہوسکتی ہے جب وہ مریض کے جذبات اور اس کی سہولیات کو مقدم رکھے۔ ایسی دوائیں بنائی جائیں جن کی دستیابی ممکن ہو اوران کا استعمال کرنا آسان ہو۔ یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ طبی نسخہ جات سینوں میں بند کرنے کے لیے نہیں ہوتے بلکہ ان کا تبادلہ کیا جاتا ہے۔ لیکن یہ طب کے طلبہ کی بدنصیبی ہے کہ ان کوایسے اساتذہ میسر نہیں ہیں جو انہیں اپنے مجرب نسخہ جات سے رو برو کر سکیں ،حقیقت تو یہ ہے کہ چندمشفق اور صاحب ایثار اساتذہ کو چھوڑ دیا جائے تو بیشتر اساتذہ اپنا علم طلبہ کو نہیں دینا چاہتے۔ تاریخ شاہد ہے کہ جو بھی علوم سینوں میں بند رہتے ہیں اور ان کے دروازے نہیں کھلتے وہ دفن ہوجایا کرتے ہیں۔ اور دفینے تو صرف عجائب گھروں کی زینت بننے کے لیے ہوتے ہیں۔

حجامہ کا سنت طریقہ، فوائد و نقصانات اور احتیاطی تدابیر

 

حجامہ کا سنت طریقہ، فوائد و نقصانات اور احتیاطی تدابیر

                                                                                                                        پروفیسر حکیم سید عمران فیاض

حجامہ کیا ھے؟


انسانی جسم کی صحت کا دارومدار صاف خون پر ہے۔ اگر خون فاسد ہوتو انسان بہت سی پیچیدہ بیماریوں میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ حجامہ ایک ایسا طریقہء علاج ہے کہ جس میں جسم  کے مخصوص مقامات پرایک خاص طریقے سے خفیف سے کٹ لگا کر فاسد خون خارج کیا جاتا ہے۔

یہ طریقہ علاج صدیوں سے رائج ہے۔ اور اس کی سب سے زیادہ اھمیت اس وجہ سے ھے کہ یہ مسنون ھے۔ حجامہ ایک مکمل طریقہ  علاج ہے۔ جن لوگوں کو کہیں سے بھی شفا نہیں ملتی وہ حجامہ کے معجزاتی اثرات سے شفایاب ہو رہے ہیں۔

ہمارے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے۔ بہترین علاج جسے تم کرتے  ھو حجامہ ھے  (صحیح بخاری )

آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی حجامہ لگوایا کرتے تھے۔ معراج کے موقع پر ملائکہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ اپنی امت سے کہیں کہ وہ حجامہ لگوائیں۔ صحیح  بخاری میں حجامہ پر پانچ ابواب موجود ہیں۔

عرب ممالک کے علاوہ جنوب مشرقی ایشیا کے ملکوں میں بھی یہ طریقہ علاج رائج ہے۔ جبکہ چین کا تو یہ قومی علاج ہے۔ یہ گرم اور سرد دونوں علاقوں میں مستعمل ہے۔ مغربی یونیورسٹیوں میں جو طلبہ متبادل میڈیسن پڑھتے ہیں ان کو حجامہ پڑھایا اور سکھایا جاتا ہے۔

یورپ کی یونیورسٹیوں میں ابن سینا کی حجامہ پر لکھی کتابیں پڑھائی جاتی رہی ہیں۔ مسلسل تحقیقات کے بعد امریکہ سمیت تمام مغربی دنیا نے بھی حجامہ کی افادیت تسلیم کر لی ہے۔

مغربی ماہرین کی مسلسل تحقیق کی وجہ سے اب حجامہ میں بہت سی نئی تکنیک متعارف کرا دی گئی ہیں۔ انسانی جسم میں تقریبا ایک سو تینتالیس ایسے مقامات کا انتخاب کر کے ایک نقشہ مرتب کیا گیا ہے جہاں پر حجامہ لگوایا جا سکتا ہے۔

وہ اصول جن پر عملدرآمد کرتے ھوٸے حجامہ لگایا جاتا ھے۔ عام طور پر حجامہ ان مقامات پر کیا جاتا ہے جہاں بیماری ہے۔ مثلا اگر کسی کو معدے کی بیماری ہے تو معدہ کے اوپر حجامہ کیا جاتا ہے اور اگر کسی کو جگر کے مسائل ہیں تو سینے پر دائیں طرف جگر کے اوپر کیا جاتا ہے۔

اگر کسی کو سر میں تکلیف ہوتی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سر کا حجامہ کرنے کی ہدایت فرماتے تھے۔ کئی امراض میں اضافی طور پر گردن کے قریب کندھوں کے درمیان بھی کیا جاتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی اس مقام پر حجامہ کرواتے تھے۔

حجامہ کتنی دفعہ کرنا چاھیے؟

اگر ایک دفعہ حجامہ کروانے سے مرض ٹھیک نہیں ہوتا تو پھر دو ہفتے یا ایک مہینے کے وقفے سے تین سے سات مرتبہ تک کروانا چاہیے۔ یا جیسے طبیب تجویز کرے۔

حجامہ کن کن امراض میں کروایا جا سکتا ھے۔

اللہ تعالی نے حجامہ میں بہت شفا رکھی ہے اور تقریبا سبھی بیماریوں میں حجامہ کروایا جاسکتا ھے۔ خاص طور پر کچھ بیماریوں میں اس کے معجزاتی اثرات سامنے آئے ہیں۔

جیسے شب کوری، نظر کی کمزوری، ڈپریشن، درد شقیقہ ، چکر آنا ، بلڈ پریشر، درد گردہ، کندھوں کا درد، ٹانگوں کا درد، کمر درد، عرق النسا ٕ، دماغی امراض ، برص ، الرجی ، جادو سحر اور بہت سی دوسری بیماریاں۔ اگر جسم میں کہیں بھی درد ہو تو اس مقام پر بھی حجامہ لگوایا جا سکتا ہے۔

حجامہ کا سنت طریقہ

حجامہ کے فوائد

خون کی کمی امراض کو جنم دیتی ہے۔ حجامہ سے جلد کے علاوہ عضلات کو بھی حرکت ملتی ہے۔ جس سے بافتوں میں موجود فاسد خون خارج ہو جاتا ہے۔ یوں دوران خون بہتر ہونے سے ان جگہوں پر بھی خون کی رسائی ہو جاتی ہے جہاں تک پہلے خون نہیں پہنچ رہا تھا۔ حجامہ کے درج ذیل فوائد ہیں۔


خون صاف کرتا ھے جس سے شریانوں پر اچھا اثر پڑتا ہے۔ حرام مغز کو فعال بناتا ہے۔ پٹھوں کے درد اور اکڑاو میں فائدہ پہنچاتا ہے۔

انجایئنا ، دمہ اور پھیپھڑوں کے امراض میں مفید ہے۔ درد شقیقہ، سر درد، دانتوں کے درد اور پھوڑوں کا بہترین علاج ہے۔ ماہواری بند ھونے اور رحم کی بیماریوں کی تکلیف دور کرتا ہے۔ ہائی بلڈ پریشر میں آرام پہنچاتا ہے۔ عرق النساء، گنٹھیا اور نقرس کے دوروں سے نجات دلاتا ہے۔

سینہ کمر اور کندھوں کے درد کے علاوہ جسم میں کہیں بھی درد ہو تو وہاں حجامہ کروانا مفید ہے۔ ان سب کے علاوہ آنکھوں کی بیماریاں، کاہلی، سستی، زیادہ نیند آنا، کیل مہاسے، ناسور، خارش، ذہر خورانی، الرجی، ورم گردہ اور پیپ والے ذخموں کے لیےبھی حجامہ فائدہ مند ہے۔ یہ بھی ضروری ھے کہ صحت مند لوگ بھی حجامہ کرواٸیں۔ کیونکہ نا صرف یہ مسنون ہے بلکہ بیماریوں کو حملہ آور ہونے سے بھی روکتا ہے۔

حجامہ کے لئے احتیاطی تدابیریں

حجامہ کروانے کے بعد ایک گھنٹے تک کچھ کھانے پینے سے اجتناب کریں۔ بہت زیادہ دبلے اور کمزور افراد، اسقاط کروانے والی مریضہ، جگر کے شدید امراض میں مبتلا افراد،  گردوں کی صفائی کروانے والے مریض اور وہ امراض جن میں خون نہیں رکتا، ان کے مریض حجامہ نہ کروایئں۔

ضعیف لوگ جو کمزور بھی ہوں اس وقت تک نہ لگوایئں جب تک کہ اشد ضرورت نہ ہو۔ پانی کی کمی کا شکار بچوں کو بھی نہ لگوایئں۔ غسل کے فوری بعد اور قے ہونے کے فوری بعد بھی نہ لگوایئں۔

دل کا والو تبدیل کروانے والے حضرات بھی نہ لگوایئں۔ البتہ کسی ماہر کی نگرانی میں لگوا سکتے ہیں۔ پیروں اور گھٹنوں پر سوجن ہو تو حجامہ اس مقام سے دور ہٹ کر احتیاط سے لگایئں۔

کم فشار خون کے مریضوں کو کمر کے قریب والی ریڑھ کی ہڈیوں کے قریب نہیں لگانا چاہیے۔ اور ایک ہی وقت میں دو سے زیادہ حجامہ نہیں لگانا چاہیے۔

خون کی کمی کے مریض اپنے معالج کے مشورے سے حجامہ لگوایئں۔ حاملہ خواتین کو ابتدائی تین ماہ میں نہیں لگوانا چاہیے۔

نشہ آور ادویات کھانے والے اور خون کو پتلا کرنے والی ادویات کھانے والوں کو بھی نہیں لگوانا چاہیے۔

ذیابیطس کے مریض حجامہ لگوانے سے پہلے اپنی شوگر چیک کروا لیں شوگر تقریبا سو ملی گرام ہونی چاہیے۔ ضروری نوٹ: یہ مضمون لکھنے کے لیے جناب ڈاکٹر امجد احسن علی صاحب کی کتاب  الحجامہ حجامہ (پچھنا) علاج بھی سنت بھی سے مدد لی گئی ہے

اتاٸی کا مطلب کوٸی بھی ایسا فرد جو کہ اپنے متعلقہ شعبہ میں مستند نہ ھو وہ اتاٸی تصور ھوگا۔ ذرایعہ  کے مطابق بعض حجامہ سینٹرز و کلینک پر نان کوالیفاٸیڈ پرسن کام کر رھے ھوتے ھیں۔ شاید ان میں چند انگوٹھا چھاپ بھی ھوں گے کیونکہ ان کا نہ تو کوئی آج تک ضابطہ اخلاق بنایا گیا اور نہ ھی  پنجاب ھیلتھ کیٸر کمیشن نے اس طرف کوٸی توجہ دی جبکہ دیگر متعلقہ ادارے بھی خاموش تماشاٸی بنے بیھٹے ھیں۔ حکومت کو چاھیے کہ ان حجامہ سینٹرز پر کوالیفاٸیڈ پرسن کی موجودگی کو لازمی قرار دیا جانا چاھیے۔ نیشنل کونسل فار طب سے رجسٹرڈ طبیب ھی جراحی و حجامہ کرنے کا مجاز ھے۔ جس طرح پنجاب ھیلتھ کیٸر کمیشن کے تحت دواخانوں کو رجسٹرڈ کیا۔ گیا اور ان کو لایسینس دیے گئے ہیں۔ ادویات ساز اداروں کو ڈریپ کے تحت فارم 6 اور فارم7 کے تحت اپنے کام کرنے کا پاپند کیا گیا۔ اسی طرح ان حجامہ سینٹرز و کلینک کا بھی ضابطہ اخلاق منظور ھونا چاھیے۔ اور اس حوالے سے مانیٹرنگ ٹیموں کی تشکیل بھی بہت ضروری ھے۔

یہ بات باعث حیرت ھے کہ ھمارے ملک میں قوانین تو بناٸے جاتے ھیں  لیکن ان قوانین پر شاید 50 فیصد بھی وطن عزیز میں عمل درآمد ممکن نہ ھوسکا۔ مذید یہ کہ حجامہ کورسیز کروانے والوں کی بھی چھان بین کرواٸی جاٸے جو غیر قانونی طور پر ہزاروں روپے لے کر عوام کو جھوٹے خواب دکھلا کر ان سے ڈپلومہ یا سرٹیفکیٹس دے کر ہزاروں کا ٹیکہ لگا دیتے ھیں اور انھیں کوٸی پوچھنے والا نہیں۔ میری سپریم کورٹ آف پاکستان۔ وزیراعظم پاکستان۔ وزیراعلی پنجاب۔ پنجاب ھیلتھ کیٸر کمیشن اور متعلقہ محکموں سے گذارش ھے کہ  وطن عزیز میں موجود بعض نام نہاد حجامہ سینٹرز و کلینکس  پر چیک اینڈ بیلنس کا نظام قائم رکھنے کے لیٸے ٹاسک فورس کا قیام عمل میں لایا جاٸے۔ اس ٹاسک فورس میں انتہاٸی ایماندار افراد شامل کیٸے جایں۔ جو ان کلینکس کا چیک اینڈ بیلنس رکھیں۔ اور انکا ضابطہ اخلاق بھی ترتیب دیں۔ تاکہ معاشرہ کو صحت عامہ کے حوالے سے درپیش مساٸل سے نجات مل جاٸے۔ اسکے علاوہ ان انگوٹھا چھاپ اتاٸیوں اور ان  غیر مستند اشخاص کے خلاف بھی سخت سے سخت قدم اٹھاٸیں جو اپنے شعبہ میں مستند نہ ھیں اور نہ ھی انکے پاس متعلقہ شعبہ کی رجسٹریشن ھے۔ لیکن وہ بڑی ڈھٹائی کے ساتھ مریضوں کا حجامہ کررھے ھیں۔ یہ بات بھی اظہر من الشمس ھے کہ پانچوں انگلیاں برابر نہیں ھوتیں اسی طرح سارے حجامہ سینٹرز و کلینکس والے غلط نہیں ھوتے۔ لیکن بہرحال جو غلط ھیں وہ مریضوں میں انتہاٸی خطرناک و مہلک امراضی ہیپاٹایٹس۔ ایڈز و دیگر ٹرانسفر کر رھے ھیں۔

پنجاب ھیلتھ کٸیر کمیشن کے مینجر طب حکیم فاروق حسن کے مطابق حجامہ کے حوالہ سے قانونی پوزیشن واضح کرنا چاہتا ہوں. کیونکہ آج کل بہت سے لوگوں نے سبز باغ دکھا کر مال بنانا شروع کیا ہوا ہے جو کے غیر قانونی ہے. قانون کے مطابق حجامہ صرف نیشنل کونسل سے رجسٹرڈ طبیب ہی کر سکتا ہے اس کے علاوہ قانون کسی کو حجامہ کرنے کی اجازت نہیں دیتا. حجامہ طب کے سلیبس کا حصہ ہے. اور گورنمنٹ سے recognized  کالج/University میں اس کی تعلیم دی جاتی ہے. اور انھیں کالجز میں اسکی عملی تربیت کا بندوبست بھی کیا جاتا ہے. ان کالجز /University کے علاوہ دوسرا کوئ فرد  حجامہ کی تعلیم و تربیت مہیا کرنے کا اختیار نہیں رکھتا. اسلیے اس قسم کے غیر قانونی کام سے اجتناب کیا جاے.

اس حوالے سے معروف حجامہ سپیشلسٹ حکیم حامد اشرف کی خوبصورت بات تحریر کر رھا ھوں۔
جو احباب حجامه کورس کروا رہے ہیں ان سے گزارش ہے کہ وہ حجامہ کورس میں داخلہ کے لیے صرف نیشنل کونسل فار طب سے سرٹیفائیڈ رجسٹرڈ طبیب کو داخلہ دیں۔ غیر طبیب فنی اعتبار سے کبھی درست حجامہ کر ہی نہیں سکتا خواہ اس کے پاس جدید میڈیکل سائنسزز کی اعلی ترین ڈگریاں ہی کیوں نہ ہوں۔ نیز یہ عمل قانونی لحاظ سے بھی جرم ہے۔

حجامہ کے لیے تشخیصِ مرض ،  مقامِ حجامہ کا تعین، عمومی نضج، مقامی نضج،  امالہ اور قوتِ مدبرہ بدن کے تعاون کا حصول ایسے ناگزیر عوامل ہیں جنہیں غیر طبیب کبھی حاصل نہیں کر سکتا۔

طبیب کے علاوہ کسی دوسرے شخص کو حجامہ سکھانا فنی خدمت نہیں بلکہ فنی بددیانتی ہوگی۔ اللہ رب العالمین ہمیں انبیاء کی وراثت اس طبِ اسلامی کی کما حقہ خدمت کرنے کی توفیق عطاء فرمائیں۔