نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

نوائے ٹوکیو۔۔۔۔ایک نظر

            نوائے ٹوکیو، ٹوکیو جاپان سے بیک وقت انگریزی / اردو میں نکلنے والاپہلا میگزین ہے۔یہ رسالہ اطہرصدیقی کی ادارت میں نکلتاہے۔ جس کا پہلا شمارہ ١٩٩١ءمیں منظر عام پر آیا۔  اس رسالے کی اشاعت کا بنیادی مقصد جاپان و دیگر ممالک میں بسنے والے پاکستانیوں کی نماندگی کرنا اور ساتھ ہی ملک کے یعنی پاکستان کی سیاسی، سماجی و معاشی حالات سے پاکستانیوں کو آگاہ کروانا رہا۔ ابتدا میں یہ رسالہ صرف پرنٹ کی شکل میں شائع ہوتا رہا۔ لیکن انٹرنٹ کی اہمیت کو کون جھٹلا سکتاہے۔ انٹرنٹ حالیہ برسوں میں سب سے تیز میڈیا بن گیاہے۔ روایتی ذرائع ابلاغ کے مقابلے یہ کہیں موثر اور تیز ہے۔ یہ کوئی سرحد اور کوئی مخصوص سامعین نہیں رکھتا۔ یہ ایک عالمی ذریعہ ہے۔ اس سے نہ کسی ایک ملک کی عوام مستفد ہوسکتی ہے بلکہ یہ ساری دنیا کیلئے فائدہ مند ثابت ہوتاہے۔ ساتھ ہی ساتھ اس کی لاگت بھی کم آتی ہے۔ یہ بہت ہی سستا اور موثر ذریعہ ہے۔ اسی کے چلتے اس کو انٹرنٹ سے جوڑا گیا۔اور یہ ایک برقی رسالہ کی حیثیت سے دنیا کے انٹرنٹ جال پر چھایاہواہے۔


جناب اطہر صدیقی کے معاونین کی فہرست میںDeputy Chief Editor کی حیثیت سے جناب این۔فرحت صدیقی، ایڈیٹر کی حیثیت سے جناب احمدصدیقی، اسس ٹنٹ ایڈیٹر کی حیثیت سے جناب آرنصیر، مارکٹنگ مینیجر کی حیثیت سے جناب احمدصدیقی، لیگل اڈویزر کی حیثیت سے  شوجی یانگا، کرسپانڈنٹس کی حیثیت سے جناب حارث درویش،  جناب اقبال شاہد، جناب نبیلااحمد، اور ویب ماسٹر کی حیثیت سے جناب طاحاسید شامل ہیں۔

            جناب اطہرصدیقی ایک جنرلسٹ کے علاوہ ایک مشہور بزنس من  بھی ہیں۔یہ یونیکUniqueMotors FZC جون2000 سے تاحالی )یعنی تقریبا15 ( سال سےmanaging director  رہے ہیں جو دبئی میں موجود ہے۔ یہ ایک مشہور استعمال شدہ گاڑیوں کی شوروم ہے۔ جس میں دنیا بھر کے تمام اونچے برانڈز کے فوروھیلرس دستیاب ہیں۔

علاوہ ازیں جناب اطہر صدیقی WorldwideShowaTsucho Co. Ltd کے صدر کی حیثیت 1985 سے تاحال تقریبا ۳۰ سا ل سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔  جو Soka, Saitama Ken, Japan میں موجود ہے۔اس کا کاروباردنیا کے مشہور ممالک میں پھیلاہواہے۔  اس کےعلاوہ Sawasho Boeki Kabuki Kaisha, Ohtemachi, Tokyo, Japan میں بحیثیت vice president میں اپنی 7 سال خدمات انجام دے چکے ہیں۔


                نوائے ٹوکیو کا سرا جس کو Head کہاجاتاہے بہت ہی خوبصورت اورخوش رنگ ہے۔ اس کے دائین جانب سب سے پہلے "جاپان کی خبری" کا ایک لنک دیاگیاہے۔جسکو کلک کرنے سے جاپان کی خبریں رونما ہونگی۔ جاپان کی خبروں کے لنک کے ٹھیک نیچے جانب نوائے ٹوکیو میں لکھنے والوں کی تصاویر موجود ہیں جس کو کلک کرنے سے تصویر اور نام سے متعلق تمام مضامین رونما ہوجاتی ہیں۔ جس میں سب سے پہلا نام سید کمال حسن رضوی کا ہے۔ سید کمال حسین رضوی کی تخلیقات میں "قرآن" نصیحت و ہدایت کی کتاب" کے عنوان سے مختصر مضمون شامل ہے۔ جو اسطرح ہے۔
                "پھر خالق و مالک نے انسانیت پر احسان فرمایا کہ سارے عالم کی ہدایت کیلئے ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا انتخاب فرمایا، اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں عنایت فرمائے۔ جن پر کوءی شک نہیں کرسکتا کہ ان کا اپنا کلہام ہے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم امی ہیں، کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھنا نہیں جانتے تحے۔ اور یہی وہ چیز تھی جو لوگوں کے دلوں پر اثر کرتی چلی گئی اور اللہ تعالی نے اپنے دین کو مضبوط فرمادیا۔ حیرانگی اس بات کی ہے کہ اتنی جاہل قوم کیونکر اس بات پر راضی ہوگئ  کہ ہمارے نبی کی باتوں کو قبول کرکے دل سے اللہ تعالی کی حدایات کو قبول کرلیا۔ تو سب سے پہلے تو توفیق الہی، دوسری اسکی حکمت کی وجہ یہی نظر آتی ہے کہ کیونکہ یہ قرآن،  نے انہی کی زبان میں نازل کیا، تاکہ یہ لوگ آسانی سے سمجھ کر اللہ تعالی پر ایمان لے آئین۔ اب غور طلب بات یہ ہے۔۔۔۔{جاری}
                اتنا کہتے ہوئے بقیہ مضمون کو گلے شمارے کیلئے چحوڑ دیاگیاہے۔ اسکے بعد حدیث نبوی؟بیت الخلا میں داخل ہونے کی دعا"۔ سنن ابوداود کے حوالے سے مرتب کی گئی ہیں۔
                اس کے بعد ایک اور مضمون "قرآن:نصیحت و ہدایت کی کتاب" نے عنوان سے ترتیب دیاگیاہے۔ اس مضمون میں سب سے پہلے اللہ کی تعاریف پیش کی گئی ہے، لکھتے ہیں کہ سب تعریف اللہ تعالی کی ہے کہ جس نے ہمیں توفیق دی کہ ہم سب اللہ تعالی کی دی گئی ہدایت اورنصیحت کی کتاب قرآن کریم پر عمل کرنے کی اور یہ ہدایات دوسروں تک پہنچانے کی، جدوجہد میں مصروف ہیں۔ امید ہے اللہ تعالی اس معاملے میں ہم سب کی پشت پناہی فرمائیں گے۔
                آگے لکھتے ہیں۔
                ہمارے رسول کے زمانے پر غور کریں تو معلوم ہوتاہے کہ اس کتاب پر تیزی سے عمل اس لئے ہواکہ ایک طرف تو اللہ تعالی کی حکمت تحی تو دوسری طرف یہ انہی لوگوں کی زبان میں نازل ہوئی، اسی وجہ سے ان لوگوں کو تھوڑے ہی سالوں میں اس کو سمجھنے میں اور اس پر عمل کرنے میں مشکل نہ پڑی، اور جلد ہی ایمان لے آئے۔ یہاں تک کہ اس زمانے کے کافرو مشرک بھی اس زبان کو جانتے تھے، اور اس کا مطلب سمجھتے تھے۔پھر ان لوگوں کو قرآن کی عربی کے الفاظ سے اندازہ ہوگیا تحا کہ اتنی گہرائی کی باتیں اور الفاظ کسی عام یا خاص کی دسترس سے باہر ہیں، اور یہ وہ باتیں ہیں جن کو خالق ہی جان سکتاہے۔ اور یہی وہ چیز ہے جس نے کافروں اور مشرکوں کو بھی اللہ پر ایمان لانے کی راہ دکھائی۔

                اس کے بعد مکتوب آسٹریلیاکا لنک دیا گیاہے۔
                سیدکمال حسین رضوی کے مضامین کے بعد مکتوب آسٹریلیا کے حوالے سے ایک مکتوب پیش کیاگیاہے۔ جس میں اردو سوسائیٹی آف آسٹریلیا کے سالانہ بین الاقوامی مشاعرے اردو کے ادیب شاعر اور صحافی طارق محمود مرزا کو آسٹریلیا میں اردو کا سب سے بڑا ایوارڈ "نشان اردو" دیاگیا ۔ طارق مرزا کا ایک اردو سفر نامہ "خوشبوکا سفر" دوہزارآٹھ میں پاکستان میں شاءع ہوچکاہے۔ وہ صحافی اور کالم نگاربھی ہیں۔ انہوں نے کئی سال تک سڈنی میں اپنا اخبار بھی شائع کیا۔ ان کے کالم مختلف اخبارات میں چھپتے رہتے ہیں۔ان کی کہانیاں اردو ڈائجسٹ لاہور میں تواتر کے ساتھ شائع ہوتی رہتی ہیں۔ اردو سوسائیٹی آف آسٹریلیا نے ان کی اردو ادب کی خدمات کے صلے میں انہیں آسٹریلیا میں اردو کے سب سے بڑا ایوارڈ "نشان اردو" سے نوازا۔ یہ ایوارڈ انہیں سوسائیٹی کے صدر عباس گیلانی نے دیا۔ اس مشاعرے میں پاکستان کے مشہور مزاحیہ شاعر خالد مسعود، ایوارڈ یافتہ شاعر اظہارالحق، اشرف شاد اور اوم کرشن راحت سمیت دوسرے بہت سے شعراء نے شرکت کی۔ تقریب کی نظامت ڈاکٹر کوثر جمال اور اشرف شاد نے کی۔ مشاعرے میں بہت بڑی تعداد میں خواتین و حضرات نے شرکت کی۔
                طارق محمود نے مشاعرے میں اپنا کلام بھی پیش کیا کلام کے کچھ اشعار اس طرح ہیں۔
یہ دیوانے سے کیوں رات بھرپھرتے ہیں
کیا جستجوہے، کیوں دربدر پھرتے ہیں

لب پر چاہے ایک سکوت ساطاری
دل میں مگر طوفان لے کر پھرتے ہیں

جن کے فن سے زیست نموپاتی ہے
وہی تولے کے زخمی جگر پھرتے ہیں

دل کا تلاطم تو کب کا ٹھہرچکا
کس لئے پھر دیدہ تر پھرتے ہیں

کب سے ہے میری زمین امن کی پیاسی
بادل ہیں کہ بس اِدھر اُدھرپھرتے ہیں

جلتے ہیں جن کہ خوں سے لاکھوں چراغ
وہی مسافر بے وطن و بے گھر پھرتے ہیں

مدت ہوئی وگلیاں چھوڑے ہوئے طارق
خوابوں میں آج بھی وہی منظر پھرتے ہیں

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عہد بہمنیہ میں اُردو شاعری، ڈاکٹر سید چندا حسینی اکبر، گلبرگہ نیورسٹی گلبرگہ Urdu poetry in the Bahmani period

  عہد بہمنیہ میں اُردو شاعری  Urdu poetry in the Bahmani period                                                                                                 ڈاکٹر سید چندا حسینی اکبرؔ 9844707960   Dr. Syed Chanda Hussaini Akber Lecturer, Dept of Urdu, GUK              ریاست کرناٹک میں شہر گلبرگہ کو علمی و ادبی حیثیت سے ایک منفرد مقام حاصل ہے۔ جب ١٣٤٧ء میں حسن گنگو بہمنی نے سلطنت بہمیہ کی بنیاد رکھی تو اس شہر کو اپنا پائیہ تخت بنایا۔ اس لئے ہندوستان کی تاریخ میں اس شہر کی اپنی ایک انفرادیت ہے۔ گلبرگہ نہ صرف صوفیا کرام کا مسکن رہاہے بلکہ گنگاجمنی تہذیب اور شعروادب کا گہوارہ بھی رہاہے۔ جنوبی ہند کی تاریخ میں سرزمین گلبرگہ کو ہی یہ اولین اعزاز حاصل ہے کہ یہاں سے دین حق، نسان دوستی، مذہبی رواداری اور ایک مشترکہ تہذیب و تمدن کے آغاز کا سہرا بھی اسی کے سر ہے . ۔   Urdu poetry in the Bahmani period

فیض کے شعری مجموعوں کا اجمالی جائزہ

: محمدی بیگم، ریسرچ اسکالر،  شعبہ اردو و فارسی،گلبرگہ یونیورسٹی، گلبرگہ ’’نسخہ ہائے وفا‘‘ کو فیض کے مکمل کلیات قرار دیا جاسکتا ہے، جس میں ان کا سارا کلام اور سارے شعری مجموعوں کو یکجا کردیا گیا ہے، بلکہ ان کے آخری شعری مجموعہ ’’ مرے دل مرے مسافر‘‘ کے بعد کا کلام بھی اس میں شامل ہے۔  فیض ؔ کے شعری مجموعوں کی کُل تعداد ’’سات ‘‘ ہے، جن کے نام حسبِ ذیل ہیں:

اداریہ

  آداب !                   اُمید کہ آپ تمام خیریت سے ہوں گے۔ کورونا کی تیسری لہر کا خطرہ بھی ٹلتا ہوا نظر آرہاہے۔ زندگی کی گاڑی پٹری پر آتی ہوئی نظر آرہی ہے۔ اللہ کرے کہ ایسا ہی ہو۔ خیر یہ کورونا کی لہر یا کورونا کا بنایا ہوا جال تو دو سال سے چل رہاہے۔ لیکن کیا ہم صحت کو لے کر پہلے پریشان نہیں تھے؟ ہمارے گھروں میں ہمارے خاندانوں میں بیماریوں کا بھنڈار پڑا ہے۔ ہر کسی کو کچھ نا کچھ بیماری ہے۔ سردرد جیسے چھوٹی بیماری سے لے کر کینسر جیسے جان لیوا امراض   تک ہمارے خاندانوں میں ضرور پائے جاتی ہے۔                   عزیزان من!   کیا آپ نے سوچا ہے کہ یہ سب کیوں ہورہاہے۔اگر ہم   ہمارے آبا و اجداد کی زندگی پر نظر ڈالیں تو ہمیں کوئی بیماری نظر نہیں آتی۔ چند ایک کو چھوڑ کر جن کی عمریں زیادہ ہوئیں تھیں وہ بھی زیادہ بیڑی کا استعمال کرنے والوں کو پھیپھروں کا کچھ مسئلہ رہتا تھا وہ بھی جان لیوا نہیں ہوا کرتا تھا۔ بس زیادہ سے زیادہ کھانستے رہتے تھے۔ اور آخری دم تک کھانستے ہی رہتے تھے۔ ان کی عمریں سو یا سو کے آس پاس ہوا کرتی تھی۔                   کبھی کسی کو دل کا دورہ نہیں ہوا کرتا تھا اور