جمعرات، 29 ستمبر، 2022

نور الدین زنگی بنوں گا* I can Proudly say *I Love Prophet* Muhammadﷺ s.a.a.w. *ڈاکٹر محمد اعظم رضا تبسم* کی کتاب *کامیاب زندگی کے راز* سے انتخاب

 *میں نور الدین زنگی بنوں گا* 

I can Proudly say

 *I Love Prophet* Muhammadﷺ s.a.a.w.

 *ڈاکٹر محمد اعظم رضا تبسم* کی کتاب *کامیاب زندگی کے راز* سے انتخاب ۔ *مسکان رومی* 

 *کیا اس دور کی ماوں نے نور الدین زنگی پیدا کرنے چھوڑ دیے ہیں ۔ آج پھر امت مسلمہ کو ایک عدد نور الدین زنگی کی تلاش ہے* ۔

 یہ چھٹی یا ساتویں جماعت کا کمرہ تھا اور میں کسی اور ٹیچر کی جگہ کلاس لینے چلا گیا۔ تھکن کے باوجود  کامیابی کے موضوع پر طلبا کو لیکچر دیا اور پھر ہر ایک سے سوال کیا *ہاں جی تم نے کیا بننا ہے ہاں جی آپ کیا بنو گے ہاں جی آپ کاکیا ارادہ ہے کیا منزل ہے* ۔ سب طلبا کے ملتے جلتے جواب ۔ ڈاکٹر انجینیر پولیس فوجی بزنس مین ۔ لیکن ایسے لیکچر کے بعد یہ میرا روٹین کا سوال تھا اور بچوں کے روٹین کے جواب ۔ *جن کو سننا کانوں کو بھلا اور دل کو خوشگوار لگتا تھا ۔لیکن ایک جواب آج بھی دوبارہ سننے کو نا ملا کان تو اس کو سننے کے متلاشی تھے ہی مگر روح بھی بے چین تھی ۔* عینک لگاۓ بیٹھا خاموش گم سم بچہ جس کو میں نے بلند آواز سے پکار کر اس کی سوچوں کاتسلسل توڑا ۔ہیلو ارے میرے شہزادے آپ نے کیا بننا ہے۔ آپ بھی بتا دو ۔کیا آپ سر تبسم سے ناراض ہیں۔ 

بچہ آہستہ سے کھڑا ہوا اور کہا سر میں نور الدین زنگی بنوں گا ۔ میری حیرت کی انتہإ نا رہی اور کلاس کے دیگر بچے ہنسنے لگے ۔ *اس کی آواز گویا میرا کلیجہ چیر گٸی ہو ۔ روح میں ارتعاش پیدا کر دیا ۔پھر پوچھا بیٹا آپ کیا بنو گے ۔ سر میں نور الدین زنگی بادشاہ بنوں گا ۔* ادھر اس کاجواب دینا تھا ادھر میری روح بے چین ہو گٸی جیسے اسی جذبے کی اسی آواز کی تلاش میں اس شعبہ تدریس کواپنایا ہو ۔ 

بیٹا آپ ڈاکٹر فوجی یا انجینیر کیوں نہیں بنو گے ۔ 

 *سر امی نے بتایا ہے کہ اگر میں نور الدین زنگی بنوں گا تو مجھے نبی پاک ﷺ کا۔دیدار ہو گا* جو لوگ ڈنمارک میں ہمارے پیارے نبی ﷺ کی شان میں گستاخی کررہے ہیں ان کو میں زندہ نہیں چھوڑوں گا ۔ اس کے ساتھ ساتھ اس بچے کی آواز بلند اور لہجے میں سختی آرہی تھی ۔ *اس کی باتیں سن کر۔میرا جسم پسینہ میں شرابور ہو گیا ادھر کلاس کے اختتام کی گھنٹی بجی اور میں روتا ہوا باہر آیا ۔* 

مجھے اس بات کااحساس ہے کہ آج ماوں نے نور الدین زنگی پیدا کرنے چھوڑ دیے ہیں اور اساتذہ نے نور الدین زنگی بنانا چھوڑ دیے ہیں ۔ *میں اس دن سے آج تا دم تحریر اپنے طلبا میں پھر سے وہ نور الدین زنگی تلاش کر رہاہوں* کیا آپ جانتے ہیں وہ کون ہے اس ماں نے اپنے بیٹے کو کس نورالدین زنگی کا تعارف کروایا ہو گا *یہ واقعہ پڑھیے اور اپنے بچوں میں سے ایک عدد نور الدین زنگی قوم کو دیجیے* ۔ایک رات سلطان نور الدین زنگی رحمتہ اللّه علیہ عشاء کی نماز پڑھ کر سوئے کہ اچانک اٹھ بیٹھے۔

اور نم آنکھوں سے فرمایا میرے ہوتے ہوئے میرے آقا دوعالم ﷺ کو کون ستا رہا ہے .

 *آپ اس خواب کے بارے میں سوچ رہے تھے جو مسلسل تین دن سے انہیں آ رہا تھااور آج پھر چند لمحوں پہلے انھیں آیا جس میں سرکار دو عالم نے دو افراد کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ یہ مجھے ستا رہے ہیں.* 

اب سلطان کو قرار کہاں تھا انہوں نے چند ساتھی اور سپاہی لے کر دمشق سے مدینہ جانے کا ارادہ فرمایا .اس وقت دمشق سے مدینہ کا راستہ ٢٠-٢٥ دن کا تھا مگر آپ نے بغیر آرام کیئے یہ راستہ ١٦ دن میں طے کیا. مدینہ پہنچ کر آپ نے مدینہ آنے اور جانے کے تمام راستے بند کرواے اور تمام خاص و عام کو اپنے ساتھ کھانے پر بلایا.

 *اب لوگ آ رہے تھے اور جا رہے تھے ، آپ ہر چہرہ دیکھتے مگر آپکو وہ چہرے نظر نہ آے اب سلطان کو فکر لاحق ہوئی اور آپ نے مدینے کے حاکم سے فرمایا کہ کیا کوئی ایسا ہے جو اس دعوت میں شریک نہیں* .جواب ملا کہ مدینے میں رہنے والوں میں سے تو کوئی نہیں مگر دو مغربی زائر ہیں جو روضہ رسول کے قریب ایک مکان میں رہتے ہیں . تمام دن عبادت کرتے ہیں اور شام کو جنت البقیح میں لوگوں کو پانی پلاتے ہیں ، جو عرصہ دراز سے مدینہ میں مقیم ہیں.

 *سلطان نے ان سے ملنے کی خواہش ظاہر کی، دونوں زائر بظاہر بہت عبادت گزار لگتے تھے.* انکے گھر میں تھا ہی کیا ایک چٹائی اور دو چار ضرورت کی اشیاء.کہ یکدم سلطان کو چٹائی کے نیچے کا فرش لرزتا محسوس ہوا. آپ نے چٹائی ہٹا کے دیکھا تو وہاں ایک سرنگ تھی.

 *آپ نے اپنے سپاہی کو سرنگ میں اترنے کا حکم دیا .وہ سرنگ میں داخل ہویے اور واپس اکر بتایا کہ یہ سرنگ نبی پاک صلی اللہ علیھ والہ وسلم کی قبر مبارک کی طرف جاتی ہے،* 

یہ سن کر سلطان کے چہرے پر غیظ و غضب کی کیفیت تری ہوگئی .آپ نے دونوں زائرین سے پوچھا کے سچ بتاؤ کہ تم کون ہوں.

 *حیل و حجت کے بعد انہوں نے بتایا کے وہ یہودی ہیں اور اپنے قوم کی طرف سے تمہارے پیغمبر کے جسم اقدس کو چوری کرنے پر مامور کے گئے ہیں.* سلطان یہ سن کر رونے لگے ، اسی وقت ان دونوں کی گردنیں اڑا دی گئیں.

سلطان روتے جاتے اور فرماتے جاتے کہ

💞"میرا نصیب کہ پوری دنیا میں سے اس خدمت کے لئے اس غلام کو چنا گیا"💞

 *اس ناپاک سازش کے بعد ضروری تھا کہ ایسی تمام سازشوں کا ہمیشہ کہ لیے خاتمہ کیا جاۓ سلطان نے معمار بلاۓ اور قبر اقدس کے چاروں طرف خندق کھودنے کا حکم دیا یہاں تک کے پانی نکل آے* .سلطان کے حکم سے اس خندق میں پگھلا ہوا سیسہ بھر دیا گیا.💞

بعض کے نزدیک سلطان کو سرنگ میں داخل ہو کر قبر انور پر حاضر ہو کر قدمین شریفین کو چومنے کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔💞

 *تحریر لمبی ضرور ہے مگر آپ کو۔پسند آٸی توعشق آقا کےواسطے اسے شٸیر کیجیے گا ۔* ڈاکٹر محمد اعظم رضا تبسم اسلام تیرا دیس ھے تو مصطفوی ھے۔۔  اس تحریر کو کاپی کرتے ہوئے آگے بڑھائیے۔اچھی بات اگے پھیلانا بھی صدقہ ہے  شکریہ ہمارے پیج کا لنک دستیاب ہے ...https://www.facebook.com/Dr.M.AzamRazaTabassum/

 *ڈاکٹر صاحب کی تحریریں .واٹس ایپ پہ حاصل کرنے کے لیے .ہمیں اپنا نام .شہر کا نام اور جاب لکھ کر اس نمبر پر میسج کریں .* 03317640164. 

شکریہ .ٹیم نالج فارلرن.

اچھا سوچو-اچھا بولو-اچھا کرو

 

PURE THINK PURE SPEAK

اچھا سوچنا اچھا بولنا اچھا کرنا ایک سادہ اور آفاقی وژن ہے۔ ایک ایسا وژن جس سے ہم میں سے ہر ایک جڑ سکتا ہے اور اس کے حصول میں اپنا حصہ ڈال سکتا ہے۔ ایک وژن اس یقین پر مبنی ہے کہ اچھے اعمال، مثبت سوچ اور الفاظ، احساسات اور اعمال کے مثبت انتخاب سے ہم دنیا میں نیکی کو بڑھا سکتے ہیں۔ ہم میں سے بہت سے لوگ تبدیلی کے ایک مرحلے کا سامنا کر رہے ہیں، پرانے نمونوں کو ختم کر رہے ہیں اور نئے کی طرف بڑھ کر خود کو پرانے سے آزاد کر رہے ہیں۔ صلاحیت صرف اس حقیقت میں موجود ہے کہ ہم میں سے اکثریت تبدیلی کے لیے ترس رہی ہے۔ لیکن اس طرح کی تبدیلی کے عملاً رونما ہونے کے لیے لوگوں کی ایک اہم جماعت کی ضرورت ہوتی ہے، جو نیکی کی توانائی اور تبدیلی کے لیے واضح جذبہ سے کارفرما ہوتے ہیں، کیوں کہ صرف اتنی بڑی تعداد میں لوگ جو اچھا سوچتے ہیں، اچھا بولتے ہیں اور اچھا کرتے ہیں۔ مجموعی طور پر بنی نوع انسان کی حالت میں ضروری تبدیلی پیدا کریں۔ تبدیلی کو ایک نئی حقیقت کی تخلیق میں اپنا اظہار کرنا چاہیے جو اتحاد، محبت، دوستی اور ہمدردی کی غالب اقدار پر زور دیتا ہے، اور سب سے بڑھ کر - قابو پانے کی صلاحیت، اپنے آپ کو اور دوسروں کو، ہمارے اختلافات کو قبول کرنے کی صلاحیت کو شامل کرتی ہے۔ اور انفرادیت. سالوں کے دوران، گڈ ڈیڈز نے زیادہ مقبولیت حاصل کی ہے، جس نے جغرافیائی حدود سے باہر پھیل کر دنیا بھر میں بہت سے ممالک کو شامل کیا ہے۔ اچھے اعمال اس بات کی مثال کے طور پر کام کرتے ہیں کہ ہماری دنیا کتنی اچھی لگ سکتی ہے۔ اگر ہم اچھے اعمال کی اقدار اور اس کے عمل کے طریقوں کو اپناتے ہیں، تو یہ یقینی ہے کہ ہماری دنیا میں ضروری تبدیلی لانے کے لیے کوئی ایک اہم لوگوں کا مجموعہ بنا سکتا ہے۔ جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ ایسا نیک عمل ہماری اپنی زندگی کو بھی بہتر بنائے گا اور ہمیں خوش رکھے گا۔ ایک ساتھ، خیر سگالی اور اپنی صلاحیت پر یقین کے ساتھ، ہم اپنے اور اپنی آنے والی نسلوں کے لیے ایک پائیدار اور حقیقی تبدیلی لا سکتے ہیں۔ جب بھی ہمارے دماغ میں کوئی منفی سوچ آتی ہے، ہمیں اس کا مقابلہ کرنے کے لیے کچھ مثبت سوچنا چاہیے۔ ماضی کے بارے میں مت سوچیں، اس سے سیکھیں۔ ماضی چلا گیا اور ساتھ ہو گیا۔ یہ ختم ہو گیا ہے اور آپ اسے تبدیل نہیں کر سکتے۔ آگے بڑھیں۔

PURE THINK PURE SPEAK

بچے من کے سچے

 

بچے من کے سچے

            بچے من کے سچے، بچے بھگوان کا روپ، بچے دل کے صاف، بچے ماں پاب کے جینے کا مقصد،  بچے ملک کا مستقبل اور جانے کیا کیا بچوں کے بارے میں کہا جاتا ہے۔ بچوں کی اہمیت ان سے پوچھیں کہ جن کے یہاں شادی کے کئی کئی سال اولاد نہیں ہوتی۔  اولاد کیلئے لوگ کیا کیا نہیں کرتے۔ حصول اولاد کیلئے درگاہ، مندر، مسجد، پوجاپاٹ، صدقہ خیرات، ہزاروں بلکہ استعطاعت کے مطابق لاکھوں کروڑوں روپئے خرچ کئے جاتے ہیں۔  لیکن مراد پوری نہیں ہوتی۔ یہ تو رہی بات چند لوگوں کی جنہیں اولاد نہیں ہوتی۔ اکثر کو شادی کے فوری بعد اولاد ہو جاتی ہے۔ اب اولاد ہو اور ان میں کوئی قدرتی نقص ہو، اولاد ہو ان میں کوئی بیماری ہو، اولاد ہو اور ڈاکٹروں کی غلطی سے ان میں کوئی ہمیشہ رہنے والی بیماری لگ جائے تو کیا ہو۔ ایسے والدین کی زندگی تو ایک عذاب کے مانند ہوتی ہے۔ زندگی کی ساری کمائی ان کے علاج میں ڈال دیتے ہیں۔ فیس بک پر آئے دن کئی ایسے اشتہار آتے ہیں کہ بچے کو فلاں بیماری ہے فلاں آپریشن ہے 16کروڑ کا انجکشن کی ضرورت ہے  یا کڑوڑؤں کا اپریشن کی کرنے کی ضرورت ہے مدد کریں وغیرہ۔

            کیا آپ سمجھتے ہیں کہ یہ صحیح ہے۔ کیا واقعہ کچھ بیماریاں ایسی ہوتی ہیں کہ ان کو دور کرنے کیلئے کروڑوں روپیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔  ہم کہتے ہیں کہ ایسا بالکل نہیں ہے۔ کوئی بیماری ایسی نہیں ہے کہ جس کو دور کرنے کیلئے لاکھوں یا کروڑوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

            ہمیں یہ جاننا چاہئے کہ بیماری کیوں ہوتی ہے۔ ہم جن چیزوں سے بنے ہیں یعنی ہوا، پانی، آگ (گرمی) یعنی مٹی میں رہنے والی چیزیں جو کی قدرتی طورپر ہمارے جسم میں داخل ہوتی ہے۔ وہ کب داخل ہوتی ہیں یہ ہم نہیں جانتے اور جاننے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ جب ماں کے پیٹ میں ایک نطفہ داخل ہوتا ہے تو اس نطفہ میں یہ تمام چیزیں پوشیدہ ہوتی ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ پروان چڑھتی ہیں۔ اگر ماں صحیح غذا اور زندگی کے جینے کے صحیح طریقہ پر عمل کرتی ہے تو اس سے ہونے والی اولاد سو فیصد تندرست ہوتی ہے۔ جہاں ماں نے اپنے روزمرہ کی زندگی میں اور کھانے پینےمیں کچھ گڑبڑھ کرتی ہے تب اس کی صحت تو متاثر ہوتی ہی ہے اور اس سے ہونے والے بچے کی بھی صحت متاثر ہوتی ہے۔

            مقصد کلام یہ ہے کہ بچوں میں ہونے والی بیماری تھیلیسمیا جو کہ جان لیوا ہے یااب تک سمجھی جاتی تھی۔  اب یہ بیماری جان لیوا یا ہمیشہ رہنے واہی نہیں رہی۔ یہ صرف اور صرف ڈاکٹر بسواروپ رائے چودھری اور ڈاکٹر نمیتاکی کوششوں سے ممکن ہو پایا۔

            ڈاکٹر نمیتا اور ڈاکٹر بسواروپ رائے چودھری نے طبی تاریخ کو دوبارہ لکھا ہے۔ انہوں نے تھیلیسیمیا کا حل ڈھونڈ لیا ہے، جو اب تک موروثی اور لاعلاج سمجھا جاتا تھا۔

مریض، جو زیادہ تر صورتوں میں بچہ ہوتا ہے، کسی دوسرے کے خون پر زندگی بھر جینا پڑتا ہے اور جوان ہونے سے ایک دن پہلے مر جاتا ہے۔

جدید میڈیکل سائنس کے پاس اس کا کیا حل ہے؟ اس کا واحد حل باقاعدگی سے خون کی منتقلی اور دوسرا بون میرو ٹرانسپلانٹ ہے جو ایک عام مریض کیلئے بہت مشکل ہے۔

جب میڈیکل انڈسٹری - میڈیکل سائنس اب تھیلیسیمیا پر اپنی گرفت کو کم نہیں کرتی ہے تو ڈاکٹر بی آر سی اپنا ایک منفرد حل نکالتے ہیں جو ڈی آئی پی ڈائیٹ کے ساتھ 'لیونگ واٹر تھراپی' لال اور ہرا جوس  کا استعمال ہے۔ جن بچوں کو ابتدائی بچپن سے یا بعض اوقات اپنی پیدائش سے ہی باقاعدگی سے خون کی منتقلی سے گزرنا پڑتا تھا وہ تقریباً ایک ماہ کے اندر اس سے آزاد ہو گئے ۔ ان کی جان بچ گئی اور اب وہ 'زندگی کا رقص' کرتے نظر آ رہے ہیں۔

حل بہت آسان  ہے۔ R.O پانی کو جھرنے کے پانی سے تبدیل کرنا اور DIP ڈائیٹ پر انحصارکرنا ہے۔ بہت سے لوگوں نے اس کی پیروی کی اور پھر وہ ایک ماہ کے اندر ٹھیک ہو گئے۔ ان کے لیے سورج کی روشنی، زمین پر ننگے پاؤں چہل قدمی اور ورزش نے بھی صحت یابی کی رفتار کو تیز کیا۔

            اس حیران کن کارنامے کو دیکھنے کے لیے امریکا سمیت سات مختلف ممالک کے معززین آئے۔ ایک ماہ کے اندر سینکڑوں بچوں کی خون کی منتقلی بند ہو گئی۔ یہ کسی معجزے سے کم نہیں۔ مزید یہ کہ انہیں دکھایا گیا کہ کس طرح عام پانی کو صرف فطرت کی نقل کرکے 'زندہ پانی' میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ پتھر،  لکڑی کے کوئلے اور ریت کی تہوں سے بہنے والا پانی کس طرح اپنے آپ کو 'زندہ پانی' میں تبدیل کرتا ہے۔

            آج سو ٹھیک ہو گئے ہیں۔ کل ہزاروں اور ایک آنے والا دن اور تھیلیسیمیا جیسی بیماری تاریخ کے ورق سے بالکل مٹ جائے گی۔

            اس کے لیے ڈاکٹر بسواروپ رائے چودھری طبی ماہرین کی ایک فوج تشکیل دے رہے ہیں جسے 'تھیلیسیمیا ایکسپرٹس' کہا جاتا ہے۔ اس وقت ان میں سے 404 ہیں، اور پورے ملک میں پھیلے ہوئے ہیں جو کہ آپ کی خدمت میں حاضر ہیں۔

            افسوس کی بات یہ ہے کہ ملک کے لوگ اور یہاں تک کہ دنیا کے دوسرے حصوں میں بھی لوگ ابھی تک یہ نہیں جانتے کہ تھیلیسیمیا قابل علاج ہے۔ ایک وقت تھا جب ذیابیطس، امراض قلب، کینسر، گردے جیسی کوئی بھی بیماری لاعلاج سمجھی جاتی تھی جس میں تھیلیسیمیا بھی شامل تھا۔ لیکن اب یہ یقینی طور پر قابل علاج ہے۔ لیکن یہ پیغام ان تک پہنچانا ہے۔ یہ میں اور آپ کر سکتے ہیں جنہوں نے اس سارے واقعہ کو دیکھا اور اس کا یقین کر لیا ہے۔

اس طرح کے معجزے اس وقت ممکن ہیں جب انسان نفع نہیں بلکہ لوگوں کے بارے میں سوچنے لگے۔ اب پوری میڈیکل سائنس غریبوں کی نہیں بلکہ امیروں کی خدمت میں ہے۔ جو ایسے حل پیش کرتا ہے جو اپنے آپ میں مشکوک، ناقابل اعتبار اور غیر محفوظ ہیں۔

             وہ دن دور نہیں کہ جب دنیا بیدار ہوگی اور جدید طبی سائنس کا دیوالیہ پن ہو جائے گا اور کسی بھی قسم کی بیماری کا علاج کرنے کی اس کی نا اہلی پر نگاہ ڈالی  جائے گی اور فطرت اور قدرتی پر زیادہ سے زیادہ انحصار کیاجائے گا۔

 

 

منگل، 27 ستمبر، 2022

जीवन का जल

जीवन का जल

 अब हम इस वीडियो में घर पर रहने का पानी बनाना सीखेंगे।

 जीवित जल झरने के पानी की तरह है जो मानव उपभोग के लिए बहुत स्वस्थ है।

 इसलिए यदि आपके पास झरने का पानी नहीं है, तो आप इसे घर पर नल के पानी का उपयोग करके तैयार कर सकते हैं।

 हमें कुछ पत्थरों की जरूरत है, इन बड़े पत्थरों की तरह। तब हमें यहाँ जैसे कुछ फिल्टर स्टोन मिल सकते हैं। हमें कुछ महीन बजरी चाहिए, जैसे.. और हम उन्हें लगभग 4 से 5 बार धोते हैं।

 हमें कुछ रेत की भी आवश्यकता होती है और हम इसे कई बार धोते भी हैं। हम कुछ ऐसे ही मोरिंगा के बीज लेंगे और उन्हें बारीक पाउडर में पीस लेंगे।

 थोड़ा चारकोल डालकर अच्छी तरह धो लें। हमें ऐसी तांबे की प्लेट चाहिए।

 अब आप जीवित जल बनाने के लिए तैयार हैं। हम ऐसे ही 3 मिट्टी के बर्तन बनाएंगे। एक एक करके..

तल पर एक झरना पानी इकट्ठा करता है।

 बर्तन के तल में 3 से 4 छोटे छेद ड्रिल करें और इसे बड़े पत्थरों की परतों के साथ आधा भरें, फिर छोटे वाले, फिर बजरी, और फिर उसी क्रम में रेत और लकड़ी का कोयला।

 हम बीच का बर्तन बनाएंगे, यानी छेद और परत

 नीचे के बर्तन में, हम एक तांबे की प्लेट में मोरिंगा के बीज डालेंगे।

 अब आप उम्मीद कर सकते हैं कि ऊपरी बर्तन में डाला गया नल का पानी धीरे-धीरे 7 से 8 घंटे की अवधि में नीचे गिर जाएगा क्योंकि झरने का पानी पहाड़ियों, चट्टानों, बजरी और रेत से बहता है, रास्ते में खनिजों को इकट्ठा करता है। जीवन का जल बनने के लिए..

 अशुद्धता, हानिकारक बैक्टीरिया और वायरस पत्थर और रेत की परतों के माध्यम से, नीचे के कटोरे में, प्रकृति के खनिज पानी में फ़िल्टर होते हैं। जीवन का जल

 यह पानी पीने और खाना पकाने के लिए उपयुक्त है।

जीवन का नृत्य

 

जीवन का नृत्य

 

 

ध्यान से देखिए। जो हो रहा है वह चिकित्सा विज्ञान के इतिहास में अभूतपूर्व है। आप इसे 'जीवन का नृत्य' कह सकते हैं।

 

यहां आपको डॉक्टर के साथ कुछ खास बच्चे मिलते हैं। ये आधान-आश्रित बच्चे हैं, जिसका अर्थ है कि उन्हें जीवित रखने के लिए महीने में एक बार, दो बार, तीन बार, चार बार और यहां तक ​​कि पांच बार रक्ताधान प्राप्त करना पड़ता है। क्योंकि, इन माता-पिता को बताया गया था कि आपके बच्चे थैलेसीमिया के मरीज हैं और अगर आप अपने बच्चों को जीवित देखना चाहते हैं, तो आपको सालों तक नियमित रक्तदान करना होगा।

 

ऐसे बच्चों की औसत आयु लगभग 23 वर्ष होती है। लेकिन अब 'डांस ऑफ लाइफ' यानी 'लिविंग वॉटर थेरेपी' के जरिए ये बच्चे पूरी तरह से ठीक हो गए हैं और उन्हें खून देने की जरूरत नहीं है. अब वे ठीक हो गए हैं।

और हमारे देश में ऐसे लाखों बच्चे हैं। अब अगर आप ऐसे बच्चे या उनके माता-पिता की मदद करना चाहते हैं तो किताब डाउनलोड करें और स्क्रीन पर दिया गया उसका मुफ्त डाउनलोड लिंक दें और ऐसे बच्चों तक पहुंचें।

 

यह पुस्तक 'लिविंग वाटर थेरेपी' की तकनीक को पूरी तरह से समझाती है। तो कोई भी मरीज अपने घर पर इस 'लिविंग वाटर थेरेपी' पद्धति को सीख और अपना सकता है और खुद को रक्त आधान के जाल से बाहर निकाल सकता है।

 

लेकिन अगर ऐसे माता-पिता या मरीज़ों को लगता है कि उन्हें कुछ विशेषज्ञ मार्गदर्शन की ज़रूरत है, तो हमारे पास 400 स्वयंसेवक आपकी मदद के लिए तैयार हैं।

 

आपको बस स्क्रीन पर दिए गए लिंक पर जाना है और ऐसे थैलेसीमिया रोगी या उनके माता-पिता फॉर्म भरते हैं और हम आपको आपके घर के पास एक विशेषज्ञ से जुड़ने देंगे ताकि वह आपका मार्गदर्शन कर सके। मिनट दर मिनट आधार पर, ताकि आप अपने बच्चों को इस रक्ताधान जाल से बहुत ही मज़ेदार तरीके से बाहर निकाल सकें

 

लेकिन अगर आप में से कुछ मरीज अकेले अस्पताल में रहना चाहते हैं तो मैं आपको बता दूं कि अस्पताल और एकीकृत चिकित्सा विज्ञान संस्थान यानी चंडीगढ़, जयपुर, जोधपुर, जालंधर में स्थित HIIMS अस्पताल, HIIMS प्रीमियम अस्पताल का उद्घाटन अब गुड़गांव में भी हो गया है, सभी चार सितारा सुविधाओं के साथ। इसका मतलब है, हो सकता है कि आप एक डायलिसिस रोगी हों, जिसे सप्ताह में एक, दो या तीन बार डायलिसिस की आवश्यकता हो - जिसे जीवित रहने के लिए डायलिसिस की आवश्यकता हो - या आप इंसुलिन पर निर्भर रोगी हैं, जिसे इंसुलिन लेने की आवश्यकता है। दिन में कई बार, नहीं तो अगर आप खून चढ़ाने पर निर्भर हैं और महीने में कई बार खून निकालना पड़ता है।

 

यदि आप ऐसे ही कोई रोगी हैं और चंचल तरीके से ठीक होना चाहते हैं, तो आप मेरे या मेरे विशेषज्ञ डॉक्टरों की देखरेख में, HIIMS गुड़गांव में गर्म पानी के विसर्जन चिकित्सा और जीवित जल प्रणाली का उपयोग करके पूरी तरह से ठीक हो सकते हैं।

 

 

अब हम आगे बढ़ते हैं और उन बच्चों से मिलते हैं जिन्होंने खुद को रक्त आधान से मुक्त कर लिया है - दुनिया के कुछ पहले बच्चे जो थैलेसीमिया से उबर सकते हैं, पूरी तरह से रक्त आधान से मुक्त हो सकते हैं।

شہد بطور دوا

شہد بطور دوا

 


اگر جسم کے جلے ہوئے حصے پر شہد لگایا جائے تو جلن کا درد کم ہو جاتا ہے اور جلد ٹھیک ہو جاتا ہے۔ اس کا باقاعدگی سے استعمال کیا جائے تو قبض سے بچا جاتا ہے اور خون صاف ہوتا ہے۔ اگر اسے دودھ کے ساتھ استعمال کیا جائے تو بیماریوں سے لڑنے کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے۔ اگر اسے باقاعدگی سے استعمال کیا جائے تو جنسی کورس میں زیادہ اطمینان ہوتا ہے۔ پرانا شہد استعمال کیا جائے تو جسم کا زیادہ وزن کم ہو جائے گا۔ شہد لگانے سے منہ کے چھالے ٹھیک ہو جائیں گے۔

honey as medicine


پیر، 26 ستمبر، 2022

کولیسٹرول

 

کولیسٹرول

                                                                                                             پروفیسر حکیم سید عمران فیاض

دل انسانی جسم کا ایک انتہائی اہم ترین حصہ ھے۔ اور انسانی زندگی کا انحصار اس کے دھڑکنے پر ہے۔ ایک صحت مند دل دن میں تقریباً ایک لاکھ (1,00000) بار دھڑکتا ھے اور سال بھر میں تقریباً یہ تین کروڑ پیسنٹھ لاکھ ( 3,65,00000 ) بار دھڑکتا ھے۔ دل کی تندرستی اور صحت کا دارومدار ہمارے اپنے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ اس کی صحت مندی برقرار رکھنے کیلئے چکنائی، کولا مشروبات، فاسٹ فوڈز، جنک فوڈزاور پروسیسڈ کھانوں سے پرہیز کے علاوہ بھی کوئی احتیاطی تدابیر اختیار کرنا بہت ضروری ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایسی خوراک، ورزش اور سیر کو اپنی زندگی میں شامل کرنا ہوگا۔ جن سے ہم کولیسٹرول (CHOLESTEROL)، فشار الدم Blood Pressure) ) اور تیزابیت (ACIDITY) جیسی بیماریوں سے محفوظ رہ سکیں۔

 یہ ایک حقیقت ہے کہ صحت مند خوراک اور ورزش کولیسٹرول کو مناسب سطح پر قائم رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ اگر خون میں کولیسٹرول کی مقدار زیادہ ہوگی تو وہ کئی بیماریوں کو جنم دے گی۔ ہم چکنائی کی ایک قسم کو کولیسٹرول کہتے ہیں جو کہ خلیوں کو بنانے اور برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ کولیسٹرول کم کرنے کیلئے ضروری ہے کہ ہم اپنی روزمرہ خوراک میں سبزیوں اور پھلوں کا استعمال ضرور کریں۔ ایک صحت مند جسم میں کولیسٹرول کی سطح 200 ملی گرام سے کم ھونی چاھیے۔ اگر کولیسٹرول کی سطح 240 ملی گرام سے تجاوز کر جائے تو دل کے امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ کولیسٹرول کی 13 اقسام میں سے 3 اقسام مشہورہیں۔

1 -ہائی ڈینسٹی لیپو پروٹین  (H.D.L)

2 –  لو ڈینسٹی لیپو پروٹین (L.D.L)

3 –   ٹرائی گلیسرائیڈ

طب یونانی: امراض جلد و تزئینیات میں ایک بہترین متبادل طریقہ علاج

 

طب یونانی: امراض جلد و تزئینیات میں ایک بہترین متبادل طریقہ علاج

                                                                                            حکیم محمد شیراز


امراض جلد اور تزئینیات وقت کا سلگتا  ہوا موضوع ہے۔ اکثر خواتین اس  سے متعلقہ عوارضات سے دوچار رہتی ہیں۔ بسا اوقات یہ مرض مختلف قسم کے نفسانی عوارضات کا سبب بنتا ہےبلکہ بعض خواتین جو ان امراض  میں  مبتلاہیں  ان  میں خود کشی کا رجحان  بھی دیکھا گیا ہے۔

بھارت میں امراض جلد کا وقوع کل آبادی کا  ۱۰ ؍سے ۱۲؍فیصد ہے۔ جس میں زیادہ تر افراد دا٫الصدف اور  نار فارسی میں مبتلا پائے گئے۔ طب جدید میں امراض جلد کے تحت بہت سی ادویہ اور اسٹیروئیڈس کا استعمال ہوتا ہے جو مضرات سے مبرا نہیں۔ تاہم  اب لوگ کسی متبادل علاج کے خواہاں ہیں۔ اطبائے متقدمین نے جا بجا امراض جلد کے تحت مختلف معالجات کا تذکرہ کیا ہے۔ جن کا استعمال آسان نیز سستا ہے۔ مشہور امراض جلد  یہ ہیں، برص، کلف، نمش، نار فارسی، بہق ابیض و اسود، خیلان، آتشک، سوزاک، دا٫الصدف، حکہ، جرب وغیرہ

برص:

وہ سفیدی ہے جو ظاہر بدن میں نمودار ہوتی ہے۔ اکثر بعض اعضا میں نمودار ہوتی ہے اور بعض میں نہیں۔ لیکن گاہے تمام اعضا میں ہو جاتی ہے اور سارا بدن سفید ہو جاتا ہے۔

سبب:اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ عضو کا مزاج بدل کر بارد ہو جاتا  ہے اور اس خون میں بلغم کی کثرت ہوتی ہے۔ جو تعدیہ میں صرف ہوتا ہے۔ جس سے قوت مغیرہ کمزور ہو جاتی ہے اور غذا کو اعضا کی ساخت کی طرف پوری طور پر تبدیل نہیں کر سکتی ہے۔

بعض اوقات برص کے مقام کی جلد بدن کے دوسرے حصوں کی جلد سے نیچی ہوتی ہےاور دبانے سے دیر تک دبی رہ جاتی ہے۔ اور اگر یہاں سوئی چبھوئی جائے تو بجائے خون کے سفید رطوبت خارج ہوتی ہے۔

اصول علاج:داغنا، آبلہ پیدا کرنا، ادویہ لازعہ اور محمرہ کا استعمال کیا جائے۔ نیزحب برص کا حسب ذیل نسخہ استعمال کریا جائے۔

سرخ مولی بطور دوا

 

سرخ مولی بطور دوا

اگر کھانے کے بعد لال مولی کا استعمال کیا جائے تو کھانا بہت اچھی طرح ہضم ہوجاتا ہے، دانتوں کی خرابی کم ہوجاتی ہے۔ لیموں کے رس اور شہد کے ساتھ مولی کے تلے ہوئے چپس بیماریوں سے لڑنے کی طاقت بڑھاتے ہیں۔ دل کی بیماریاں ٹھیک ہو جائیں گی۔ اس کا حلوہ جماع کی قوت کو بڑھاتا ہے۔

اتوار، 25 ستمبر، 2022

ریتو تیواری ڈاکٹر بسواروپ رائے چودھری کے ساتھ تھیلیسیمیا کے بارے میں گفتگو ۔

 

ریتو تیواری ڈاکٹر بسواروپ رائے چودھری کے ساتھ تھیلیسیمیا کے بارے میں گفتگو ۔

 

ریتو تیواری: آج ہم ایک بہت سنگین بیماری کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔ یہ بہت سنگین ہے کیونکہ اس سے بچوں کو سب سے زیادہ پریشانی ہوتی ہے۔ اب بچے پریشان ہوں گے تو والدین ضرور پریشان ہوں گے۔ اس میں بچہ نہ صرف جسمانی طور پر پریشان ہے؛ اس کے علاج پر بھی کافی رقم خرچ ہوتی ہے۔ اگر آپ کو تھیلیسیمیا کا مرض لاحق ہو تو اس سے نجات حاصل کرنا تقریباً ناممکن ہے۔

 

ڈاکٹر بسواروپ: ہمیں خون کی اہمیت کو سمجھنا ہوگا۔ ہر روز آپ دیکھتے ہیں کہ آپ کی جیب میں کتنے پیسے ہیں۔ موبائل کتنا ری چارج ہوا ہے، یا بیٹری میں کتنا چارج ہے، آپ کے گھر کے سلنڈر میں کتنی گیس رہ گئی ہے۔ گاڑی میں کتنا پٹرول ہے؟

 

لیکن ہمارے ملک میں ایسے بچے ہیں، یہاں بھی ہوسکتے ہیں، جن کے والدین کو چیک کرنا ہوگا کہ ان کے جسم میں کتنا خون باقی ہے؟ کتنا خون؟ اسے تھیلیسیمیا کہا جاتا ہے۔

 

آج ہم تھیلیسیمیا کے بارے میں بات کر رہے ہیں جو کہ خون سے متعلق بیماری ہے۔ یہ بیماری ان کے مریضوں سے بچوں تک پہنچائی جاتی ہے۔ یہ ایک موروثی بیماری ہے، جو بچوں میں ان کی پیدائش کے ساتھ ہی ہوتی ہے۔

 

ریتو تیواری: ورنہ جب بچے دو سال کے ہو جائیں گے، تب تک اور اس مدت کے اندر آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ بچے کو تھیلیسیمیا ہے۔ اس بیماری میں خون کے سرخ خلیے صحیح طریقے سے نہیں بن پاتے۔ یعنی بچے کے اندر خون کے سرخ خلیات کی کمی ہوگی۔ جس کی وجہ سے بچے کو خون کی منتقلی کرنی پڑتی ہے۔ خون کے سرخ خلیے جو بن رہے ہیں یا ان کے خون میں باہر سے انجکشن لگائے گئے ہیں - ان سے خون کے سرخ خلیے جو حاصل ہوتے ہیں، ان کی زندگی کا دورانیہ بھی بہت کم ہو جاتا ہے۔ اس وجہ سے ان کے لیے ہر 21 دن یا ایک مہینے کے لیے باہر سے خون کا ایک یونٹ داخل کیا جاتا ہے۔

 

اس کے باوجود بھی کئی بار ان بچوں کی عمر زیادہ نہیں ہوتی یا ان میں اور بھی کئی بیماریاں داخل ہو جاتی ہیں اور ان میں ہڈیوں کا بگاڑ کثرت سے پایا جاتا ہے اور بالخصوص ان کا چہرہ بگڑنے لگتا ہے۔

 

اگر یہ معمولی تھیلیسیمیا ہے تو وہ صحت مند زندگی گزار سکتے ہیں۔ لیکن آپ ایک کیریئر رہیں گے۔ اس کا مطلب ہے کہ آپ کے بچوں کو تھیلیسیمیا ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر تھیلیسیمیا میجر ہے تو آپ مشکل میں ہیں۔

اب آئیے دیکھتے ہیں کہ ڈاکٹر بسواروپ رائے چودھری اس سلسلے میں کیا کہتے ہیں۔ کیونکہ انہوں نے وعدہ کیا ہے کہ وہ تھیلیسیمیا کے مریضوں کا علاج کر سکتے ہیں۔ آپ سمجھ سکتے ہیں کہ یہ کتنی بڑی ایجاد ہے، ان والدین کے لیے کتنا بڑی راحت ہے جن کے بچوں کو تھیلیسیمیا ہے۔

 

ہم نے اسے معمولی سمجھا ہے - ہم کبھی اس بات کی فکر نہیں کرتے کہ ہمارا خون کتنا ہے۔ یہ جسم کا کام ہے، ہم اس کی فکر کیوں کریں؟ یہ جسم کا کام ہے۔ یہ خود ہی پیدا ہوتا ہے۔ کچھ دنوں کے بعد جب یہ ختم ہو جاتا ہے تو جسم اسے نئے سرے سے تخلیق کرتا ہے۔ ہم نے کبھی اس بات کی فکر نہیں کی کہ ہمارے جسم میں کتنا خون ہے۔

 

تو ہم مراعات یافتہ ہیں۔ ہندوستان میں اس طرح کے لاکھوں بچے ہیں - شروع میں وہ بالکل دوسروں کی طرح لگ سکتے ہیں، آپ کو معلوم نہیں ہوگا - ان کا مسئلہ یہ ہے کہ ان کا جسم خون نہیں بناتا۔ یا تو یہ نہیں کر سکتا یا یہ ہمارے ذریعے نہیں ہو سکتا، ہم اس پر آگے بات کریں گے۔ بالآخر ان کے پاس ایک ہی آپشن ہوتا ہے کہ ہر چند دنوں کے بعد ان میں خون چڑھایا جائے۔

 

آج میں آپ کو وہ تکنیک سکھاؤں گا کہ ہم اپنے جسم میں خون کیسے بنا سکتے ہیں۔ خون ہو سکتا ہے لیکن اس کے لیے ہمیں کچھ کرنا ہو گا۔ وہی گرمی، وہی پانی، وہی خوراک۔ ہم انہیں ایک خاص طریقے سے جوڑتے ہیں۔

 

اس میں ایک دلچسپ نکتہ ہے، ہم اس سے نکل سکتے ہیں، اور بہت آسانی سے، بہت تیزی سے نکل سکتے ہیں۔

 

سب سے محفوظ، تیز ترین اور زندگی بھر۔ تین اہم نکات ہیں۔ سب سے محفوظ طریقے سے، بہت جلد، اور زندگی میں دیرپا۔ یہ ممکن ہے۔

اب آپ سوچیں کہ اگر یہ ممکن ہو کہ خون نہ بن رہا ہو، یا نام نہاد خون نہ بن رہا ہو، خون بالکل نہیں بن رہا ہو، اس کا مطلب ہے کہ باقی تمام بیماریاں بہت معمولی ہو جاتی ہیں۔

 

ان تمام بیماریوں کے بارے میں سوچیں جن کے بارے میں آپ جانتے ہیں، بلڈ پریشر، بلڈ شوگر، بلڈ کولیسٹرول، خون کا جمنا، آپ ہر ایک بیماری کو خون سے جوڑنے کے قابل ہو جائیں گے۔ ہم ان کا علاج کر سکتے ہیں، ہمارے مریض ٹھیک ہو جاتے ہیں، لیکن ہم ایسے مریضوں تک نہیں پہنچ پاتے۔ کہ آپ منتقل کر سکتے ہیں، اور یہ ضروری نہیں کہ آپ انہیں ہم تک پہنچا دیں، آپ اسے سیکھیں اور میں آپ کو سکھانے جا رہا ہوں، انہیں وہ تکنیک سکھاؤں گا۔ اگر وہ اس تکنیک پر عمل کریں تو وہ ٹھیک ہو جائیں گے۔ بات ختم ہو جائے گی۔ ہے نا۔ یہ نہیں کہ آپ انہیں ہم سے جوڑتے ہیں، آپ خود جڑ جاتے ہیں۔ اگلے چند منٹوں میں، میں آپ کو سکھانے جا رہا ہوں، کہ ایسے مریضوں کا ہیموگلوبن لیول ہماری طرح کیسے نیچے نہیں جاتا۔ اور مجھے ایسا لگتا ہے کہ اگر آپ ایسا کرتے ہیں، تو ہم نے مل کر یہ کیا، یہ ان کے لیے، ہمارے لیے، ہم سب کے لیے ایک بہت بڑی چیز ہے، اچھی بات ہے۔

 

ایسے بچوں کا علاج کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ ڈپ ڈائیٹ، سبز اور سرخ جوس، پالک جوس، کھیرے کا جوس، ٹماٹر کا جوس، تقریباً دو گھنٹے سورج کی روشنی کے علاوہ زندہ پانی۔ یہ اضافی کیا ہے، میں بتانے جا رہا ہوں۔

 

یہ چاروں مل کر تھیلیسیمیا کے خاتمے کی طرف لے جاتے ہیں - حقیقی علاج۔ یہ چاروں ایک ساتھ جس دن یہ مکمل ہو جائیں گے، اس بات کے کافی امکانات ہیں کہ، اس بچے کو ایک بار پھر خون کی منتقلی کے لیے نہ جانا پڑے۔ اگر وہ یہ کر سکتے ہیں۔

 

ان چاروں میں، 'زندہ پانی' کیا ہے؟ دیکھو یہ پانی جھرنے کا پانی ہے۔ یہ زندہ پانی ہے۔ (اسکرین کی طرف اشارہ کرتا ہے) جس طرح سے یہ اوپر سے آتا ہے، پتھروں سے ٹکراتا ہے، اس سے جو معدنیات اکٹھی ہوتی ہیں، وہ معدنیات وہ ہے جو جسم کے لیے مفید ہے۔

 

اس لیے ہمیں یہ پانی چشمے سے جمع کرنا ہے، اور اگر آپ کسی طرح چشمے سے پانی نہیں لے سکتے، تو آپ اس طریقے سے تین گھڑے - یہ مٹی کے برتن ہیں، اور ان میں یہ لکڑی کا کوئلہ، یہ باریک ریت ہے، یہ موٹی ریت ہے، اگر آپ انہیں برتن میں اس طرح ڈالیں - پانی کو وہاں سے نیچے آنے میں تقریباً 20 منٹ لگتے ہیں۔ اسی طرح کا حیرت انگیز اثر،  جب پانی یہاں پہنچتا ہے، جب پانی یہاں پہنچتا ہے تو نل کا پانی، اسے یہاں اس انداز میں نقل کرنے کی کوشش کی گئی ہے، اس پانی کو تقریباً زندہ پانی کہا جا سکتا ہے، جھرنے کے پانی کی طرح۔

 

پھر جس چیز نے انسان کو بیمار رکھا ہے وہ ہے (R O. (Reverse Osmosis۔ پھر میں آپ کو یہاں تک کہتا ہوں کہ R O. یا ڈسٹلری کی بوتل  پھینک دو، اور آپ خود بھی زندہ پانی کا ایسا انتظام کر سکتے ہیں۔

 

پھر، آپ سوچ رہے ہوں گے کہ لوگ بیمار کیوں ہو رہے ہیں؟ تم ایسا پانی پی رہے ہو جو تمہارے لیے زہر ہے، پھر تم بیمار پڑنے والے ہو؟

 

پھر کیا کرکریں؟ یا تو تم سب پہاڑوں پر رہنا شروع کر دو جو ممکن نہیں ہے۔ یا اس سے آسان طریقہ یہ ہے کہ اسے آپ کے لیے کیا جائے۔ یہ بالکل کیسے کیا جائے گا؟ ہم 2 سے 4 دنوں کے اندر ایک ویڈیو اپ لوڈ کریں گے کہ یہ کیسے کیا جائے۔ پھر ہم آپ کو بالکل دکھائیں گے کہ اسے کیسے کرنا ہے۔ دیہات میں اب بھی یہی رواج ہے۔ اور آپ بھی کر سکیں گے۔ آپ R.O کو ہٹا دیں گے۔ ہر گھر سے. (اتفاق سے آر او پر سپریم کورٹ نے پابندی لگا دی ہے)

 

اور جس طریقے سے، یہ سارا نظام؛ جس میں ایک چھوٹا بچہ جس کا خون نہیں بن رہا تھا، وہ بننے لگتا ہے، پھر میرے اور آپ کے جسم  میں ویسے بھی پیدا ہوتا ہے، پھر ہمارے جسم میں سارے معجزے ہو سکتے ہیں۔

 

پھر یاد رکھو، اللہ نے جو دوا تمہیں دی ہے، وہ صرف پھل، سبزیاں، حرارت، پانی اور کشش ثقل کا قانون ہے۔

(ویڈیو سے ماخوذ)

https://youtu.be/f1vklwsSMmM

 

بھارت میں تھیلیسیمیا

 

ہندوستان میں تھیلیسیمیا

 

تھیلیسیمیا ایک عام واحد جین کی خرابی ہے جو ہندوستان اور دنیا پر صحت کا ایک بڑا بوجھ ہے۔

ہندوستان میں ہر سال تقریباً 10,000 تھیلیسیمیا کے بچے پیدا ہوتے ہیں، جو کہ دنیا بھر میں تھیلیسیمیا کے بچوں کا 10 فیصد بنتا ہے۔

جبکہ بون میرو ٹرانسپلانٹ واحد علاج معالجہ ہے جو دستیاب علاج زندگی بھر خون کی منتقلی اور چیلیشن تھراپی کے ذریعے آئرن کو ہٹانا ہے۔

دونوں آپشن بہت زیادہ لاگت والے ہیں لیکن اس کے نتیجے میں بچے کے لیے مسلسل اذیت ہوتی ہے۔

ہندوستان میں ہیموگلوبینو پیتھی کی روک تھام اور کنٹرول کے لیے قومی صحت مشن کے رہنما خطوط

ہندوستان میں تھیلیسیمیا میجر والے بچوں کی دنیا میں سب سے زیادہ تعداد ہے – تقریباً 1 سے 1.5 لاکھ اور تقریباً 42 ملین ß (بیٹا) تھیلیسیمیا کی خصوصیت کے حامل ہیں۔

تھیلیسیمیا میجر والے تقریباً 10,000-15,000 بچے ہر سال پیدا ہوتے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق دنیا کی 7% آبادی غیر معمولی ہیموگلوبن جین رکھتی ہے۔ جب کہ تقریباً 300,000 -500,000 سالانہ ہیموگلوبن کے اہم عوارض کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں۔

تھیلیسیمیا کو طبی لحاظ سے تھیلیسیمیا میجر (ٹی ایم)، تھیلیسیمیا انٹرمیڈیا (ٹی آئی) اور تھیلیسیمیا مائنر یا خصوصیت میں شدت کے مطابق تقسیم کیا گیا ہے۔

ہفتہ، 24 ستمبر، 2022

خون کا رشتہ -تھیلیسیمیا کا علاج

 

خون کا رشتہ -تھیلیسیمیا کا علاج

 

یہ 23 جولائی سے 28 ستمبر تک "خون کا رشتہ" مہم ہے۔ جب کہ 23 ​​جولائی کو دو نامور ہندوستانی انقلابیوں، لوک مانیا تلک اور چندر شیکھر آزاد کا یوم پیدائش ہے، 28 ستمبر کو انقلابی رہنما بھگت سنگھ کا یوم پیدائش ہے۔

خون کا رشتہ‘ ایک مہم ہے جو دو ماہ کی مدت پر محیط ہے۔ ہماری زندگی میں خون کی اہمیت کو سمجھنا ہمارے لیے ضروری ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر آپ اپنے بٹوے میں موجود رقم یا آپ کے فون میں دستیاب ریچارج اور بیٹری چارج کی مقدار کو چیک کرتے رہتے ہیں۔

ہمارے سلنڈروں میں LPG گیس کی کتنی مقدار باقی ہے یا ہماری گاڑیوں کے ٹینکوں میں موجود پٹرول کی مقدار کیا ہے؟ ہم روزانہ کی بنیاد پر ان معاملات پر چوکس نظر رکھتے ہیں۔ تاہم، ہمارے ملک میں، اور شاید، یہاں تک کہ ہمارے ساتھ سامعین میں، ہمارے کئی ایسے بچے ہیں جن کے والدین کو اپنے بچے کے جسم میں خون کی مقدار کو چیک کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کے بچوں کے جسموں میں خون کی مقدار چیک کرنا! اسے تھیلیسیمیا کہا جاتا ہے۔ جس طرح آپ اپنی گاڑیوں میں بار بار پیٹرول بھرتے ہیں، اسی طرح یہ والدین ہر ہفتے، دو ہفتے یا اسی طرح کے وقفے کے بعد اپنے بچوں کے جسموں میں خون بھرنے کا انتظام کرتے ہیں۔

جس طرح آپ اپنی گاڑیوں میں بار بار پیٹرول بھرتے ہیں، اسی طرح یہ والدین ہر ہفتے، دو ہفتے یا اسی طرح کے وقفے کے بعد اپنے بچوں کے جسموں میں خون بھرنے کا انتظام کرتے ہیں۔

Khoon Ka Rishta ~ Cure for Thalassemia

Khoon Ka Rishta ~ Cure for Thalassemia

This is the “Khoon Ka Rishta,” a campaign from 23rd of July till 28th of September. While July 23rd is the Birth Anniversary of two eminent Indian revolutionaries, Lokmanya Tilak and Chandrashekhar Azad September 28 happen to be the birth anniversary of the revolutionary leader Bhagat Singh.

‘Khoon Ka Rishta’ is a campaign that spans two months in duration. It is imperative for us to understand the importance of Blood in our lives. On a daily basis you keep a check on the amount of money in your wallet or the amount of recharge and battery charge available in your phone.

What is the amount of LPG gas remaining in our cylinders or the quantity of petrol available in our vehicle tanks. We keep a vigilant check on these matters on a daily basis. However, in our country, and perhaps, even here in the audience with us, we have several children whose parents are required to keep a check on the quantity of blood in their ward’s bodies. Checking the amount of blood in their children’s bodies! This is known as Thalassemia. Just like you frequently refill petrol in your vehicles, in the same way these parents arrange for blood to be refilled in their children’s bodies after every week, two weeks, or a similar regular interval.

Just like you frequently refill petrol in your vehicles, in the same way these parents arrange for blood to be refilled in their children’s bodies after every week, two weeks, or a similar regular interval.

کھانے کی ٹکنیک، گھریلوے کھانا کیسے مزیدار اور صحت مند بنائیں

کھانے کی ٹکنیک، گھریلوے کھانا کیسے مزیدار اور صحت مند بنائیں

سب سے زیادہ بیماریاں گلے ہوئے کھانے سے ہوتی ہیں، گلے ہوئے کھانے اور پکے ہوئے کھانے میں فرق ھے،

جس طرح ایک سیب پکا ہوا ہوتا ھے،اور ایک گلا ہوا،گلا ہوا سیب آپ آرام سے چمچ کے ساتھ بھی کھا سکتے ہیں،

اور اسے چبانا بھی نہیں پڑے گا *مٹی کے برتن میں کھانا آہستہ آہستہ پکتا ھے،*

اس کے برعکس سِلور، سٹیل، پریشر کُکر یا نان سٹِک میں کھانا گلتا ھے،تو سب سے پہلے اپنے برتن بدلیں،

یقین جانیں!

جن لوگوں نے برتن بدل لیے، *اُن کی زِندگی بدل جاۓ گی،*

 

چنبل سے نجات کے 10 طریقے

 

چنبل سے نجات کے 10 طریقے

 

1۔ گرم پانی سے غسل کرنے کے بعد تھوڑا سا ویجی ٹیبل آئل پانی میں شامل کریں اور جسم کے متاثرہ حصے کو مزید پانچ منٹ کے لئے اس میں بھکو دیں۔

 

2۔ جئی کا آٹا خارش سے نجات کے لئے مؤثر ٹوٹکا ہے۔اسے پانی میں شامل کر کے آمیزہ سا بنا کر متاثرہ حصے پر ڈالیں۔

 

3۔ غسل کے بعد جسم پر ایسی موئسچرائزنگ کریم استعمال کریں جس میں بابونہ موجود ہو۔یہ جلد کو خشکی اور پھٹنے سے محفوظ رکھتا ہے۔

 

4۔ سوزش سے بچنے کے لئے روزانہ 10 سے15 منٹ دھوپ میں بیٹھیں۔

 

۔ ٹی ٹری آئل(ایک مخصوص درخت کا تیل ) کو جسم پر لگانا خارش سے نجات دلانے کے علاوہ جلد کو نرم و ملائم بھی رکھتا ہے۔

 

6۔ السی کے تیل کو کھانوں یا کھانے کی دیگر اشیاء میں شامل کر کے استعمال کریں۔

7۔ خشکی کی زیادتی کے باعث جلد پپڑیوں کی صورت میں اترنے لگتی ہے۔اس سے نجات کے لئے پٹرولیم جیلی کا استعمال فائدہ مند ہے۔

8۔ مچھلی کے تیل کے کیپسول کے استعمال یا ہفتے میں ایک بار مچھلی کھانے سے جلد کی سوزش سے آرام ملتا ہے۔

 

9۔ خارش اور سوزش سے نجات حاصل کرنے کے لئے متاثرہ حصے پر کوارگندل کا گودا لگائیں۔

 

جمعہ، 23 ستمبر، 2022

اذکار واخبار : ایک خصوصی مطالعہ ڈاکٹر حضور محمدمعین الدین، اسوسیٹ پروفیسر۔ شعبہ اردو گورنمنٹ کالج گلبرگہ

 

اذکار واخبار : ایک خصوصی مطالعہ

ڈاکٹر حضور محمدمعین الدین، اسوسیٹ پروفیسر۔ شعبہ اردو گورنمنٹ کالج گلبرگہ

            حیدرآباد گذشتہ چار صدیوں سے اردو زبان وادب کا گہوارہ رہاہے۔ جامعہ عثمانیہ کے قیام ١٩١٩ء سے اس میں علمی وقار کے ساتھ ساتھ تنوع اور ہمہ گیری پیداہوئی۔ ١٩٤٨ء کے انقلاب کے بعد جامعہ عثمانیہ کے ایک دور کا خاتمہ ہوا تو ایسا محسوس ہوا کہ اب یہ دور پھر نہیں آئیگا۔ لیکن زندگی کا کارواں ہمیشہ نموپذیر قوتوں کے سہارے آگے بڑھتاہے جامعہ عثمانیہ میں شعبہ اردو جن بزرگوں کے خون جگر سے سرخ روتھا وہ بانی رہا، ڈاکٹر عبدالحق، ڈاکٹر زور، پروفیسر سروری وغیرہ کے بعد دوسرا دور شروع ہوا۔ ڈاکٹر حفیظ قتیل، حسینی شاہد، زینت ساجدہ، ڈاکٹر رفیہ سلطانہ اور ڈاکٹر سیدہ جعفر وغیرہ نے دوسرے دور کی حفاظت کی اس کے بعد جو تیسرادور آیا اس میں پروفیسر مغنی تبسم، پروفیسر یوسف سرمست، پروفیسر بیگ احساس، پروفیسر عقیل ہاشمی وغیرہ نے اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کیا۔ جامعہ عثمانیہ کی روایات منجمدنہیں ہوئیں۔ اور آگے بڑھتے رہیں اس دوران حیدرآباد میں جامعہ عثمانیہ کے متوازی ایک مرکزی جامعہ حیدرآباد یونیورسٹی کا قیام اردو زبان وادب کے حق میں مفید ثابت ہوا۔ یہ نئی جامعہ بھی نئی ضرورتوں کی تکمیل کیلئے قائم کی گئی تھی۔ عوامی مطالبہ یہ تھا کہ جامعاتی تعلیم کو مزید وسعت دی جائے۔ جامعہ عثمانیہ کی برکات کو مزید وسعتیں حیدرآباد یونیورسٹی کے قیام سے حاصل ہوئیں۔ اس نئی جامعہ جو عثمانیہ یونیورسٹی کا مقابل نہیں سمجھنا چاہئے بلکہ اس کو اعلیٰ تعلیم کا تسلسل قرار دے کر قدیم نظام تعلیم میں مزید وسعتوں کی تلاش قرار دینا ضروری تھا۔

            حیدرآباد یونیورسٹی کے قیام نے ایک اور شعبہ اردو کیلئے راہ ہموار کردی۔ اس نئے جامعہ کے نئے شعبہ اردو میں جامعہ عثمانیہ ہی کی طرح ادبی، علمی اور فکری رجحانات کام کرنے لگے۔ خوش قسمتی سے اس کے ابتدائی دور ہی سے نیا صالح خون دوڑ نے لگا جب یہ نئی جامعہ قائم ہوئی ڈاکٹر گیان چند جین اور ثمینہ شوکت اس جامعہ سے وابستہ ہوئے۔ مغنی تبسم اور سیدہ جعفری بھی اس کارواں میں شامل ہوئے۔ ڈاکٹر گیان چند جین اور ڈاکٹر مجاور حسین رضوی کا تعلق حیدرآباد سے نہیں تھا لیکن ان دونوں نے اس شعبہ کو مستحکم کرنے میں پورے خلوص سے کام کیا دونوں اساتذہ نے اپنے بعد وفعال اور مستعد نوجوانوں کو تیار کیا تھا یہ دونوں تھے پروفیسر محمد انورالدین اور پروفیسر رحمت یوسف زئی، انہوں نے اس نئی جامعہ کی اس انداز سے خدمت کی جس انداز سے پروفیسر وحیدالدین سلیم اور ڈاکٹر عبدالحق، ڈاکٹر زور اور پروفیسر عبدالقادر سروری نے انجام دی تھی۔

کرناٹک کی اردو صحافت پر طنز مزاح کے اثرات ڈاکٹر حضور محمدمعین الدین، اسوسیٹ پروفیسر۔ شعبہ اردو گورنمنٹ کالج گلبرگہ

 

کرناٹک کی اردو صحافت پر طنز مزاح کے اثرات

ڈاکٹر حضور محمدمعین الدین، اسوسیٹ پروفیسر۔ شعبہ اردو گورنمنٹ کالج گلبرگہ

 

            ادب اور صحافت کے درمیان حدبندی کرنا مشکل ہے دونوں کے درمیان خط فاصل کھینچنا کہ یہاں سے ادب شروع ہوتاہے اور یہاں سے صحافت کی ابتداء ہوتی ہے۔ ایک دشوار گزار منزل ہے۔ یہ جورجحان عام ہورہاہے کہ صحافت اور ادب دوبالکل الگ الگ اصناف ہیں۔ کم از کم اردو میں قابل قبول بحث نہیں ہے کیونکہ اردو صحافت کی ابتداء ہی سے ادب کے گود میں پلی اور ادب ہی کے گود میں پروان چڑھی۔ دور جدید کے صحافی، صحافت کو ترسیل کا ایک ذریعہ بنانے کیلئے اور خاص طورپر عوامی احساسات کی ترجمانی کرنے کیلئے صحافت کو ایک مخصوص لب و لہجہ عطا کرتے ہیں۔  یہ لب ولہجہ نہ صرف عام پسندہوتاہے بلکہ عوامی مزاج کا حامل بھی ہوتاہے۔ کوشش اس بات کی کی جاتی ہے کہ آسان زبان اور آسان پیرائے بیان میں صحافتی ضروریات کی تکمیل ہو اس طرح اردو نثر جہاں ادبی نگارشات کیلئے اپنا ایک مخصوص انداز قائم کرنے میں کامیاب ہوئی ہے، وہیں پر صحافتی لب و لہجہ ایک مخصوص شکل میں نمودار ہواہے۔ یہ مخصوص شکل کیا ہے ایک اہم سوال ہے۔ جس کا ہر صحافی کو جواب تلاش کرنا پڑتاہے۔ ایک صحافی روز مرہ وقوع پذیر ہونے واقعات کو ہر وقت ادبی انداز سے بیان نہیں کرسکتا۔ اگر کبھی کوئی صحافی اپنے اندر چھپے ہوئے ادیب کے دباؤ میں آکر اپنے اخبار کے کالموں کو ادب میں تبدیل کردیتاہے تو ایسی تحریروں کو صرف چند طبعیتیں پسند کرتی ہیں عام لوگ اس وضع کی "ادبی صحافت" کو بھاری پتھر سمجھ کر اٹھا نہیں سکتے چوم کے رکھ دیتے ہیں مثلاً مولانا ابوالکلام آزاد کا ہفت روزہ اخبار "الہلال" کا بار بار ذکر کیا جاتاہے۔ "الہلال" کی اہمیت کا ذکر اردو صحافت میں بھی کیا جاتاہے اور اردو ادب میں بھی مولانا کے رسائل اور ان کے طریقہ اظہار کا مختلف انداز سے جائزہ لیاگیاہے۔ لیکن اردو کا ایک عام قاری آج تک "الہلال" کی ترکیب بھی نہیں سمجھ پایا۔ وہ کسی مقدس چیز کی طرح اس وضع کے الفاظ کو سن کربوسہ دے سکتاہے دل میں اتار نہیں سکتا اسی لیے آج کل مجموعی طورپر یہ خیال ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ صحافت اور ادب دونوں حدود الگ الگ ہیں تاہم اردو بولنے والوں کی زندگی میں ادب کی قدروقیمت کچھ اس طرح سرائیت کر گئی ہے کہ ترجمانی حیات کے وقت شعروادب اکثر جگمگا تے نظر آتے ہیں لیکن آج کے مصروف دور میں صنعتی اور تجارتی ذہن ہر جگہ کام کرتاہے ادبی انداز کو کم سے کم استعمال کرنے کا رجحان عام ہوگیاہے یہ ذمہ داری اردو نثر نہایت اہتمام سے برداشت کررہی ہے۔ چنانچہ ادبی نثر کے ساتھ ساتھ کاروباری نثر اور اسی طرح صحافتی نثر الگ الگ اپنےجلوے دکھاتی ہے تاہم جیسا کہ مذکورہواکبھی کبھی ادبی انداز بیان بعد کو گیرائی اور گہرائی عطا کرتاہے کسی بھی واقعہ کو اس کی سطح سے اونچا کرکے اس کو وزن اور وقار عطا کرتاہے یہاں ایک دلچسپ مثال کو پیش کرنا مناسب ہوگا۔

            ہندوستان کی تقسیم نے کئی مسائل کو پیدا کیا غالباً سب سے اہم مسئلہ " مسئلہ کشمیر" ہے راقم الحروف چونکہ کوئی سیاست داں نہیں ہے اردو تحقیق کا ایک طالب علم ہے اسی لیے اس بحث میں گئے بغیر کہ کشمیر کا مسئلہ گذشتہ نصف صدی سے کیوں اب تک سلجھانہیں سکا۔ میری نگاہ اخبارات کے ان صفحات پر رہی جو اس مسئلہ کو ہمیشہ زندہ رکھتے ہیں۔ بلکہ سچ پوچھئے تو دونوں ملکوں کی سیاست دانوں کی زندگی کا سارا مسئلہ کشمیر دونوں ممالک کے عوام کے جذبات کو برانگینہ کرنے کا کام ہمیشہ مسئلہ کشمیر سے لیاگیاہے۔ عوام سے ہمیشہ یہ وعدہ کیاجاتاہے کہ دونوں ممالک کے قائدین کی نیتیں صاف ہیں۔ نفرتوں کے بادل چھٹ رہے ہیں دوستی کی فضا تیار ہورہی ہے لیکن اربوں روپیہ دونوں طرف کی فوجوں پر خرچ کیاجاتاہے وقفہ وقفہ سے فوجوں کے لاشے دونوں طرف دکھائی دیتی ہیں تو پوں کی گھن گرج اور فوجی طیاروں کی اڑانوں کے مناظر روزمرہ کے معاملات ہیں۔ سب سے اہم بات جو نظر اتی ہے وہ ہے قائدین کے بیانات جو ظاہر ہے نثر میں ہوتے ہیں اورنثر کو ہر دومقامات کے جذبات اور احساسات کی ترجمانی کا فرض انجام دینا پڑتاہے۔ اس وضع کے موضوعات کے اظہار کیلئے طنزومزاح سے کام لیناناگزیرہوجاتاہے کرناٹک کی صحافت بھی اس روش اور روایات کا برابر ساتھ دے رہی ہے۔ یہاں ایک دلچسپ مثال پیش کی جاتی ہے۔

            "پاکستان کے فوجی حکمران جنرل مشرف نے ایک جذباتی بیان یہ دیاکہ "کشمیر کا مسئلہ لہو بن کر میری رگوں میں دوڑ رہاہے"۔ (٧/فروری ٢۰۰٤ء تمام قومی علاقائی اخبارات کی سرخی)

اردواخبارات نے جنرل مشرف کے بیان پر ادارے لکھے یہاں ادبی انداز اختیار کیاگیاہے۔ روزنامہ "سالار" نے اپنے ایک اداریہ میں یہ لکھاتھا۔ "رگوں میں دوڑنے پھرنے کے ہم نہیں قائل"۔

            یہ اندازِ بیان دراصل غالب کا ایک مصرعہ ہے جس پر انہوں نے اچھی شاعری کے اوصاف بیان کرتے ہوئے یہ لکھاتھا کہ

رگوں میں دوڑنے پھرنے کے ہم نہیں قائل
جو آنکھ ہی سے نہ ٹپکے توپھر لہو کیاہے

            یہاں غالب یہ فرماتے ہیں کہ اچھے فن کی تخلیق کیلئے خون جگر ایک کرناپڑتاہے تب کہیں جاکر فن کی تخلیق ہوتی ہے۔ اس وضع کا خیال علامہ اقبالؔ کے پاس بھی ہے۔

چنگ ہو یا حرف وصوت خون جگر کے بغیر

اقبال سے متاثر ہوکر سکندر علی وجد نے بھی یہ بات کہی تھی

"یہاں خون جگر پیتے رہے اہل نظر برسوں"

            یہاں جو بات عرض کرنا یہ ہے کہ جنرل مشرف نے جو جذباتی بیان دیا کہ مسئلہ کشمیر ان کی رگ و پئے میں سرائیت کرگیاہے غلط ہے کیونکہ صحت مند سیاست میں خوش مندی کو گردش کرنا چاہئے تدبر کو خون میں دوڑایاجائے نہ کہ جذبات کو یہاں صرف ایک مثال کو پیش کیاگیاہے۔ روزانہ اردو اخبارات میں دلچسپ لب و لہجہ قارئین کو دعوتِ فکر دیتاہے۔ بنگلور کا ایک اخبار "نشیمن" اس وضع کی تحریروں کیلئے اپنا منفرد مقام رکھتاہے ہفت روزہ اس اخبار کا نام "نشیمن" کلام اقبال سے لیاگیاہے۔ اقبال فرماتے ہیں۔

نشیمن پہ نشیمن اس قدر تعمیر کرتا جا
کہ بجلی گرتے گرتے خود بیزار ہوجائے

اس اخبار کے صفحہ اول پر یہ شعر درج رہتاہے جو اردو والوں کی حالت زار کی ترجمانی بھی کرتاہے۔ اور ان کے جاندار رویے کو ظاہر کرتاہے اردو والوں کا رویہ ہمیشہ رجائیت سے بھرپور رہاہے۔ وہ کبھی حالات سے مایوس نہیں ہوئے کرناٹک کے اردو بولنے والے ٹیپوسلطان کی سلطنت خداداد کے خاتمہ کے بعد سے معروف جہد ہیں بغیر کسی بیرونی امداد کے یہ اپنی سلامتی کا اہتمام کرتے ہیں ان کے اس رویہ کا اظہار صحافت میں ہوتاہے۔ اور اردو نثر متذکرہ حالات کا بڑی خوبی اور خوبصورتی سے اظہار پر قدرت ہے۔

            کسی بھی اخبار کا مقصد طنزنگاری یا مزاح کی تخلیق نہیں ہوتا اخبار کو دلچسپ بنانے اور قارئین کا حلقہ وسیع کرنے کیلئے سنجیدہ صحافت، فکائیہ کالم سے استفادہ کرتی ہے اس طرح طنزاور مزاح صحافت کا مقصد نہیں ہوتے صرف اظہار بیان کی دلکشی ہوتے ہیں۔ یہ دلکشی مزاحیہ نظموں یا مزاحیہ غزلوں اور کارٹونوں کے ذریعہ سے پید اکی جاتی ہے۔ زیادہ تر حصہ نثر کا ہوتاہے کیونکہ وضاحت بیان کی ذمہ داری نثر انجام دیتی ہے۔ کرناٹک کی صحافت کو اس بات کا اعزاز حاصل ہے کہ وہ بھی ملک کے اردو اخبارات کی طرح اسی معیار اور مذاق کو برقرار رکھے ہیں جو گذشتہ ایک صدی سے اردو صحافت کی شناخت بن گئی ہے۔ یہاں بطور خاص اس بات کا ذکر ضروری ہے۔ کہ اردو صحافت نے طنزومزاح کو بھی اپنے کالموں میں جگہ دی ہے لیکن کسی کے مذہب یا کسی کا عقیدہ حتیٰ کہ سیاسی اور سماجی امور میں بھی کسی کی بے حرمتی نہیں کی یہ ایک ایسا وصف جمیل ہے جو اردو زبان وادب کے بولنے والوں کا تہذیبی اور ثقافتی ورثہ ہے۔  اس میں کوئی شک نہیں کہ اردو صحافت میں بھی سخت لب و لہجہ اکثر اختیار کیاہے۔ یہاں طنزکے تیز تیر چلائے گئے ہیں لیکن مقصد کبھی یہ نہیں رہا کہ کسی مذہب یا عقیدے کی بے حرمتی کی جائے اردو کا اہم ترین اخبار جس نے طنزومزاح کا لبادہ اوڑھ رکھاتھا غیرملکی حکومت کا دشمن تھا اور خاص طورپر مغربی تہذیب کو پسند نہیں کرتاتھا۔ ایسے اخبار نے بھی تہذیب اور شرافت کا دامن کبھی تار تار ہونے  نہ دیا اردو صحافت کی ایک اور مثال مولانا ابوالکلام آزاد کے اخبار "الہلال" کی ہے۔ اس اخبار کا لب و لہجہ بھی ادبی ہوتاہے لیکن شعلہ بیانی "الہلال" کی خصوصیت تھی اسی لئے ظفر علی خان کا اخبار بھی۔

            کرناٹک کے اردو صحافیوں نے بھی اردو صحافت کے اسی عظیم حصہ کو قبول کیا ہے اور اس روایت کو آگے بڑھایا ہے اور ان اقدار کی حفاظت کی ہے اردو صحافت کی ساری خصوصیات دراصل اردو نثر کا کارنامہ ہے۔ کیونکہ اردو ادب ہمیشہ صالح اقدار کا محافظ رہاہے اسی لیے صحافت میں بھی یہ روش اور روایت ہر وقت جگمگاتی ہے۔ متذکرہ فطری اتحاد کی وجہ یہ ہے کہ اردو ادب کی طرح اردو صحافت کو بھی پروان چڑھانے کیلئے ہندواور مسلمان دونوں اقوام کے صحافیوں نے اپنا خون جگر صرف کیاہے۔ اردو کے کئی صحافی اور پبلی کیشن یا اخبارکے مالک غیر مسلم تھے۔ جن کے پاس مذہبی بھیدبھاؤ نہیں تھا مثلاً منشی نول کشور نے لکھنو سے جو اخبار جاری کیاتھا وہ مذہبی حدود سے ماوراء تھا اس طرح روزنامہ "پرتاپ" اور روزنامہ "ملاپ" جیسے اخبارات جس کے قارئین کی تعداد کافی زیادہ تھی اکثر آریہ سماج یا ہندومہاسبھا کے طرفدار لیکن مذہب اسلام یا عیسائی مذہب کے خلاف کبھی ایسا مظاہرہ نہیں کیاجس کو دل آزار کہاجاسکے۔ صحافت کی آزادی کو اردو کے صحافیوں نے خوب استعمال کیا لیکن فن کی موہ پنپنے نہیں دیا۔ کرناتک کی اردو صحافت نے بھی طنز اور تنقید کو بارہا اختیار کیا لیکن اردو صحافت کی وضع داری کو مجروح نہیں کیا۔ کرناٹک کی سرزمین نے کنڑا زبان اور انگریزی کے کئی اخبارات نکلتے ہیں ان کا مقابلہ اردو صحافت سے نہیں کیاجاسکتا بے چاری اردو صحافت ایک کمزور اقلیت کی نمائندگی کرتی ہے۔ اس کا مقابلہ بنگلور "دکن ہیرالڈ" سے نہیں کیا جاسکتا لیکن آزادی کے بعد سے کئی ایسی غلطیاں کی ہیں کہ مسلمانوں کو سخت احتجاج کرنا پڑا جس میں معصوم انسانوں کوزندگی سے ہاتھ دھونا پڑا۔ اس کے برخلاف گذشتہ ایک صدی کے دوران جب سے اردو صحافت نے ملک اور قوم کی خدمت کا بیڑا اٹھایاہے، آج تک کوئی نا زیبا حرکت اس سے سرزد نہیں ہوئی جس کو صحافت کےآداب کی خلاف ورزی کہاجاتاہے۔

            یہاں ہم دنیا کے لیے ایک قابل احترام ہستی اقوام متحدہ کے جنرل سکریٹری کوفی عنان کا بیان من و عن پیش کرتے ہیں ہر چند یہ بیان قدرے طویل ہے۔ لیکن ایک ذمہ دار شخص کا ہے۔ اور ایکسویں صدی کے آغاز کے بعد پیدا ہونے والے ایک حساس موضوع سے متعلق ہے اس لیے اس بیان کی اہمیت ہے۔ (اخبار منصف ١١/ فروری ٢۰۰٦ء بیان صفحہ نمبر٥)

"کارٹون کے ذریعہ اشتعال انگیزی نامناسب، آزادئ صحافت میں احتیاط کی ضرورت" (کوفی عنان)

            اقوان متحدہ کے سکریٹری جنرل کوفی عنان نے ان اخباروں پر تنقید کی ہے جنہوں نے توہین آمیز کارٹون شائع کیے مسٹر عنان نے کہا کہ ایک حساس اور اشتعال انگیز معاملہ ہے اس کاوبال ساری دنیا میں دیکھنے میں آتاہے۔ سکریٹری جنرل نے کہا کہ وہ یہ بات سمجھنے سے قاصر ہیں کہ کیوں اخبارات ایسے جارحانہ اور اشتعال پیدا کرنے والے کارٹون شائع کرتے ہیں مسٹر عنان نے اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا  کہ وہ آزادئ تقریر اور آزادئ اظہار رائے کے مخالف نہیں ہیں لیکن جو کارٹون شائع ہوئے ہیں وہ اشتعال انگیز ہیں آزادئ اظہار کو کھلا لائسنس نہیں ہے اس معاملہ میں ذمہ داری اور صحیح فیصلہ کی ضرورت رہتی ہے۔ وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ کیوں کسی ایڈیٹر نے اس نازک مرحلے میں ایسے کارٹون شائع کرنے کا قدم اٹھایا۔ اس مرحلے میں ایسے کارٹون کی اشاعت نے جلتے پر تیل چھڑکنے کا کام کیاہے۔ گستاخ رسول کارٹون آئیڈاڈنمارک کے اخبار نے شائع کیا اس کے بعد اس کارٹون کو بیس ممالک میں شائع کیاگیا اور انٹرنیٹ پر وسیع تر اسکے اشاعت کی گئی۔ ان کارٹونوں کی اشاعت پر پوری مسلم دنیا میں پرتشدد مظاہرے ہوئے۔ اس ہفتہ امریکی سکریٹری آف اسٹیٹ کنڈالیزارایش نے ایران اور شام پر الزام لگایا کہ وہ اس معاملہ میں مسلم جذبات کو ہوا دے رہے ہیں۔ اس کی تردید کرتے ہوئے شام کے سفیر برائے امریکہ عماد مصطفیٰ نے کہا کہ تشدد کیلئے لبنان اور دمشق کے شرپسند عناصر ذمہ دار ہیں تاہم مسٹر عنان نے کہا کہ وہ نہیں جانتے کہ حکومتوں نے اس معاملے کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کیاہے۔

 

٭٭٭٭٭

نور الدین زنگی بنوں گا* I can Proudly say *I Love Prophet* Muhammadﷺ s.a.a.w. *ڈاکٹر محمد اعظم رضا تبسم* کی کتاب *کامیاب زندگی کے راز* سے انتخاب

 *میں نور الدین زنگی بنوں گا*  I can Proudly say  *I Love Prophet* Muhammadﷺ s.a.a.w.  *ڈاکٹر محمد اعظم رضا تبسم* کی کتاب *کامیاب زندگی کے ر...