اتوار، 14 اگست، 2022

ہر گھر ترنگا by Dr. Syed Arif Murshed Editor BISWAS

 

ہر گھر ترنگا

Dr. Syed Arif Murshed

            اس سے پہلے کے میں اپنی بات رکھوں شعروادب کے تمام پڑھنے والوں کو پندرا اگست کے اس خوشگوار موقعہ پر دل کی عمیق گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرنا چاہتا ہوں۔ 

Dr. Biswaroop Roy Chowdhary

            عزت مآب وزیرعاظم  عالیجناب نرندردامودر داس مودی کا یہ اعلان کہ "ہر گھر ترنگا" یقیناً عزیزان ملک کے دلوں میں  ملک  کے لئے عزت عظمت اور ملک  کیلئے پیار محبت کو بڑھانے والا ہے۔  ویسے ہر سال 15 اگسٹ کو ہم ملک کی آزادی کا دن بڑے ہی شان و شوکت کے ساتھ مناتے ہیں۔ اسکول، کالج، و دیگر سرکاری دفاتر میں ایک خوشی اور عید کا سا ماحول دیکھنے میں آتا ہے۔ بچوں میں رنگ برنگے کپڑے، مختلف کھانے پینے کی چیزیں، مختلف کھیل کی مقابلے جات، انعامات، جلسے جلوس، یہ تمام چیزیں قومی یکتا و بھائی چارے میں چار چاند لگاتے ہیں۔ دیوالی آتی ہے، تو صرف ہندو کرسمس میں کسرچن، رمضان و دیگر مسلمانوں کی عیدوں میں صرف مسلمان علاقوں میں عید نظر آتی ہے اور متعلقہ مذاہب کے لوگ ہی اس میں حصہ لیتے ہیں۔ لیکن 15 اگست اور 26 جنوری  دو ایسے مواقعے میں جس میں تمام ملک کے باشندے بلا تفریق و مذہب و ملت حصہ لیتے ہیں۔

            عید کی خوشیاں اپنی جگہ مسلم ہے۔ لیکن عید کے مقاصد اور بھی ہیں۔ جیسے دیوالی دسہراے کی عید وں میں برائی پر سچائی کی جیت، رمضان اور عید البقر میں خود احتسابی ، گناہوں سے معافی، قربانی وغیرہ اسی طرح دیگر عیدین میں انسانوں کو اپنے گناہوں سے معافی اور اگلی آنے والی زندگی میں گناہ نہ کرنے کا عزم مسمم ہوتا ہے۔

            ایک سوال آج کے اس موقعہ پر کہ اس 15 اگست جس کو قومی عید کہتے ہیں اس میں کیا ایسا کچھ ہوتا ؟  کیا  ہم اپنے پچھلے گناہ جیسے رشوت، دیش دروہ، اقتدار اور پیسے کیلئے دیگر مذاہب کے درمیان نفرت ڈالنا وغیرہ جیسے گناہ کبیرہ سے توبہ کرتے ہیں۔  اور آنے والے دنوں میں ایسے گھنونے گناہ نہ کرنے کا عزم کرتے ہیں؟  اگر نہیں کرتے تو کرنا چاہئے۔تب ہی اس "ہر گھر ترنگا" کا مقصد پورا ہوسکتا ہے وگرنہ یہ بھی صرف ایک دھوکے کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔

            ایک مشورہ اور یہ کہ دیش تو 15 اگست 1947 کو آزاد ہوا لیکن ہم پوری طرح آزاد نہیں ہیں۔ ہم آج بھی انگریزوں کے غلام ہیں۔ وہ کیسے؟ وہ ایسےکہ ہمارے پاس بہت ساری قدرتی وسائل ہونے کے باوجود بھی انگریزی دواؤں کے غلام ہیں۔قدرتی طورپر ہم اتنے خود کفیل ہیں کہ ہم ساری دنیا کو صحت دے سکتے ہیں۔ ہر بیماری کا علاج کرسکتے ہیں لیکن ہمارے ذہنوں اور اس طرح غلام بنا کر رکھ دیا گیا ہے کہ ہم اس کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے۔ وزیر اعظم سے یہ ایک مشہورہ ہے کہ جس طرح ہر گھر ترنگا کا نعرہ لگایا گیا اسی طرح "دیسی چکتسا" یا ہر گھر ایورید، ہر "گھر ایک درخت "کا نعرہ  بھی لگائیں اور ہر 15اگست کو ہر گھر ایک درخت لگانے کا عظم کریں۔ ایوروید کو بڑھاوا دیں۔ اپنا ڈاکٹر خود بننے کی طرف توجہ دلائیں  جو اس میگزین کے چیف ایڈیٹر ڈاکٹر بیسواروپ رائے کررہے ہیں۔ وہ اپنا تن من دھن سکھ چین سب داؤ پر لگا کر "اپنا ڈاکٹر خود بنو "کے مشن کو پورا کرنے کی طرف گامزن ہیں۔

 

ڈاکٹر سید عارف مرشدؔ

 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

کیا تنقید فی نفسی بری چیز ہے؟؟* کیا اسے شجر ممنوعہ بنا دینا چاہیے؟؟

**کیا تنقید فی نفسی بری چیز ہے؟؟* کیا اسے شجر ممنوعہ بنا دینا چاہیے؟؟ :::::::::::::::::::::::::::::::::::::::: اصلاح کے لیے تنقید اچھی چیز ...