بدھ، 21 ستمبر، 2022

کس لئے نظم از تنہا تماپوری

کس لئے

جب سمندر کی جڑوں تک حوصلہ ٹوٹا نہ تھا

سطح پر آیا

توموجیں

پیٹتی تھیں تالیاں

دیدہ ہوش و خرد کے سامنے تھیں وسعتیں،

دعوتِ نظار گی دینے لگا تھا آسماں،

پھر ہواکی سیٹیاں بجنے لگیں چاروں طرف

پھر دلاسہ مل گیا دست تسلی سے

مگر ............

قُربِ ساحل کا پتہ دیتی ہوئی

اک موج نے چوما مجھے

اور لب ساحل

زمیں کی شاہ زادی

اپنی باتیں کھول کر

بڑھنے لگی میری طرف

چھٹ گئی ہاتھوں سے میرے

کیوں ردائے احتیاط؟!!

            میں سمندر میں نہیں

            ساحل پہ ڈوبا

            کس لئے؟؟

 

٭٭٭٭٭


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

کیا تنقید فی نفسی بری چیز ہے؟؟* کیا اسے شجر ممنوعہ بنا دینا چاہیے؟؟

**کیا تنقید فی نفسی بری چیز ہے؟؟* کیا اسے شجر ممنوعہ بنا دینا چاہیے؟؟ :::::::::::::::::::::::::::::::::::::::: اصلاح کے لیے تنقید اچھی چیز ...