اتوار، 2 اکتوبر، 2022

افسانچہ دو بندر رونق جمال

 افسانچہ

دو بندر

   رونق جمال

دو اکٹوبر کو دو پریشان بندوں کے درمیان سنجیدہ گفتگو ‌۔

 " تینوں بندروں کے اشارےکتنے پر اثر اور معنی خیز ہیں ۔ان میں ایک پیغام ہے فلسفہ ہے سچائ ہے۔کیونکہ بندروں کے ذریعے پیغام دینے والا دنیا کی ایک عظیم شخصیت کہلاتا تھا۔جسکا مقصد ہر خاص و عام نے سمجھا ان اقوال کو اپنی زندگی میں اتار نے کی کوشش کی اور کامیاب ہیں۔ "

 " سو فی صد سچ کہہ رہے ہو بھائی۔ "

  " آج ۔۔ویسی سوچ ویسی شخصیتوں کا فقدان ہے ۔"

   " آپ کی یہ بات بھی سچ ہے ۔ آج جو اپنے آپ کو عظیم کہلواتے ہیں لوگ ان کو بندر سمجھتے ہیں ."

   "آپ کس کی بات کر رہے ہیں !؟"

  "معروف دو بندروں کی جنہوں نے دو کو چھوڑ کر باقی سب کا جینا حرام کر رکھا ہے !!"

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

اقوال سر سید،اقبال اور مولانا آزاد

  اقوال سر سید،اقبال اور مولانا آزاد                                                           Sayings of Sir Syed, Iqbal and Maulana Azad...