پیر، 3 اکتوبر، 2022

افسانچہ اااااااااااااااااا ہیچ اااااااااااااا

افسانچہ


اااااااااااااااااا ہیچ اااااااااااااا


سرکاری ملازمت سے سبکدوشی

کے بعد میں اپنے ہم عمر دوستوں

کے ساتھ کشمیر کی سیاحت کے

لیے گیا تھا کشمیر میں ہم لوگوں

نے برف پوش پہاڑ دیکھے رنگ

برنگی پھولوں سے لدے ہوے باغ

دیکھے جھیلوں کے ٹھنڈے ٹھنڈے

پانی میں تیرتی ہوئی کشتیاں

دیکھیں وہاں کا ہر منظر خوبصورت

اور مسحور کن تھا سیاحت کے بعد

ہم لوگ وطن لوٹے تو میں اپنے گھر

کی جانب چل پڑا گھر کے آنگن میں

قدم رکھتے ہی میرے چھوٹے چھوٹے

پوتے اور پوتیوں کی نظر مجھ پر

پڑی تو "دادا جان اگیے" "دادا جان

اگیے" کی آوازیں نکالتے ہوئے میری

جانب دوڑتے ہوے آکر مجھ سے

لپٹ گیے اس منظر کو دیکھ کر

مجھے لگا اس منظر کے آگے

کشمیر کے مناظر قدرت تو کیا

دنیا کے سارے خوبصورت

منظر... ہیچ... ہیں ااا 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

اقوال سر سید،اقبال اور مولانا آزاد

  اقوال سر سید،اقبال اور مولانا آزاد                                                           Sayings of Sir Syed, Iqbal and Maulana Azad...