اتوار، 16 اکتوبر، 2022

✍️ کشکول مسافر ✍️

✍️ کشکول مسافر ✍️


1.ایک لمحہ بھی فضول ضائع نہ کیا جائے، زندگی بہت مختصر ہے.پتہ نہیں کب موت کابلاوا آپہنچے اور ہم قبر میں پہنچ جائیں. کتنے ہی صبح بیدار ہوتے ہیں تو کیا کیا آرزوئیں اپنے دل میں لئے ہوتے ہیں پر اسی دن کا سورج غروب ہونے سے پہلے انکی زندگی کا سورج غروب ہوجاتا ہے. اپنے آخرت کے لئے کچھ کر گزریں، اصل زندگی بس وہی ہے. عقلمند ہے وہ جو اسکی تیاری اور فکر میں لگا رہے.


2.نظام الاوقات بنا لیاجائے ، ہر وقت کا کام مقرر کر لیوے کہ کس وقت کیا کرنا ہے اس سے اوقات میں بہت برکت ہوتی ہے. ہر کام آسانی سے انجام پاجاتے ہیں ورنہ تو کام میں بدنظمی سے بے برکتی رہتی ہے. بہت سارے کام ادھورے رہ جاتے ہیں اور کام صحیح ڈھنگ سے نہیں ہوتا 


3.الاهم فالاهم کا اصول اپنایاجائے . کام تو زندگی میں بہت ہوتے ہیں. لیکن دیکھے کہ وقت کے تقاضے کے حساب سے اور دینی و دنیوی فائدے کے پیش نظر کونسا کام بہتر اور مفید ہے اسی کو اختیار کرے .مثلا ایک کام کی فی الفور ضرورت ہے اور ایک ہے کہ اس میں تاخیر کی گنجائش ہے. تو تاخیر والا کام مؤخر کردے چاہے وہ اپنی من پسند والا کام ہو.


4.زندگی میں ہر کام میں اسی کے ماہرین سے جو خیر خواہ ہو مشورہ لیتے رہیں. جو اچھے اور خیر خواہانہ مشورے دیوے اسی سے مشورہ لیوے ، رائ لیوے. ہر کس و نا کس کو اپنی پرسنل زندگی کی باتیں شیئر کرنے سے احتیاط کریں. کتنے تو ایسے ہوتے ہیں کہ جو خیرخواہی کی صورت میں گرانے کی فکر کرینگے. اور کتنے ایسے بھی ہونگے جو مشورے کے بہانے آپکے سب راز سے واقف ہوجائینگے اور اپنا کام نکالینگے ، اپنا مفاد پورا کرینگے. کبھی کبھی تو آپ کو راستے سے ہٹاکر خود وہ چیز حاصل کر لینگے ، اس چیز پر قبضہ کرلینگے اور آپ کو بھنک تب لگیگی جب معاملہ ہاتھ سے نکل چکا ہوگا. زندگی کے ہر کام کا مشورہ ایک ہی شخص سے لینا بہت مضر ثابت ہوتا ہے. غلط مشورہ دینگے. صحیح رہنمائ نہیں ملیگی. اسی لئے دانا کا قول ہے ہر چیز کا مشورہ اسی فن کے جان کار سے حاصل کیا جائے.


5.جب آنکھ بند ہوگی اور حقیقی سفر شروع ہوگا، اس سفر آخرت میں کوئ ساتھ نہیں ہوگا ...بس اکیلے ہی سفر کرنا ہوگا. جو ہمارے ساتھ زندگی میں پورا پورا دن ساتھ ساتھ رہتے تھے وہ بھی کچھ دن یاد کرکے بھول جائینگے .پھر تو ایسے بھول جائینگے کہ انہیں بھول سے بھی ایک نیکی کا ایصال ثواب کرنے کی فکر نہ ہوگی. جسے خوش کرنے کے لئے مجلسیں لگاتے تھے خوش گپیوں میں منہمک رہتے تھے وہ سب اپنی اپنی دھن میں ہونگے اور آپ پر جو قبر (برزخ) میں گزر رہا ہوگا وہ آپ ہی محسوس کر رہے ہونگے .دنیا کا عارضی سفر سے مکمل تیاری کر لی جاتی ہے. اور یہ تو ایسا سفر ہے کہ اس سے ہر کو دوچار ہوناہے پھر بھی اس کے بارے میں بہت غفلت برتی جاتی ہے .بلکہ بعضے کی زبان پر آتا ہے. ''دیکھ لینگے ،دیکھا جائےگا "" اللہ تعالی ہمیں اپنی مرضیات والی زندگی گزارنے کی توفیق عطافرماوے .. 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

اقوال سر سید،اقبال اور مولانا آزاد

  اقوال سر سید،اقبال اور مولانا آزاد                                                           Sayings of Sir Syed, Iqbal and Maulana Azad...