اتوار، 2 اکتوبر، 2022

غزل از ڈاکٹر رونق جمال

غزل 


ہر طور ہر طریق سے نعمت خرید لی

غم دے کے ہم نے غیر کو فرحت خرید لی


گمنام تھے تو خواب پہ تھا اپنا اختیار 

نیندوں کو بیچ باچ کے شہرت خرید لی


برسوں قلم کو گھس کے بھی بے نام جو رہے 

دولت لٹا کے ہم نے بھی مدحت خرید لی


ہر چیز بک رہی ہے تو حیرت کی بات کیا 

مذہب کے پارساؤں نے حرمت خرید لی


سرمایہ کاری یوں ہی نہیں کی چناؤ میں 

قیمت لگا کے سر کی قیادت خرید لی


ہے علم اس کے سر پہ کفالت کا بوجھ ہے 

صحرا نچوڑنے کی جو محنت خرید لی


ارشاد ! تندرستی جو نعمت سے کم نہیں 

تم نے سنا کسی سے بھی ! صحت خرید لی؟


ڈاکٹر ارشاد خان 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

اقوال سر سید،اقبال اور مولانا آزاد

  اقوال سر سید،اقبال اور مولانا آزاد                                                           Sayings of Sir Syed, Iqbal and Maulana Azad...