منگل، 11 اکتوبر، 2022

تیس سال کے اس سفر میں ہم نے سب کچھ کھو دیا ، پایا کچھ نہیں ۔.

رات کو سب نو ساڑھے نو بجے تک سو جایا کرتے تھے ، رات دیر تک جاگنے

کو نحوست تصور کیا جاتا تھا ، صبح آذان کی آواز کانوں میں گونجتی تھی اور

اُس کے بعد گھر یا ہمسایوں کے مرغے أذان دیا کرتے تھے ، گھر میں درخت

موجود ہوتا تھا اور صبح صبح چڑیوں کی آواز کانوں کو سنائی دیتی تھی ۔

گھر کے مرد نماز پڑھنے چلے جاتے تھے اور یوں دن کا آغاز بہت جلدی ہو 

جاتا تھا ۔

دوپہر میں اکثر گھروں میں روٹی بنائی جاتی تھی اور ساتھ اناردانہ ، پودینہ ، ٹماٹر

اور پیاز کی چٹنی بنائی جاتی تھی ، اُس کے بعد ظہر کا اہتمام کیا جاتا تھا اور 

پھر قیلولہ کیا جاتا تھا ، گھر میں دادا دادی کے وجود کو رحمت سمجھا جاتا تھا 

اور اُن کا کہا ہوا حرفِ آخر ہوتا تھا ، محلے داروں کے دُکھ سُکھ سانجھے ہوتے

تھے اور کسی بارات یا فوتگی پہ اتحاد کا جذبہ دیکھنے کے قابل ہوتا تھا ۔

نا کوئی بیرا ہوتا تھا اور نا ہی شادی ہال ، محلے کے تمام لوگ مل کر شادی

کی ساری تیاریاں کرتے تھے اور فوتگی پہ ہمسائے بھی کئی کئی دن چولہا نہیں

جلاتے تھے ۔

پھر۔۔😥😥

دیواریں اونچی ہونا شروع ہوئیں ، درخت ختم ہوئے ، پرندے اڑ گئے ،

مرغ پولٹری فارمز میں چلے گئے اور دیواریں اتنی اونچی ہو گئیں کہ مسجد کے 

لاؤڈ سپیکر کی آواز بھی کم آنے لگی ، ایک وقت میں کئی کھانے کھانے کی ٹیبل

کی زینت بننے لگے ، برکت ختم ہو گئی اور ایک گھر میں رہتے لوگ بھی ایک

دوسرے سے انجانے ہو گئے ، پرائیویسی کے نام پر علیحدہ علیحدہ رومز بن گئے

اور گھر میں رہتے ہوئے رابطے موبائلز پر ہونے لگے ، شادی ہالز اور مارکیز میں 

ہونے لگیں اور محلے میں فوتگی پر منہ دکھانے کی رسم چل نکلی ۔

تیس سال کے اس سفر میں ہم نے سب کچھ کھو دیا ، پایا کچھ نہیں ۔. 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

*بحث مت کیجیے* *Speak only* when you feel *your words* are *better than* the silence

 *بحث مت کیجیے*  *Speak only* when you feel *your words* are *better than* the silence. *ڈاکٹر محمد اعظم رضا تبسم* کی کتاب *کامیاب زندگی کے ...