اتوار، 16 اکتوبر، 2022

ثانی تو بڑی چیز ہے سایہ نہ ملے گا

ثانی تو بڑی چیز ہے سایہ نہ ملے گا 


( ایک تقریر )


وما ارسلنک الا رحمت اللعالمین 


سامعین ! میں نے آپ کے سامنے سورۃ انبیاء کی ایک آیت پڑھی ۔اللہ تعالی رسول اکرم ﷺ کو خطاب کرکے فرماتا ہے کہ ،،اے محمد ﷺ ہم نے آپ کو سارے جہاں اور جہاں والوں کے لیے رحمت بناکر بھیجا ہے ۔،،یہ خدا کی طرف سے برملا اعلان ہے اور یہ اعلان اس صحیفے میں کیا گیا ہے جسے ابتدائے نزول سے تا قیامت دنیا کے ہر حصے میں پڑھا جائے گا ۔اس محسن انسانیت ﷺکے بارے میں الطاف حسین حالی نے کیا خوب کہا ہے ،


اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا 

اور اک نسخۂ کیمیا ساتھ لایا 


آپ ﷺ بعثت اس دور میں ہوئی جب دنیا پھر ظلمت چھائی ہوئی تھی ۔ ظلم و استبداد کا دور دورہ تھا ۔ کیا وہ ایک یا دو قوموں کے انحطاط یا اخلاقی بگاڑ کا مسئلہ تھا ؟ اخلاقی جرائم کا مسئلہ تھا ؟ شراب نوشی ،قمار بازی ، عیش پرستی ، حرص وہوس، حقوق کی پائمالی ، ظلم و ستم ،معاشی استحصال ،جابر وبیداد حکومتوں کے ظالمانہ نظام اور غیر منصفانہ قوانین کا مسئلہ تھا ؟؟ ۔۔مسئلہ یہ تھا کہ انسان ،انسان کو خاک میں ملا رہا تھا ۔مسئلہ یہ نہیں تھا کہ عرب کے کچھ سنگ دل اور شقی القلب لوگ اپنی معصوم بچیوں کو جھوٹی شرم اور خیالی ننگ وعار سے ایک خودساختہ تخیّل اور ایک ظالمانہ روایت کی بنا پر اپنے ہاتھوں زمین میں زندہ دفن کردینا چاہتے تھے ۔ مسئلہ یہ تھا کہ بربریت اپنی پوری نسل کو زمین میں گاڑ دینا چاہتی تھی ۔

سامعین ! یہ وقت ہے جب اللہ جل شانہ کے اذن سے کائنات کروٹ لیتی ہے ، اس کی رحمت کا ظہور ہوتا ہے ،اس وقت باد بہاری کا جھونکا آتا ہے اور مردہ انسانیت کو تروتازہ اور اس خزاں رسیدہ چمن کو پر بہار کردیتا ہے ۔وہ نور مجسم ،ہادی برحق ،ساقیِ کوثر ،شافع ؟محشر ﷺ تشریف لائے ہیں جن کی عظمت کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا بس اتنا ہی ہی کہا جاسکتا ہے کہ ،

،


   سلام اس پر کہ جس نے بےکسوں کی دستگیری کی 


سلام اس پر کہ جس نے بادشاہی میں فقیری کی 


سلام اس پر کہ جس کا 

ذکر ہے سارے صحائف میں 


سلام اس پر ہوا مجروح جو بازار طائف میں 


محسن انسانیت ﷺ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ۔آپ ﷺ سرتاپا رحمت تھے ۔ بتائیے ! کیا تاریخ ایسی کوئی مثال دے سکتی ہے کہ ایک بڑھیا روز راستے میں 

نجاست ڈالتی ہے آپ مسکراکر اسے ہٹا کر آگے بڑھ جاتے ہیں ۔پھر خلاف معمول وہ بڑھیا دو روز تک نظر نہیں آتی تو آپ اس کے گھر جاتے ہیں اور اس کی مزاج پرسی کرتے ہیں ۔مکہ میں جب قحط کا زمانہ آتا ہے تو غلہ کی رسد جاری کردیتے ہیں ۔ مکہ والے جو آپ کے خون کے پیاسے تھے انہی خون کے پیاسے جنگی قیدیوں کی کراہیں آپ ﷺ کے گوش مبارک تک پہنچتی ہے تو آپ ﷺ قیدیوں کے بندھن ڈھیلے کردیتے ہیں ۔

سامعین !! بتائیے ،ہے ایسی کوئی شخصیت جو پیٹ پر پتھر باندھ کر خندق کھود رہی ہو ؟بتائیے ، ہے ایسی کوئی مثال جو شافع محشر ہو مگر اپنے احتساب سے لرزہ براندام ہو ، وہ کہ جو امی ہو مگر اس کے منہ سے علم و حکمت کے پھول جھڑتے ہوں ۔ وہ کہ جس نے فقیری میں بادشاہی کی ہو ، وہ جو خود بھوکا رہ کر اوروں کو کھلاتا ہو ، وہ کہ جو فرش خاک پہ سوتا ہو ، وہ کہ جو راتوں کو جاگ کر اپنی امت کے لیے روتا ہو ، وہ کہ جس نے کفر کی قوت کچل ڈالی ہو ، وہ کہ جس نے زمانے کی فضا بدل ڈالی ہو !!

بے شک رحمت عالم کے لیے اتنا ہی کہا جا سکتا ہے ،


دنیا اگر ڈھونڈے گی ثانی محمد ﷺ

ثانی تو بڑی چیز ہے سایہ نہ ملے گا 


ڈاکٹر ارشاد خان 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

اقوال سر سید،اقبال اور مولانا آزاد

  اقوال سر سید،اقبال اور مولانا آزاد                                                           Sayings of Sir Syed, Iqbal and Maulana Azad...