جمعہ، 21 اکتوبر، 2022

تازہ غزل ساتھ چلنا تھا دو قدم اس کے Faisal ajmi

تازہ غزل


ساتھ چلنا تھا دو قدم اس کے

وہ ہمارا نہ تھا نہ ہم اس کے


راستہ ختم کس طرح ہوتا

ہم بڑھاتے تھے پیچ و خم اس کے


پارسائی کی انتہا کر دی

پاؤں چھو لیتے کم سے کم اس کے


خواب ٹوٹا اور اس طرح ٹوٹا

پھر نہ ریزے ہوئے بہم اس کے


دل ہے بیزار ہم سے —ہم دل سے

ساتھ ہیں اور کوئی دم اس کے


رات رو کر گزاری برگد نے

سارے پتّے ملے ہیں نم اس کے


میری خوشیاں ہیں اس کا پیراہن

میں نے پہنے ہوئے ہیں غم اس کے

Ek Ghazal by Faisal azmi

فیصل عجمی 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

اقوال سر سید،اقبال اور مولانا آزاد

  اقوال سر سید،اقبال اور مولانا آزاد                                                           Sayings of Sir Syed, Iqbal and Maulana Azad...