اتوار، 13 نومبر، 2022

بسم اللہ الرحمن الرحیم Let's multiply GOODNESS دور کی کوڑی ( واقعہ نمبر 779) ایک صاحب نے فرمایا

بسم اللہ الرحمن الرحیم 

Let's multiply GOODNESS 

دور کی کوڑی ( واقعہ نمبر 779)

ایک صاحب نے فرمایا کہ بینک جو قرض دیتا ہے اس سے کاروبار کیا جاتا ہے اور اسی کے منافع سے بینک کو سود ادا کیا جاتا ہے۔ تو یہ رقم تو کاروبار کے منافع سے آرہی ہے اور کاروبار کرنا اور منافع کمانا تو جائز ہیں۔ اس میں قباحت کیا ہے؟

پوچھا یہ گیا کہ کیا بینک کاروبار میں ہونے والے منافع کی شرح کی بنیاد پر سود کا تقاضا کرتا ہے یا پہلے سے طئے شدہ نرخ پر۔ بولے کہ پہلے سے طئے شدہ شرح پر۔ عرض کیا گیا کہ یہی  تو ناانصافی ہے۔ اگر بینک یہ کہہ دے کہ کاروبار میں جتنا منافع ہوگا، اسی مناسبت سے اسے بھی زائد رقم ادا کی جائے تو کوئی قباحت نہیں ہوگی۔ 

مسئلہ یہ ہے کہ بینک کاروبار کے ممکن نفع و نقصان کو یکسر مسترد کرکے صرف اپنے منافع یعنی پہلے سے طئے شدہ سود کی فکر کرتا ہے، جو ناانصافی ہے، نابرابری ہے اور حق تلفی بھی ہے۔

ڈاکٹر عبدالماجد انصاری، ڈائریکٹر،  گُڈ کیریکٹر او پی سی پرائیویٹ لمیٹڈ  

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

اقوال سر سید،اقبال اور مولانا آزاد

  اقوال سر سید،اقبال اور مولانا آزاد                                                           Sayings of Sir Syed, Iqbal and Maulana Azad...