نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

بوڑھے جوان ہوجاتے ہیں Testostenerone

بوڑھے جوان ہوجاتے ہیں 

Testostenerone 

.,۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مسٹر ہیرائڈ کی عمر 60برس کی تھی ،ان کے پاس دولت کی کمی نہ تھی ۔ان سے ایک لڑکی ٹیری شادی کرنا چاہتی تھی ،ان کی زندہ دلی ،اور خوش گفتاری ٹیری کو بہت پسند تھی ٹیری نے ہیرائڈ سے کہا تھا مجھے جسمانی تسکین ضرورت اور خواہش نہیں ہے ،بغیر جنسی ملاپ کے ہی میں آپ کے ساتھ رہ رلوں گی ،میں چاہتی ہوں کہ آپ ہی سے شادی کروں ،ہیرائڈ بڑا فکر مند تھا وہ جنسی ملاپ کا اہل نہیں تھا اس نے ایک دن ڈاکٹر سے مشورہ لیا ۔۔ڈاکٹر نے اسے بتایا کہ مایوس ہونے کی کوئی بات نہیں ۔آج کی دواؤں میں بڑی بڑی کرامات بھری ہوئی ہیں ۔۔

یہ حقیقت ہے کے عمر کے ساتھ جسم بھی کمزور ہوتا جاتا ہے ۔۔اور ایسے ہی کمزور لوگوں کے لیے سائچک انرجیز psychicenerjizer نام کی دوا تیار ہوئی ہے ۔

یہ دوا جنسی طاقت بڑھانے کے ساتھ ساتھ آدمی کا موڈ ٹھیک کرتی ہے ۔۔مایوس انسان میں جینے کی خواہش پیدا کرتی ہے ۔اور اس کے استعمال سے لوگ چستی محسوس کرتے ہیں ۔۔ان دواؤں کا استعمال امریکہ میں عام ہوگیا ہے ۔کچھ ڈاکٹروں نے ان گولیوں کا استعمال عورتوں کی عمر گھٹانے کی شکل میں بھی کیا ہے اور کامیاب بھی ہوئے ہیں ۔۔

شروع میں ڈاکٹروں نے ان گولیوں کا استعمال انسان کی اداسی ،مایوسی ،وحشت پن ،پاگل پن ،وغیرہ وغیرہ دور کرنے کے لیے استعمال کیا تھا لیکن پھر استعمال سے پتہ چلا کہ اس سے جنسی قوت بھی بڑھتی ہے ۔۔اور بہت تھکے ہوئے اور اداس طبیعت کے لوگ اس کے استعمال سے ہشاش بشاش نظر آنے لگتے ہیں ۔ان گولیوں کا کام دماغ میں گراوٹ اور تھکاوٹ پیدا کرنے والے انجائمنس کا راستہ روکنا ہے ۔

psychic enerjizer 

تین دواؤں کو ملاکر بنائی گئی ہے ۔(1)موڈ ٹھیک کرتی ہے (2) انسان کو نارمل حالت میں رکھتی ہے ۔(3) میل ہارمونز کو بڑھاتی ہے ۔

یہ گولیاں تھوڑے وقت کے لیے ہی کام نہیں نہیں کرتیں ہیں بلکہ ایک بار کا پورا کورس بہت دنوں تک چلتا ہے ۔یہ دوا دنیا کے مختلف ملکوں میں پائی جاتی ہے ہندوستان میں بھی میڈیکل اسٹورز میں یہ دوا بکتی ہے ۔مگر یہاں کے میڈیکل اسٹورز میں بکنے والی دوا کا نام testosterone ہے اور یہ انجکشن یا ٹیبلیٹ کی شکل میں بھی ملتی ہے ۔

انڈیا میں بنانے والی کمپنی mortin and Harris pvt ltd calcutta .لندن میں بنانے والی کمپنی organon laboratories ltd London 

اس کے استعمال سے خودکشی کی حد تک مایوس انسان جینے کی خواہش محسوس کرتا ہے ۔

اس دوا نے پہلی بار ثابت کیا ہے کے دماغ کو دواؤں سے بھی کنٹرول کیا جاسکتا ہے غصہ ،نفرت،مایوسی ،وغیرہ کا تعلق دماغ سے ہے اور یہ گولیاں ان پر قابو پاتی ہیں ۔لیکن testostroneکا استعمال 40برس کی عمر والوں کو بہت فایدہ مند ہے اور خاص خاص موقع پر ہی بوڑھے لوگ اس سے فایدہ اٹھا سکتے ہیں بچوں کا ڈیویلپمنٹ رک جانے پر بھی اس کے استعمال سے بہت فایدہ ہوتا ہے اور بچہ بڑھنے لگتا ہے ۔اس کے استعمال سے بوڑھے جوان نظر آتے ہیں ۔کام کرنے کی خواہش بڑھ جاتی ہے ۔

اس دوا کے استعمال کے بعد ایک شادی عورت نے اپنا خیال اس طرح ظاہر کیا ۔

میرے شوہر جن کی عمر 46 سال ہے مجھ سے جنسی ملاپ کرنے میں کتراتے تھے لیکن ایک دن وہ ڈاکٹر کے پاس گئے اور صلاح و مشورہ کے بعد testostrone کا استعمال کیا دوا نے خاطرخواہ اثر کیا اور اب وہ اس دوا کے شوقین ہوگئے ہیں نتیجے میں اب میں ان سے کترانے لگی ہوں مجھے لگتا ہے جسیے ان کی عمر 15سال کم ہوگی ہے اور قوت پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ہے ۔

علاج :- جس شخص میں تولیدی جراثیم نہیں ہیں ۔اس کو چاہیے کہ پہلے اپنا ہارمنی ٹیسٹ کرواے ۔اس ٹیسٹ کو 

testostrone hormone test 

کہتے ہیں ۔۔کسی اچھی لیب سے صبح سویرے ۔کھانا کھانے سے پہلے ۔بذریعہ خون ۔۔ٹیسٹ کیا جاتا ہے ۔

کسی ماہر ڈاکٹر کے ذریعے testostrone tablets یا انجکشن لینا چاہیے ۔۔اور ماہر sexologist کے بغیر مشورہ کے کوئی دوا نہ لیں ۔

ہمالیہ کمپنی کی مشہور دوا جو انسانوں میں ٹسٹواسٹرون کو بڑھاتی ہے ۔

Tentex royal cap .

یہ کیاپسول ۔صبح ایک شام ایک دودھ کے ساتھ کھایں 6مہینے تک ۔

tab .tentexforte 

himaliya company .

دو دو گولیاں ۔صبح و شام ۔دودھ کے ساتھ ۔کھانا کھانے کے بعد ۔

zandu care 1699/-

zandu company 

یہ کیپسول ۔صبح و شام ایک ایک عدد کھانا کھانے کے بعد کھایں ۔

مندرجہ بالا میں سے کوئی ایک دوا لیں ۔کم سے کم 6مہینے استعمال کرنا ہے پھر test کروایں ۔

testostrnoe

آدمی کے خصیہ بناتے ہیں یہی ذمدار ہیں آدمی کی نسل بڑھانے کے ۔اگر آدمی میں ٹسٹو اسٹرون ہارمون نہ ہو تو وہ قوت مردمی کا شکار ہوجاتا ہے ۔

یونانی دوایں ۔:-  معجون ثعالب ۔10گرام صبح و شام دودھ کے ساتھ کھایں ۔

لبوب کبیر دوپہر میں 10گرام ۔کھایں ۔

حلوے گزر مغز سر گنجشک 25گرام ایک دن چھوڑ کر ایک دن کھایں ۔

حب عنبر مومیائی ۔ایک گولی ۔دو دن میں ایک بار کھایں ۔

مزید معلومات کے لیے رابطہ کریں ۔

سید حسن قائم رضا روشن زیدی کرناٹک بھارت 585104 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عہد بہمنیہ میں اُردو شاعری، ڈاکٹر سید چندا حسینی اکبر، گلبرگہ نیورسٹی گلبرگہ Urdu poetry in the Bahmani period

  عہد بہمنیہ میں اُردو شاعری  Urdu poetry in the Bahmani period                                                                                                 ڈاکٹر سید چندا حسینی اکبرؔ 9844707960   Dr. Syed Chanda Hussaini Akber Lecturer, Dept of Urdu, GUK              ریاست کرناٹک میں شہر گلبرگہ کو علمی و ادبی حیثیت سے ایک منفرد مقام حاصل ہے۔ جب ١٣٤٧ء میں حسن گنگو بہمنی نے سلطنت بہمیہ کی بنیاد رکھی تو اس شہر کو اپنا پائیہ تخت بنایا۔ اس لئے ہندوستان کی تاریخ میں اس شہر کی اپنی ایک انفرادیت ہے۔ گلبرگہ نہ صرف صوفیا کرام کا مسکن رہاہے بلکہ گنگاجمنی تہذیب اور شعروادب کا گہوارہ بھی رہاہے۔ جنوبی ہند کی تاریخ میں سرزمین گلبرگہ کو ہی یہ اولین اعزاز حاصل ہے کہ یہاں سے دین حق، نسان دوستی، مذہبی رواداری اور ایک مشترکہ تہذیب و تمدن کے آغاز کا سہرا بھی اسی کے سر ہے . ۔   Urdu poetry in the Bahmani period

فیض کے شعری مجموعوں کا اجمالی جائزہ

: محمدی بیگم، ریسرچ اسکالر،  شعبہ اردو و فارسی،گلبرگہ یونیورسٹی، گلبرگہ ’’نسخہ ہائے وفا‘‘ کو فیض کے مکمل کلیات قرار دیا جاسکتا ہے، جس میں ان کا سارا کلام اور سارے شعری مجموعوں کو یکجا کردیا گیا ہے، بلکہ ان کے آخری شعری مجموعہ ’’ مرے دل مرے مسافر‘‘ کے بعد کا کلام بھی اس میں شامل ہے۔  فیض ؔ کے شعری مجموعوں کی کُل تعداد ’’سات ‘‘ ہے، جن کے نام حسبِ ذیل ہیں:

اداریہ

  آداب !                   اُمید کہ آپ تمام خیریت سے ہوں گے۔ کورونا کی تیسری لہر کا خطرہ بھی ٹلتا ہوا نظر آرہاہے۔ زندگی کی گاڑی پٹری پر آتی ہوئی نظر آرہی ہے۔ اللہ کرے کہ ایسا ہی ہو۔ خیر یہ کورونا کی لہر یا کورونا کا بنایا ہوا جال تو دو سال سے چل رہاہے۔ لیکن کیا ہم صحت کو لے کر پہلے پریشان نہیں تھے؟ ہمارے گھروں میں ہمارے خاندانوں میں بیماریوں کا بھنڈار پڑا ہے۔ ہر کسی کو کچھ نا کچھ بیماری ہے۔ سردرد جیسے چھوٹی بیماری سے لے کر کینسر جیسے جان لیوا امراض   تک ہمارے خاندانوں میں ضرور پائے جاتی ہے۔                   عزیزان من!   کیا آپ نے سوچا ہے کہ یہ سب کیوں ہورہاہے۔اگر ہم   ہمارے آبا و اجداد کی زندگی پر نظر ڈالیں تو ہمیں کوئی بیماری نظر نہیں آتی۔ چند ایک کو چھوڑ کر جن کی عمریں زیادہ ہوئیں تھیں وہ بھی زیادہ بیڑی کا استعمال کرنے والوں کو پھیپھروں کا کچھ مسئلہ رہتا تھا وہ بھی جان لیوا نہیں ہوا کرتا تھا۔ بس زیادہ سے زیادہ کھانستے رہتے تھے۔ اور آخری دم تک کھانستے ہی رہتے تھے۔ ان کی عمریں سو یا سو کے آس پاس ہوا کرتی تھی۔                   کبھی کسی کو دل کا دورہ نہیں ہوا کرتا تھا اور