جمعہ، 4 نومبر، 2022

فیض احمد فیض کی نعت گوئی

فیض احمد فیض

 

فیض احمد فیض 13 فروری 1911 کو پیدا ہوئے ۔ فیض احمد فیض پاکستانی کے صف اول کے شعراء میں سے مانے جاتے ہیں ۔ گورنمنٹ کالج اور اورئنیٹل کالج سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد برٹش آرمی کا حصہ بنے ۔ پاکستان معرض وجود میں آیا تو روزنامہ پاکستان ٹائمز کے ایڈیٹر مقرر ہوئے ۔ شاعری وجہ شہرت بنی اور ادبی خدمات پر پاکستان حکومت نے تمغہ امتیاز سے نوازا فیض احمد فیض وہ واحد پاکستانی شاعر ہیں جو نوبل پرائز کے لیے نامزد کیے گئے ۔ انہوں لینن امن ایوارڈ بھی دیا گیا ۔

 

نعت گوئی

ابو الخیر کشفی فیض احمد فیض پر اعتراض تھا کہ انہو ں نے اتنا کہا اور شاعری کی دنیا میں اہم مقام حاصل کرلیا مگر انہیں نعت کہنے کی توفیق نہ ہوئی۔ یہ اعتراض جب فیض تک پہنچا تو انہوں نے ہاجرہ مسرور کے گھر پر ہونے والی ملاقات میں کشفی مرحوم سے کہا ’’آپ تو ادب کے استاد ہیں، کیا آپ اپنے طالب علموں کو اس بُتِ ہزار شیوہ سے متعارف نہیں کراتے جسے غزل کہتے ہیں۔ اگر آپ نے ہمدردی اور دلِ بیدار کے ساتھ میری غزلوں کا مطالعہ کیا ہوتا تو نعت کے اشعار مل جاتے ‘‘ اور پھر فیض نے اپنا یہ شعر پڑھا۔

شمعِ نظر، خیال کے انجم، جگر کے داغ

جتنے چراغ ہیں، تری محفل سے آئے ہیں

 

حمدیہ و نعتیہ کلام

اے تو کہ ہست ہر دلِ محزوں سرائے تو

  

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

اقوال سر سید،اقبال اور مولانا آزاد

  اقوال سر سید،اقبال اور مولانا آزاد                                                           Sayings of Sir Syed, Iqbal and Maulana Azad...