منگل، 15 نومبر، 2022

★خواہ مخواہ ★ (طنزومزاح) ایک لوہار کی ـــــــ! قسط ـ ۲

★خواہ مخواہ ★ (طنزومزاح)  

ایک لوہار کی ـــــــ! قسط ـ ۲ 

جیسے جیسے شادی کا دن قریب آرہا تھا دولہے والوں کے مطالبات بڑھتے جا رہے تھے ـ تاکہ ان مطالبات سے تنگ آکر یا بے بس ہو کر لڑکی والے رشتہ توڑنے پر مجبور ہو جائیں اور دادیاں جھٹ موقع کو غنیمت جان کر فورا رشتہ توڑ ڈالیں ـ لڑکی پڑھی لکھی ہے تو کیا ہوا، ہے تو غریب گھر کی ـ شگن کی رسم کی کامیابی نے دادیوں کو بے چین کردیاتھا ـ انھوں نے سخت قدم اٹھانے کی ٹھان لی ـ پیغام بھجوایا کہ دولہے والے مہندی کی رسم کرنا چاہتے ہیں ـ کسی ایئر کنڈیشنڈ ہال کا انتظام کیا جائے ـ پیغام بھیج کر دادیاں یہ سوچ رہی تھیں کہ وار صحیح نشانے پر لگا ہے ـ اب ان کی ساری پول کھل جائے گی ـ لڑکی خوب صورت ہے تو کیا ہوا ہے تو کیچڑ کا کمل ـ ہمارے سوئمنگ پُول کے بھی لائق نہیں ـ لیکن دوسرے دن ہی میسیج آیا کہ شہر کے ٹاپ اے سی ہال میں مہندی کی رسم کا انتظام کردیاگیاہے ـ لڑکے والوں کے گھر میں اس میسیج سے تو تعجب سے بانچھیں کھل گئی تھی ـ ساتھ ہی ساتھ تعریف کی سوغاتیں بھیجی جا رہی تھی کہ لڑکی والوں نے ہماری ناک رکھ لی ـ لیکن دادیوں کو تو ایسا لگ رہا تھا کہ ان کی تو ناک ہی کٹ گئی ـ اے سی ہال میں بھی ان کے پیروں تلے کی آگ سر تک پہنچ گئی تھی ـ واپس لوٹے تو صرف ہاتھ ہی مہندی سے لال نہیں ہو رہے تھے بلکہ چہرہ بھی لال مرچ ہو گیا تھا ـ 

وہ بدلے کی آگ میں تمتما رہی تھیں ـ ان سے رہا نہیں جا رہا تھاـ انھیں غریب کی جھوپڑی پر تام جھام سے بارات لے کر جانے میں شرم آرہی تھی ـ اس بہانے سے اب کی بار انہوں نے ایسا داؤ پھینکا کہ سمجھنے لگے دلہن والے چاروں خانے چت سمجھو ـ کہلا بھیجا کہ شادی کسی ہال میں نہیں بلکہ عالیشان ہوٹل میں کرنا ہو گی ـ انتظام کیا جائے ـ دادیوں کا دل بلیوں اچھل رہا تھا ـ ان کو یہ پکا یقین ہو چلا تھا کہ اب چار ہی دن میں رشتہ ٹوٹنے کی خبر آجائے گی ـ پر ہوا کچھ اور! دو دن میں ہی صبح سویرے دلہن کے ماموں جان ایک شایانِ شان شادی کا کارڈ لے کر حاضر ہوئے جس پر شادی کا اڈریس علاقے کے فائیو اسٹار ہوٹل کا تھا ـ دولہے کا سارا گھر خوشی سے جھوم اُٹھا کہ دلہن والوں نے اب کی بار بھی ان کی لاج رکھ لی ـ ان کا سر فخر سے اونچا کردیا ـ مگر دادیوں کا سر اس خبر سے چکرا کر رہ گیا ـ دادا اور پوتا تو جھوم جھوم کے ناچ رہے تھے کہ ان کی شان میں چار چاند لگ رہے تھے ـ 

پردادیاں جل بھن کر راکھ ہوئی جارہی تھیں ـ ہمارے جیسے لکھ پتیوں کے ساتھ ان کا کیا مقابلہ؟ رشتے دار اور مہمان کیا کہیں گے! مخمل میں ٹاٹ کا پیوند لگا دیا ـ نہیں نہیں! ہم ایسا ہرگز نہیں ہونے دیں گے ـ لڑکی شریف ہے تو کیا ہوا ـ ہے تو غریب ـ انہوں نے مطالبات اور بڑھا دیے ـ لیکن ادھر سے بھی ہر مطالبے پر ہامی بھری گئی ـ گھوڑا جوڑا مانگا مل گیا ـ شادی کے کھانے میں مزید ویرائٹیز مانگی گئی منظور کی گئی ـ مہمانوں کی تعداد میں اضافہ کیا گیا ـ کوئی مظائقہ نہیں ہوا ـ جیسے جیسے اور جتنے بھی مانگیں پیش کی گئی سب من و عن قبول کی گئی ـ ایسا لگ رہا تھا کہ لڑکی والے بھی کمر باندھ کر اترے ہوں کہ لڑکی اس گھر میں بیاہ کر ہی چھوڑیں گے ـ ( باقی آئندہ ـ از ملا بدیع الزماں ـ طنزومزاح نگار ـ کتاب ـ " خواہ مخواہ " ) 

..................................................

........................ 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

*بحث مت کیجیے* *Speak only* when you feel *your words* are *better than* the silence

 *بحث مت کیجیے*  *Speak only* when you feel *your words* are *better than* the silence. *ڈاکٹر محمد اعظم رضا تبسم* کی کتاب *کامیاب زندگی کے ...