اتوار، 20 نومبر، 2022

غزل از سید محمد نورالحسین نور Ghazal by Syed Noorul Hasnain

غزل

یہ ضروری ہے نظر سب کی ٹٹولی جائے

بعد میں زلف سخن بزم میں کھولی جائے


بول اٹھے گا ہر اک حرف سخن کا اپنے 

ہاں مگر نوک قلم دل میں ڈبو لی  جائے


روشنی اتنی زیادہ ہے گلی میں اس کی 

کو ششیں لاکھ کروں آنکھ نہ کھولی جائے


اس کو وحشی بھی سمجھ لیتے ہیں آسانی سے

پیار کی بولی کسی بولی میں بولی جائے


اعتبار اپنا بہر حال وہ کھو دیتی ہے

بات جو دل کے ترازو میں نہ تولی جائے


وقت گزرا تو کوئی فیض نہ حاصل ہوگا

فصل وہ فصل ہے جو وقت پہ بو  لی جائے


نور ملتی ہے کہاں نرم مزاجی سب کو

چیز اچھی ہے طبیعت میں سمو لی جائے


(سید محمد نورالحسن نور ) 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

اقوال سر سید،اقبال اور مولانا آزاد

  اقوال سر سید،اقبال اور مولانا آزاد                                                           Sayings of Sir Syed, Iqbal and Maulana Azad...