بدھ، 23 نومبر، 2022

Literary Background of Gulbarga Part -5 last || گلبرگہ کا ادبی پس منظر پارٹ - 5 آخری کڑی

Literary Background of Gulbarga Part -5 last || گلبرگہ کا ادبی پس منظر پارٹ - 5  آخری کڑی

            درجہ بالا فنکاروں میں حمید الماس اور راہی قریشی دو ایسے قلمکار ہیںجنہیں ملک گیر شہرت حاصل ہوئی۔ حمید الماس نظم کے شاعر ہیں تو راہی قریشی غزل کے۔ کئی رسائل و جرائد میں ان کی غزلیں شائع ہوتی تھیں۔ ان کے تین شعری مجموعے ”صحرا کا سفر، ضمیرشب، دیدہ بے خواب“ شائع ہوچکے ہیں۔

 

            ان تمام درج بالا فنکاروں کے بعد نئی نسل نے اپنے پر پھیلانا شروع کئے۔ ان میں خمار قریشی، محب کوثر، حکیم شاکر، عبدالستار، بدر مہدی،جبار جمیل، سلام نورس، نصیرالدین نصیر وغیرہ اہم ہیں۔

            خمار قریشی کو جدیدیت کے نمائندہ شاعر کہہ سکتے ہیں۔ ان کی غزلوں میں جدید رجحانات کا عکس نظر آتا ہے۔بقول سلیمان اطہر جاوید۔

            ” خمار قریشی نے زندگی کو چاہا ہے اور ٹوٹ کر چاہا ہے انہوں نے زندگی کے پیچ و خم کو اپنی نظر میں کھا۔ ان کے لہجہ میں امید و بیم کی جو فضااور کپکپاہٹ ہے وہ یونہی نہیں آئی۔ دنیا کی ناانصافیوں، ناہمواریوں، تلخیوں اور حقیقتوں کو سہنے اور گوارا کرنے کا رد عمل ہے۔   

            نصیر احمد نصیر نے ابتدائی زمانے سے ادب پروردہ لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا وہ غزل کے شاعر ہیں انہوں نے دیگر اصناف میںبھی طبع آزمائی کی ہے ایک شعری مجموعہ ”فیصل شب سے پرے“ ہے۔ ان کی غزلوں میں ادبی، تہذیبی و ثقافتی اقدار سے لبریز ہیں۔ نصیر کے یہاں غزل اپنی رنگینی و رعنائیوں کے ساتھ جلوہ گر ہے۔ نصیر کے ساتھ حکیم شاکر بھی غزل اور افسانہ دونوں کی وجہ سے جانے جاتے ہیں۔ ان کو گلبرگہ کے پہلے روزنامہ ”سلامتی“ کے روح رواں کے طور پر جانا جاتا ہے۔ چند نامساعد وجوہات کی بناپر یہ رسالہ بند کیا گیا۔ اس کے بعد انہوںنے اپنی ادارت ادبی رسائل ” تمجید، تجدید اور محنت“ بھی شائع کئے۔

            جہاں تک ان کی شعری خدمات کا تعلق ہے ان کی غزل حساس کی ندرت موضوع و معنی کے اعتبار سے پُر لطف ہے۔ اور روایت سے جڑی ہوئی ہے۔

            1960ءکے بعد کا زمانہ اردو نثر کےلئے بڑا ہی زرخیز رہا۔ اس عہد سے وابستہ تمام نثرنگار اپنی تخلیقات سے ادب کی سرزمین کو شاداب کررہے تھے ان نثرنگاروں میں مجتبیٰ حسین اور طیب انصاری اہمیت کے حامل ہیں۔ مجتبیٰ حسین ایک ایسا نام ہے جس نے پوری ادبی دنیا میں تہلکہ مچادیا۔ عالمی اردو ادب میں ان کا اونچا مقام ہے۔ انہوں نے مزاح نگاری کے ذریعہ ادب کے گلشن کو سینچا۔ ان کا مقام و مرتبہ گلبرگہ شہر کے لئے ایک تحفہ ہے۔ طنز و مزاح نگاری کی طرف مجتبیٰ حسین نے نئی نسل کو راغب بھی کیا۔ مجتبیٰ حسین اپنے آپ میںایک انجمن ہیں۔ ان کی 20 طنزیہ و مزاحیہ تصایف منظر عام پر آچکی ہیں۔ آج مجتبیٰ کی شخصیت علاقائی سطح سے ابھر کر اردو کی عالمی ادبی شخصیت بن گئی ہے۔ تکلف برطرف، قطع کلام، قصہ مختصر، الغرض آخرکار، میرا کالم اور آدمی نامہ، وغیرہ تصانیف کے وہ خالق ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے سفرنامہ امریکہ، جاپان چلو جاپان چلو اور سفر لخت لخت وغیرہ کے ذریعہ دنیائے ادب کو انہوں نے کئی کتابوں سے سرفراز کیا۔ مجتبیٰ حسین کو ان کی بہترین خدمات کے عوض بےشمار اعزازات سے نوازا جاچکا ہے۔ جس میں پدمشری کا اعزاز بھی شامل ہے۔ حال ہی میں گلبرگہ یونیورسٹی گلبرگہ نے اعزازی ڈاکٹریٹ کی ڈگری سے نوازتے ہوئے ان کی خدمات کا اعتراف کیا ہے۔

            طیب انصاری مجتبیٰ حسین کے ہمعصر فنکاروں میں سے ہیں۔ طیب انصاری نہ صرف خاکہ نگار ہیں بلکہ طیب انصاری نے تحقیق اور تنقید کے ذریعہ اپنے وجود کا احساس دلایا۔ ”میرا شہر میرے لوگ“ طیب انصاری کی خاکہ نگاری کی واحد کتاب ہے جو 1974ءمیں شائع ہوئی۔

            عہد آصفیہ میں اردو نثر کا ارتقاءداستان ادب گلبرگہ تحقیق و تنقید کے میدان میں ان کی شاہکار کتابیں ہیں۔ انہوں نے ایک سفرنامہ گلبرگہ سے ”گلبرگ“ کے ”عنوان“ سے تحریر کیا۔ ’تحریر و تنقید‘ ان کی تنقیدی کتاب ہے۔ ادراک معنی، نصرتی کی شاعری، خیالات اقبال اور تبصرہ و تجزیہ ان کی قابل قدر کتابیں ہیں۔وہ ایک مذہبی انسان تھے۔ مذہب سے ان کو خاص دلچسپی تھی جس کے سبب انہوں نے مختلف اولیاءکرام پر تصانیف تحریر کی ہیں جن میں قطب دکن حضرت علاو


¿ الدین انصاری، خانقاہی نظام، حضرت چراغ دہلوی ؒ کی سوانح مبارک، حضرت راجو قتال حسینی ؒ جیسی کتابیں تحریر کیں۔

            حمید الماس، عبدالقادر ادیب، عبدالستار خاطر کے بعد محب کوثر ایک ایسانام ہے جو اپنے انفرادی لب و لہجہ، جانی پہچانی لفظیات، گرجدار آواز، جنک لہجہ اور روز مرہ کے مسائل، اخلاقی و معاشرتی اقدار کے ساتھ ادب کے افق پر نمودار ہوا۔ ان کی شاعری میں ایک طنز ہے معاشرتی و اخلاقی طنز مگر اس طنز کی کاٹ میں بھی ایک اصلاح ہے معاشرتی و اخلاقی اصلاح۔ گلبرگہ کے ادب کے گیسوو کو پھولوں سے سجانے والے شاعر محب کوثر ہیں۔ جب کسی معاشرے میںافراد کے درمیان تفریق و امتیازات پیدا ہوتے ہیں تو اعلیٰ و ادنیٰ، برگزیدہ اور ملکی و غیر ملکی محب وطن اور وطن دشمن جیسے معیارات پر افراد فرقوں اور اقوام کے ذہنوں کو مسموم کیا جاتا ہے تو نتیجہ بھیانک ہی ہوتا ہے۔ فرقہ وارانہ فسادات پھوٹ پڑتے ہیں خون کے دریا بہائے جاتے ہیں اور جان و مال اور آبرو سب کچھ لوٹ لئے جاتے ہیں۔ اسی فضا میں ذہنی، سماجی، معاشی اور قومی سطح پرفرد اور معاشرے میں کیسی کیسی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔ اس کا صرف اندازہ نہیں کیا جاتا بلکہ اس کا عملی مظاہرہ بھی دیکھنے کو ملتا ہے اور چوں کہ ادیب اور شاعر معاشرے کے نہایت حساس ذہن اور باشعور افراد ہوتے ہیں اور ان تبدیلیوں اور مظاہروں کے گوا ہی نہیں بلکہ باضابطہ طور پر ایک کاتبین عہد کا فرض انجام دیتے ہیں اور ایسے میں ایسے فنکاروں کی تخلیقات دستاویزی حیثیت اختیار کرتی ہیں۔ ایسے فنکاروں کا گروہ شہر گلبرگہ کے افق پر ایک کہکشاں کے طور پر نظر آتا ہے ان میں محب کوثر اور جبار جمیل کا نام نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ جبار جمیل کے مضامین اور مختلف نظیں جو سماجی و تہذیبی مسائل کے عمدہ عکاس ہیں ہندوستان کے مختلف رسائل میں وقتاً فوقتاً شائع ہوتے رہتے ہیں۔

            1960ءاردو ادب کی تاریخ میںایک اہم موڑ ثابت ہوتا ہے۔ جسے ہم جدیدیت کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔ جدید رجحانات کا آغاز 1960ءکے بعد ہوتا ہے۔ عصری تحریکوں اور رجحانات نے بھی گلبرگہ کے ادب کو بھی متاثر کیا۔ الٰہ آباد سے ماہنامہ ”شب خون“ مشہور نقاد شمس الرحمن فاروقی کی نگرانی میں شائع ہونا شروع ہوا۔ یہاں کے فنکاروں نے بھی اس کا اثر قبول کیا۔ جدیدیت کے علمبردار در اصل موضوع کی بہ نسبت فن کو زیادہ اہمیت دیتے رہے جدید ادب کے موضوعات زندگی کی تلخلیاں،

            گلبرگہ کے چند نوجوان قلمکاروں نے ایک انجمن 1968ءمیں ”ادیبان نو“ کے نام سے قائم کی۔ اس کے روح رواں ریاض قاصدار تھے۔ اس کے اجلاس منعقد ہواکرتے تھے، کئی فنکاران اجلاس میں شریک ہوکر اپنی فنی تخلیقات کو پیش کرتے تھے۔ ان میں اکرام باگ، بشیر باگ، حامد اکمل، حکیم شاکر وغیرہ ان اجلاس کی جان تھے۔ تخلیقات پر تبصرے و تنقید بھی ہوتی تھی۔

            گلبرگہ ایک ایسا علاقہ ہے جہاں پر ایسے فنکار پائے جاتے ہیں جنہوں نے شعوری طور پر اپنی تخلیقات کو نئے فارم اور دیگر تقاضون کے ساتھ تخلیق کرنے کی کوشش کی اور کامیاب بھی رہے۔ اول تو ایسی تنظیمیں ہیں جو ادب کے فروغ و اشاعت کے سلسلے میں منظم طور پر اپنے اپنے مقام پر کام کررہی ہیں اور جنکی سرپرستی میں ادیبوں اور شاعروں کی تربیت کا اہتمام کیا جاتا ہے۔

صنعتی زندگی کی بے چینیاں، تنہائی اور سیاسی بے چینی کے نتیجے میں پیدا ہونے والا غم وغیرہ ہیں۔ جدیدیت کے علمبردار اپنی ذات کے نہا خانے کو ہی مرکز کائنات سمجھتے ہیں۔ ان کے پاس مقصدیت بالکل نہیں ہوتی۔

            1970ءکے بعد نئی نسل کے فنکار مختلف رجحانات و تحریکات سے متاثر ہوتے رہے۔ ان میں اکرام باگ، حمید سہروردی، ریاض قاصدار، خالد سعید، جلیل تنویر، صغریٰ عالم، حامد اکمل، وحید انجم، صبیح حیدر، حکیم شاکر، جبار جمیل، وہاب عندلیب، سیدمجیب الرحمن، رزاق فاروقی، نجم باگ، بشیر باگ وغیرہ قابل ذکر ہیں ۔

            وہاب عندلیب بحیثیت مبصر، خاکہ نگار، مضمون نگار، نقاد و محقق کے طور پر گلبرگہ کے ادبی سفر کو سرایو کررہے ہیں۔ انہوں نے قدآور شخصیتوں کے خاکوں کامجموعہ ”قامت و قیمت“ کے نام سے شائع کیا ہے۔ جسے ادبی حلقوں میں خوب پذیرائی ملی۔ وہاب عندلیب اردو زبان و ادب کا ایک روشن ستارہ ہیں۔ ”غیاث صدیقی شخصیت و فن“ ان کی تالیف ہے گویا بحیثیت سوانح نگار انہوں نے غیاث صدیقی سے اپنی دیرینہ وابستگی کا اظہار کیا ہے۔ ”تحقیق و تجزیہ“ ان کی تیسری کتاب ہے۔ جو ایک مشکل کام اس میں انہوں نے سترھویں صدی کی اردو ادبی تاریخ کو کھنگالا ہے۔

            سید مجیب الرحمن ایک ایسے دانشور ہیں جن کی موجودگی نے کئی جہتوں سے روشناس کروایا ہے۔ ”ماورئے شعور“ 1990ءمیں ان کے تخلیقی شوق کو ثابت کرتی ہے۔رزاق ایک ایسے فنکار ہیں جن کی فنکارانہ صلاحیت کا لوہا سارا ادبی ماحول مانتا ہے۔ ان کی کئی کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں۔ ”طریقہ تدریس، اردو اساتذہ ماحول اور مسائل، ابوالکلام آزاد کے تعلیمی تصورات، اودھ پنچ کی ادبی خدمات، ڈاکٹر رادھا کرشنن کا ادبی فلسفہ اور چکبست حیات اور ادبی خدمات وغیرہ۔

  

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

اقوال سر سید،اقبال اور مولانا آزاد

  اقوال سر سید،اقبال اور مولانا آزاد                                                           Sayings of Sir Syed, Iqbal and Maulana Azad...