Saturday, March 21, 2015

Afsana "Kashmakash" افسانہ کشمکش


”  کشمکش

صبح ایک عجیب سی بے چینی محسوس ہورہی تھی سوچا....چلوالطاف کو فون کر لیتے ہیں۔
ہلو!
آوازآئی اسلام علیکم!
سلام کا جواب دیئے بغیر ہم نے سوالات داغ دیے۔....اور.... آج کا کیا پروگرام ہے۔ رفیق کے رشتہ کا کیا ہواکہیں کوئی بات بنی یا نہیں۔
الطاف : نہیں صاب آج گاؤںجانا ہے۔

 کیوں؟
الطاف: تمہیں پتہ نہیں؟
نہیں تو!
الطاف : اجی صاب وہ گانوں کے نانی کا انتقال ہوا ہے۔
ارے وہ گاؤں والے نانی کا؟
الطاف : ہاں وہی....
کب؟
الطاف : شایدآج صبح ہی، کچھ ٹھیک سے بتایا نہیںانہوں نے جلدی میں تھے۔
تو تم جارہے ہو؟
الطاف : ہاںمیں تو جاؤںگا اور جنت کو بھی لے جاوں گا۔
توٹھیک ہے میں بھی آؤنگا۔ اسی بہانے سارے نئے پرانے رشتہ داروں سے ملاقات ہوگی؟
چلو اللہ حافظ!
            اللہ حافظ!
            فون کٹ گیا........
            اب دماغ میں دھندلی یادیں پرانے خیالات تازہ ہونے لگیں۔ ہاں وہ یادیں تو بہت دھندلی تھیں۔ کیونکہ وہ تھی تقریباً 30 سال پرانی یادیں۔ تو ہم ان یادوں پر پڑی دھول صاف کرکے اپنے آپ کو کبھی اپنی نانی کے کچے مکان میں تو کبھی کھیت میں پاتے۔ نانا پستہ قد سفید کرتا پاجامہ میں ملبوس موٹ چلارہے ہیں۔ موٹ کا پانی ٹھنڈا اور میٹھا بڑاہی مزے دار ہوتا ہے۔ پانی کے نالے سے گوللر بہہ کر آرہے ہیں میں اور میرا چھوٹا بھائی الطاف ان گوللروں کو جمع کرتے اور کچھ کھاتے تو کچھ باولی کے حوالے کرتے۔ ادھر ادھر کی باتیں کرتے (شاید پاگل باتیں) کبھی ننگے تو کبھی ادھ ننگے باولی میں غوطے لگاتے۔ پھر اوپر آتے ۔ کھیت میں بیر کے درخت بہت پرانے تھے لیکن اس کے بیر بڑے میٹھے تھے ۔کھیت سے تھوڑی دور ریل کی پٹریاں تھیں۔ ہم نے کبھی ریل نہیںدیکھی تھی ، پٹریوں پر کھڑے گھنٹوں ریل کا انتظار کرتے لیکن کبھی ریل نظر نہیں آتی۔ پٹریوں کے بازو ایک قدیم عمارت تھی۔ شاید کوئی سرکاری عمارت تھی۔ اس کے رنگ سے پتہ چلتا تھاکہ یہ کوئی سرکاری عمارت ہے۔ کھڑکی کے اندر نظر ڈالتے اور پتھر مارتے کیوں کہ اندر بہت سارے پتھر پہلے سے موجود تھے۔ کچھ تاش کے پتے ،سگریٹ کی ڈبیاں ، ماچس کی جلی تیلیاں، بہت سارا کچرا اندر کمروں میں بکھرا ہواتھا۔ شاید یہ عمارت سالوں سے بند تھی۔
            گاؤں جانے کاہم نے ذہن بنایا اور گھر سے نکلے ، بس اسٹانڈ کے راستے میں ہمارے تجارت منڈی ہے۔ کچھ ضروری کام نپٹایا۔ پھرٹھیک ۲ بجے بس اسٹینڈ کے طرف روانہ ہوئے۔ اس حساب سے کہ یہاں سے گاؤں جانے کیلئے ۲ گھنٹے درکار ہیں۔ اور میت کا وقت بعد عصر مقرر تھا۔
            بس اسٹینڈ پہنچتے ہی دیکھا کہ بس ہمارا ہی انتظار کررہی ہے۔ بس تقریباًپوری طرح بھری ہوئی تھی ایکا دُکا سیٹیں خالی تھیں۔ بالکل سامنے ایک مکمل سیٹ خالی تھی۔لوگ اکثر آگے والی سیٹ پر بیٹھنے سے ڈرتے ہیں، ہم یہ شعر گنگناتے سیٹ کی جانب بڑھے

لوگ ہر موڑ پے رک رک کے سمبھلتے کیوں ہیں
اتنا ڈرتے ہیں تو پھر گھر سے نکلتے کیوں ہیں

            ہم کھڑکی جانب بیٹھ گئے اور فون پر دوسرے رشتہ داروں کو نانی کے گذرجانے کی اطلاع دیتے رہے ۔ بس نکلنے کو ہی تھی کہ ایک صاحب معہ اہلیہ بس میں داخل ہوئے پوری بس کا جائزہ لینے کے بعدوہ ہمار ی طرف موڑے اور ہم سے سیٹ خالی کرنے کی گذارش کی کہا کہ صاحب لیڈیز ہے اگر آپ دوسری سیٹ پر بیٹھیں تو ہم دونوں اس سیٹ پر بیٹھیں گے۔ ہم نے نفی میں سرہلایا۔کچھ زبان سے کہہ نہیں پائے کیوں کہ ہم پہلے ہی فون میں مصروف تھے۔ وہ موصوف معہ اہلیہ سامنے والی کھڑی سیٹ پر بیٹھ گئے۔ ہمیں فون سے فارغ ہوتے ہی دھوپ اور پیاس کی شدت محسوس ہوئی۔ بوتل اٹھائی اور تھوڑا پانی پیا۔ خیال آیا کہ دھوپ تو کڑی ہے۔ اور گاؤں جاتے وقت دھو پ کدھر کی ہوگی۔ ہم بس کے دائیں جانب تھے۔ دماغ پر کافی زور دینے پر پتہ چلا کہ گاؤں جاتے وقت اگر شام کا وقت ہو تو سورج بھی دائیں جانب ہوتاہے۔ ہم اپنی سیٹھ سے اٹھے اور وہ مذکورہ صاحب کو اپنی سیٹھ دے دی اور ہم بائیں جانب کی سیٹ پر جا بیٹھے۔ خدا خدا کر کے ادھا راستہ کٹنے تک ۲ گھنٹے نکل گئے۔ اب اگلے سفر کیلئے ہمیں بس بدلناتھا۔
            درمیان میں ایک گاؤں میں بس اسٹانڈ پر بس کا انتظار کررہے تھے کہ الطاف کا فون آیا۔
الطاف :   کہاںہیں ابھی آپ؟
            بھائی ابھی فلاں گاؤں میں ہوں!
الطاف:   ارے جلدی آو بھائی میت گھر سے نکالی گئی ہے اور مسجد کی جانب جارہے ہیں۔آپ جلدی آنے کی کوشش کیجئے؟
            ہم نے دریافت کیا کہ کونسی سی مسجد لے جارہے ہیں؟
الطاف :   وہ قلعے کے بغل والی ۔عصر کی نماز میں ملائیں گے۔
            میں نے دریافت کیا کہ عصر کی نماز کا وقت کیا ہے۔
            کہا .... پانچ ، سواپانچ، یعنی ۵ بجے اذان اور سواپانچ یعنی جماعت (عصر کی نماز)پھر نماز جنازہ ادا کی جائے گی۔
            توٹھیک ہے ابھی ایک گھنٹارہ گیا ہے۔ ہم پہنچ جائیں گے ۔
           
            گاؤں کی ایک بس آ لگی، ہم نے کنڈکٹر سے پتہ کیا کہ یہ بس لیٹ تو نہیں ہے۔
کنڈکٹر :   نہیں صاحب ۰۱ منٹ میں چلے گی۔ اب ہمارے پاس دوسرا کوئی چارا بھی نہیں تھا، ہم اس بس میں ہو لئے۔
            درمیان میں ہر دس پندھرامنٹ میں الطاف کا فون آتا وہ ہم سے ہماری کرنٹ پوزیشن معلوم کرتا۔ابھی کہاں ہو، ابھی کہاں، کتنا وقت لگے جلدی کرو۔
            بس ہر چھوٹے بڑے دیہات میں رکتی اور کئی مسافر بس میں چڑھتے اترتے، پھر بس دھیرے دھیرے گاؤں کی
طرف روانہ ہوتی۔

            ہم نے کنڈکٹر کے مزاج اور مذہب کا اندازہ لگالیا کہ وہ کیسے مزاج اورکس مذہب کا ہے۔وہ مسلمان معلوم ہورہاتھا۔ ہم نے کنڈکٹر سے کہا کہ بھائی بس بس اسٹانڈ سے تھوڑا پہلے روک دو ہم کو ایک میت میںجانا ہے۔پلیز
            کنڈکٹر نے اوپر سے نیچے تک ہمارا جائزہ لیا اور کہا کونسی مسجد میں ہے میت؟
            ہم نے کہا:قلعہ کے بازو والی ۔
کنڈکٹر : وہاں جماعت سوا پانچ بجے ہے ۔آرام سے جاسکتے ہو کوئی بات نہیں میت مل جائے گی۔ ایسے درمیان میںبس کو نہیں روکا جاسکتا لوگ باتیں کریںگے ، پہلے جیسا نہیں ہے۔
            بس اسٹانڈ کے قریب کافی بھیڑ تھی اور بس تھوڑا آہستہ چل رہے تھی۔ کنڈکٹرنے ہمیں چلتی بس سے کود نے کو کہا اور ہم کود گئے۔ مسجد کی جانب بھاگنے لگے۔ مسجد سے قریب ایک ہوٹل میں میرے ایک بچپن کے دوست اور ماموزاد دونوں سروں پر دستی باندھے بیٹھے نظرآئے۔ ہم نے پہلے ان سے سلام علیک کی خیریت لی اور مسجد کی جانب چل پڑے۔ مسجد میں داخل ہوئے عصر کی جماعت کا وقت ہوچلاتھا لو گ صفیں درست کررہے تھے۔ ہم وضو خانہ گئے ضروریات سے فارغ ہوئے ،ضوع بنانے تک ایک دو رکعاتیں ہو چکی تھی۔ ہمارے ماموزاد مسجد کے باہر کھڑے دکھائی دئے ہم بھی ان کے ساتھ نماز ختم ہونے کا انتظار کرتے کھڑے رہے۔
            اچانک دو عورتیں روتی ہوئی مسجد کی جانب آئیں ایک صاحب نے ان سے مسجد کے بازو دیوار سے کھڑے رہنے کو کہا۔ وہ دونوں عورتیں باہر جنازے کی نماز ختم ہونے کا انتظار کرنے لگیں تاکہ میت کا دیدارکیاجائے۔
            نانی چوں کے 90 سے اوپر عمر گذار چکی تھی، دوست احباب، سگے سنمبندھی، ناتی پوتی ،گویاکہ بہت بڑا خاندان رکھتی تھیں۔آخری دیددار کیلئے تمام چاہنے والے پہنچ چکے تھے۔ کچھ گھرپر ، کچھ مسجدمیں ، کچھ قبرستان میں، جگہ جگہ مردوخواتین میت کا انتظار کررہے تھے۔
            ہماری نظر قلعہ پر پڑھی، میںنے میرے ماموزاد سے دریافت کیا کہ اس قلعہ کی اتنی اونچی اونچی دیواروں کے درمیان آخر ہے کیا۔ ایک نے کہا چلو چل کر دیکھتے ہیں۔ ہاتھ کنگن کو آرسی کیا۔
            ہم تینوں قلعہ کے صدردروازے سے اندر چلے گئے۔ پوراقلعہ ایک کھنڈر میں تبدیل ہوچکا تھا۔ لیکن ایک مکان نما عمارت قلعہ میں نئی معلوم ہورہی تھی۔ بناوٹ ایک مکان کی طرح تھی۔ لیکن اوپر دولوڈاسپیکر لگے تھے۔ میرا خیال مسجد کی طرف گیا۔ ہاں یاد آیا قلعہ کے اُس جانب سے ایک چھوٹا دروازہ اور بھی ہے ۔ جس کے اندر ایک مندر ہے بچپن میں ہم اس مندر کے اندر سے ہوتے ہوئے مسجد میں داخل ہوتے تھے۔
            سل فون کی گھنٹی بجی ہم نے فون رسیو کیا، وہ ہمارے چھوٹے بھائی کا سعودی سے تھا۔ وہ زیادہ باتونی ہے۔ جب بھی فون کرتا ہے ۔ دوتین سوال ایک ساتھ کردیتاہے۔
ہم نے فون اٹھایا ، کہا ....ہاں کون،
            کہا: اسلام علیکم اور خیریت سے؟
            ہم نے کہا ہم گاؤں میں ہیں نانی کا انتقال ہوا ہے۔
            کہا: انا للہِ واناالیی راجعون! توایک اور بزرگ ہمارے سر سے اٹھ گیا۔
            میں میت میں ہوں بعد میں بات کریں گے۔
            ٹھیک ہے اللہ حافظ۔
            قلع سے باہر آئے دیکھا کہ جنازے کی نماز کی تیاری ہورہی ہے۔
میں نے دونوں ساتھیوں سے کہا چلو جنازے کی نماز تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ تم ہو آؤہم یہیں انتظار کریں گے۔

            ٹھیک ہے ہم باوضوتھے دوڑتے دوڑتے جنازے کی نماز میں شامل ہوگئے۔
            لوگ آہستہ آہستہ مسجد سے باہر آرہے تھے۔
            کسی نے آواز لگائی .... کیا تمام لوگ مسجد کے باہر آگئے؟
            ایک نے جواب دیا.... ہاں ....
            اب مولوی صاحب مسجد کے گیٹ میں رک گئے۔ اور جنازے کی نماز کی اہمیت ،جنازے کی نماز کے طریقے سنانے لگے۔ ہم کنفیوز ہورہے تھے کہ ہم جنازے کی نماز میں ہیں یا عید کی نماز میں۔ کیوں کہ اس سے پہلے ہم نے کبھی کسی مولوی کو جنازے کی نماز کا طریقہ جنازے کی نماز میں بتاتے نہیں دیکھا۔ ہم بچپن میںوالد مرحو و مغفور کے ساتھ عید گاہ جاتے تو خطیب صاحب ایک ایک کر کے پوری نماز کا طریقہ لوگوں کو سمجھاتے ، کب کیا پڑھا جائے تمام پڑھ کر سناتے۔
            ٹھیک اسی طرح مولوی صاحب نے پوری جنازے کی نماز کا طریقہ معہ سنت و نوافیل سناڈالا۔ یہاں تک تو خیرٹھیک تھا لیکن مولوی صاحب نے مزید کہا کہ .... نہلانے اور کفنانے کے بعد میت کی صورت دیکھنے کی ایک غلط روایت چل پڑی ہے ایسا نہیں کرنا چاہئے ۔اس کی وجہ انہوں نے یہ بتائی کہ میت کے آخرت کے حالات اس کی شکل پر ابھی سے نمایاں ہوتے ہیں۔ اگرمیت اچھی ہے تو لوگ اس کی تعریف کریں گے۔کہیں گے کہ چہرے پہ نور آیا ہے۔ تعریف کرنا اچھا ہوتاہے۔ تعریف کرنے سے میت کے گناہ معاف ہوتے ہیں۔ اور اگر میت کا چہرہ کالا پڑھ گیاہے۔ تو لوگ ڈر جائیں گے لیکن پھر بھی تعریف کرنا چاہئے۔ کیوں کہ تعریف کرنے سے میت کے گناہ معاف ہوتے ہیں۔
مولوی صاحب کے گول گول باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آرہی تھیں۔ کب کونسی چیز کو اچھا کہہ رہے ہیں اور کس کوبرا....

            ہمارے ذہن میں تو ندافاضلی کا ایک شعر گردش کرہاتھا

کبھی کبھی یوں بھی ہم نے اپنے جی کو بہلایا ہے
جن باتوں کو خود نہیں سمجھے اوروں کوسمجھایا ہے

            تقریباً آدھے گھنٹے کی تقریر کے بعدنماز جنازہ ہوئی ۔ جلوسِ جنازہ قبرستان کی جانب روانہ ہوا۔ دوعورتیں جو مسجد کی دیوار سے لگ کر کھڑی تھی۔وہ میت کا چہرا دیکھنے کی خواہاں تھی۔ چونکہ مولوی صاحب کی ابھی ابھی تقریر ختم ہوئی ہے کسی نے کچھ کہنے کی ہمت نہیں کی۔
             جنازہ مسجد سے سڑک پرآیا توایک نوجوان نے زور زور سے لاالہ اللہ والحمداللہ اللہ اکبر کے نعرے بلند کرنے لگا ۔ کچھ لوگ گھبرا کر ادھر اُدھر دیکھنے لگے۔ کچھ اس کے پیچھے زور سے کچھ دبی آواز میں تو کچھ دل میں ان کلیمات کو دہرانے لگے۔راستہ خراب تھا جنازا کبھی راستے کے دائیں ہوتا تو کبھی بائیں ۔ مختلف نالیاں گڈھے ،کیچڑ ،پھلانگتے ہوئے کسی طرح میت کو قبرستان پہنچایا گیا۔
            قبر تیار تھی۔ چند نوجوانوں نے جنازے کو سیدھے قبر کے بغل کی دوسری قبر پر رکھا۔
            قبرستان پر کافی مرد وخواتین میت کے دیدار کیلئے انتظار میں تھے۔ کسی نے کہا کہ بھائی ہم میت کے آخری کا دیدار کرنا چاہتے ہیں۔چند نوجوانوں نے آواز لگائی ۔ نہیں ابھی مولوی صاحب نے کیا کہا نہیں سنا؟ نہیں دکھائیں گے۔ کسی کو نہیں دکھائیں گے۔ یہ میت عورت کی ہے۔ یہاں بہت سارے غیر حضرات بھی موجود ہیں۔ ہم میت کا چہرہ نہیںدکھائیں گے۔ ویسے بھی کفنانے کے بعد میت کا چہرا نہیں دکھایا جاتا۔ اب یہ میت ہماری نہیں یہ اللہ کی ملکیت ہے۔
            ہم نے ہماری نانی کو کبھی برقہ اڑھے کبھی کسی سے پردہ کرتے نہیں دیکھا تھا۔وہ صرف ایک سفید چادر، یا شال اُڑھتی تھی، ہم پریشان ہوگئے وہ تو سب کیلئے ایک بوڑھی نانی تھی، نانی ....سب کی نانی۔ یہ سب اثر مویوی صاحب کی تقریر کا تھا۔ ایک نوجوان بڑی تیزی دکھارہاتھا۔ شوز پہنادوسری قبروں کو اپنے پیروں تلے روندتا اپنے پینٹ کو ٹخنوں کے اوپر چڑھایے لوگوںکے ساتھ بڑی بدتمیزی سے پیش آرہاتھا۔
            اچانک ایک بزرگ آگ بگولہ ہوگئے انہوں نے آواز لگائی جن کا سر اور ڈاڑھی پوری طرح سے سفید ہوچکی تھی،تعلیم یافتہ شخص معلوم ہورہے تھے۔ ارے میاں تم ابھی بچے ہو کیا بدتمیزی کررہے ہو۔ بات کرنے کی بھی تمیز نہیں ہے تمہیں، پہلے بات کرنا سیکھو ۔ابھی دودھ کے دانت نہیں گرے ہیں تمہارے۔ یہاں چار مسلک ہیں ، ہرمسلک کے لوگ یہاں پر موجود ہیں۔ سب کے مطابق چلنا ہوگا۔

            ایک نوجوان نے آواز لگائی ارے میاں دیکھنے دو ورنہ زندگی بھر ہم سے شکایت کرتے رہیں گے کہ قبرستان پر جانے پر بھی آخری دیدار نہیں کرایئے۔

            شاید یہ گھریلوسیاست سے ڈررہاتھا۔ گھر جاکر دوسروں کو کیا جواب دے گا۔ لوگوں کے مختلف سوالات رہیں گے۔ کہ تونے فلاںفلاں وجہ سے ہم سے یہ بدلا لیا ہے وغیرہ وغیرہ

            ہم تو اس چیخ پکار سے دور جا کھڑے ہوئے۔ ہم کو تو ان مولوی اوراس بزرگ حضرت سے زیادہ وہ شاعر صحیح معلوم ہورہاتھا جس نے کہاتھا کہ

سچ بڑھے یا کہ گھٹے سچ نہ رہے
جھوٹ کی تو کوئی انتہا ہی نہیں

            اب کہیں چار تو کہیں چالیس ........

                                                                                                             سید عارف مرشد

No comments:

Post a Comment