اتوار، 27 نومبر، 2022

*بحث مت کیجیے* *Speak only* when you feel *your words* are *better than* the silence

 *بحث مت کیجیے*

 *Speak only* when you feel *your words* are *better than* the silence.

*ڈاکٹر محمد اعظم رضا تبسم* کی کتاب *کامیاب زندگی کے راز* سے انتخاب ۔ *ردا فاطمہ* گلوبل ہینڈز

 کہا جاتا ہے کہ کسی جنگل میں ایک گھوڑے اور گدھے کے بیچ زور دار بحث چِھڑ گئی۔ اور انکا موضوع سخن تھا آسمان کارنگ ۔ گھوڑا کہتا کہ آسمان نیلا ہے اور گدھا کہتا کہ آسمان کالا ہے گھوڑا اسے بار بار سمجھاتا رہا لیکن گدھا بضد ہوگیا کہ نہیں آسمان کالا ہے۔ *بالآخر دونوں نے متفقہ فیصلہ کیا کہ ہم جنگل کے بادشاہ سے پوچھ لیتے ہیں۔  دونوں اپنا مسٸلہ لے کر شیر کے پاس پہنچ گٸے اور شیر کو پورا ماجرا سنایا تو شیر نے فیصلہ دیا کہ. *گھوڑے کی بات صحیح ہے* آسمان کا رنگ نیلا ہی ہے اور پھر گھوڑے کی طرف اشارہ کرکے کہا کہ گھوڑے کو سزا دی جائے

تو گھوڑے نے حیرت میں آکر شیر سے کہا کہ جناب صحیح بھی میری بات ہے اور سزا بھی مجھے ہی... کیوں؟؟؟؟؟؟

 *تو شیر نے کہا کہ تمھاری غلطی یہ ہے کہ تم نے یہ جانتے ہوئے کہ وہ گدھا ہے وہ بیوقوف ہے تو اس کے ساتھ بحث کیوں کی* ۔ یہ مختصر کہانی ہماری پوری زندگی کا ایک ایسا پہلو ہے جس پر ہم بہت کم غور کرتے ہیں ۔ *بہت سے لوگوں کو ہم خواہ مخواہ اپنی بات سمجھانے کے لیے اپنا پورا دماغی قلبی زور لگا دیتے ہیں* ۔ اس کے باوجود وہ ہماری بات کو نہیں سمجھ پاتے ۔نتیجہ میں درست اور حق بات کرنے والا انسان غصہ میں آجاتا ہے اور غصہ عقل پر پردہ ڈال دیتا ہے ایسے میں حق پر ہوتے ہوۓ بھی وہ غلط ثابت ہو جاتا ہے ۔ *یاد رکھیں گفتگو کے آداب سے ناآشنا انسان بحث براۓ فتح مندی کرے گا اور علم و ادب سے متصف انسان بحث براۓ علم یا بحث براۓ حصول حق کرے گا* ۔ ہماری زندگی کا المیہ ہے کہ ہم اپنا بہت سارا وقت ایسے لوگوں پر ضاٸع کر دیتے ہیں۔ *لہذا اپنے وقت اپنے الفاظ اپنے مقاصد حیات کی پہلے خود قدر کریں ۔* دانا لوگ اسی لیے کہتے ہیں خاموشی عبادت ہے سکون دیتی ہے ۔ پہلے سوچو پھر بولو اور ایک عربی قول ہے الناس علی عقولھم لوگوں سے ان کی عقلوں کے مطابق کلام کیجیے ۔ *اکثر مقررین اپنے میدان خطابت میں اساتذہ کلاس رومز میں اور موٹیویشنل سپیکرز اپنے اپنے میدانوں میں اسی لیے ناکام ہوتے ہیں* ۔ آپ جن سے کلام کرنا چاہتے ہیں ان کے معیار کی گفتگو کیجیے ۔ بھینس کے آگے بین بجانا محاورہ اسی لیے مشہور ہے بھینس نہ تو سمجھنا چاہتی ہے نہ اس کے پاس عقل فہم فراست الفاظ کا ذخیرہ ہے تو *آپ چاہے حکیم لقمان کے اقوال اس کے آگے بیان کریں اس نے آواز جب بھی نکالنی ہے اپنے مقصد کے لیے چاہے وہ چارے کی طلب ہو یا پانی کی یا دوسری بھینس کا گھورنا ہو* ۔ اب دوسرا معاشرتی المیہ کہ خود کو سچا کیسے ثابت کیا جاۓ اس کے لیے اونچا بولنا یا گرج کر بولنا بھی کسی طرح نفع مند نہیں۔ *سچ دھیمے انداز میں ادب کے داٸرے میں رہ کر بھی بولا جا سکتا ہے ۔* جہاں تک ممکن ہو بحث سے دامن بچاٸیے یہ آپ کے داناٸی عزت وقار عظمت اور شہرت پر بری طرح اثر انداز ہوتی ہے ۔ حق بجانب ہوتے ہوۓ بھی آپ خود کو مجرم بنا لیتے ہیں ۔ *لہذا جو شخص آپ کی باتوں کو بغیر سمجھے بحث کرنے پر آجائے تو اس مقام پر خاموشی اختیار کرلینا بہتر راستہ ہے۔*۔*شکریہ . .

ہفتہ، 26 نومبر، 2022

رول ماڈل والدین* *بچّہ عکسِ والدین*

*رول ماڈل والدین*

*بچّہ عکسِ والدین* 


*عبدالعظیم رحمانی ملکاپوری*

--------------------


"اے ایمان والو! وہ بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں، الله کے نزدیک یہ بڑی نا پسندیدہ بات ہے کہ تم وہ کہو جو نہ کرو ." (الصف:14)

بچّے ہمیشہ اپنے والدین کی نقل کیا کرتے ہیں ۔

Children always copy their PARENTS

جیساوہ دیکھتے، سنتے ہیں ویسا ہی بولتے، سوچتے اور عمل کرتےہیں۔ ہمارا دماغ وہی لوٹاتا ہے جو ہم اس کے اندر ڈالتے ہیں۔یوں ہماری موجودہ حالت ہمارےماضی کی سوچ کا نتیجہ ہے۔اور"مستقبل میں ہم وہی ہوں گے جو آج سوچ رہے ہیں"۔ انسانوں کے پروردگار نے انسان کو فطرتاً کچھ بنیادی جبلّتوں اور صلاحیتوں سے آراستہ کر کے دنیا میں بھیجا ہے۔ان میں انفرادی، اجتماعی، خاندانی، سماجی ،خودتوقیری، خود سپردگی نفرت، رحم، رنج وغم، اثر پذیری، اثر آفرینی، ہمدردی، تقلید، تجسس، استعجاب، فرار، تعمیریت، بھوک، شہوت، شفقت وغیرہ شامل ہیں۔

 ہماری یہ زندگی کچھ لو اور کچھ دو، سیکھو اور سکھاؤ کا عملی نمونہ ہے۔ بچوں پر کھلتی ہوئی دنیا کا نرالاا اور دلچسپ اثرجدیدٹیکنالوجی،انٹرنیٹ ہے۔

سات، سُروں کی آگ ہے آٹھویں سُر کی جستجو


*بچّے کی نشونما کے مراحل* 


(1)طفولیت: (ابتدائی بچپن) پیدائش سے پانچ سال کی عمر تک

(2)بچپن :چھے سے نو سال کی عمرتک-Childhood۔بچوں کو بھر پور پیار کی ضرورت ہوتی ہے ۔

(3)لڑکپن : نو، دس سال سے بارہ تیرہ سال کی عمرتک -Adolessnpermissive ۔اس عمر کے بچّوں پر نظر رکھنے اور توجّہ کی بھر پورضرورت ہے ۔

(4)عنفوان شباب: Teenagers

(نوجوانی) تیرہ، چودہ سال سے اٹھارہ سال کی عمر تکAdulthood. اس عمر کے بچوں کے ساتھ دوستوں جیسا رویہ اپنا نے کی ضرورت ہے ۔


بچّہ عمر کے تمام مراحل میں اپنے والدین کو دیکھتا اور ان سے سیکھتا رہتا ہے۔ وہ اس کے لیے رول ماڈل اپنے ہیروکا کردار ہوتے ہیں ۔

ہمیں اپنے بچّوں کو سمجھنے اور سمجھاتے رہنے کی ضرورت ہے ۔ 


*خوئے دلنوازی*


ایک سینیئر انجینئر جب بھی فون ریسیو کرتے یا فون پر بات کرتے تو کہتے

ہیلو! "میں سینیر انجینئر بول رہا ہوں"۔

 ان کی غیر موجودگی میں جب فون کی گھنی بجی توان کے پانچ سال کے بیٹے نے فون اٹھاتے ہی کہا 

ہیلو! میں "سینیئر انجینئر بول رہا ہوں" ۔

ان مخصوص الفاظ اور محاوروں کا استعمال جو گھر میں بار بار بولے جاتے ہیں ۔بچّے کم عمری ہی میں اس کی نقالی اوران کا استعمال کرتے ہیں ۔ اس سے الفاظ کے برتنےکے فن کی جادوگری محسوس کر لی جاتی ہے۔بچّے وہی کرتے ہیں جو اپنے والدین کوPracrical کرتا دیکھتے ہیں۔لڑکیاں ویسا ہی کرتیں ہیں جیسا اپنی ماں کو کرتا ہو دیکھتیں ہیں۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ بچے دین دار، دین پسند اور آپ کے آنکھوں کی ٹھنڈک بنیں تو بہترین نمونہ عمل ( رول ماڈل) بنیں۔


*مثالیت Idealism* 


رنگ باتیں کریں اور باتوں سے خوشبو آئے


(1) گھر کا ماحول دینی ہو۔والدین فرائض، حقوق کی ادائیگی کی طرف متوّجہ رہتے ہیں ۔

(2) حرام وحلال، جائز وناجائز کا استحضار مقدم رکھتے ہیں ۔

(3)گھر میں اسلامی آداب، طور طریقوں، اذکار و دعائیں اور بول چال کی زبان عمدہ ہوتی ہے۔بھولے سے بھی غیر شائستہ گفتگو، پھوہڑ مذاق، گالی گلوچ ،فحش کلامی، تحقیر آمیز مذاق،غیر ذمہ دارانہ طرزعمل، تصنع اور جھوٹ، بے حیائی، کمتر ،سطحی الفاظ زبان پر نہیں آتے۔

(4) زندگی کے مشاغل اور اوقات کے استعمال میں نظم وضبط Time management اور سلیقہ مندی کا مظاہرہ ہوتا ہے۔


(5) مکارم اخلاق اور اوصاف حمیدہ تقویٰ ،صبر،توکل،اطاعت،فرمابرداری،عفو ودرگذر، وسعت ظرف، تواضع و انکسار Humbleness، وقار وسنجیدگی، متانت، قناعت، سادگی، میانہ روی، امانت داری فیاضی، خوش مزاجی 

کا عملی نمونہ گھر میں والدین کے کردار سے پیش کیا جاتا ہے۔

(6) گھر میں آپسی مشاورت، حوصلہ افزائی، محبت وہمدردی، مجلسی آداب، حسن ظن، حسن سلوک، جذبہء تشکیر Greatfulness ، غلطی پرمعافی مانگ لینےکا عام رواج ہے۔والدین کھلے دل سے اس پر عملی مشق کرتےہیں ۔صحت مندانہ روابط کے ساتھ پرورش کی جاتی ہے۔

(7) والدین ایک دوسرے کی بات توجّہ سے سنتے ہیں ۔آپس میں جھگڑتے نہیں ۔غیر اپنے گھریلو مسائل کو حکمت سے حل کرتےہیں۔ سودی قرض ،فضول خرچی ،بے جا رسوم وروایات اور کبائر سےاجتناب 

 کرتے ہیں ۔

(8) سب مل کر خاندان کے بزرگوں کا احترام اور ان کی عزّت وتکریم کرتے ہیں ۔ان کی ضروریات کو پورا کرنے میں سبقت لے جاتے اور خدمت کر کے خوشی محسوس کرتے ہیں ۔

(9)ہمدردی اور اثر پذیری Responsive Parenting کی فضا قائم کر رکھی ہے۔

(10) سوچی سمجھی آزادی، معتدل نظم وضبط ۔بہت سختی نہ بہت نرمی permissive۔اعتدال Authoritativeکی روش۔استدلالReasoning نہ کہ ہر وقت ڈانٹ ڈپٹ ۔ لتاڑنے، سزا دینے ، طعنے دینے کے بجائے نظر انداز کرنے کا طریقہ ۔عقلی وذہنی قصور سے صرف نظر کرنے والا طریقہ ۔

11) گہری وابستگی Attachment Pearanring ہے۔ بچے اپنے والدین کو ایک ہیرو کے طور پر دیکھتے ہیں ۔

 اخلاقی قدریں Moral Values,سماجی قدریںSocial Norms and attitude اور ان کا پاس والدین کا سب سے بڑا رول ماڈل ہے۔یہ ان کہی ہے جواپنے زیر نگیں کے لیے ان مٹ نقوش چھوڑتی ہے۔ یہ نقش کف پا ان کے لیےشعور اور لاشعور دونوں مرحلوں میں راہ نما خطوط ثابت ہوتے ہیں۔



*جذبات سے، معیار سے یا خون جگر سے* 


*ہم پرورش لوح وقلم کرتے رہیں گے*


(عبدالعظیم رحمانی کی زیر تصنیف کتاب *پرورش pearanring* سے ایک مضمون) 

بدھ، 23 نومبر، 2022

Literary Background of Gulbarga Part -5 last || گلبرگہ کا ادبی پس منظر پارٹ - 5 آخری کڑی

Literary Background of Gulbarga Part -5 last || گلبرگہ کا ادبی پس منظر پارٹ - 5  آخری کڑی

            درجہ بالا فنکاروں میں حمید الماس اور راہی قریشی دو ایسے قلمکار ہیںجنہیں ملک گیر شہرت حاصل ہوئی۔ حمید الماس نظم کے شاعر ہیں تو راہی قریشی غزل کے۔ کئی رسائل و جرائد میں ان کی غزلیں شائع ہوتی تھیں۔ ان کے تین شعری مجموعے ”صحرا کا سفر، ضمیرشب، دیدہ بے خواب“ شائع ہوچکے ہیں۔

 

گلبرگہ کا ادبی پس منظر پارٹ - 4 || Literary Background of Gulbarga Part -4

 گلبرگہ کا ادبی پس منظر پارٹ - 4 || Literary Background of Gulbarga Part -4

            انجمن ترقی پسند مصنفین کا اردو ادب کی ترقی میں اہم رول رہا ہے۔ 1936ءکے بعد ہندوستان کے کئی شہروں میں انجمن ترقی پسند مصنفین کی کئی شاخیں قائم ہوئیں۔ گلبرگہ میں ترقی پسند افکار کو لئے آگے بڑھنے والوں میں ابراہیم جلیس، سلیمان ادیب، محبوب حسین جگر، عابد علی خان اور سلیمان خطیب وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ آزادی کے چند سال بعد شعراءاور ادباءنے انجمن کے تحت نثری و شعری اجلاس منعقد کئے۔

گلبرگہ کا ادبی پس منظر پارٹ 3 || Literary Background of Gulbarga Part - 3

گلبرگہ کا ادبی پس منظر پارٹ 3 || Literary Background of Gulbarga Part - 3 


            کسی زبان کی ترقی و ترویج کیلئے حکومت کی سرپرستی ضروری ہے تب تک یہ فروغ نہیں پاتی۔ بہمنی سلطنت نے اپنا پایہ  تخت تبدیل کرنے کے سبب گلبرگہ اپنی ادبی اہمیت کھوچکا تھا اور یہاں کی ادبی فضا ماند پڑگئی تھی۔ احمد شاہ نے 1429ءمیں پایہ تخت گلبرگہ سے بیدر منتقل کیا تو اس کے امرائ، ادبائ، دانشور، اہل علم، شعراءوغیرہ بھی بیدر منتقل ہوگئے۔ اس طرح گلبرگہ کا ادبی منظرنامہ ابرآلود ہوگیا۔ کچھ شعری و نثری تصنیف بھی ہوئی اس پر گمنامی کے پردے پڑ گئے۔

            عہد بہمنی میں گلبرگہ اور بیدر میں ان سلاطین کی زیر نگرانی قدیم اردو یا دکنی بحرہ عرب سے خلیج بنگال تک پھیل گئی۔ گلبرگہ ،بیدر، گولکنڈہ، احمد نگر، بیجاپور، بودھن، چن پتن، میسور، کڑپہ، مدراس اور اورنگ آباد وغیرہ دکنی کے اہم مراکز بن گئے۔ 1590ءمیں بہمنی سلطنت کا شیرازہ بکھر گیا۔ اس کے ٹکڑے ہوگئے۔ گولکنڈہ اور بیجاپور دکن کے بڑے ادبی مراکز بن گئے۔ گلبرگہ 1686ءتک مملکت بیجاپور جو عادل شاہوں کا مرکز تھا اس میں شامل رہا۔ اس دور میں ہمیں دو نام تایخ ادب میں ملتے ہیں ایک سیوا اور دوسرا قاضی محمود بحری۔ سیوا گلبرگہ کا متوطن تھا، اس نے فارسی مثنوی روضہ شہد کا ترجمہ کیا اس نے مرثیہ بھی لکھے۔ محمود بحری دکنی شاعری میں مثنوی من لگن اور غزلیات کا ایک دیوان ان کی یادگار ہیں۔ اس دیوان میں 133 غزلیں شامل ہیں۔

گلبرگہ کا ادبی پس منظر پارٹ - 2 || Literary Background of Gulbarga part 2

continued 

گلبرگہ کا ادبی پس منظر پارٹ - 2 || Literary Background of Gulbarga 2 

            ” فیروزشاہ کا دور حکومت اصل میں اس نشاة ثانیہ کا تسلسل تھا جس کا محمود شاہ نے آغاز کیا تھا۔ فرشتہ کا خیال تو یہ ہے کہ فیروز شاہ کی علمیت محمد بن تغلق سے کہیں زیادہ تھی اسے تفسیر، فقہ، طب، اخلاق، فنون ہندسہ و ریاضی اور فلسفہ سے دلچسپی تھی گو یا اس کا دماغ اس کے اپنے الفاظ میں آسمان فرہنگ تھا۔ (طیب انصاری)۔

            وہاب عندلیب نے بھی فیروز شاہ کی علم دوستی اور ادب پروری پریوں اظہار خیال کیا ہے۔

            ” بہمنی سلاطین میں فیروز شاہ بہمنی بہ لحاظ علمو دانش بلند درجہ پر فائزتھا۔ وہ کئی زبانیں جانتا تھا۔ فارسی کے علاوہ اس نے دکنی میں بھی شعر کہے ہیں۔ فارسی یں عروجی اور دکنی میں فیروز تخلص کرتا تھا“۔        

            فیروز شاہ ایک ادیب، شاعر اور فلسفی ہونے کے ساتھ ساتھ فنون لطیفہ کا دلدادہ تھا۔ طیب انصاری اس کی یہی خوبی یوں بیان کرتے ہیں۔

گلبرگہ کا ادبی پس منظر پارٹ - 1 ||Literary Background of Gulbarga part - 1

گلبرگہ کا ادبی پس منظر

 

            شہر گلبرگہ ہندوستان کی ایک سابقہ ریاست حیدرآباد دکن کا ایک تہذیبی و ثقافتی اعتبار سے عظیم شہر ہے۔ دکن، ہند کے اس علاقے کو کہتے ہیں جو دریائے نربدا اور بندھیاچل پہاڑ کے جنوب میں واقع ہے جس کو شمالی میدانی علاقہ بھی کہتے ہیں۔ اس شمالی میدانی علاقے کو دریائے گوداوری اور دریائے کرشنا اور ان دونوں کی معاون ندیاں سرسبز و شاداب کرتے ہوئے آگے بڑھتی ہیں۔ دکن کے دریا مغرب سے مشرق کی طرف بہتے ہیں اور ان میں سے دو گوداوری اور کرشنا سمندر سے جاملنے سے پہلے ڈیلٹا بناتے ہیں۔

*بحث مت کیجیے* *Speak only* when you feel *your words* are *better than* the silence

 *بحث مت کیجیے*  *Speak only* when you feel *your words* are *better than* the silence. *ڈاکٹر محمد اعظم رضا تبسم* کی کتاب *کامیاب زندگی کے ...