Wednesday, July 18, 2018

افسانہ ‘‘دعا’’ کا جائزہ از محمد مسیح اللہ


افسانہ ‘‘دعا’’ کا جائزہ
          سید محمد اشرف نے اپنی ادبی زندگی کا آغاز کہانیوں سے کیا اور بہت کم عرصہ میں دور جدید کے ممتاز افسانہ نگاروں میں شامل ہوگئے اور اپنا ایک مقام بنالیا۔ انہوں نے افسانہ نگاری میں انسانی اقدار کی پامالی معاشرتی عدم مساوات کا کرب اعلیٰ اقدار کی زوال پذیری کو موضوع بنایاہے۔ زبان و بیان پر فنکارانہ گرفت کردار کے انتخاب میں بیدار بغزی کا ثبوت دیتے ہیں۔ یہ انکے فنی مہارت کا عکس ہے جو انکے افسانوں سے جھلکتاہے۔
انکےافسانوں میں سادگی اسلوب کے علاوہ فطری پن نمایاں نظر آتاہے۔ انکے افسانوں کے دو مجموعے شائع ہوچکے ہیں۔ ‘‘ڈار سے بچھڑے’’ اور ‘‘بادصبا کا انتظار’’ اور ایک ناول بھی شائع ہوچکی ہے۔
‘‘دعا’’ یہ ایک ایسے لڑکے کی کہانی ہے جو انتہائی غریب گھرانے سے تعلق رکھتاہے۔ معاشی تنگی کی وجہ سے گاؤں سے شہر کو کام کیلئے آتاہے تاکہ اپنے ماں باپ بھائی بہن کی مدد کرسکے۔ لیکن وہ شہر آکر جس گھر میں ملازم بنتاہے۔ وہ اسکا استحصال کرتے ہیں۔ صبح سے شام تک کام لیتے ہیں۔ نتیجتہً اسکے دل میں نفرت کا جذبہ ابھرتاہے۔ چنانچہ ایک دفعہ طوفان آتاہے۔ تو مالکن ہم صاحب کے کہنے پر وہ جانماز بچھاکر نماز و وظیفہ تو پڑھتاہے لیکن طوفان کو ٹالنے کیلئے دعا نہیں پڑھتا۔ اور یہ اسکے ساتھ کئے گئے ناروا سلوک و استحصال کا رد عمل ہے۔

Thursday, July 5, 2018

محمد یعقوب بیگانہ بحیثیت شاعر از استاد عبدالرشید


محمد یعقوب بیگانہ بحیثیت شاعر

         
 محمد یعقوب بیگانہ نے ایک شاعر کی حیثیت سے کم وبیش تمام اصناف سخن میں طبع آزمائی کی ہے۔ حمد ، نعت ،نظم ،غزل ،مرثیہ ،قطعات وغیرہ لکھے ہیں۔ آپ کی تین شعری تصانیف منظرِ عام پر آچکی ہے۔ جن کے عنوان ” انسان بنو ،حنائے غزل اور عدم کاسفر ہے ۔ا ن کے مجموعہ ” انسان بنو اور عدم کاسفر“ میں نظموں کی کثرت ہے جب کہ مجموعہ ” حنائے غزل “ غزلیہ شاعری پر مشتمل ہے۔
           بیگانہ کے کلام کا بغور مطالعہ کیا جائے تو ان کے خیالات احساسات اور مشاہدات کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔آپ کے کلام کی برجستگی ،سادگی اور صاف گوئی کے بدولت ان کے نغموں میںحسن وتاثیر کی شان پیدا ہوئی ہے۔ ان کے شعری سرمایے میں دیگر اصنافِ سخن کے مقابلے میں نظمیہ شاعری کا پلہ بھاری ہے۔ انہوں نے پابند نظموں کے علاوہ دو چار آزاد نظمیںبھی لکھی ہیں ۔ جن کے مطالعے سے انداز ہ ہوتاہے کہ آپ آزاد نظمیں بھی کامیابی کے ساتھ لکھے سکتے ہیں۔ آگے کے صفحات میں آپ کے تین شعری مجموعے کا مقدور بھر جائزہ لیا گیا ہے۔

Thursday, June 28, 2018

محمد مسیح اللہ  (لکچرر)

منشی پریم چند کا افسانہ ’’بوڑھی کاکی‘‘

منشی پریم چند، اصل نام دھنپت رائے۔ ادبی زندگی کا آغاز ناول نگاری سے کیا۔ پھر افسانہ کی طرف متوجہ ہوئے انکا پہلا افسانہ ‘‘انمول رتن’’ 1908 میں شائع ہوا۔ اسی سال ان کے افسانوں کا مجموعہ ‘‘سوز وطن’’ منظر عام پر آیا۔ پریم چند نے بارہ ناول اور تین سو سے زائد افسانے لکھے۔ انکا افسانوی ادب اپنی بے مثال حقیقت نگاری کے سبب انفرادیت رکھتاہے۔  انہوں نے اپنے افسانوں میں دیہات کی زندگی کی کامیاب عکاسی کی ہے۔ انکے افسانوں کا موضوع ظلم و استبداد کے خلاف احتجاج۔ سماجی انصاف کی خواہش حب الوطنی اور انسان دوستی انکے افسانوں کے نمایاں موضوعات ہیں۔