Monday, June 4, 2018

عہد خداداد کا شعروادب (1761-1799)کا اجمالی جائزہ


عہد خداداد کا شعروادب (1761-1799)کا اجمالی جائزہ


          ڈاکٹر عبدالکریم تماپوری کی حالیہ تصنیف عہد خداداد کا شعروادب ایک تحقیقی نوعیت کی کتاب ہے۔ اس سے قبل آپ کی ترتیب کردا دو کتابیں منظر عام پرآئیں وہ دونوں ہی شعری مجموعے تھے۔ یہ کتاب دراصل ان کی نصف صدی پر مشتمل تحقیق ہے۔ کیوں کہ انہوں نے ” دکنی ادب کی تحقیق کا ارتقاءاور اس کا تنقیدی مطالعہ“ کے زیر عنوان تحقیقی مقالہ تحریر کیا جس پر میسور یونیورسٹی سے انہیں ڈاکٹریٹ کی سند سے نوازا گیا۔ اس دوران بہت سارا مواد انہیں دستیاب ہوا جسے محفوظ کرتے ہوئے وظیفہ حسن خدمت پر سبکدوش ہونے کے بعد اسے ہاتھ لگایا اور انہیں کتابی صورت میں منظر عام پر لانے کی سعی فرمائی اور یہ کوشش ہنوز جاری ہے۔ امید کے مزید کتب منظر عام پر آئیں بہرحال یہ ڈاکٹر صاحب کی پہلی باقاعدہ تحقیقی کاوش ہے جسے انہوں نے تنقیدی روش سے گذار کر اہلیان ادب کے روبرو لایا۔ اس پر پیش رس کے عنوان سے ماہر دکنیات پروفیسر محمد نسیم الدین فریس نے ایک مبسوط اور جامع مضمون تحریر فرمایا۔ اتنا ہی نہیں گلبرگہ کے ایک معزز اور بزرگ شخصیت ڈاکٹر وہاب عندلیب اور اردو کے ایک ہمہ جہت قلمکار اور بزرگ ادیب جناب علیم صبا نویدی چنائی نے بھی اس کتاب کا بھرپور جائزہ لیتے ہوئے مضامین رقم کئے ہیں۔ ان تین مضامین کے بعد پھر کسی جائزے کی چنداں ضرورت نہیں۔ مگر اس کتاب کو پڑھنے کے بعد میرا دل بھی بے چین ہوا کچھ خامہ فرسائی میں بھی کروں اس طرح اس کتاب سے مجھے یہ محسوس ہوا کہ فی زمانہ جس طرح کی تحقیق ہورہی ہے اور جس طور کے تنقیدی مضامین رقم کئے جارے ہیں ان میں یہ بہت بہتر بلکہ ان نئے لکھنے والوں اور تحقیق سے وابستہ افراد کے لئے مشعل راہ کا کام دے سکتے ہیں۔ تحقیق کی مبادیات کیا ہیں، ان کا استعمال کیسے کیا جائے، حواشی اور حوالہ جات کے ساتھ ساتھ مسودہ کس طور تربیت دیا جائے اور کتابیات وغیرہ کا استعمال کیسے ہو بہت اچھے انداز میں اس کتاب میں در آئے ہیں۔ یقینا میری دانست میں یہ اکاڈمک طرز کا بہترین مقالہ یا بہترین کتاب ہے۔ اس بہترین تحقیقی تصنیف کیلئے ڈاکٹر عبدالکریم تماپوری کی قدمت میں ہدیہ تبریک پیش کرتے ہوئے مسرت محسوس کرتاہوں۔
          ڈاکٹر عبدالکریم تماپوری قریباً 35 برس تک درس و تدریس سے وابستہ رہے اس دوران انہوں نے شاعری بھی کی، تنقیدی مضامین بھی رقم کئے، تدوین و ترتیب کے کام بھی سرانجام دئے، ان سب کے باوجود آپ کی سوچ، فکراور ذہن تحقیق کی طرف گامزن رہا۔ تحقیق صرف سند حاصل کرنے تک نہیں رہی بلکہ یہ ان کے مزاج کا حصہ بن گئی۔ اور یہ کیفیت آج بھی ان میں موجزن ہے۔ اللہ کرے آپ کی مزید تحقیقی کاوشیں منظر عام پر آتی رہیں اور ہم طالب علموں کو اس سے مستفید ہونے کی توفیق ملتی رہے۔
          اس کتاب کو دیکھنے سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارے اکابرین نے جس طور تحقیق کا حق ادا کیا بعین ہی اسی طرز کو انہوں نے اپنایا اور اس کیلئے جس زبان و بیان کی ضرورت رہی اسے بروئے کار لاکر احسن رنگ میں پیش کیا۔
          یہ تصنیف جملہ سات ابواب میں منقسم ہے۔ پہلے باب میں عہد خدادا کے تاریخی و سیاسی حالات و واقعات، سلاطین خدادا کے علمی، ادبی و تہذیبی کارنامے کے تحت مختصر ہی صحیح مگر جامع طورپر تحریر کیا ہے۔ اس کتاب کی ورق گردانی سے اس بات کا بخوبی اندازہ ہوتاہے کہ مصنف نے تاریخ اور ادب کو اسطرح سے پیش کردیا ہے کہ دونوں ایک دوسرے کی ضرورت محسوس ہوتی ہیں۔ یہ مسلم ہے کہ ادب اپنے دور کی عکاسی کرتاہے۔ چنانچہ اس میں اس وقت کے حالات خواہ وہ سیاسی ہوں یا سماجی، معاشی ہوں یا مذہبی بحرحال کہیں نہ کہیں کسی طورپر وہ ادب میں جگہ پاتے ہیں ۔اس سے بھی ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ آیا اس دور کے حالات کیسے رہے امن و آمان تھا یا پھر کشت و خون سے بھرا ہوا تھا اور اس دور کا ادب کیسا رہا، مذہبی نوعیت کا رہا یا تاریخی اعتبار کا یا صرف فتوحات کا تذکرہ اس میں رہا وغیرہ وغیرہ۔ اس نظر سے اس کا جائزہ لیا جائے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ عہد خدادا د کا ادب دراصل مذہبی ہونے کے ساتھ ساتھ اس میں مختلف دینی عموار اور فقہی مسائل بھی اس میں در آئے۔ جو اس وقت کے لحاظ سے شاید ضروری تھے۔ جنہیں مقامی (دکنی) زبان میں تحریر کیا گیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ آیا مذہبی تحریرات، فقہی مسائل اور عبادات و ریاضت کو کیسے ادب کے ذمرہ میں رکھا جائے۔ اگر واقعتا اسے بھی ادب کا حصہ گردانا جائے۔ تو پھر شاید ادب کی تعاریف نئے سرے سے کرنی ہوگی۔
          اس کے قطع نظر اس باب میں ایک اچھی بات یہ نظر آئی کہ ڈاکٹر عبدالکریم نے دلائل سے یہ ثابت کردیا کہ سلطنت ِ خداداد کے خاتمے اور فصیل سری رنگاپٹنم میں سیند ھ لگانے والے کوئی اور نہیں تھے بلکہ وہیں کہ باشندے اور شیر میسور کے حلقہ والے ہی تھے جس کے حوالے میں شاعر مشرق کا شعر انہوں نے درج کردیا ہے۔ ورنہ عموماً عوام کے ذہنوں میں یہ بات راسخ کردی گئی تھی۔ بلکہ آج بھی بعض کے ذہنوں میں یہی بات ہے کہ دوسرے لوگوں نے سری رنگا پٹم کی فصیل میں سیندھ لگائی تھی وغیرہ وغیرہ ۔
          دوسرا باب مذہبی تصنیفات کے عنوان سے ہے جو خالص مذہبی رنگ لئے ہوئے ہے۔ جبکہ تیسرا باب صوفیانہ شاعری کے عنوان سے ہے۔ اس میں بھی مذہبی رنگ نمایاں ہے۔ جس میں پانچ شعراءکاتذکرہ ہے۔ ان میں اسوقت کے شعراءکے تعلق سے تو لکھا گیا ہے۔ مگر کلام اسی زبان میں پیش کیاگیا جیسے شاعر نے تحریر کیاتھا۔ یہاں پر اس کی تشریح یا ترجمانی کی گئی ہوتی تو نہ صرف عقدہ کھل جاتا بلکہ میری دانست میں ترسیل کا مسئلہ بھی حل ہوجاتا جو یقینا ادب میں نہ صرف اضافہ کا بعث بنتا بلکہ مفید بھی ثابت ہوتا۔
          چوتھا باب دربار سلطانی کے شاہکار تصانیف کے عنوان سے ہے اس میں تین کتب کا تذکرہ ہے۔ پہلی مفرح القلوب یعنی قلوب کو فرحت بخشنے والی ظاہر ہے اس میں مختلف باتوں کا خیال رکھا گیا ہے جو سکون دل کا باعث ہوسکتی ہیں۔ ابتداءمیں مولوی نصیرالدین ہاشمی کے حوالے سے یہ بتایا گیا ہے کہ ”یہ میسور میں موسیقی سے متعلق ایک رسالہ ہے جس میں سر و تال کی وضاحت فارسی اور ہندوستانی میں کی گئی ہے“ اس کتاب کے بیشتر کلام کو مختلف ناقدین نے قصیدے کے ذمرہ میں رکھا ہے جبکہ پروفیسر میم نون سعید نے اسے بجائے قصیدے کہ درباری تہنیت قرار دیاہے۔ کیوںکہ اس میں قصیدے کے اجزا کا التزام نہیں ہوا ہے۔ دوسری کتاب اضراب سلطانی کے عنوان سے ہے اور یہ ایک رزمیہ مثنوی ہے جس کا دوسرا نام فتح نامہ ٹیپوسلطان ہے۔ یہ دونوں کتب درباری شاعری حسن علی عزت کی تحریر کردہ ہیں۔ جبکہ تیسری کتاب فتح المجاہدین جو تحفة المجاہدین کے نام سے بھی جانی جاتی ہے۔ جس کو میر ذین العابدین شوستری نے تحریر کیا۔
          پانچواں باب کلیات و دواوین کے عنوان سے ہے۔ اس میں جملہ نو دواوین و کلیات کا تذکرہ ہے۔ ۱) دیوان صدرالدین: اس کے تحت آپ نے یہ لکھا ہے کہ انہوں نے متعدد رسالے نظم و نثر میں یادگار چھوڑے ہیں اور ایک ناتمام دیوان کا بھی پتہ چلا ہے جو ہنوز دستیاب نہیں ہوا۔ میری دانست میں یہ مناسب نہیں ہے اور ان کا صرف ایک شعر ہی انہیں ملا ہے جس کی بنیاد پر انہیں یقین کے ساتھ ایک قادر الکلام اور مشاق غزل گو بھی کہاگیاہے۔ وہ شعر یوں ہے

میں    چال اپنی چھوڑ کر چلتی  ہوں  شہ   کی     چال
جیدھر ڈھلادے ڈھل پڑی ہوں ڈالی موتی تھال میں


اولاً یہ شعر کسی ذکر کا نہیں بلکہ انثیٰ کا معلوم ہوتا ہے کیونکہ اس میں صیغہ تانیث میں پائی جاتی ہے۔ جیسے چلتی ہوں، ڈھل پڑی ہوں، ڈالی موتی وغیرہ دوسرا یہ کہ مصرعے ثانی میں ”میں“ کا اضافہ محسوس ہورہاہے۔ تھال پر مصرع ختم ہوتا تو شائد مناسب ہوتا۔  دیوان خادم ، دیوان مخدوم، ان دونوں کوایک ایک صفحہ میں ہی نمٹایا گیاہے۔ جبکہ مہتاب سخن، دیوان شہباز، دیوان لطیف، کلیات گنج شائگاں، دیوان اشعار درگاہی، کلام عابد بہت وضاحت اور صراحت سے بیان ہوئے ہیں۔
          چھٹا باب رثایہ شاعری پر منحصر ہے اس میں مرثیہ کی تعاریف کرتے ہوئے دکن میں عزاداری کی تاریخ کا اجمالی جائزہ لیتے ہوئے، عہد خداداد کے مرثیہ گو شعراءاور ان کی مرثیہ نگاری پر تحریر ہوا ہے۔
          اس کتاب کا آخری یعنی ساتواں باب نثری نگارشات پر مبنی ہے۔ جس کے تحت مختلف رسائل پر بحث کی گئی ہے یہ تمام رسائل دینی اور مذہبی امور کا احاطہ کرتے نظر آتے ہیں جو اس وقت کا طریقہ کار رہاہے۔
          متفرقات کے تحت فرہنگ الفاظ و فہرست مآخذ ، تحقیقی مقالے، مخطوطات، مطبوعات، مصنف کے بارے میں اور مصنف کی تصانیف پر اہل نظر کے تاثرات تربیت دیئے گئے ہیں۔ من جملہ یہ ایک اپنی نوعیت کی تحقیقی کتاب ہے مصنف نے جو مواد دستیاب ہوا اسے نہ صرف جمع کیا بلکہ تنقیدی روے سے گذار کر بہتر سے بہتر انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی اور یہ کوشش یقینا کامیاب کوشش کہی جاسکتی ہے۔ جس پر انہیں دوبارہ مبارکباد دیتا ہوں۔


                                                                                      پروفیسر عبدالرب استاد
                                                                                      گلبرگہ یونیورسٹی، گلبرگہ


Saturday, April 28, 2018

پکوڑے (طنزومزاح) از گل افشاں انجم۔۔۔ Pakody by Gul-e-Afshan Anjum, Gulbarga


پکوڑے  (طنزومزاح(

                                                گل افشاں انجم،
                                                ایم اے سال آخر، شعبہ اردو و فارسی، گلبرگہ یونیورسٹی، کلبرگہ

          دوستو! کیا آپکو معلوم ہے کہ ہمارے ملک میں آجکل ایک لفظ بہت سننے میں آرہاہے ”پکوڑے“  یہ لفظ پہلے ہی موجود تھا پر اس لفظ کا زیادہ استعمال نہیں ہوتا تھا۔ پر اس لفظ کو عام کرنے کا سحرا ہمارے ہردل عزیز وزیراعظم کے سر جاتاہے۔
          ہمارے ملک کے وزیر اعظم ہر نوجوانوں کو جو ڈگری یافتہ ہیں انکے لئے تحفہ خلوص دیا جو ”پکوڑا بیچنا“ ہے ہمارے ملک کے نوجوانوں کی وزیراعظم نے اتنی بڑی مشکل سے دور کیا۔ ہمارے ملک کے نوجوان بڑی بڑی ڈگریاں حاصل کرکے گھر میں بیکار بیٹھے ہوئے ہیں انکے لئے بہت بڑی آسانی ہوگئی۔ لیکن ہمارے وزیراعظم نے ایک انٹرویو میں کہا کہ جو نوجوان بڑی بڑی ڈگریاں حاصل کرکے بیکار رہے ان لوگوں کیلئے وزیراعظم نے پکوڑے بیچنے کو بھی روزگار بتایا۔
          دوستو! کیا آپ لوگ اتنی محنت سے پڑھ کر ایک نیا آسمان چھونا چاہتے تھے کیا آپ لوگ پکوڑے بیچ کر اپنا گزارا کرینگے ہم نوجوانوں کا یہ مستقبل خطرے میں نظر آرہاہے کہ کیا اتنی بڑی ڈگریاں جیسے ڈاکٹر انجینئر کیا صرف پکوڑے بیچنے کیلئے لی ہیں؟ ہمارے نوجوانوں کو وزیراعظم نے پکوڑے بیچنے کا مشہورہ تو دیا لیکن کسی بھی یونیورسٹی اور کالج میں پکوڑے کا کورس یا کسی بھی کورس میں پکوڑے سبجکٹ نہیں ہے۔ میرا ہمارے وزیرعظم کو مشہورہ ہے کہ ہماری آئندہ آنے والی نسلوں کیلئے Professional Coursesمیں بھی پکوڑے Subjectکو جاری کیاجائے۔ کیونکہ آج جو ہم بے روزگاری کیلئے پریشان ہو رہے ہیں وہ آنے والی نسلوں کو نہ ہو۔
          ہمارے وزیرعظم کو یہ کرسی سنبھالے 4سال ہوئے ہیں جس میں زیادہ تر وہ باہر کے ملکوں کی ہوا کھائی ہے۔ لیکن جب کبھی بھی دوسرے ملک کے دورے پر جاتے تو وہاں سے کچھ دیکھ کر یہاں بھارت میں لانے کی بات کرتے مثلا جب وزیراعظم کا دورہ جاپان کو جانا ہوا تو انہوں نے وہاں Bullet Trainدیکھا تو انہوں نے بھارت میں بھی اسے لانے کی بات کی ہمارے دیش کی اتنی بھاری ریل پٹریاں ہے کہ اس پر Bullet Trainنہیں چل پائیگی۔  وزیراعظم جہاں کہیں بھی دورے پر جاتے تو وہاں سے کچھ ترتیب سوچ کر آئے پر ”پکوڑے“ ناجانے انہوں نے کس ملک سے لایا۔
          جب وزیراعظم حکومت میں آنے سے بھارت کے بھولے بھالے لوگوں سے جو وعدے کئے تھے وہ وعدے سچ ہوئے جیسے کہ وزیراعظم نے کیا تھا کہ ہر ہندوستانی کے پاس اتنے روپئے ہونگے کے اسے سمجھ میں نہیں آئیگا کہ وہ ان روپیوں کا کیا کرے اگئی نوٹ بندی ہم نے دیکھا کہ ہر فرد کے پاس بہت روپئے تھے لیکن وہ اسے استعمال نہیں کرپایا۔ دوسرا وعدہ عورتوں کیلئے برا اور مردوں کیلئے اچھا ثابت ہوا۔ وہ ہے GST  یہ عورتوں کے استمعال میں آنے والی چیزیں جیسے کپڑے، زیورات وغیرہ پر GSTآنے سے ان چیزوں پر ٹیکس لگایا گیا جس سے عورتوں کی شاپنگ میں کمی ہوئی۔ جس سے مرد حضرات خوش ہوئے لیکن مردوں کیلئے بھی کچھ چیزوں پر GSTلگائی گئی۔
          تیسرا وعدہ کالا دھن واپس ہندوستان لانے کا۔ وجئے مالیا وہ سارا کالا دھن لے کر باہر چلاگیا۔ اور وراٹ کوہلی آفریقہ میں اسطرح کھیل رہاتھا کہ جیسے کہ وجئے مالیا تھا۔ سارا قرض اسے ہی چکانا ہے۔ وزیراعظم نے یہ کہا تھا کہ کالا دھن آئیگا یہ روپیہ ہر غریب لوگوں کے بینک اکاونٹ میں جمع ہوگا۔ بہرکیف وزیراعظم کا یہ خواب آدھا ہی ہوا۔ کالادھن تو ملا نہیں لیکن غریبوں کے اکاؤنٹ میں 3000روپئے رکھنے کا فرومان جاری ہوا۔ جس کسی کے اکاونٹ میں 3000 سے کم ہونگے وہ وہ بھی چلے جائینگے۔
          چوتھا وعدہ اچھے دن کا ہے جو وزیر اعظم حکومت میں آنے سے پہلے بولا کرتے تھے اچھے دن آئینگے وہ صحیح کہتے تھے کہ اچھے دن ہمارے نہیں ان کے آئینگے۔ جیسے گاؤں میں رہنے والے ملکوں کے دورے پر دورے کررہے ہیں Black Teaپینے والے وائٹ ہاوز میں coffee ہی رہے ہیں اور ایک تعلیم یافتہ آدمی دوسرے ان پڑھ لوگوں کے بیچ میں بیٹھ رہا ہے اور بول رہاہے۔
          پانچواں سب سے اہم وعدہ نوجوانوں کو نوکری کا ہے جو وزیراعظم نے پکوڑے بیچنے کا مشہورہ دے کر وہ بھی پورا کردیا۔ ہمارے نوجوانوں نے فوراً ہی ان کی بات پر عمل کر تے ہوئے اپنی ڈگریاں ہاتھ میں لے کر کالج کے باہر، آفیس اور جہاں کہیں جگہ ہو پکوڑے بیچنے کا کام شروع کردیا۔ اگر وزیراعظم یہ بات پہلے ہی بتاتے تو آج ہر اسکول اور کالج کی جگہ پکوڑے اسٹال نظر آتا۔ وزیراعظم نے 4سالوں میں پانچ اہم وعدوں کو پورا کیا اور دورے پر دورے کئے ہیں۔ میرے خیال سے شاید وہ اب بہت تھک گئے ہیں۔ تو ہم سب بھارتیوں کا یہ فرض ہوتاہے کہ ان کو آرام کیلئے بٹھانا چاہئے۔
          وزیراعظم نے جو خواب دیکھا تھا Make in India وہ بھی سچ ہوتا ہوا نظر آرہاہے۔ کیونکہ Making Indiaکا پہلا مقصد ”پکوڑا“ ہی ہے کیونکہ وزیراعظم نے نوجوانوں کے خوابوں کو ختم کردیا۔ اور اپنے خوابوں کو پورا کیا۔
          اور یہ بھی کہاگیا تھا کہ ہوائی چپل پہننے والا بھی ہوائی جہاز کا سفر کرے گا۔ انکا یہ مقصد بھی پورا ہوا۔ وہ خود ہی ہوائی چپل پہنتے تھے اور آج وہ ہوائی جہاز میں پوری دنیا کا سفر کررہے ہیں۔  میری نوجوانوں سے یہ رائے ہے کہ جو بھی نوکری کیلئے انٹرویو کیلئے لائینوں میں کھڑے ہوئے ہیں وہ لوگ پکوڑا اسٹال لگاکر پکوڑے بیچے اور لائینوں میں کھڑے رہنے سے بچے اگر آج شاعر مشرق زندہ ہوت تو شاید یہ کہتے۔
نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کی گنبد پر
تو پکوڑے ہی بیچا کر چائے کی دکانوں پر

          پہلے ہمارے دیش کو سونے کی چڑیا کہاجاتا تھا۔ اور اب ہمارے ملک کو لوگ ایک نئے نام سے جانیں گے۔ DPC یعنی Degree Pakoda Country۔
          ہمارا ملک آج کے دور میں اتنی ترقی کررہاہے کہ ہمیں بھروسہ ہے کہ ایک دن ہم امریکہ کو بھی پیچھے چھوڑ دینگے۔ لیکن ہمارے قابل وزیراعظم کو یہ پتا ہی نہیں کہ ہمارے ملک ہندوستان میں اتنے قدرتی وسائل و ذرایعہ ہیں کہ ہم دنیا کے دوسرے ممالک سے بہت آگے ہیں۔ اور بہت زیادہ وسائل کی بنا پر بہت ترقی کرسکتے ہیں۔ وزیراعظم نوجوانوں کی ہمت افزائی کرنے کے بجائے انہیں احساس کمتری میں ڈال رہے ہیں۔ اور پکوڑے بیچنے کا مشہورا دے رہے ہیں۔ اگر ایسے رہنماوں کے ہاتھ ہمارے دیش کی باگ ڈور دی جاتی ہے تو اس دیش کا اللہ ہی حافظ ہے۔

٭٭٭٭٭

Friday, April 27, 2018

افسانہ ۔۔۔ احساس ندامت از قمرالنسا Afsana .... Ahsas Nadamat by Qamarunnisa


                  افسانہ


قمرالنساء(ریسرچ اسکالرشعبہ اردو و فارسی گلبرگہ یونیورسٹی گلبرگہ)

احساس ندامت

           حیا ناز والدین کی اکلوتی اولاد ہے جو لاڈ وپیارکے جھولے میں بچپن سے جھولتی آئی ہے وہ ایک امیرماں باپ کی اولاد اکلوتی تھی جو نہایت ہی حسین و خوبصورت اور نازک لڑکی ہے جسے نازوں سے پالا گیااسکی ہر خواہش ہر ضد کو پورا کرنا اسکے والدین کا اولین فریضہ تھا اسے اپنی خوبصورتی پر بڑا ناز تھا وہ انتہائی خوبصورت اور ذہین لڑکی تھی بچپن سے لےکر کالج تک ہر کلاس میں ٹاپ کیا تھا والدین کی لاڈلی ،ٹیچرس کی چہیتی اور دوستوں کی جان تھی شاید یہ ہی وجہ تھی کہ کسی کو اپنے مقابل کا سمجھنا ہی گنوارا نہیں تھا وہ دنیا  کے ہر شوق سے قریب اور دین سے کوسوں دور تھی۔
          زندگی میں آنے والی ان آسائشوں نے اسے مغرور بنا دیا تھا وہ کالج میں نہ صرف پڑھائی بلکہ اسکے ساتھ ساتھ دوسری تمام ایکٹویٹیز میں بھی نمبرون تھی وہ ہر مقابلے میں بڑھ چڑھ کر نہ صرف حصہ لیتی بلکہ انعام اول کی مستحق بھی قرار پاتی اور اب تو کالج میں اسکے شوق بھی اونچے ہوگئے تھے وہ اب Beauty contestمیں حصہ لینے جا رہی تھی وہ اخلاقی تعلیم سے کوسوں دور مغربی تعلیم اور تہذیب میں پوری طرح ڈھل چکی تھی اور یہ مغربی تہذیب کی اندھی تقلید اسکے لباس کو بھی عریاں بناتی جارہی تھی جینس،ٹاپ ، minis,skirts,and short اسکے پسندید ہ                                                                                                                   لباس تھے جو بنا آستین کے کبھی اسکے بازوں کی نمائش کرتے تو کبھی جینس اور شارٹس اسکے جسم کی چال ڈھال کا پتہ دیتے اور اس beauty contest میں جیتنے کی چاہ نے رہی سہی کسر پوری کردی تھی ۔۔
مما۔۔بیٹا تمہارے بیوٹی کانٹسٹ کی تیاری کیسی چل رہی ہے۔
حیا۔۔۔مما تیاری تو زوروں پر ہے ۔
مما۔۔۔۔تو میری بیٹی ہی اس contestکی winner ہوگی۔
حیا۔۔۔۔جی مما ofcourse۔
مما۔۔۔بیٹا اچھے سے تیاری کرنا اور جیت کرہی آنا۔
حیا۔۔اوکے مما ۔۔بہت بھوک لگ رہی ہے آج کھانے میں کیابنا ہے ؟
مما۔۔۔آج ہماری princessکی پسند کا pizzaآرڈر کیا ہے۔
حیا۔۔۔واومما آئی لو یو۔۔۔
مما۔۔آئی لو یو ٹو
ڈیڈی۔۔ہائے !میری princessکےسے ہو آپ ؟آج بڑی جلدی گھر آگئی ہو کالج سے، کوئی پارٹی نہیں ہے کیا۔
حیا ۔۔نہیں ڈیڈی میں اپنے contest کی تیاری میں بزی ہوں دیکھنا ایسے پرفارم کروں گی سب دیکھتے رہ جائیں گے۔
ڈیڈی۔۔ہماری بیٹی تو ہے ہی princessاسکا مقابلہ کوئی کر ہی نہیں سکتا۔
حیا۔۔۔thank you ڈیڈ ۔
          حیا کو اس بیوٹی کانٹسٹ کی ایسی دھن سوار ہوئی کہ وہ اسے دنیا کی دوسری چیز کی فکر نہیں تھی اسکے چکر میں وہ اپنی پڑھائی کو بھی بھول چکی تھی اسکا سارا وقت ماڈلس کی طرح کیاٹ واک کرنے اور پراکٹس میں گزرنے لگا ااور دیکھتے دیکھتے کانٹسٹ کا دن بھی آن پہنچاآج کے اس شو کے لئے اس نے ایک بہت ہی بے ہودہ اور ماڈرن ڈریس کا انتخاب کیا تھا جو اسکے جسم کے ہر حصے کی نمائش کررہا تھا اور وہ اپنی شرم وحیا کو چھوڑ کر بہت ہی فاتحانہ انداز میں اسٹیج پر اپنی خوبصورتی اور بے شرمی کے جلوے بکھیر رہی تھی سب اسکی خوبصورتی کی تعریف کررہے تھے اور اسکی نازکی اور حسن کوسراہا جارہا تھا اوروہ تمام باتوں پر بڑے ناز وتفاخر سے مسکرائے جارہی تھی اور بلآخر اس کانٹسٹ کے ججس نے اسکو”خوبصورت دوشیزہ“کے خطاب سے نواز ا اور اسکے سر پر خوبصورتی کا تاج پہنا یا گیا اور وہ خوشی سے پھولے نہیں سمارہی تھی۔
          گھر پہنچتے ہی وہ اپنے ممی ڈیڈی کی بانہوں میں جھولتے ہوئے کہہ رہی تھی میں پھر سے جیت گئی کوئی مجھے نہیں ہرا سکتا اور اسکے والدین اسکی ہاں میں ہاں ملائے جارہے تھے اور اسکی اس خوشی کو سلیبریٹ کرنا چاہتے تھے اسکے بے ہودہ کپڑوں اور ماڈرن ازم کے نام پر جسم کی اس نمائش پر شاداں تھے اسکے ناسمجھ والدین اسکی اس بے حیائی کو کامیابی سمجھ رہے تھے اور اسکو انکریج کررہے تھے اور بیٹی کی اس کامیابی کا جشن منانے کی سوچ رہے تھے کہ اس پارٹی میں کن کن لوگوں کوبلایا جائے اس پر discussچل رہی تھی اور بلآخر ایک گرینڈ پارٹی کا فیصلہ ہوا جس میں شہر کے بڑے بڑے بزنس مین اور رئیس لوگوں کو دعوت نامے دینے کے لئے فہرست تیار ہوئی اور بڑے جوش وخروش کے ساتھ تمام دوستوں اور رشتہ داروں کو اس پارٹی میں مدعو کیا گیا۔
          بہت ہی شا ہانہ طرز کی پارٹی تھی انواع واقسام کے کھانوں سے بھری ہوئی میزیں، خوبصورت طرز سے سجایا ہوا اسٹیج جس پر حیا راج کماری کی طرح بیٹھی ہر ایک کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی تھی پہلے ہی خدا نے حسن کی دولت عنایت کی تھی اس پر کسی ماہر بیوٹیشن نے اپنے فن سے ساحرہ بنا دیا تھا اور وہ تفاخرانہ و فاتحانہ مسکراہٹ لئے جدید تراش خراش کے نام نہاد لباس میں ملکہ عالیہ بنی بیٹھی تھی۔
          ہر مرد و عورت اسکی تعریف میں قصیدے پڑھ رہے تھے اور وہ مسکراتے ہوئے سب کی داد قبول کررہی تھی مختلف قیمتی تحائف دئےے جارہے تھے اور وہ خوشبو کے ہنڈولے میں جھول رہی تھی وہاں موجود سب ہی لوگ بڑے امیر و کبیر تھے ایسے میں اسکے پھوپھو کی آمد ہوتی ہے جو دیندار اور مذہب پرست خاتون ہیں وہ اپنی بیٹی صائمہ کے ساتھ اس پارٹی میں شرکت کرتی ہیں۔ صائمہ جسکی سادگی اور پاکیزگی اسکے حسن کو اور بھی نکھاررہے تھے۔ وہ اس آرائشی دنیا سے الگ کسی اور ہی دیس کی باسی لگ رہی تھی جو گلابی کامدار شلوار سوٹ میں سلیقے سے سرپر دپٹہ جمائے آنکھیں نیچی کئے بہت ہی شائستہ اور مدھم لہجے میں محوگفتگو تھی اور اسکی اسی سلیقہ شعاری کو اس Partyمیں موجود تمام اشخاص محسوس کرکے عزت بھری نگاہوں سے دیکھتے ہیں اور آخر کار رات دیر گئے اس Party کا اختتام ہوتاہے اور حیا کی آنکھوں میں ایک نیاخواب جنم لیتاہے اسکے دل میں ماڈلنگ کا شوق پیدا ہوتاہے اور وہ ماڈل بننے کے خیالوں میں نیند کی وادیوں میں کھو جاتی ہے۔
          حیابیٹا دیکھئے ۱۱ بج گئے ہیں اٹھ جایئے آپکی پھوپھو اور آپکی بہن صائمہ کھانے پر آپکا انتظار کررہی ہیں۔
جی مما.... آرہی ہوں.... وہ تیار ہوکر جب ہال میں داخل ہوتی ہے تو اسکی پھوپھو اسکی بلائیں لیتے ہوئے کہتی ہے ماشاءاللہ میری بیٹی تو بہت بڑی ہوگئی ہے اور بہت ہی خوبصورت بھی۔

السلام علیکم....باجی.... صائمہ حیاءکے قریب جاکر اسے گلے لگاتے ہوئے کہتی ہے۔ آپ کیسی ہو۔ اور اپنی امی سے کہتی ہے امی جان.... حیاباجی تو بالکل گڑیا کی طرح ہیں
وعلیکم السلام.... میں اچھی ہوں.... وہ فخریہ انداز میں بولتی ہے۔
مما.... بیٹا جاو صائمہ کو اپنا کمرہ دکھاو اور اب یہ جب تک یہاں ہے آپکے ساتھی ہی رہے گی۔
حیا.... برا سا منہ بناتے ہوئے کہتی ہے کہ اب کیا مصیبت آگئی چلو صائمہ۔
صائمہ ....جی اچھا دیدی۔
باجی .... آپکا گھر تو بہت ہی بڑا ہے۔
ہاں.... بے دلی سے مسکراتے ہوئے یہ میرا کمرہ ہے۔
ماشاءاللہ آپ کا کمرہ تو بالکل کسی راج کماری کی طرح ہے باجی۔
صائمہ .... Thanks ایک بات پوچھنا چاہتی ہوں۔
حیا.... جی باجی آپ نے اپنے آپ کو اس طرح ڈھک کے کیوں رکھا ہے یہ head scarfing کیوں کی ہے آج کل کون یہ سرپر ڈوپٹہ اوڑھتاہے اسکی وجہ سے تمہاری صورت بھی پوری طرح سے دکھائی نہیں دے رہی اور نہ ہی تمہارا ہیر اسٹائل یہ کیوں پہنا ہے کیا تم پر پھوپھونے اس کی پابندی لگائی ہے۔
صائمہ .... نہیں باجی.... بالکل نہیں یہ تو میری خواہش ہے ہاں امی جان نے بہت کچھ سکھایا ہے کہ ہماری مسلمان خواتین اور لڑکیوں کو کس طرح زندگی گزارنی ہے مگر انہوں نے یہ سب زبردستی نہیں کی بلکہ میں یہ سب خود اپنی مرضی اور خوشی سے کرتی ہوں۔
حیا....بھلا تم کیسی لڑکی ہو.... کیا تم کالج نہیں جاتی وہاں تمہارا کوئی مذاق نہیں اڑاتا۔
صائمہ .... باجی.... لوگوں کی اپنی رائے ہے اچھی ہو یا بری میں یہ سب اپنے لئے کررہی ہوں کسی کے لئے نہیں۔
حیا.... اوکے جیسے تمہاری مرضی۔
صائمہ....میں فریش ہوکر آتی ہوں۔
حیا.... اوکے۔
صائمہ....فریش ہوکر جیسے ہی روم میں داخل ہوتی ہے اسکی نظر حیا پر پڑتی ہے اور وہ حیا سے کہنے لگتی ہے باجی یہ کیا پہنا ہے وہ حیا دیکھ کر ششدر ہوجاتی ہے۔
حیا.... دیکھو ہے نا میرا ڈریسنگ سینس کمال کا۔
صائمہ.... باجی آپ اسکو ڈریس کہتی ہیں جو آدھے سے زیادہ آپکی جسم کی نمائش کررہے ہیں۔ باجی مجھے یہ سب پسندنہیں.... ہاں آج اسکی مانگ ہے مگر کیا فائدہ ایسے کپڑوں کا جو جسم کو ڈھکنے کے بجائے اسکو دکھانے کے کام آئے کہیں سے بازو دکھائی دے رہے ہیں تو کہیں سے پیٹ.... کیا ماڈرن کپڑوں کا مطلب جسم کی نمائش ہے۔
حیا....Shut up صائمہ تمہیں کیا پتہ فیشن کا....(حیا کی بات کاٹتے ہوئے)
صائمہ .... باجی اگر یہ فیشن ہے تو میں بنافیشن کے ہی ٹھیک ہوں ۔
حیا.... ہاں تم پرفیشن جچتا بھی نہیں دوگز کا ڈوپٹہ میں اپنے آپکو جو چھپایا ہے پتہ نہیں تم کس دور میں جی رہی ہو۔
صائمہ.... ہاں باجی ٹھیک کہا آپ نے فیشن کے نام پر میں ایسی بے شرمی کبھی نہیں کرسکتی نہ میری تہذیب اس بات کی اجازت دیتی ہے نہ میرا دین ۔
حیا.... پھر تو بڑی اولڈ فیشن ہو۔
صائمہ .... کیا دین کی باتوں پر عمل کرنا اور ہیڈ اسکارفنگ کرنا، اپنے تن کو ڈھانپنے والے کپرے استعمال کرنا اولڈ فیشن ہے۔
حیا.... پھر نہیں تو کیا ہم لوگ آج کے اس ترقی یافتہ ماڈرن زمانے کے ہیں ہمیں ماڈرن ازم کو اپنا ناچاہیئے آج کے فیشن کے ساتھ چلنا چاہئے۔ اب تم خود کو دیکھ لو سر سے پاوں تک شلوار سوٹ میں خود کو ڈھک کر رکھاہے۔ تمہیں کوئی دیکھے گا بھی نہیں۔ اور میں نے Beauty contest جیتاہے اور سب سے حسین دوشیزہ کا خطاب پایا ہے۔ جانتی ہو کیوں۔ کیوں کہ میں تمہاری طرح نہیں ہوں، زمانے کے ساتھ قدم سے قدم ملاکر چلنا جانتی ہوں۔
صائمہ....واہ باجی بہت خوب.... یہ بے شرمی اور بے حیائی ماڈرن ازم ہے ایسے خود کی نمائش کرواکے دادوتحسین حاصل کرنا خوبصورتی کی دلیل ہے تو اللہ بچائے مجھے ایسے عذاب سے۔
حیا.... دیکھو صائمہ تم مجھے لیکچر مت دو مجھے میرے والدین نے کبھی کسی بات کے لئے نہیں روکا تم ہوتی کون ہو؟ مجھے تاکید کرنے والی گنوار جاہل کہیں کی۔
صائمہ .... بالکل خاموش کھڑی یہ سب سنتی ہے اور دل ہی دل میں اللہ سے دعا کرتی ہے اے اللہ تورحم کرنے والا ہے میری بہن کی حفاظت فرما۔
اسکی اس مقابلے میں جیت نے اسکا دماغ ساتویں آسمان پر پہنچادیا تھا رہی سہی کسر اسکے دوستوں نے میڈیا پر اسکی تصاویر اپ لوڈ کردی تھی جہاں اسکے Viewersکی ایک لمبی لائن تھی اور یہ سب سن کر وہ بڑی ہی خوش تھی.... مگر کچھ دن بعد ہی اسے بےہودہ مسیج آنے لگے کئی کالس آنے لگی گندے اور واہیات کمنٹس کئے جانے لگے جس سے وہ اندر ہی اندر پریشان ہوجاتی ہے اور ان تمام چیزوں سے ایک ڈر اور خوف سامحسوس کرنے لگی ہے اور وہ پریشان ہوجاتی ہے۔ اور اس مسئلے سے نپٹنے کا کوئی راستہ سمجھ نہیں آتااسکا ماڈرن ازم صرف فیشن اور ماڈرن کپڑوں تک ہی محدود تھا اس نے کبھی کوئی اس سے آگے غلط کام نہیں کیاتھا نہ لڑکوں سے کوئی قریبی دوستی تھی نہ اسکا کوئی بوائے فرینڈ تھا۔
          اس فیشن اور ماڈرن ملبوسات نے اسکو پریشان کرکے رکھ دیا تھا ایک دن وہ اپنی فرئینڈ عائزہ کے برتھ ڈے پارٹی سے واپس آرہی تھی کہ اس پارٹی میں موجود کچھ اوباش اور بدتمیز لڑکے اسکو چھیڑنا شروع کردیتے ہیں بے ہودہ اور گندے فقرے کستے ہیں کوئی کہتاہے
کہاں جارہی ہو میری جان
کوئی کہتاہے.... اکیلے اکیلے کہاں جارہے ہو ہمیں ساتھ لے لو جہاں جارہے ہو۔
حیا.... کوایک انہونی کا احساس ہوتاہے اور وہ گھبراکر دیوانہ وار بھاگنے لگتی ہے اور وہ آوارہ لڑکے اسکو پکڑکر گاڑی میں لے جانے والے ہوتے ہیں پولیس کی گاڑی کا سائرن سن کر اسے اسی حالت میں چھوڑ کر فرار ہوجاتے ہیں اور حیا ہانپتی کانپتی اپنے گھر پہنچتی ہے دروازے کی بیل پر ہاتھ رکھ کر ہٹانا بھول جاتی ہے۔
          پریشان آلودہ چہرہ پسینے سے نہائی ہوئی ہواس باختہ کیفیت لئے وہ دیوانہ وار بیل بجاتی ہے اور دروازہ صائمہ کھولتی ہے اور حیا کی یہ حالت دیکھ کر وہ پریشان ہوجاتی ہے اسکو ڈرا سہما دیکھ کر اسکی بھی حالت دگرگوں ہوتی ہے۔
حیا باجی کیا ہوا اپنے آپ کو یہ کیسی حالت بنالی ہے آپ نے۔
حیا.... صائمہ جلدی سے دروازہ لاک کرلو وہ بدمعاش گھر میں گھس آئیں گے۔
کون لوگ باجی .... کیا ہوا ہے کچھ تو بتائیں۔
اور حیا صائمہ کے گلے لگ کر سسک سسک کر رونے لگتی ہے۔
صائمہ ڈر کے مارے اسے تسلی بھی دے نہیں پاتی۔
صائمہ .... وہ غنڈے مجھے کچھ کردیں مجھے بچالو صائمہ۔
مما.... مما.... مماکہاں ہیں مماکو بلاو۔
صائمہ.... باجی کچھ نہیں ہوگا میں ہوں نا آپ کے ساتھ گھبرائے مت.... آپ بتایئے ہوا کیا۔
حیا.... صائمہ میں جب پارٹی سے نکلی تو کچھ آوارہ لڑکے مچھ پر عجیب فقرے کسنے لگے اور میرا پیچھا کرنے لگے اگر میں انکے ہاتھ لگ جاتی تو پتہ نہیں کیا ہوجاتا۔ میں بڑی مشکل سے گھر تک پہنچی ہوں۔
صائمہ.... اے مالک اے پروردگار تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے جو تو نے میری باجی کو صحیح سلامت گھرتک پہنچادیا انکی حفاظت فرمائی! اور ہمیشہ ان کو اپنے حفظ و آمان میں رکھنا۔ آمین!
حیا....بڑی معصومیت سے اسکو دعا کرتا دیکھتی ہے اور اسکے آمین کہنے پر خود بھی آمین کہتی ہے۔
صائمہ.... باجی آپ بہت خوبصورت ہیں میں جانتی ہوں اور ایک عورت کا کردار جتنا مضبوط ہوگا اسکا مقام بھی اعلیٰ ہوگا۔ آپ نے نئے زمانے کے ساتھ چلنا تو سیکھا لیکن پرانی اقدار کو بہت پیچھے چھوڑ دیا آپ نے عورت کے لباس اور اسکی حیا اسکی عظمت و عفت اور اسکی پاکیزگی کو بھلادیا۔ سرپر دوپٹہ لڑکی کی شخصیت میں چار چاند لگادیتاہے زلفیں کتنی حسین کیوں نہ ہو لیکن تعظیم سرپر دوپٹہ کرواسکتاہے باحیاعورت والدین کے لئے باعث فخر ہے بھائیوں کے لئے باعث عزت، شوہر کے لئے دنیا کا قیمتی سرمایہ اولاد کے لئے عمدہ نمونہ ہے۔ اور تم اس نام نہاد فیشن پر اپنی عظمت، عصمت کو قربان کرنے چلی تھیں باجی آپ دل کی اچھی لڑکی ہو بس اس فیشن پرستی اور اندھی تقلید نے آپ کو آج اس مقام پر لاکھڑا کردیاہے عورت کے معنی ڈھکی چھپی چیز کے ہیں۔ اگر وہ اپنی اس صفت کو جان لے پہچان لے تو دنیا و آخرت دونوں جہاں میں کامیاب ہوگی حیا ناز آپکا نام ہے جانتی بھی ہو اسکے معنی کیا ہیں عزت و فخر والی اور آپ نے حیا کا مطلب بھی نہیں جانا۔ اتنا کہہ کر صائمہ چلی جاتی ہے۔ اور حیا کے لئے ان گنت سوچوں اور پچھتاوں کے دروازکرتی چلی جاتی ہے۔ حیا صائمہ کی باتوں کی گہرائی اور لفظوں کے تقدس سے عورت کی عظمت میں کھوجاتی ہے۔


٭٭٭٭٭