Thursday, January 31, 2019

سمیرا حیدر یا سمیرا ناظم کی افسانہ نگاری

 مضمون نگار :  محمدی بیگم، ریسرچ اسکالر،  شعبہ اردو و فارسی
     گلبرگہ یونیورسٹی، گلبرگہ۔

              حیدرآباد کرناٹک کے علاقے میں یوں تو علمی و ادبی لحاظ سے گلبرگہ کو ایک مرکزی مقام حاصل ہے اس وجہ سے بھی کہ گلبرگہ 600سال قبل سلاطین، بہمنی کا پایۂ تخت رہا ہے۔ حضرت خواجہ بندہ نواز ؒ کی فیروز شاہ کے عہد میں آمد نے ایک انقلاب برپا کردیا تھا۔
بہمنی سلاطین کے دور میں علم و ادب کی شمعیں روشن ہوچکی تھیں۔ دکنی ادب کی پیدائش ان ہی علاقوں میں ہوئی تھی۔ اور بہمنیوں کی سرپرستی میں خاص طور پر بیدر میں اس ادب کو کافی فروغ حاصل ہوا اور پہلی معلوم شیریں تصنیف فخر الدین نظامی کی ’’کدم راؤ پدم راؤ ‘‘ہے ۔

Monday, January 28, 2019

پان بحوالۂ رؤف خوشتر



بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا
( ۱؂ )
ضلع بیجاپور جو جنوبی ہند (ریاست کر ناٹک)کا ایک تاریخی شہر ہے ۔یہاں کی فضاؤں میں خوبصورتی ہے ،اور یہاں کی عوام زیادہ تر دکنی لہجے میں گفتگو کرتی ہے ۔ایسی ہی دلنشین گفتگو اور اس سے زیادہ پر بہار قلم کے مالک روف خوشتر ہیں ۔وہ ایک کامیاب طنز اورمزاح نگار ، اچھے افسانہ نگار اور افسانچہ نگار بھی رہے ہیں ۔وہ ایک بلند پایہ ادیب تھے ۔جنہوں نے اپنی انشائیہ نگاری سے ہمارے اس خطے کا نام روشن کردیا۔
روف خوشتر (پیدائش ۱۹۴۴۔۱۰۔۱۷ وفات۲۰۱۸۔۹۔۸)جو پہلے عبدالروف گندگی کے نام سے جانے جاتے تھے ۔وہاب عندلیب اس سلسلے میں رقمطرازہیں ۔

Tuesday, January 22, 2019

فیض کے شعری مجموعوں کا اجمالی جائزہ



: محمدی بیگم، ریسرچ اسکالر، 
شعبہ اردو و فارسی،گلبرگہ یونیورسٹی، گلبرگہ


’’نسخہ ہائے وفا‘‘ کو فیض کے مکمل کلیات قرار دیا جاسکتا ہے، جس میں ان کا سارا کلام اور سارے شعری مجموعوں کو یکجا کردیا گیا ہے، بلکہ ان کے آخری شعری مجموعہ ’’ مرے دل مرے مسافر‘‘ کے بعد کا کلام بھی اس میں شامل ہے۔ 
فیض ؔ کے شعری مجموعوں کی کُل تعداد ’’سات ‘‘ ہے، جن کے نام حسبِ ذیل ہیں: